شیرانی سے جناح ایونیو تک لگی یہ آگ سب جلا کر راکھ کر دے گی


بارہ دن بارہ راتیں بلوچستان میں شیرانی کے جنگلات میں آگ بھڑکتی رہی اور آخر کار اس پر قابو پا ہی لیا گیا ہے۔ لیکن اس بجھی آگ کی چنگاریاں یاد دلاتی رہیں گی جب یہاں آگ بھڑک رہی تھی تو ہماری لیڈرشپ اسلام آباد میں معرکہ کرسی فتح کرنے میں لگے ہوئے تھے۔

اقتدار کے لیے کھیلے جانے والا یہ کھیل اس بار آگ کے شعلوں میں کھیلا جا رہا ہے۔ اس بار آگ بجھانے کا نہیں آگ بھڑکانے کا کھیل عروج پر ہے اور اس دہکتے کھیل میں جل کر مر صرف عوام رہی ہے۔

اس جنگل کے اٹھتے شعلے یہ یاد دلاتے رہیں گے کہ اس ملک میں ایک ایسا صوبہ بھی ہے جو اپنے حقوق کے لیے جلتے کوئلوں پر ہی چل رہا ہے۔ وہاں کی ایک اکتیس سالہ بلوچ پڑھی لکھی امیر عورت دو بچوں کی ماں نے اپنی رضا سے موت کے لیے خودکش حملہ کرنے کا راستہ منتخب کر لیا۔ اس کے بم سے جلے جسم کی باقیات یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ اس آگ سے اب سب جھلس جائیں گے۔

اس جنگل کی تپش میں پگھل جانے والی حیات ہمیں یاد دلاتی رہیں گی کہ کتنی مائیں بہنیں بیٹیاں بیویاں اپنے لاپتہ پیاروں کے انتظار میں گھل رہی ہیں۔

ان کی آنکھیں بھی انصاف کے اس دروازے کی طرف دیکھ رہی ہیں جو صاحب اختیار کے لیے کھل جا سم سم کا ورد کرتے ہی رات بارہ بجے بھی کھل جاتا ہے۔ لیکن ان کے کھٹکھٹانے پر یہ دروازہ نہیں کھلتا۔ ان آنکھوں کی بڑھتی تپش اب شاید تسلی دلاسوں اور وعدوں سے ٹھنڈی نہیں ہو گئی۔

جلتے ہوئے الفاظ جو پہلے راکھ ہو جاتے تھے اب راکھ ہونے سے پہلے سب کچھ جلا رہے ہیں۔ دبی دبی سی نفرتیں کھل کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔ جو سسکیاں پہلے گم ہوجاتی تھیں اب شعلوں کی طرح بھڑک رہی ہیں۔

اس جنگل میں لگی آگ کی تپش یہ یاد دلاتی رہے گی کہ ایک بن ماں کا چار سالہ معصوم اپنی بوڑھی دادی کے ساتھ اپنے کھلونے لیے اسلام آباد میں اپنے باپ کو ڈھونڈ رہا ہے۔

مگر اس کا باپ کیسے ملے گا کیونکہ جن کو اس کے باپ کو ڈھونڈنا ہے وہ تو اس وقت اقتدار کی آنکھ مچولی کے کھیل میں مصروف ہیں۔ اس آگ کے کھیل کی مصروفیت میں یہ بھول گئے ہیں کہ اس آگ میں اس بار ان کے مکان ہی نہیں دامن بھی آرہے ہیں۔

اس جنگل کی لگی آگ ٹھنڈی ہوتے ہوتے کئی جلتے سوالات چھوڑ گئی کہ اتنی دیر کیوں لگی آگ کو بجھانے کے لیے اتنی دیر میں اس جنگل میں رہنے والے جاندار کیسے تڑپ تڑپ کر مر گئے ہوں گے ۔ مگر یہاں تو چولستان میں تڑپ تڑپ کر جلتے پیاسے جانور مرتے رہے کون دیکھ رہا ہے کون پوچھ رہا ہے بس اللہ کی مرضی کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

ستم ظریفی تو ایسی کہ آگ بجھانے کے لیے بھی اس نیوکلیر پاور کو پڑوسی ملک سے جہاز مانگنا پڑا۔ ویسے بھی ہمارے ملک کے جہاز اور ہیلی کاپٹر تو وی وی آئی پیز کی ڈیوٹی پر ہوتے ہیں ان کی جان کو خطرہ ہوتا ہے۔

اس جنگل کی آگ میں جل کر مرنے والے تو خیر جانو ر تھے یہاں تو انسانوں کو سیلف ڈیفنس کے نام پر گولیاں ماری جا رہی ہیں وہ بے چارہ پولیس والا تو اپنی ڈیوٹی پر تھا اس کو کیا پتہ تھا کہ اس ملک میں صاحب قوت سے ٹکرانے کا مطلب تو موت ہے۔

اس کے پانچ بچے سکتے میں دیکھتے رہے کہ ان سے تعزیت کے لیے آئے ہوئے وزیراعلی پنجاب آگ اگلتی تقریر کرتے چلتے بنے۔

دوسری طرف نیا پاکستان بنانے والے تو اس وقت اس آگ کو بھڑکا رہے ہیں جس میں ان کا دامن بھی محفوظ نہیں مگر خیر آگ لگے تو لگے اقتدار ضروری ہے۔

اس جنگل میں راکھ کے ڈھیر سے سلگتا دھواں یاد دلاتا رہے گا کہ اقتدار کی خاطر ہماری سیاسی قیادت کس طرح اپنے چاہنے والوں کو یہ بیانیہ پڑھاتی رہی کہ حق اور باطل کے معرکہ کے لیے باہر نکل کر آجائیں۔

اب الیکشن کے اعلان تک دھرنا ہو گا مگر جب وہ باہر آہی گئے تو ان کو شیلنگ آنسو گیس اور پولیس کے رحم و کرم پر چھوڑ کر کنٹینر سے یہ اعلان کر کے چلتے بنے کہ چلو چھ دن اور دے کر دیکھ لیتے ہیں۔

اس جنگل کی آگ کے شعلوں کی تپش یہ یاد دلاتی رہے گی کہ کراچی بم دھماکے کے بعد ایک معصوم بچہ اپنی ماں کی لاش کو پکار پکار کر رو رہا تھا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا لیکن اس معصوم کو کیا پتہ کہ اس کی جلتی آنکھوں کے آنسو ٹھنڈے نہیں ہوں گے ۔

کیونکہ جن کا کام ہے وہ تو اس وقت اپنی اپنی طاقت کے پتے ایک دوسرے کو دکھا رہے ہیں آگ کا کیا ہے وہ تو لگتی ہے بجھ جاتی ہے۔

ہاں مگر اس بار طاقت کے ان کھلاڑیوں کو یہ اندازہ نہیں ہو رہا ہے کہ یہ آگ اس بار بجھنے کے لیے نہیں لگی کیونکہ اس کھیل میں مزید اور کھلاڑی شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ لوگوں کی انگلیاں طاقت کے ان کھلاڑیوں کی جانب ہی اٹھ رہی ہیں ان سے سلگتے سوال پوچھ رہی ہیں۔

جو ہمت پہلے نہیں تھی اس بھڑکتی آگ نے دیدی ہے کہ کیوں اس آگ کے کھیل کو کھیلا جا رہا ہے کیوں شعلوں کو ہوا دی جا رہی ہے کیوں اس ملک کو جنگ کا میدان بنا دیا ہے۔

اس جنگل آگ سے ہونے والی جلن یہ یاد دلاتی رہے گی کہ اناؤں کی جنگ میں یہ ملک آگ کا تندور بن کر رہ گیا۔

اس جنگل کی لگی آگ تو ایسی بھڑکی کہ اس نے تو جناح ایونیو میں لگے درختوں کو بھی نہیں بخشا معصوم درخت جلتے جلتے یہ سوال بھی نہیں کرسکے تمہاری نفرت اور جنون میں ہمارا کیا قصور ہے ہمیں کیوں جلا رہے ہو۔

لیکن ان جلتے درختوں کو کیا معلوم کہ یہ تو نفرت کی وہ آگ ہے جو ایسی لگی ہے کہ اب بجھائے نہ بجھے یہ تو الاؤ ایسا جل رہا ہے جس میں سب کچھ جل کر راکھ ہو رہا ہے۔

اس آگ کا دھواں آنکھوں کو سلگا رہا ہے کیونکہ شیرانی سے جناح ایونیو تک یہ آگ سب جلا کر راکھ کر دے گی۔

Facebook Comments HS