’شادی کے بعد عارضی علیحدگی سے باہمی تعلقات میں تازگی اور پیار کا احساس ملا‘


 

گیپ ائیر

شادی شدہ جوڑے اب باہمی رضامندی سے عارضی طور پر ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر رہے ہیں۔ ایسے جوڑوں کی تعداد میں اضافے سے یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ کیا اس طرح کچھ وقت کے لیے ایک دوسرے سے دور وقت گزارنے سے تعلقات میں تازگی آتی ہے یا پھر وہ بگاڑ کا سبب بن سکتی ہے۔

دیگر بہت سے جوڑوں کی طرح ویوا اور ان کے شوہر جان نے وبا کے دنوں میں کافی وقت ایک ساتھ گزارا ہے۔ ویوا اس وقت 40 برس کی ہیں۔ وہ رہتی تو لندن میں ہیں مگر ان کا بنیادی تعلق فلپائن سے ہے۔ مگر جب کورونا وائرس سے متعلق پابندیاں ختم کی گئیں تو انھوں نے اپنا زیادہ وقت اپنے خاندان کے ساتھ گزارنا شروع کر دیا جبکہ جان اپنے گھر کے کام کاج میں مگن ہو گئے۔

ان معاملات سے نبردآزما ہونے کے لیے جان کے پاس ایک خاص تجویز ہے۔

بجائے اس کے دونوں میں سے ایک کو وبا کے بعد وقت گزارنے سے متعلق سمجھوتہ کرنا پڑے کیوں نہ دونوں عارضی طور پر ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں اور اپنی مرضی سے علیحدگی میں یہ وقت گزاریں؟ دونوں حمل ضائع ہونے کے دکھ سے بھی گزر رہے تھے اور انھوں نے سوچا کہ کیوں نہ کچھ وقت علیحدگی میں گزار لیا جائے جو دونوں کے لیے بہتری کا سبب بن سکتا ہے۔

شروع میں تو ویوا اس حوالے سے کچھ مخمصے میں تھیں۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی کہ وہ سات برس قبل شادی کے بعد کبھی جان سے اتنے طویل عرصے کے لیے علیحدہ نہیں رہی تھی۔ مگر بعد میں وہ اس بات پر آمادہ ہوگئیں کہ اب ان دونوں کو علیحدگی میں وقت گزارنا چاہیے اور پھر انھوں نے ایسا ہی کیا۔

دونوں میاں بیوی کو ایک دوسرے سے علیحدہ رہتے ہوئے تین ماہ ہو چکے ہیں۔ ویوا نے یہ وقت منیلا میں اپنے خاندان والوں کے ساتھ گزارا جبکہ جان آئرلینڈ میں اپنے خاندان کے پاس جا کر یہ وقت گزار رہے ہیں۔ اب کام کے بعد ان کا اپنی چھٹیاں ڈنمارک میں گزارنے پلان ہے۔

کچھ لوگوں کا شاید یہ خیال ہو گا کہ اس طرح علیحدگی میں وقت گزارنا شاید باہمی تعلقات کو ختم کرنے کے مترادف ہوگا۔ مگر ویوا اور جان کے خیال میں اس عمل نے مزید ان کے تعلقات کو ممیز دی ہے۔ ویوا کا کہنا ہے کہ ہم روزانہ ایک دوسرے سے واٹس ایپ، فیس بک اور ای میل پر رابطے میں رہتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ہم شادی سے قبل تعلقات کے دوران ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے تھے۔

ویوا ہی وہ واحد خاتون نہیں ہیں جو شادی کے بندھن سے نکل کر کچھ وقت گزارنا چاہتی ہیں چاہے وہ عارضی طور پر ہی کیوں نہ ہو۔ کچھ ماہرین اور تعلقات میں بہتری لانے والے تھراپسٹ ان جوڑوں سے حاصل والی رپورٹس کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ اس وقفے کو تعلقات ختم ہونے کی علامت کے طور پر نہیں دیکھنا چائیے جب شادی کے بعد کچھ جوڑے کچھ وقت علیحدگی میں گزارنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

ان کے مطابق کچھ جوڑے شادی کے بعد نام نہاد علیحدگی اختیار کرتے ہیں تاکہ وہ اس دوران اپنے مختلف مشاغل سے لطف اندوز ہو سکیں اور کچھ جوڑے تو اپنے نئے جنسی تعلقات قائم کرنے کے لیے بھی ایسا کرتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ عارضی علیحدگی تعلقات میں بہتری کا سبب بنتی ہے۔ یا یہ اس بات کی علامت ہے کہ اب جوڑے علیحدگی کے رستے پر گامزن ہیں۔

پہلے آپ

طویل عرصے کے تعلقات میں کچھ پابندیوں کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔ جس کا مطلب ایک خاص شہر میں رہائش اختیار کرنا، اپنی کچھ ضروریات اور خواہشات پر قابو پانا اور جنسی طور پر یکسانیت کا شکار ہونا بھی ہے۔

مگر ضروری نہیں کہ اس کا یہی مطلب ہو۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں تعلقات میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں تو ایسے میں کچھ جوڑے خود اپنے لیے قواعد بنا رہے ہیں۔

ماہر نفسیات پروفیسر ماریسا ٹی کوہن، جو ایک ڈیٹنگ ایپ ہیلی کی محقق ہیں، کے مطابق شادی شدہ جوڑے ملازمت کے مواقعوں، گھر سے دور ایسی جگہ جو ہمیشہ ان کے خوابوں کا حصہ رہی یا ذاتی مفاد کو یقینی بنانے کی خاطر عارضی علیحدگی اختیار کرتے ہیں۔

ان کے مطابق ان میں سے کسی بھی صورت کے پیش نظر جوڑے تعلقات میں عارضی علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں۔

ایک دوسرے سے کچھ عرصے سے علیحدگی اختیار کرنے والی بات مارک اور ان کی اہلیہ صام کے معاملے میں اہمیت کی حامل ہے۔ ان دونوں نے ایک دوسرے سے اس وقت علیحدگی اختیار کی جب وہ 31 اور 32 برس کی عمر کے تھے۔ دونوں کی شادی کا مطلب ایک ساتھ بہت کچھ کرنا تھا، دونوں ہی لندن میں مقیم ہیں اور پھر انھوں نے ایک دوسرے سے علیحدہ ہنی مون منانے کا فیصلہ کیا۔

مارک میرین بائیولوجی میں اپنے کریئر کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں جبکہ صام یوگا انسٹرکٹر کے طور پر تربیت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ نئے شادی شدہ جوڑے نے کئی ماہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

صام اس عرصے میں انڈیا کی ایک اشرام پر ہیں جبکہ مارک بہاماس میں ایک شارک ریسرچ سٹیشن پر ہیں۔

مارک کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ طے کیا کہ ہم آخری بار یوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہوں گے باقی وقت ہم اپنے خوابوں کے عین مطابق گزاریں گے اور ایک دوسرے سے دور نہیں ہوں گے۔ اس علیحدگی کے دوران انھیں ایک دوسرے کے بارے میں سوچنے کا موقع ملا اور اس بات پر بھی غور کا موقع ملا کہ شادی کا ان کی زندگی میں کیا مسئلہ ہے۔

اب یہ جوڑا خوشی خوشی ساتھ رہ رہا ہے اور مارک کا کہنا ہے کہ علیحدگی میں گزرے وقت کی وجہ سے ان کا صام سے تعلق مزید مضبوط ہوا ہے۔ اس عرصے میں صام بھی اس قابل ہو گئیں کہ وہ کلینکل سائیکالوجی اور یوگا تھراپی میں اپنے کرئیر کا آغاز کیا جبکہ مارک اس عرصے میں اس قابل ہو گئے کہ وہ شارک کے ساتھ کام کرنے کے اپنے خواب کو پورا کر سکیں اور پھر ہمیشہ کے لیے اپنے اس کام کو خیر آباد کہہ دیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں یہ اعتماد پیدا ہوا گیا ہے کہ وہ علیحدگی میں وقت گزار سکتے ہیں اور اس سے ان کے تعلقات پر بھی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ شامار کا کہنا ہے کہ شادی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ ان چیزوں کو ترک کر دیں جن کو حاصل کرنے کے لیے آپ میں جذبہ موجود ہوتا ہے۔۔ مگر کسی کو پانے کے بعد ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے آپ اسے سپورٹ کر سکتے ہیں اور وہ بھی آپ کے لیے مددگار ہوسکتا ہے۔

شارک

شادی کے بعد عارضی علیحدگی اختیار کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیوں ہوتا جا رہا ہے؟

مارک ہی وہ واحد شخص نہیں ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ شادی کے باوجود بھی انفرادی شوق اور مفاد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس صورتحال میں یہ چیز اہم کردار ادا کر سکتی ہے کہ شادی کے بعد عارضی علیحدگی کیوں عام ہوتی جا رہی ہے۔

تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں سنہ 1960 کی دہائی سے انفرادیت کو آزادی اور منفرد اہمیت کی دوڑ میں اضافہ ہوا ہے۔ اور ایسے لوگ جن میں انفرادیت زیادہ پائی جاتی ہے وہ فیملی کی نسبت دوستی میں خاص ہوتے ہیں۔ تعلقات میں سب سے اہم بات اپنے جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔

انفرادی مقاصد، خواہشات اور مفاد کے حصول کے لیے شادی کے بعد عارضی علیحدگی کا خیال اہمیت کا حامل ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے شاید شادی کو سمجھوتے اور قربانی کے تصور کے طور پر دیکھنا کم دلچسپی کا حامل بن جاتا ہے۔

بہت سے لوگ کامیاب شادی کے تصور کو وسیع مفہوم میں دیکھتے ہیں جہاں تعلقات میں بہت لچک پائی جاتی ہے۔

ایسے جوڑوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو غیر روایتی تعلقات قائم کر رہے ہیں۔ جہاں امریکہ میں اب طلاق کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے تو ایسے میں کچھ ماہرین کا قیاس ہے کہ وسیع تر تعلقات کے لیے رواداری، جہاں جوڑے ایک دوسرے سے علیحدگی میں رہ رہے ہوں، اہم ہے۔

پروفیسر کوہن کے مطابق ایسے تعلقات میں جہاں لوگ ناخوش ہوں یا ان کی تسکین نہ ہو تو بجائے تعلقات ختم کرنے کے وہ ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھ کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اگر دونوں ایک ہی صفحے پر ہوں تو ایسے میں تعلقات میں وقفہ لینے سے تعلقات میں بہتری ممکن ہے۔

ان کے مطابق دونوں شریک حیات اپنی زندگی آگے بڑھا سکتے ہیں اور اپنی صلاحیت میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ یوں اس سے ان کے تعلقات بھی مزید مضبوط ہوں گے۔

علیحدگی شادی کے بندھن سے نکلنے کا ایک باعزت طریقہ یا تعلقات کی مضبوطی کا ضامن

ویوا اور مارک نے شاید اس علیحدگی کو اپنے تعلقات میں بہتری کا ضامن پایا ہو مگر یہ بات ہر ایک کے معاملے میں مختلف ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے اپنے شریک حیات کو علیحدگی میں وقت گزارنے کا مشورہ دینے ایک خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے۔

امریکہ کی ایڈلر یونیورسٹی میں سیکس تھراپسٹ ٹام مرے کے خیال میں شادی شدہ جوڑوں کے علیحدگی میں گزرے سال مزید مسائل کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک دوسرے سے عارضی وقفہ لینے کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ لوگ بوریت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان میں ان تعلقات سے باہر جنسی تعلق قائم رکھنے کی خواہش جنم لیتی ہے تو ایسے میں باہمی تعلق جلدی سے خاتمے کی طرف بڑھتا ہے۔

ان کے مطابق بنیادی وجہ تو انسان کی سوچ میں تبدیلی کا پہلو ہے۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سماجی مخلوق ہیں اور اہم ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں، تو ایسے میں جب حسد اور غیر محفوظ ہونے کا احساس پایا جاتا ہو تو پھر مجھے شک ہے کہ ایسے میں باہمی تعلق ایک سال تک بھی قائم رہ سکے۔

اور اگر ایک دوسرے سے علیحدگی کا ایجنڈا ہو تو پھر تعلقات بہت جلد ختم ہوجاتے ہیں۔

اگرچہ ٹام مرے تعلقات میں عارضی علیحدگی سے متعلق شکوک و شبہات کا شکار ہیں مگر ان کے مطابق یہ وقفہ بھی مفید ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق عملی امور کو زیربحث لانے کی ضرورت ہے جیسے کہ مشترکہ اخراجات، ذمہ داریاں اور مخفی جذباتی پیچیدہ صورتحال خاص طور پر جب دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ رہ رہے ہوں۔

ان کے مطابق وہ جوڑوں کو یہ کہیں گے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدگی کے وقت مقاصد کا تعین واضح انداز میں کریں۔ تاکہ وہ اندازہ لگا سکیں کہ آخر علیحدہ رہنے سے انھیں ملا کیا ہے؟ ان کے مطابق میں ان سے کہوں گا وہ اپنے وژن کا ساتھ تعلقات کو آگے بڑھائیں اور علیحدگی میں بھی انھیں یہ یقینی بنانا ہو گا کہ وہ جب ملیں گے تو مستقبل میں ان کے تعلقات برقرار رہیں گے۔

زیادہ وقت علیحدہ رہ کر تعلقات کو بہتر بنانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ مگر بہت سے جوڑوں کے لیے اس سے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے۔

اپنے خاوند سے دور وقت گزارنے کے بعد اب ویوا دوبارہ ملنے سے متعلق بہت مثبت رائے رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق علیحدگی میں وقت گزارنا ہمارے لیے بہت اہم ثابت ہوا۔ ان کے مطابق ہمارے معاملے میں علیحدگی نے مزید ایک دوسرے کے لیے دل میں محبت پیدا کی ہے۔ اس سے ہمارے تعلقات میں تازگی آئی ہے۔ اب ہم ایک دوسرے کو زیادہ سراہتے ہیں اور زیادہ پیار کرتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24814 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments