چچا سام کے نام دسواں خط


اٹھائیس مئی دو ہزار بائیس
میانوالی۔ پاکستان
! چچا جان تسلیمات
اس سے پہلے کے بجلی چلی جائے، مجھے خط لکھ لینے دیجیے۔

آپ کو کیا خبر کہ اڑتالیس ڈگری میں دوپہر کو جب دو دو گھنٹے بجلی چلی جاتی ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے، آپ تو اب مریخ کو آباد کرنے کا سوچ رہے ہیں، ادھر ہم زمین پر بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں۔

پچھتر برس پہلے ہمارے دوست اور آپ کے ہردلعزیز بھتیجے سعادت حسن منٹو نے آپ کو نو خطوط لکھے، تاہم آپ کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا، وہ تو رخصت ہوئے، آپ کی طرف سے اس قدر بے رخی کے بعد مجھے یہ خطوط کا سلسلہ ہرگز شروع نہیں کرنا چاہیے تھا تاہم اس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ چچا جان آپ ایک اشارے سے کمزور ملکوں کی حکومتیں بناتے اور گراتے ہیں پھر یہ آپ کو ہمارے ”بڑوں“ کو خط لکھنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ اب دیکھیے، سارے ملک میں آگ لگی ہوئی ہے۔ ہمارے دو چار فیصد رقبے پر درخت باقی بچے ہیں، ہم انہیں بھی آگ لگا کر ختم کر رہے ہیں تاکہ زوال کے اس سفر کو مزید تیز کیا جا سکے۔

ہم تو ہمیشہ سے خود اپنے دشمن رہے ہیں، ہمارے ہاں شعرا نے بھی ”مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے“ جیسے مضامین کو شاعری میں کثرت سے برتا ہے۔ ایسے میں آپ کو کیا پڑی تھی خط لکھنے کی۔

چچا جان آپ کی دوراندیشی کی تو ایک دنیا قائل ہے۔ آپ جو فیصلہ آج کرتے ہیں اس کے نتائج بیس سال بعد نظر آتے ہیں۔ ہمارے کندھے جو اب بالکل ناتواں ہو چکے ہیں، ہمیشہ سے آپ کے لیے حاضر رہے ہیں، یہ کوئی زیادہ پرانی بات تو نہیں جب آپ نے ہمارے کندھوں پر بندوق رکھ کر روس کو ہمارے پڑوس سے بھگایا تھا۔ ہماری عاقبت نااندیشی ملاحظہ کیجیے کہ اسی روس سے ملاقات کو دوڑے چلے جاتے ہیں۔ ہاں ہاں غلطی تھی، ہو گئی۔ اب جانے دیں۔ ہم بھی تو آپ کی کئی غلطیاں بھگت رہے ہیں، ایک آدھ ہماری غلطی بھی درگزر کیجیے۔
ہمارے حالات بھی کیا حالات ہیں کہ ہمیشہ دگرگوں ہی رہے ہیں۔ ستر برس پہلے آپ کو بھتیجے نے بتایا تھا کہ یہاں ملاوٹ شدہ دیسی شراب ملتی ہے، مگر اب حالات بہت مختلف ہیں، اب آپ تسلی سے کوئی بھی چیز بازار سے اس امید واثق پر خرید سکتے ہیں کہ یہ اصل نہ ہوگی۔ ادویات سے لے کر دودھ دہی تو ایک طرف، زہر خریدتے ہوئے بھی یہ تسلی رکھیں کہ اس سے آپ فوراً موت کے منہ میں نہیں جائیں گے بلکہ اس دوران آہ و فغاں کے مقام اور بھی آئیں گے۔ یعنی ممکن ہے زہر کھانے والا شخص خونی پیچش کا شکار ہو اور سرکاری ہسپتالوں میں عطائی ڈاکٹروں کے پاس چکر لگا لگا کر موت کے منہ میں جائے۔ ہمارے ہاں لوگوں کو زندگی کی قدر ایسے ہی آتی ہے۔

چچا جان یونہی باتوں باتوں میں یاد آیا، یہ آپ کو بیٹھے بیٹھے اچانک ہمارا پڑوس خالی کرنے کی کیا سوجھی، راتوں رات بوریا بستر لپیٹا اور چل دیے۔ یقیناً اس میں بھی حکمت ہوگی جو بیس برس بعد نظر آئے گی۔ ویسے بھی اس پر ہمیں نہیں، ہمارے دوست چین کو سوچنا چاہیے، ہم تو سوچتے ہی نہیں، عرصہ ہوا ہم نے سوچنا ترک کر رکھا ہے، ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ساری دنیا ہمارے بارے سوچ رہی ہے اور لگاتار سازش کیے جا رہی ہے۔ ہمارے حکمران خط لہرا لہرا کر ہمیں یہی بتاتے ہیں، جب ہم یہ سنتے ہیں تو ایک دوسرے کو گریبانوں سے پکڑ لیتے ہیں، معاف کیجیے گا اب آپ کے گریبان تک تو ہمارے ہاتھ پہنچنے سے رہے۔

چچا جان آج اٹھائیس مئی ہے، یہ دن ہماری تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے ، دراصل اس دن ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم لوگ گھاس کھا کر ایٹم بم بنائیں گے تاکہ دنیا کے دلوں پر ہماری دھاک بیٹھ سکے۔ چوبیس سال ہو گئے ہم بم بنا کر بیٹھے ہیں تاہم دشمن کے دل میں ہماری ٹھیک طرح دھاک نہیں بیٹھ رہی اس لیے ہم ہر سال ”دھاک“ کا بجٹ بڑھا دیتے ہیں، ایک دن آئے گا، صرف دھاک رہ جائے گی اور ہم گھاس کھا رہے ہوں گے۔ اس سلسلے میں آپ کے گراں قدر مشوروں کی ہمیں اشد ضرورت ہے، آپ جس طرح ایک خط لکھ کر حکومتوں کو ”ڈھاک کے تین پات“ کی مانند گرا دیتے ہیں، وہ قابل ستائش ہے۔

عرض صرف یہ ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں آپ کو آخر خط لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، ابھی ہمارے سیاست دان آپ کا خط دکھا کر سیاست کر رہے ہیں حالاں کہ انہیں خوش ہونا چاہیے کہ آپ نے خط لکھا، چچا جان آپ دنیا کی سپر پاور ہیں، آپ کا خط تو خوش قسمتی کی علامت ہے۔ مگر لوگ آپ کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ معلوم نہیں آپ ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے، آپ سے قرض لے کر کھاتے ہیں اور آپ کے خلاف نعرے بھی لگاتے ہیں، آپ کے دل پر کیا گزرتی ہوگی، بس آپ ہی جانتے ہیں۔

چچا جان آپ تو ہمارے سیاست دانوں کی رگ رگ سے واقف ہیں، یہ سب اعلٰی تعلیم کے لیے آپ ہی کے دیس کا رخ کرتے ہیں، وہی بیس بائیس خاندان ہیں جو پچھتر سالوں سے ہمیں غلام بنائے ہوئے ہیں۔ عوام میں آپ کے خلاف نعرے بازی کرنے کے بعد یہ یقیناً آپ کو ”معذرت“ کا فون بھی کرتے ہوں گے۔ دراصل ہم پاکستانیوں کو پاکستان سے بے حد محبت ہے، اسی لیے ہم آپ کے خلاف نعرے بازی کرتے ہیں، ہمیں اب ان غلامی کے بیڑیوں سے آزاد کیا جائے اور اس سلسلے میں سب سے پہلا کام یہ کیا جائے کہ ہم پاکستانیوں کو امریکہ کے زیادہ سے زیادہ ویزے دیے جائیں تاکہ ہم وہاں آ کر آزادی محسوس کرسکیں، ہمارے ملک کو تو آپ نے غلام ہی کر چھوڑا ہے۔

فقط
ایک غلام ملک کا افسانہ نگار
محمد جمیل اختر

Facebook Comments HS