بچے، ڈپریشن اور خودکشی


اول تو کئی لوگ اب بھی سوچتے ہیں کہ جناب یہ ڈپریشن نامی بلا کچھ نہیں ہوتی۔ پر ایسا کچھ نہیں ہے۔ ہم سب مختلف جذبات کو الگ الگ طرح محسوس کرتے ہیں۔ ہم میں سے کئی لوگ حساس ہوتے ہیں اور ایسا انسان دوسروں کی نسبت زیادہ گہرائی میں بات کو سمجھتا ہے اور محسوس کرتا ہے۔ اکثر لوگوں کے بچپن بارونق اور خوبصورت نہیں گزرتے بلکہ ان کے ساتھ کوئی تکلیف دہ واقعہ پیش آ جاتا ہے۔ مثلاً ماں باپ کی بے شمار لڑائیاں یا طلاق، جنسی زیادتی، کسی پیارے کو کھو دینا، غربت۔ میں معذرت خواہ ہوں میں نے ان کو محض تکلیف دہ واقعات کہا ہے جبکہ میں جانتی ہوں کہ یہ بچپن کھو لینے والے دل چیر دینے والے اور انسان میں ایسے خلا اور گھاؤ چھوڑ دینے والے ایسے حادثات ہیں جن کے لیے تکلیف دہ کا لفظ بہت چھوٹا ہے۔

وہ بچہ جب بوڑھا ہو جاتا ہے اسے تب بھی یہ حادثات یاد رہتے ہیں اور تب بھی ان کی گھناؤنی اور خوفناک یادیں اسے اتنی ہی تکلیف پہنچاتے ہیں جتنا کہ بچپن میں پہنچاتے تھے۔ یہ ایسے زخم ہیں جن کے لیے کوئی ایسا مرہم دستیاب نہیں جو ہمیشہ کے لیے انہیں ٹھیک کر دے۔ خاص طور پر ماں باپ کی سخت اور بے شمار لڑائیاں دیکھ کر وہ بچے بچپن ہی سے خود کو اکیلا محسوس کرنے لگتے ہیں کیونکہ ان کے دو سہارے تو غصے اور نفرت کے اظہار میں مصروف ہوتے ہیں۔

اس قسم کے احساسات اس قدر منفی اثرات کرتے ہیں کہ اس بچے میں خلا پیدا ہو جاتے ہیں۔ وہ ایسے خلا ہوتے ہیں کہ وہ انہیں خود محسوس کر سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے گویا کچھ کمی ہے۔ کوئی خالی جگہ ہے جو پر نہیں ہوئی اور یہ خالی جگہ ہے اس محبت کی، شفقت کی، نرمی کی جو اس وقت اسے درکار تھی جب اس کے والدین جھگڑ رہے تھے۔ محبت کی بجائے نفرت کا زہر اگل رہے تھے۔ پھر جب انتہائی بد قسمتی اور افسوس کے ساتھ کوئی خرابی آتی ہے کہ 15 سال کے بچے نے خودکشی کر لی یا نوجوان نے خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اس کے پیچھے اکثر وجہ کیا ہوتی ہے؟

آپ ایک بچے کو جس نے اپنی جان لے لی یہ نہیں کہ سکتے کہ اسے مضبوط بننا چاہیے تھا۔ شاید وہ کئی بار مضبوط بنا ہو پر اب کی بار اس کا دل و دماغ وہ نفرت اور غصہ دیکھ کر اس قدر تھک گیا ہو کہ اس کے اعصاب کمزور پڑ گئے اور وہ چلا گیا۔

اگر آپ چاہتے ہیں کے بچے خودکشیاں نا کریں تو خدارا آپ اس کی جڑ کو پہچانیں اور مل کر اسے ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے گھر سے شروع کریں۔ ماحول بہتر کریں۔ بچوں کے سامنے ہرگز مت جھگڑیں اور ایسی سخت لڑائی تو کبھی نہیں جس سے آپ اپنے لاڈلے کو تباہ کر دیں۔ بچوں کو سکھائیں کہ انہیں مضبوط کیسے رہنا ہے اور مثبت سوچ ہر صورت رکھنی ہے۔ ڈپریشن کو پاگل پن کہنا بند کریں اور بچوں کو اتنا اعتماد دیں کہ وہ اپنے مسائل آپ کو بتائیں۔ یہ بے حد ضروری ہے۔ بچے کے لیے ماں کی گود اور پیار اور باپ کا دست شفقت انتہائی اہم ہے۔ اگر آپ دونوں ہر وقت جھگڑتے رہیں گے تو بچہ آپ کے ہوتے ہوئے بان سے محروم ہو جائے گا۔

آخر میں محترم شاعر عدنان محسن کے شعر کا حوالہ دینا چاہوں گی۔
دیکھتا ہوں کہ تیرا زخم ہرا ہے اب بھی
تو تو کہتا تھا تیری چوٹ پرانی ہے میاں

Latest posts by مشال ادریس (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

مشال ادریس

مشال ادریس کی عمر بارہ برس ہے اور وہ لاہور کے ایک انگلش میڈیم سکول کی طالبہ ہیں

mishal-idrees has 6 posts and counting.See all posts by mishal-idrees

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments