ماں کا مقام


ماں کا کوئی متبادل نہیں، جس کسی نے ماں کا مقام سمجھ لیا اور انتھک خدمت سے ماں کو راضی کر لیا اس نے جنت اپنے نام کرلی۔ دنیا کی ہر ماں اپنے بچوں کے لئے ایک شجر سایہ دار کی مانند ہوتی ہے۔ ماں کی آغوش بچوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ ہے، ماں کی محبت سود و زیاں سے بے نیاز ہے، زندگی کی چلچلاتی دھوپ میں ماں کا روپ دیکھ کر یوں لگتا ہے جس طرح کسی مسافر کو اچانک تپتے صحرا میں چھاؤں میسر آ جائے۔ یہ ایک افسانوی بات نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے کہ ماں کا دل اپنے بچوں کے لئے اتنا نرم ہوتا ہے کہ اگر کوئی لمحہ ایسا آئے جس میں ان کی ذات حائل ہو رہی ہو تو وہ اپنی ذات تک کو اپنے بچوں پر وار دیتی ہے۔

انسان عمر میں جتنا بھی بڑا ہو جائے وہ اپنی ماں کی نظروں میں کسی معصوم بچے کی مانند رہتا ہے، ما ہے وہ بڑھاپے کی دہلیز پر کیوں نہ پہنچ جائے۔ ماں کی محبت کی اور اس کی پرورش کی کوئی قیمت نہیں چکا سکتا۔ ماں کے اندر ممتا کا وہ جذبہ ہوتا ہے جو کسی اور میں نہیں ہوتا بچہ نظر سے دور ہو جائے تو ماں تڑپ اٹھتی ہے، ہر ماں کی دعاؤں اور وفاؤں کا محور اس کے بچے ہوتے ہیں۔ بچوں میں سے کوئی ایک بھی بھوکا ہوتو ماں بے قرار ہو جاتی ہے۔

اور اگر بچے سیر اور سیراب ہوجائیں تو ماں کو اپنی بھوک پیاس بھول جاتی ہے۔ یہ ماں ہی ہے جس کو اپنے بچوں کی پرورش کے دوران بڑے سے بڑا دکھ سہنا آتا ہے۔ جب دو عورتوں کا ایک بچے پر تنازعہ ہوا وہ دونوں اس کی ماں ہونے کی دعویدار تھیں اور جب سرکاری عدالت اس تنازعہ کا کوئی حل تلاش نہ کر سکی تو ایک بار پھر دروازہ عدل علی علیہ السلام کی طرف رجوع کیا گیا اور انصاف کی ایسی شاندار مثال حاصل کی کہ آج بھی دنیا رشک کرتی ہے۔

جب دونوں عورتوں نے ایک بچے کی ماں ہونے کا دعویٰ کیا تو اس بات پر حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ بچے کے دو ٹکڑے کر دیں ایک ایک حصہ دونوں کو دے دیا جائے۔ اس پر حقیقی ماں کی ممتا تڑپ اٹھی اور کہا مجھے نہیں چاہیے یہ پھول دوسری عورت کو دے دیں، میں اپنے دعویٰ سے دستبردار ہوتی ہوں۔ اس پر حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا یہ بچہ اسی عورت کا ہے جو بچے کے ٹکڑے نہیں چاہتی، یہی اس کی حقیقی ماں ہے۔

ماں کی عفت، رفعت اور عظمت پر کچھ لکھنا ہرگز آسان نہیں کیونکہ یہ موضوع اپنے اندر بہت وسعت رکھتا ہے۔ ماں شفقت، خلوص، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔ ماں دنیا کا وہ میٹھا جذبہ ہے جس کو محسوس کرنے سے محبت، حفاظت، تازگی، پاکیزگی، پیار، سکون اور اطمینان کا احساس ہوتا ہے۔ ہر ماں اپنے بچوں کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ چلچلاتی دھوپ میں اس کا دست شفقت شجر سایہ دار کی طرح سائبان بن کر بچوں کو سکون کا احساس دلاتا ہے۔

اس کی گرم آغوش سردی میں حفاظت کا کام کرتی ہے۔ خود بیشک کانٹوں پر چلتی رہے مگر اپنے بچوں کو ہمیشہ پھولوں کے بستر پر سلاتی ہے اور دنیا جہاں کے دکھوں کو اپنے آنچل میں سمیٹے لبوں پر مسکراہٹ سجائے رواں دواں رہتی ہے اس سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی دنیا میں پیدا نہیں ہوئی، آندھی چلے یا طوفان آئے، اس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی۔ وہ نہ ہی کبھی احسان جتاتی ہے اور نہ ہی اپنی محبتوں اور چاہتوں کا صلہ مانگتی ہے بلکہ بے غرض ہو کر اپنی محبت بچوں پر نچھاور کرتی چلی جاتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ ماں کی محبت ایک بحر بیکراں کی طرح ہے۔ ماں کی بے پایاں محبت کو لفظوں میں نہیں پرویا جا سکتا۔ خلوص و ایثار کے اس سمندر کی حدود کا اندازہ لگانا ممکن نہیں، ہر مذہب اور ہر تہذیب نے ماں کو ممتاز اور مقدس قرار دیا ہے۔ ماں ایک دعا اور اس کا لمس ایک دوا ہے جو ہر وقت رب رحیم کے آگے اپنا دامن پھیلائے رکھتی ہے اور قدم قدم پر ان کی حفاظت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کے بینظیر ہونے کی پہچان اس طرح کرائی کہ اس عظیم ہستی کے قدموں تلے جنت رکھ دی۔

اب جس کا جی چاہے اس کی خدمت کر کے وہ جنت کو حاصل کر سکتا ہے۔ ہر رشتے میں خود غرضی شامل ہو سکتی ہے مگر ماں کے رشتے میں کوئی غرض اور ہوس شامل نہیں ہوتی۔ ماں ایک ایسا رشتہ ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ پر خلوص ہے اس کی زندگی کا محور صرف اور صرف اس کے بچے ہوتے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں اس کی دعائیں اور وفائیں کسی سائے کی طرح آپ کے ساتھ ساتھ چلتی اور مختلف بلاؤں سے آپ کی حفاظت کرتی ہیں اور اس کی دعاؤں سے بڑی سے بڑی مصیبت ٹل جاتی ہے، وہ بے قرار ہوتو عرش تک ہل جاتا ہے ۔

گلاب جیسی خوشبو، چودہویں کے چاند جیسی چاندنی، فرشتوں جیسی معصومیت، سچائی کا پیکر لا زوال، محبت، شفقت، تڑپ، ایثار و قربانی جب یہ تمام الفاظ یکجا ہو جائیں تو ماں کا تصور ابھرتا ہے، دنیاوی رشتوں میں ماں سے زیادہ کوئی مقدم نہیں۔ دنیا میں ماں کا کوئی نعم البدل نہیں، ماں وہ ہستی ہے جو اپنے ہر ایک بچے سے اپنی جان سے بڑھ کر محبت کرتی ہے اور ماں کے بغیر کسی بھی انسان کی زندگی کا سفر ادھورا رہ جاتا ہے۔ وہ لوگ جن کے سروں سے ان کی ماؤں کی ممتا کا سایہ اٹھ چکا ہو وہ ساری زندگی اپنی ماں کو یاد کر کے سرد آہیں بھرتے رہتے ہیں۔

ماں اپنے بچوں سے اس قدر ٹوٹ کر محبت کرتی ہے کہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا نصب العین اور مقصد حیات اپنے بچوں کی پرورش، ان کا مستقبل روشن کرنے اور انہیں دنیا جہان کی خوشیاں فراہم کرنا ہوتا ہے۔ کہتے ہیں ماں کے دل سے جو دعا نکلے وہ براہ راست عرش تک رسائی رکھتی ہے اور اس دعا کو اللہ رب العزت بھی رد نہیں کرتا۔

ماں کی گود ایک ایسا ٹھکانہ اور آشیانہ ہے جہاں ہر طرح کی مایوسیوں، محرومیوں اور مصیبتوں کی دوا بلکہ شفاء موجود ہے۔ بعض لوگ اپنی اس جنت کو پہچان نہیں پاتے اور سرابوں کے سفر میں نکل پڑتے ہیں۔ لیکن ایک دن یقین مانیں، ایک نہ ایک دن ان کو اپنی اس غلطی کا احساس ضرور ہوتا ہے یہ اور بات ہے کہ اس وقت تک چڑیاں کھیت چگ گئیں ہوتی ہیں۔ ماں اسلامی معاشرے میں اس ہستی کو کہتے ہیں جس کو سال میں ایک بار نہیں بلکہ پل پل یاد اور اس کا خیال رکھا جاتا ہے۔

کائنات میں کوئی نہیں جو ماں جیسی محبت کر سکتا ہو۔ اس لیے تو اللہ رب العزت کائنات کی سب سے عظیم محبت یعنی ماں کی محبت سے اپنی محبت کو منسوب کیا۔ بیشک قادر و کارساز اور شفیق و مہربان اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ اللہ کا واسطہ! اپنی ماؤں اور زندگی میں جنت کی چھاؤں کی قدر کریں، ان سے محبت کریں کیونکہ ماں کی پریشانی دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے صفا و مروہ کو حج کا اہم رکن بنا دیا تھا۔

لبوں پہ اس کے کبھی بد دعا نہیں ہوتی
بس اک ماں ہے جو کبھی خفا نہیں ہوتی

Facebook Comments HS