تین سالہ کارکردگی کی روشنی میں کیا عمران خان نااہل حکمران تھا؟
کیا عمران خان واقعی ہی نا اہل ہے عمران خان کا 3 سالہ دور حکومت کی کارکردگی کیا کہتی ہے؟
ملک کی آدھی آبادی سے بھی زائد کو مہنگے ترین ہسپتال میں علاج کی سہولت دی صحت کارڈ کے ذریعے سے
کرونا جیسی وبا پر قابو پایا معیشت کو بچایا جس کا معترف عالمی میڈیا ہوا بل گیٹس نے تعریف کی۔
شیلٹر ہوم بنائے۔
آسان اقساط پر قرضے دیے
خود میرا عزیز گھر تعمیر کر رہا ہے قرضہ لے کر جو کہ وہ اس قرضے کے بغیر پوری عمر تعمیر نہیں کر سکتا تھا۔
ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بحال کیا
کسانوں کو پورا معاوضہ ملا ان کی فصلوں کا۔
رئیل اسٹیٹ میں جتنی گروتھ ہوئی اس سے پہلے آج تک نہیں ہوئی
70 سال بعد ملک میں 2 بڑے ڈیم بننا شروع ہوئے۔
ملک میں 55 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کیے
جی ڈی پی گروتھ 5.7 تک پہنچائی۔
مذہبی ٹیواریزم کو پروموٹ کیا جس کا مقصد ملک کے مثبت پہلو اجاگر کرنا اور پیسے کمانا تھا۔ اس لیے کرتار پور راہ داری تعمیر کی
قدیم مندروں کی تزین و آرائش کی گئی، بدھ مت پیروکار کے لیے سائیٹ کو اپ گریڈ کیا گیا
ملک میں رائج 150 سالہ قدیم قانون ضابطہ دیوانی کو تبدیل کیا فوری انصاف مہیا کرنے کے لیے
کریمنل لا بھی فائنل ہو چکا تھا تقریباً۔
جنوبی پنجاب میں یونیورسٹی، ہسپتالوں کی تعمیر ہوئی
عمران خان کے دور میں ہی اسی کے پارٹی کے لوگ جہانگیر ترین علیم خان کے خلاف نیب انکوائری شروع ہوئی عمران خان نے کسی قسم کا پریشرائز نہیں کیا ادارے کو (اسی وجہ سے یہ لوگ نون لیگ سے ملے اور پھر نون لیگ بھول گئی کہ کوئی چینی چور، قبضہ مافیا بھی تھا)
سب سے بڑھ کر
پہلی دفعہ ملک کے وزیر اعظم کی جانب سے آزادانہ خارجہ پالیسی کی بات کی گئی
امریکہ کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تم غلط ہو
یہ بات کہنے کی جرات آج تک کوئی جرنیل نہ کر سکا
روس سے تیل اور گندم خریدنے کا فیصلہ کیا (درحقیقت اسی فیصلے کی سزا دی گئی)
یہ سب کام عمران خان نے 3 سال دور حکومت میں کیے
لیکن
جب کسی کے خلاف بغض، حسد کے جراثیم دماغ میں گھر کر جائیں تو پھر وہ چاہے مٹی کو سونا بھی بنا دے پھر بھی لوگ اس سے خوش نہیں ہوتے
یہی وجہ ہے
عمران خان یہ سب کچھ 3 سال میں کرنے کے باوجود بھی مخالفین کی نظروں میں نا اہل ہے۔
خیر ان کی نظروں سے کوئی فرق نہیں پڑتا عوام کے ووٹوں سے فرق پڑتا ہے
عوام عمران خان کو 2 تہائی اکثریت سے دوبارہ ملک کا وزیراعظم بنائے گی
جیسا کہ خیبر پختون خواہ میں پہلے دور حکومت کے بعد 2018 میں 2 تہائی اکثریت سے جتوایا
کیونکہ عوام عوام ہیں
وہ کوئی خدا واسطے کا بغض رکھنے والے دانشور نہیں۔


