لانگ مارچ: کون کب اور کس معیار پر کامیابی کا دعویٰ کر سکتا ہے؟

ڈاکٹر فاروق عادل - کالم نگار


عمران خان کی طرف سے 25 مئی کے لانگ مارچ اور اس کے اختتام پر دھرنے کا اعلان معمولی نہیں تھا۔

‘مارچ کے شرکا کی تعداد بیس لاکھ ہوگی۔‘ عمران خان نے ابتدا میں دعویٰ کیا پھر اس دعوے میں بتدریج وسعت آتی گئی اور شرکا کی تعداد بڑھاتے بڑھاتے تیس لاکھ کر دی گئی۔

ایک دعویٰ یہ بھی تھا کہ یہ اجتماع دنیا سیاسی کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع نہ ہوا تو کہنا۔ سیاسی جماعتیں سیاسی مہم جوئی اور احتجاج میں شدت پیدا کرنے، کارکنوں اور حامیوں میں جوش و خروش پیدا کرنے نیز مخالفین پر دبدبہ طاری کرنے کے لیے بڑے بڑے دعوے کیا ہی کرتی ہیں لیکن ایک کام عمران خان کے اتحادی شیخ رشید احمد نے بھی کیا۔ انھوں اس مارچ کو خونی مارچ قرار دیا اور کہا کہ یہ لڑائی گلی گلی پھیل چکی ہے۔ انھوں نے خانہ جنگی کے خدشے کا بھی اظہار کیا۔

پی ٹی آئی کی اس احتجاجی مہم کے بارے میں چند تاثرات یہی تھے جو اس مارچ کے اعلان کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد سامنے آگئے۔ اس فضا میں مزید شدت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ان تقاریر سے پیدا ہوئی جو انھوں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزرات عظمیٰ سے معزولی کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں کیں۔ ان جلسوں، عمران خان کی تقریروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے لڑی جانے والی ڈیجیٹل سیاسی جنگ کے نتیجے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا۔

بڑھی ہوئی کشیدگی میں مزید شدت لاہور کے اس واقعے سے ہیدا ہوئی جس میں مبینہ طور پر پاکستان تحریک انصاف کے ایک راہ نما کے ہاتھوں گولی لگنے سے پولیس کے ایک کانسٹیبل کمال احمد اپنی جان سے ہاتھ سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس قتل کے بعد ایک اور اہم واقعہ بھی رونما ہوا۔ لاہور پولیس نے دعویٰ کیا کہ ایک چھاپے کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کے راہ نماؤں کے گھروں سے بھاری مقدار میں خود کار آتشیں اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

اس طرح کے واقعات کے سامنے آنے کے بعد حکمراں اتحاد اور اس کی حکومت کے سامنے سب سے اہم سوال یہ تھا کہ وہ اس مارچ سے کیسے نمٹے؟ یہ سوال ماضی کے ایک تجربے کی وجہ سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا۔

پاکستان تحریک انصاف اور ماضی میں اس کی اتحادی جماعت پاکستان عوامی تحریک نے 2014ء میں دھرنے کے موقع پر دو ثالثوں کے ذریعے حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔ پی ٹی آئی نے ثالثی کرنے والی دو جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے ذریعے حکومت پاکستان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ مکمل طور پر پرامن رہیں گے لیکن پارلیمنٹ ہاؤس، وزیر اعظم ہاؤس اور پاکستان ٹیلی ویژن پر حملے ہوئے۔

اس کے بعد حکومت فطری طور پر زیادہ حساس تھی اور وہ ماضی کے تجربے کو دہرانے میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی۔ وزیر اعظم ہاؤس کے ایک قریبی ذریعے کے مطابق 21، 22 مئی تک حکومت بہت زیادہ پر عزم نہیں تھی لیکن ایک دن بعد صورت حال بدل گئی اور حکومت نے اس لانگ مارچ سے سختی کے ساتھ نمٹنے کا فیصلہ کر لیا۔

یہی وہ حتمی مرحلہ تھا جب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے دوٹوک انداز میں اعلان کر دیا کہ لانگ مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسی اثنا میں پاکستان مسلم لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف کا بھی ایک بیان سامنے آیا جس میں انھوں نے دھرنے سے سختی کے ساتھ نمٹنے کی حمایت کی۔ انھوں نے کہا:

‘ عوام کو ان فتنہ پرور جتھوں کے رحم و کرم پر نہیں چھڑا جا سکتا جو پہلے ہی ان پر غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے پہاڑ گرا چکے ہیں۔ ایسے میں ان تخریب کاروں کا قلع قمع کیے بغیر پاکستان اپنی حقیقی منزل نہیں پا سکتا۔ ہمیں بہ حیثیت قوم ان شر پسندوں کا راستہ روکنا ہوگا’۔

میاں محمد نواز شریف کے اس بیان کے بعد واضح ہو گیا کہ اب حکومت لانگ مارچ اور دھرنے کو 2014ء کی طرح تمام راستے کھول نہیں دے گی بلکہ اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

پھر دھرنے کی صبح یعنی 25 مئی کو یہی ہوا۔ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں، اسلام آباد اور کراچی میں بھی حکومت لانگ مارچ یا جلسوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے۔

حکومت کی اسی حکمت عملی کے بارے میں سوال پیدا ہوا کہ کیا کسی سیاسی سرگرمی سے نمٹنے کے لیے ایسا سخت گیر رویہ مناسب تھا؟ ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا حکومت اپنی حکمت عملی میں کامیاب بھی رہی یا نہیں اور یہ کہ اگر وہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتی تو کیسا رویہ اختیار کرتی؟

یہ سوالات ذرائع ابلاغ پر ہونے والے مباحث میں بھی سامنے آرہے ہیں اور سیاست سے دل چسپی رکھنے والے ذمے دار یا غیر جانب دار شہریوں میں بھی زیر بحث ہیں۔

صحافی بے نظیر شاہ دھرنے سے نمٹنے کے لیے حکومت نے جو پالیسی اختیار کی اس کا جواز نہیں دیکھتیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عمران خان کے حامیوں کو روکنے کے لیے حکومتی اقدامات ‘بہت بڑی بیوقوفی ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ پی ٹی آئی کہ ساتھ بیٹھ کر ان سے بات چیت کرتے، جلسہ کرنے کی جگہ طے کرتے اور پھر اس کی اجازت دیتے کہ اس مقام پر جلسہ کریں۔

‘اس مقصد کے لیے حکومت ایس او پیز طے کرتی، اور اگر ان ایس او پیز کی خلاف ورزی ہوتی تو پھر قانون کے مطابق کارروائی کرتے۔ پہلے سے جا کر چھاپہ مارنا، ایک دن پہلے گرفتاریاں کرنا جب کہ کوئی قانون بھی نہیں ٹوٹا اور کوئی خلاف ورزی بھی نہیں ہوئی، یہ بہت بڑی بیوقوفی تھی اور یہ شاید ان کو خود بھاری پڑ سکتا ہے۔’

بینظیر شاہ کا کہنا تھا کہ اگر حکومت چاہ رہی تھی کہ یہ لانگ مارچ نہ ہو اور لوگ اس لانگ مارچ میں زیادہ تعداد میں شرکت نہ کریں، تو ان اقدامات کی وجہ سے انھوں نے خود ہی عمران خان کی تحریک میں جان ڈال دی ہے۔

تجزیہ کار اور کالم نگار ایاز امیر کے خیال میں یہ سوال ابھی قبل از وقت ہے۔ وہ کہتے ہیں: ‘یہ تو (25 مئی کی) شام تک معلوم ہو سکے گا کہ کون کامیاب ہو پاتا ہے؟ حکومت انھیں روکنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ کامیاب کہلائے گی اور وہ پہنچ جاتے ہیں تو ظاہر ہے کہ انھیں کامیابی مل جائے گی۔ کامیابی کے ان دو معیاروں کے بیچ کئی اگر مگر اور کئی سوالات ہیں جیسے عمران خان نے ڈی چوک پہنچنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس کوشش میں اگر کوئی گڑ بڑ ہو جاتی ہے تو صورت حال بالکل مختلف ہو جائے گی۔’

یہ سوال کہ کیا حکومت سخت گیر اقدام کے بجائے کوئی متبادل رویہ بھی اختیار کر سکتی تھی؟ ایاز امیر اس سوال کو ایک ہنگامی، عملی اور کشیدہ صورت حال میں اکیڈمک سوال قرار دیتے ہیں۔

ان کا خیال ہے: ‘یہ دونوں طرف سے عملی سیاسی جدوجہد کا ایک دلچسپ مرحلہ ہے۔ اس لیے یہاں اکیڈمک بحث مناسب نہیں ہے۔ ایسی صورت میں تو صرف یہی ہو سکتا تھا کہ کوئی تیسری قوت اس معاملے میں مداخلت کرکے معاملات طے کراتی ہے یا نہیں، اس مرحلے پر گفتگو کو آگے بڑھائی جائے تو ہم عملی صورت حال سے نکل کر قیاس کی راج دھانی میں جا داخل ہوں گے۔ سر دست یہ مناسب نہیں۔‘

کالم نگار وجاہت مسعود کا بھی یہی خیال ہے کہ وہ ذاتی طور پر یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ کسی سیاسی جماعت یا سیاسی گروہ کو اپنی رائے کے اظہار یا احتجاج سے روکا جائے۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ کسی بھی صورت حال کا تجزیہ اس میں رونما ہونے والے حالات سے علیحدہ ہو کر نہیں کیا جا سکتا۔

اس سلسلے میں وہ کہتے ہیں: ‘اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کے پاس اطلاعات کیا ہیں؟ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے، حکومت کے علم میں آیا ہے کہ صوابی کا وہ مقام جہاں سے عمران خان نے اپنا مارچ شروع کیا ہے، وہاں موجود سیاسی ہجوم کے پاس اسی قسم کا اسلحہ اور ساز و سامان ہے جو پولیس کے پاس ہوتا ہے۔ حکومت سمجھتی ہے کہ یہ سب کچھ اسے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی طرف سے فراہم کیا گیا ہے۔ یہ اطلاعات ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والے اس فوٹیج کے بعد زیادہ تشویش ناک ہو جاتی ہیں جن میں لوگوں کے پاس اسلحہ بھی دکھائی دیا۔ اگر حالات واقعی اسی طرح کے ہیں تو پھر سخت اقدامات کا جواز دکھائی دیتا ہے۔’

اس پس منظر میں ان کی نگاہ میں حکومت کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے؟ ان کے خیال میں حکومت کی یہی حکمت عمل تھی جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کہیں بھی لوگوں کی بڑی تعداد اکٹھا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

رہا یہ سوال کہ کیا حکومت کوئی متبادل حکمت عمل بھی اختیار کر سکتی تھی؟ وجاہت مسعود سوال اٹھاتے ہیں کہ متبادل حکمت عملی کیا ہوتی؟ کوئی ایسی حکمت عملی جس کے نتیجے میں وہ آکر بیٹھ جائیں اور آہستہ آہستہ آگے بڑھتے جائیں، اس کے نتیجے میں تو کوئی تیسرا فریق فائدہ اٹھا سکتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments