وجہ قتل: احمدی ہونا


مولانا فضل الرحمان سے لے کر علی محمد خان تک سارے سیاستدانوں کو مبارک ہو، ان کا احمدی کارڈ مسلسل رنگ لا رہا ہے۔ ایک اور احمدی کو تہ تیغ کر دیا گیا اور ہمیشہ کی طرح خنجر پہ کوئی داغ نہ ہی کسی دامن پہ کوئی چھینٹ۔ بس ایک اور سہاگ اجڑا، تین معصوم یتیم ہوئے اور والدین کے ناتواں کندھے مزید جھک گئے۔ قاتل اور اس کے سہولت کار اگلا شکار ڈھونڈنے نکل کھڑے ہوئے ہیں اور سلامتی کے ادارے حسب دستور و روایت کاغذی کارروائی تک محدود۔ احمدیوں کے لیے ملک میں امن اور سلامتی کا مطلب ایک گردن زنی سے دوسری تک کا وقفہ رہ گیا ہے۔

پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کے علاقے ایل پلاٹ میں جماعت احمدیہ کے چند گھر ہیں۔ آس پاس ایک نامور شدت پسند مذہبی گروہ کی اکثریت ہے جنہیں ریاستی اداروں نے بہت چاؤ اور مان سے پالا ہے۔ اس گروہ کے کرتا دھرتا مسلسل احمدیوں کو ہراساں کرتے چلے آرہے ہیں، لیکن جنہیں لفافوں میں نوٹ ملتے ہوں ان کے خلاف کارروائی کی جرات کسے، نتیجہ آئے روز احمدیوں کی لاشوں کی صورت نکلتا ہے۔ اس علاقے کے چند گھروں میں سے ایک گھر 35 برس کے ایک گبھرو جوان عبدالسلام کا تھا جو اپنے والدین اور بیوی بچوں کے ساتھ مدت مدید سے یہاں مقیم تھے۔

17 مئی کی شام کو دروازے پہ دستک ہوئی۔ وجہ پوچھی گئی تو بتایا گیا کہ پانی کا کنیکشن ٹھیک کرنا ہے باہر تشریف لائیے۔ جیسے گھروں میں ہوتا ہے ایسا موقع بچوں کے لیے موجب تفریح ہوتا ہے، چنانچہ عبدالسلام کے بچوں نے بھی ساتھ باہر جانے کی خواہش کی۔ تین برس کے بیٹے کو انہوں نے اٹھایا ہوا تھا، جبکہ پانچ برس کا بیٹا باپ کی انگلی تھامے کھڑا تھا۔ معصوم بچوں کو کیا خبر تھی کہ وہ جس موقع کو تفریح سمجھ کر نکلے ہیں، وہی ان کے باپ کے لیے موت کا پیغام بن جائے گی۔

ایل پلاٹ کے ایک مدرسے میں گزشتہ دن ہی حفظ قرآن کے کورس سے چند طلبہ فارغ التحصیل ہوئے تھے۔ استاد نے الوداعی تقریر میں احمدیوں کی خبر لینے کی تلقین کی۔ حسب سابق انہیں ملک و ملت کا غدار اور یہود و ہنود کی سازش بتایا گیا اور حکومت کے ساتھ ساتھ اہل ایمان سے بھی احمدیوں سے نپٹنے کی تلقین کی گئی کہ یہ راستہ نان اسٹاپ فردوس کو نکلتا ہے۔ حافظ علی رضا اس تقریر کے بعد ایمانی جذبے سے نہ صرف سرشار ہو گیا بلکہ اس نے اپنے ذہن میں فوری منصوبہ بھی بنا لیا کہ احمدیوں کے ایک تنظیمی عہدیدار کو کیسے ”جہنم واصل“ کر کے جنت کمانی ہے۔

مدرسے سے فراغت کے بعد سیدھا بازار کا رخ کیا۔ تیز دھار خنجر خریدا اور اسے آب دار کرنے کے بعد اگلے دن کی پلاننگ میں جت گیا۔ اس کی نظر ایل پلاٹ کے ایک معروف احمدی عبدالسلام پہ تھی۔ عبدالسلام ایک معروف احمدی ہونے کے ساتھ سماجی طور پہ بھی نمایاں تھے۔ اعلی اخلاق کی بدولت ان کی دوستی ہر طبقے کے لوگوں سے تھی، اس لیے حافظ علی رضا کو انہیں ٹارگٹ کرنے میں کوئی دشواری پیش ہوتی نظر نہیں آ رہی تھی۔ حافظ علی رضا نے اپنے ایک قریبی دوست کو اعتماد میں لیا اور اس کے ساتھ منصوبہ بنایا کہ کیسے عبدالسلام کو گھر سے باہر بلانا ہے اور باتوں میں لگانا ہے اور وہ پیچھے سے وار کرے گا۔ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا تو دونوں دوست گھروں کو روانہ ہوئے اور اگلے روز شام کو ملنے کا وقت طے کیا۔

