ایک تنخواہ دار شوہر کی کتھا
وہ ایک اچھے سے ملک کا تنخواہ دار شوہر تھا۔ اس کے سارے سپنے پہلی تاریخ سے جڑے ہوتے تھے۔ چونکہ وہ شوہر تھا تو اس کی ایک عدد بیوی بھی تھی (تنخواہ دار تھا لہذا ایک عدد ہی تھی ) ۔ اس کی بیوی کا پیار اور غصہ بھی تنخواہ سے جڑا ہوا تھا۔ چونکہ وہ شوہر تھا اور چونکہ اس کی ایک بیوی بھی تھی چونکہ دونوں پاکستانی میاں بیوی تھے لہذا ان کے چھ عدد بچے تھے۔ ان بچوں کی فرمائشیں بھی تنخواہ والی تاریخ سے جڑی ہوتی تھیں۔
چونکہ سب کچھ تنخواہ والی تاریخ سے جڑا ہوا تھا تو جس دن تنخواہ ہوتی گھر میں جشن کا سا سماں ہوتا۔ شوہر کا چہرہ یوں ہوتا جیسے ایک ملک میں عدم اعتماد کامیاب ہونے پر گیارہ سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کا ہوا تھا۔ بیوی کی آواز میں وہ خوشی کی لہر ہوتی جیسے ایک ملک میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر ایک نیوز اینکر خاتون کے چہرے پہ چھائی ہوئی تھی اور بچے گھر میں یوں دھما چوکڑی مچاتے جیسا ایک ملک میں تحریک عدم اعتماد کے خلاف ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں کا اس ملک کے دارالحکومت میں مچانے کا ارادہ تھا (یہ بات ایک ملک کے ہمیشہ جینے رہنے والے چینل کے ایک عینک والے بابے نے بتائی تھی ) ۔
پہلے خوشی کے یہ دن ہفتوں پہ محیط ہوتے تھے پھر اس ملک میں ایک حکمران آ گیا۔
اس حکمران نے کبھی تنخواہ لی تھی نہ اس نے کبھی تنخواہ دی تھی۔ اس کے پاس شکتیاں تھیں۔ اسے ان شکتیوں پہ بڑا بھروسا تھا۔ اس حکمران کو لوگ بڑے مان سے لائے تھے۔ تنخواہ دار شوہر اور اس کی بغیر تنخواہ والی بیوی نے بھی زندگی میں پہلی دفعہ اسے ہی ووٹ ڈالا تھا۔ دونوں بڑے خوش تھے کہ اب تنخواہ والی خوشی زیادہ دن چلے گی۔
اس حکمران کے آنے کی خوشی میں ملک میں لوگوں نے تنخواہ تو نہیں بڑھائی چیزوں کی قیمتیں بڑھا دیں۔ تنخواہ دار شوہر نے سوچا چند دن کی بات ہے جلد ہی انھیں لگ پتہ جائے گا۔
اور چند مہینوں بعد ہی لگ پتہ گیا مگر لوگوں کو نہیں تنخواہ دار شوہر کو۔
تنخواہ کی خوشی ہفتوں سے ہفتے پہ آئی۔ پھر ایک وقت آیا کہ تنخواہ تو آئی لیکن جیسے آئی ویسے ہی چلی گئی۔ بیوی نے خوشی خوشی تنخواہ سے حصہ ما نگا تو جواب ملا کہ
”Absolutely not“
بچوں نے فرمائش کی تو جواب ملا۔
”Absolutely not“
وہ جو تنخواہ کی خوشی ہوتی وہ نیپال چلی گئی۔ بیوی کا چہرہ ایک مشہور تماشائی کی طرح ہو گیا جسے امید تھی کہ شاید اس بار پاکستانی کھلاڑی کیچ پکڑ لے۔
تنخواہ دار شوہر کی اپنی شکل اس مشہور شخصیت کی طرح ہو گئی جس کی تیسری بیوی تین ماہ بعد ہی اسے ظالم سماج کے حوالے کر کے سمہ سٹہ جنکشن والی ٹرین پہ بیٹھ گئی۔ تنخواہ دار شوہر انتظار کرنے لگا کہ کب شکتیوں والے سے شکتی لی جائے گی اور ایک دن اس کی سنی گئی۔
حکمران بدل گیا بلکہ بدلوا دیا گیا۔ ایک نیا بابا پکڑ کر لایا گیا۔ اس بابے کا نام بابا اسپیکر توڑ تھا۔ اس بابے نے تنخواہیں دی تھیں اور تنخواہ پتہ نہیں لی تھی یا نہیں۔
شکتی مان نے اعلان جنگ کر دیا۔
لیکن پتہ نہیں تنخواہ دار شوہر کو کیا ہوا۔ اسے پہلے والا شکتی مان خان اچھا لگنے لگا۔ اس نے اس کے لئے ملک کے پایہ تخت جانے کا فیصلہ کیا لیکن جن دنوں جانا تھا وہ مہینے کے آخری دن تھے اور جیب مسکرا کر اس کی ظالم نظروں کا استقبال کر رہی تھی۔ لہذا اس نے ٹی وی پر ہی رہنے کا فیصلہ کر لیا۔ شکتی مان کی شکتیوں کو ایک مونچھوں والے جادوگر نے منتر چلا کر بھسم کر دیا اور جنتا کے ہونے کے باوجود شکتی مان اپنا جادو نہیں دکھا سکا۔
بابا اسپیکر توڑ کا جادو صرف اس کے اپنوں کے کام آنے لگا۔
اور پھر پہلی آ گئی اور تنخواہ بھی۔
بیوی اس کے پاس آئی۔ اس کے چہرے پہ غصہ تھا۔ تنخواہ دار شوہر کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ بیوی نے غصے سے کہا : ”کہاں جاتی ہے تنخواہ تمھاری؟“
تنخواہ دار شوہر اسے دیکھنے لگا۔ اپنے پیار کی تیسری نشانی سے کہا: ”کاپی پنسل اور کیلکولیٹر لانا“ ۔
اس نے وہ کاپی پنسل بیوی کو تھما کر کہا: ”لکھو اور کیلکولیٹر پہ حساب کرتی جاؤ، دودھ، گھی، چینی، آٹا، پیٹرول، سبزی“ ۔
”رکیں! رکیں!
یہ تو تنخواہ یہیں ختم ہو گئی ”۔ بیوی چلائی۔
”ایسا کرو جان من! “ (یہ میں نے خود سے لکھا ہے۔ شادی کے بیس سال بعد بیوی کو جان من کہنے والا شوہر نہیں ہوتا مہا شوہر ہوتا ہے )
”تنخواہ رکھو تم۔ بس اپنے اس شوہر کو پیٹرول کے پیسے دے دیا کرو۔ تمھیں پتہ بھی چل جائے گا تنخواہ کہاں جاتی ہے۔“
اس سے پہلے کہ بیوی کچھ بولتی۔
لائٹ دن میں چھٹی دفعہ چلی گئی۔


