عمران خان کی عورتوں کے بارے میں اخلاق سے گری گفتگو


عمران خان نے پی ٹی آئی کے ملتان جلسے میں مریم نواز کے بارے میں نازیبا گفتگو کی ہے۔ جلسے میں موجود ایک بھاری اکثریت سے خوب داد پائی ہے۔ کیونکہ وہ نازیبا گفتگو کسی دوسری عورت کے بارے میں تھی۔ جلسے میں موجود وہ کسی شخص کی رشتہ دار نہیں تھی اس لیے برا منانے کی کیا ضرورت۔ داد دینے والوں میں عورتیں اور مرد دونوں ہی شامل تھے۔

عمران خان کی اس احمقانہ اور اخلاق سے گری ہوئی حرکت کی مذمت کرنے والوں میں ایک تو نون لیگ کے سپورٹرز ہیں جو سابقہ فرسٹ لیڈی کے متعلق اسی طرح سے اخلاق سے گری ہوئی باتیں کر کے سکور برابر کر رہے ہیں۔ ان میں موجودہ وزیرداخلہ بھی شامل ہیں۔

بہت سے لوگ عمران کی اس گھٹیا حرکت پر رحم دلانہ گفتگو بھی کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کی وہ بھاری اکثریت ہے جو جنسی یا صنفی تفریق کے تصور سے ناواقف ہے۔ انہیں آپ یہ کہتا ہوئے سنیں گے کہ مریم کے خلاف اخلاق سے گری ہوئی گفتگو کرنا غلط تھا کیونکہ وہ بھی کسی کی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہے۔ یعنی مریم کی بحیثیت انسان کوئی اپنی حیثیت نہیں بس اس کو گالی دینا اس لیے غلط ہے کیونکہ وہ چار مردوں کی رشتہ دار ہے۔

کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ بہنیں بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں۔ عزت تو سب کی سانجھی ہوتی ہے۔ زور اسی پر ہے کہ عورتوں کے خلاف نازیبا بات نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ اپنے رشتہ دار مردوں کی عزت ہوتی ہے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جلسے میں ایسی گفتگو نہیں کرنا چاہیے تھی۔ دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ چھوٹے گروپ میں یا دوستوں کی محفل میں بیٹھ کر تو ایسی گفتگو میں کوئی خاص حرج نہیں ہے۔

کچھ لوگوں کو یہ گفتگو اس لیے اچھی نہیں لگی کیونکہ اس سے ہماری مشرقی روایات کو دھچکا لگا ہے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ جیسے باقی کلچرز میں ایسی گفتگو قابل قبول ہے، بس ہماری روایات ہی دوسروں سے اعلی ہیں۔ یہاں بھی روایات کی اہمیت تو ہے لیکن عورت کا بحیثیت انسان جو رتبہ ہے اس کی طرف کوئی دھیان نہیں ہے۔

یہ ساری تاویلات اس لیے پیش کی جاتی ہیں کیونکہ اس طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا کہ عورت خود ایک جیتا جاگتا انسان ہے۔ اس کی اپنی عزت ہے اور اس کے اپنے احساسات اور جذبات ہوتے ہیں۔ اس کی قدر بحیثیت انسان کرنا زیادہ ضروری ہے نہ کہ اس کے رشتہ داروں کی وجہ سے اس کی قدر کی جائے۔

جب مردوں کی باری آتی ہے تو کوئی نہیں کہتا کہ بھائی اور بیٹے سانجھے ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ بھائی اور بیٹے مرد ہیں اور ان کی بحیثیت انسان اپنی ایک حیثیت مانی جاتی ہے۔ مرد کے حقوق کی بات کرتے ہوئے باپ، بیٹا، بھائی اور شوہر کی گردان نہیں کرنا پڑتی۔ اس کا مرد ہونا ہی کافی ہے۔

عورت کے حقوق کی بات کرتے ہوئے اس کے بحیثیت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے درجات کی بات کرنا لازمی ہوتا ہے تاکہ ہم عورت کو انسان قبول کرنے سے بچ جائیں۔ ادھر تو کسی کا دھیان بھی نہیں جاتا۔

عمران اور اس کے حواریوں کے بہت سارے بیانات میں عورت کی براہ راست توہین کی جاتی ہے۔ مثلاً عمران نے کہا کہ ”ہم نے کوئی چوڑیاں نہیں پہنی رکھیں“ ۔ اس بیان میں وہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہم کوئی عورتیں نہیں ہیں۔ مطلب ان کے نزدیک عورت ہونا کوئی طعنہ یا گالی ہے۔

ٹیل پیس: عورت کے ساتھ کسی بھی میدان میں جب مقابلہ پڑ جائے اور وہ کامیاب ہوتی نظر آئے تو اس کے خلاف اخلاق سے گری ہوئی باتیں کرنا اور اس کی کردار کشی کرنا نیچ لوگوں کا شیوہ ہے۔ بے نظیر کے خلاف بھی ایسی زبان استعمال کی گئی لیکن اچھی اور حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اسی یا نوے کی دہائی میں ایسا کرنے والوں میں سے اکثر نے بہت سیکھ لیا ہے۔ ان کی گفتگو اب بدل گئی ہے۔ جنہوں نے نہیں سیکھنا تھا ان کی اکثریت اب عمران کی پارٹی میں ہی شامل ہے۔ اس صدی کے نیچ لوگوں سے جو اپنے آپ کو سیاسی اور مذہبی لیڈر سمجھ بیٹھے ہیں کسی بہتری کی امید نہیں ہے۔ ان کا سفر پاتال کی جانب جاری ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 324 posts and counting.See all posts by salim-malik

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments