خواتین کا ادب
ایک ابھرتی ہوئی شاعرہ نے لکھا
”اففف۔ ہائے اللہ۔ ٹیلے وژن اینکروں نے نثری شعر پڑھ پڑھ کر پکا دیا ہے۔ “
بتاؤ بھئی! یہ وقت بھی دیکھنا باقی رہ گیا تھا۔
جشن ریختہ میں شریک تھے۔ وہاں دنیا بھر سے ادب کے عشاق جمع تھے۔ ضیا محی الدین صاحب سٹیج سیکرٹری تھے۔ ایک صاحب نے خواتین ادیبوں اور شعرائے کرام پر ایک زبردست مضمون پڑھا تھا۔ اس میں انہوں نے ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دیا تھا۔
پچھلی جنریشن کی خواتین آنٹیوں کا ٹوٹل ادبی سرمایہ ماہنامہ شعاع ڈائجسٹ اور تین عورتیں تین کہانیاں پر جا کر ختم ہوجاتا تھا۔ آج کل ”پیر کامل“ ، ”جنت کے پتے“ اور ”آب حیات“ پر ختم ہوتا ہے۔ آب حیات کون سی بھلا؟ مولانا محمد حسین آزاد والی؟ او ناں ناں۔ عمیرہ احمد والی بھائی۔
میں نے ایک سے پوچھ لیا وہ مولانا محمد حسین آزاد صاحب کی بھی ایک آب حیات ہے۔ فرمانے لگیں
آپ ہی پڑھیے ان کو۔ ہم نے میٹرک کے مطالعے میں پڑھا تھا کہ قائد نے ان کو شو بوائے کہا تھا۔ ”
لیکن تمام خواتین بھی ایسی نہیں ہوتیں۔ کچھ نمرہ احمد بھی ہوتی ہیں۔ کچھ یسری وصال بھی بن جاتی ہیں۔ وہ واقعی ادیب اور شاعر ہوتی ہیں۔
ایسا ایسا نادر کلام ان کے ہاں ملتا ہے جو سوائے استاد امام دین گجراتی کے غیر مطبوعہ کلام کے کسی اور کے ہاں نہیں ملتا۔
بحر مونث مخنث مذکر سالم۔
کیا بات ہے۔ ہے کوئی مائی کا پیلا جو اس کی تاب لا سکے؟
ابھی پچھلے دنوں ایک اور شاعرہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔
انہوں نے ایک ہاتھ میں موبائل اور دوسرے میں مائیک پکڑ رکھا تھا۔ قتالہ نے مسکراتے ہوئے جو شعر پڑھا
نہ رکھ۔ ۔ (وقفہ)
امید وفا پرندوں سے اقبال
جب ان کے پر نکل آتے تو وہ آشیانے کا راستہ ہی بھول جاتے ہیں۔
کتنا ہم وزن مصرعہ ہے!
ہے کہ نہیں؟ میں پوری وڈیو میں ان کے مصرعوں کے وزن پر ہی غور کرتا رہا۔
لیکن جو مرضی کر لیں خواتین زیادہ سے زیادہ بانو قدسیہ اور پروین شاکر بن سکتی ہیں۔ زیادہ زور مار لیں تو قرة العین حیدر بن جائیں گی۔ کہا جاتا ہے کہ اردو کا سب سے بڑا ناول ”آگ کا دریا“ ان کا شاہکار ہے۔
یہ اتنا بڑا شاہکار ہے کہ آج تک کسی کو سمجھ ہی نہیں آیا۔ حروف مقطعات کے بعد آگ کا دریا وہ کتاب ہے جس کے معانی صرف اللہ میاں جانتا ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے اور عینی آپا؟
نہیں نہیں۔ عینی آپا کو خود بھی سمجھ نہیں آیا کہ انہوں نے کیا طومار لکھ مارا ہے۔ اصل میں سوائے بگ بینگ اور جیمز ویب ٹیلی سکوپ کے کوئی بات رہ ہی نہیں گئی تھی جس کا ناول میں احاطہ نہ کیا گیا ہو۔ چمپا کے پیلے رنگ کی چپلوں سے لے کر گوتم کی سنہرے رنگ کی لشکارے مارتی دھوتی تک سب کچھ تو لکھ دیا۔ دیگچی، چمچے، کچن کے چولہے کے برتن، بیٹھک میں لگے پردوں کے کلر، ہلکے نیلے جامنی رنگ کی لپ اسٹک اور چمکیلی والا مسکارا۔
باقی اور کیا رہ گیا؟ ہیں؟ بڑا اوکھا اور مجبوراً انہوں نے ناول ختم کیا۔ لکھنے جو بیٹھی ہیں تو اس قدر ڈوب کر لکھا کہ شادی کی عمر ہی نکل گئی۔ ناول ہی اتنا طویل تھا۔ ایک زندگی میں ایک ہی کام ہو سکتا تھا۔ یا شادی کر لیتیں یا آگ کا دریا لکھ لیتیں۔ ہمارے ہر دل عزیز دوست حاجی عبدالغفار خاں ڈنڈا بردار کے بقول شادی کر لیتیں تو زیادہ بہتر تھا۔ بہ ہر حال ان کا ناول ان کی مرضی۔ ہم تو صرف ناول پر اپنی ناقص رائے دے سکتے ہیں۔
یہ ساری باتیں تو ہو گئیں جملہ ہائے معترضہ۔ لیکن ہم دل سے یہ جانتے اور مانتے ہیں خواتین میں بہت اچھا لکھنے والیاں اور ذہین ترین شاعرات اور ادیبائیں ہر زمانے میں موجود رہی ہیں۔ ہم فقط عمیرہ احمد ٹائپ باجیوں کے بارے میں بات کر رہے تھے۔
بہرحال ابھرتی ہوئی شاعرہ کی پوسٹ پڑھی تو دو کام کیے ۔
ایک تو ان کو فرینڈ ریکویسٹ سینڈ کردی۔
دوسرا کمنٹ میں یہ شعر لکھ دیا۔
بکودگی شدہ ام ریزہ چین خوان نول
نہالم از ثمر پیش رس ببار آمد
لو بی بی۔ آپ بہت وڈی اردو دان ہیں۔ نثری شعر سن سن کر پک گئی ہیں۔ آپ یہ پڑھیے۔ سر دھنیے۔ اور ہو سکے تو یکم تاریخ سے پہلے پہلے اس کی تشریح فرما کر ہمیں اپنے علمی بحرالکاہل میں ڈبو دیجیئے۔


