روایتی سیاستدان عمران خان کو کس طرح شکست دیں؟

عمران خان سیاست کے انجینئر محمد علی مرزا ثابت ہوئے ہیں جنہوں نے سیاست کو باپ کی جاگیر سمجھنے والوں کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے، ان دونوں شخصیات سے اکثر گھرانے نالاں رہتے ہیں خصوصاً دیہاتی والدین کا خان صاحب سے گلہ ہے کہ انہوں نے نسل خراب کردی اولاد ان کے پسندیدہ قائد کو ناپسند کرتی ہے بچے والدین کی رضا پر ووٹ دینے پر راضی نہیں، معذرت کے ساتھ لیکن یہ بڑے بھی اس حقیقت سے دور ہیں کہ وہ عملی تجربہ کے میدان میں جتنا اپنے بچوں سے آگے ہیں ٹیکنالوجی میں اتنا ہی پیچھے!
ٹیلی ویژن پر ڈچ وزیراعظم کے سائیکل پر دفتر جانے کی اطلاع جو اگلے دن چند لمحات کے لیے خبر نامہ میں والدین دیکھ کر واہ واہ کرتے ہیں نوجوان نسل اس ملک (نیدرلینڈ) کے وقت کے مطابق ہی ٹویٹر پر ٹرینڈ بنا دیکھ لیتی ہے۔ ایک طرف سائیکل چلاتے وزیر اعظم اور دوسری جانب ہمارے اعلیٰ حکام کے شاہانہ پروٹوکولز جب اس موازنہ پر مبنی عکس بندیاں بار ہا بیک گراؤنڈ موسیقی کے ساتھ سوشل میڈیا پر گردش کرتی دکھائی دیں تو نوجوانوں کی نفسیات پر اپنے حاکموں کے خلاف منفی اثرات کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں۔
ان والدین سے سوال ہے کیا آپ بچپن سے مخالف سیاسی جماعتوں کے قائدین کو چور کہہ کر ان بچوں کی ذہن سازی اور تربیت نہیں کرتے رہے؟ اچانک سے سب دودھ کے کیسے دھل گئے؟
عمران خان تو فقط ”میرے نوجوانوں سنو“ سے اپنی تقریر کا آغاز کر کے والدین کے ہی بتائے سیاستدانوں کو چور کہہ کر نوجوانوں کی یادداشت تازہ کرتے ہیں۔ خان سے قبل کتنے سیاستدانوں نے نوجوانوں کو قابل خطاب سمجھ کر انہیں عزت بخشی؟
نسل نو جذباتی نعروں، جوش اور تیزی سے متاثر ہوتی ہے ٹرینڈ اور برانڈ بہت کار آمد ثابت ہوئے ہیں، ہندوستانی فلم کے ایک جملے کے مصداق اس وقت عمران خان ایک برانڈ بن چکے ہیں۔
سابق وزیر اعظم کے سیاسی مخالفین کے پاس دکھانے کو پریکٹیکل جذباتی نعرہ یا یکساں نصاب و رحمت العالمین اتھارٹی طرز کا اقدام نہیں ہے اور نہ ہی عمران خان کی طرح قومی لباس میں ملبوس اردو کو ترجیح اور انگریزی زبان کے تسلط سے نفرت کرنے والا بچوں کے ذہن میں نقش قومی ہیرو کے تصور پر پورا اترنے والی شخصیت کم از کم ان چند سیاسی خاندانوں میں تو ناپید ہے جن سے نوجوان متاثر ہو سکیں۔
ہمارے علاقہ کے ایک چیئرمین اپنی تند مزاجی کے باعث مردوں کی کثیر تعداد کا اعتماد کھوتے رہتے ہیں اس کے باوجود ہر انتخاب میں کامیاب قرار پاتے ہیں۔ ایک روز بتانے لگے میں تو الیکشن سے دو دن قبل ان مخالف مردوں کے گھروں کے چولہوں پر جا بیٹھتا ہوں خواتین کی جلی کٹی سنتا ہوں، ان کی ضروریات معلوم کرتا ہوں، بزرگ خواتین کو خالہ، چاچی، مامی، تائی، اور ہم عمروں ( اپنی عمر، پچپن سال) کو بچی کہہ کے ان کو یقین دلاتا ہوں میں آپ کا اپنا ہوں ہلکا سا ان کے بندوں کی غیبت کرتا ہوں باقی وہ اپنے میاں کو خود ہی برا بھلا کہہ کے مجھے یقین دلا دیتی ہیں کہ جا بھائی ووٹ تیرا۔ اس طرح میں انتخاب جیت جاتا ہوں ان بندوں کی تو گھر میں کوئی نہیں سنتا میری اصل رائے دہندگان تو ان کی بیویاں ہیں۔
یونین کونسل کے اس چیرمین کی طرح عمران خان نے بھی پاکستان کی پچاس فیصد سے زائد خواتین کی آبادی کی نفسیات پر غلبہ پا لیا ہے خواتین ساتھ ہوں تو بچے اپنی ماں کا ہی ساتھ دیتے ہیں۔ اور یہی بچے مستقبل کے ووٹر بن کر عمران خان کو دو تہائی اکثریت دلا سکتے ہیں۔
دور رواں سیاسی شعور کا دور ہے اب تو دیہاتوں میں نمبردار بھی دو دو دکھائی دیتے ہیں۔ گامو مراثی بھی خود کو چوہدری سمجھتا ہے۔ ایسے دور میں روایتی سیاستدانوں کی اولادوں کو عمران خان جیسے پاپولر لیڈر کی موجودگی میں تعلیم یافتہ نوجوان کیسے اپنا قائد تسلیم کر لیں؟ بال بچے دار سیاستدان جس نے اپنی اولاد کا مستقبل سنوارنا ہو وہ لوگوں کی اولادوں کو متاثر نہیں کر سکتا۔ بہر کیف عمران کو شکست دینے کے لئے ان کے مخالفین کو آج ہی سے 14 سالہ بچے اور بچی کی ذہن سازی کرنا ہوگی تاکہ 18 سال کی عمر تک وہ ان کا ووٹر بن سکے۔
مقتدر حلقوں کے لئے بھی یہی مشورہ ہے کہ عمران کے متبادل کے طور پر اس جیسی پرکشش شخصیت کو سامنے لایا جائے جو پاکستان کی نصف سے زائد نوجوان اور خواتین پر مشتمل آبادی کو جذباتی، پر اثر اور موٹیویشنل تقاریر کے ذریعے قائل کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہو۔ سب سے اہم بات یہ متبادل لیڈر روایتی سیاستدانوں کی طرح کم از کم عوامی سطح پر رکھ رکھاؤ یا اخلاقیات کے نام پر منافقت سے کام نا لیتا ہو۔ روایتی سیاستدان کیسے عمران کو شکست دیں تو اس سوال کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ بلاول زرداری اور مریم نواز شدید سیاسی مخالفت کے باوجود عمران خان کے خلاف کیوں اکٹھے ہوئے؟ اس سوال کا منطقی جواب جس دن نوجوان نسل کو دے دیا گیا سمجھ لیجے یہ اس روز عمران کا ووٹ اور سپورٹ بنک توڑنے میں کامیاب ہوجائیں گے!