عبدالسلام صاحب گھر سے باہر تشریف لائے تو یہ ایک ٹھنڈی ہوتی شام تھی۔ چھوٹے بیٹے کو انہوں نے بانہوں میں اٹھایا ہوا تھا جبکہ بڑا بیٹا انگلی تھامے کھڑا تھا۔ ابھی وہ صورت حال کا جائزہ ہی لے رہے تھے کہ مدرسے کی تربیت علی رضا کے کام آئی اور اس نے پیچھے سے آ کر خنجر کے پے در پے وار کیے ۔ عبدالسلام اپنے بیٹے سمیت نیچے گر گئے تو قاتل نے سینے پہ مزید وار کیے تاکہ جنت میں اپنا مکان مزید اونچا کرسکیں۔ اسی اثنا میں عبدالسلام کے بیٹے بھی چھری لگنے سے زخمی ہو گئے۔ قاتل نے واردات مکمل کی اور فرار ہو گیا۔ عبدالسلام زخموں کی شدت کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پہ ہی جاں بحق ہو گئے۔ آپ المیہ دیکھیے اس خون ناحق پہ اگر ایک خاص لفظ استعمال کر لیا جائے تو تین برس کے لیے قید ہو سکتی ہے۔

قاتل گرفتار ہو بھی جائے تو اس سوچ کی گرفتاری کیونکر ہوگی جس کی وجہ سے ایک تازہ فارغ التحصیل طالب علم ایک آدمی کی جان لینا قطعاً کوئی جرم اور گناہ خیال نہیں کرتا، الٹا اسے باعث ثواب سمجھتا ہے۔ جب تک یہ سوچ اور اس کے خالق و مالک باقی ہیں احمدیوں کو مزید خون دینے کو تیار رہنا چاہیے۔ ریاست اور ریاستی اداروں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کیسے ایک مذہبی اقلیت کی زندگیاں اجیرن کردی گئی ہیں، زمین باوجود اپنی فراخی کے ان پہ تنگ کردی گئی ہے۔

ہر آئے دن کوئی سیاسی ”رہنما“ احمدی کارڈ کھیلتا ہے، اپنے مذموم مقاصد حاصل کرتا ہے اور لوگ جان سے چلے جاتے ہیں۔ عبدالسلام کا قتل محض ایک فرد کا قتل نہیں ہے۔ یہ بہت سی آرزوؤں اور خواہشات کا خون ہے۔ والدین کی آنکھیں اب اس امید کو کبھی دیکھ نہیں سکیں گی جسے وہ اپنے بڑھاپے کا سہارا سمجھتے تھے۔ وہ بیوہ کبھی اس صدمے سے باہر نہیں آ سکی گی، جس کی محبت اور جس کا سہاگ ہمیشہ کے لیے مذہبی منافرت کی بھینٹ چڑھ گیا۔ وہ تین معصوم بچے کبھی بھی اپنے والد سے لاڈ نہیں کرسکیں گے اور مدتوں والدہ سے پوچھتے رہیں گے کہ ہمارے ابو کب آئیں گے۔ انہیں کہانی سناتے ہوئے والدہ کی آنکھیں مسلسل نم رہیں گی اور کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہے گا۔

نہ وہ تم بدلے نہ ہم طور ہمارے ہیں وہی
فاصلے بڑھ گئے پر قرب تو سارے ہیں وہی


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

راشد احمد

راشداحمد بیک وقت طالب علم بھی ہیں اور استاد بھی۔ تعلق صحرا کی دھرتی تھرپارکر سے ہے۔ اچھے لکھاریوں پر پہلے رشک کرتے ہیں پھر باقاعدہ ان سے حسد کرتے ہیں۔یہ سوچ کرحیران ہوتے رہتے ہیں کہ آخر لوگ اتنا اچھا کیسے لکھ لیتے ہیں۔

rashid-ahmad has 27 posts and counting.See all posts by rashid-ahmad

Subscribe
Notify of
guest
2 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments