پڑھی لکھی زنانی اور اتھری گھوڑی

ماگھ کی پانچ اور انگریزی کی سترہ تاریخ تھی۔ وہ اس تاریخ کو آخری دفعہ مجھے ملی پھر ساون کی بدلی کی طرح کہیں کھو گئی۔ دراصل وہ تھی ہی ایسی جہاں کہیں ہوتی وہاں نہیں ہوتی تھی اور جہاں نہیں ہوتی تھی وہیں ہوتی تھی۔ ایسے لگتا جیسے اس پہ اس کا اپنا اختیار بھی نہ ہو۔ جوانی اس پر اتھری گھوڑی کی طرح بے لگام ہو کر آئی تھی۔ مجھے اتھری گھوڑیاں سدھارنے کا شوق تھا۔ وہ جو بھی تھی جیسی بھی تھی پر میری منگیتر تھی۔
میں نے دیکھا اس کا سانس پھولا ہوا تھا وہ اس روز سبز لہلہاتی فصلوں کے بیچوں بیچ پگڈنڈی پر تین رنگوں کی چنری اوڑھے الجھی لٹ سلجھاتی پھریری بھرتے بھاگی جا رہی تھی۔ میں بھلا اسے ایسے کیسے جانے دیتا۔ بہت جی چاہا کہ بڑھ کر اسے کلائی سے تھام لوں۔
اے کاش میں اس کی کچ کی ونگوں سے بھری وینی ہی مروڑ سکتا پر مجھے ڈر تھا کہ اس کی کچ کی چوڑیاں ٹوٹ جائیں گی اور وہ برا منا جائے گی۔ بس مجھے اتنا ہی سوجھا کہ اس کا راستہ روک لوں۔
یہ الہڑ مٹیار جو نہ اپنی تھی نہ میری پر مجھے شبہ تھا کہ وہ میری ہی ہے ورنہ مجھے دیکھ کے وہ ایسے شرماتی کیوں۔
من چاہتا تھا کہ میں اسے دیکھوں اور وہ شرما نے کی بجائے سیدھا میرے گلے سے لگ جائے۔ پر یہ تو کھلی آنکھوں کا خواب تھا۔ ویسے شادی کی تاریخ پکی ہو چکی تھی۔ ابھی ساون کی سترہ تک بڑی رتیں بدلنی تھیں پھر جا کر کہیں ارمان پورے ہونے تھے۔
”اے سن گوری“ میں اس کے عین سامنے پہنچ گیا۔ پہلے تو وہ ڈر گئی جیسے چیل کو دیکھ کے چوزہ ڈر جاتا ہے۔
” میں تیرا سجن ہوں بیری تھوڑی ہوں“
میں نے اسے تسلی دی۔ یہ لڑکیاں بھی نا اپنوں سے شرماتی ہیں۔
”اے کچھ نہیں کہتا تجھے پر سانس تو لے“
”اچھا“ موتیوں جیسے دانتوں کی لڑی ہاتھوں سے چھپاتے ہوئے وہ بولی ”مجھے پتہ ہے کہ تو نے مجھے کیا کہنا ہے پر میری سکھیاں کیا کہیں گی کہ میں کہاں رہ گئی۔
وہ بہانوں پہ اتر آئی۔
”بول کہاں جا رہی تھی بھاگی بھاگی،“
اس نے مجھے آنکھیں دکھائیں راستہ چھوڑ وہ چلی جائیں گی ساری کی ساری، ”
”کون؟“ سکھیاں تیری، ”
”ہاں
”تجھے پتہ ہے میں کہانیاں لکھنے لگی ہوں“
”ہیں کہانیاں اور تو۔ ؟“
میں نے حیرت سے پوچھا
ہاں، پہلے جیسے سلمے ستارے سے
سرہانوں کے غلافوں پر کشیدے کاڑھتی تھی ناں ایسے ہی اب کاغذوں پر قصے کاڑھتی ہوں۔ وہ بہت خوش تھی۔
مجھے یاد آیا
” ہاں ریشمی رومال پہ میرا نام بھی تو کاڑھا تھا تو نے پر وہ رومال مجھے کیوں نہیں دیا۔“
مجھے میری بہن نے بتایا تھا کہ وہ میرے نام خط لکھتی ہے۔ شہر کے ہاسٹل میں جانے سے پہلے وہ ایسی ہی تھی۔ بھولی بھالی سی
”شہر کے رسالے میں چھپنے لگیں ہیں میری کہانیاں“
اس نے آنکھیں پھاڑ کے مجھے اطلاع دی اور میرے اندر کا مرد ڈر گیا۔ اس کی آنکھوں میں فتح کی نرالی خوشی تھی۔ ایسی خوشی جیسے بے بے کی
آنکھوں میں تب چمکتی جب وہ چاٹی میں مدھانی ڈالتیں، بلو کر مکھن کا پیڑا بناتیں۔
”ہٹ مجھے جانے دے“
ساری عورتیں کپڑے دھو کر چلی جائیں گی۔ اس نے بے خیالی میں بتایا جب وہ اپنے ہاتھ سے بنائے کاسٹک سوڈے والے دھات کی بڑی سی کڑاہی میں بنے صابن سے کپڑے ملتی ہیں ناں ساتھ ساتھ دل کے روگ بھی ملتی ہیں اور جب ندی
کے بہتے پانی سے کپڑے دھوتی ہیں تو ساتھ ساتھ باتیں کر کے اپنے من کا میل بھی دھوتی ہیں، تب ہی واپسی پہ تازہ دم ہو جاتی ہیں۔ کہنے لگی، اس لمحے اس میل کو میں اپنے دل کی گڈوی میں بھر لاتی ہوں۔ اسے چھانتی ہوں بلوتی ہوں اور
کہانی کا پیڑا نکالتی ہوں وہ میرے کپڑے دھو دیتی ہیں میں ان کے قصے سنتی ہوں اور انہیں کہانیوں میں بدل کر ان ہی کو سنا دیتی ہوں۔ وہی شہر کے رسالوں میں چھپ جاتی ہیں۔ بڑی واہ واہ ہوتی ہے۔ میں حیران کھڑا اس کی عجیب باتیں سنتا رہا وہ خوشی خوشی یہ بتا کر چلی گئی۔
میں سوچتا رہا اس کی الجھی لٹ کیسے سلجھے گی، جانے
کیا کرتی پھرتی ہے، کہا تھا ناں میری اماں نے میری ماسی کو کہ اسے آگے نہ پڑھاؤ یہ کوئی
نیا چن چڑھائے گی پر اس کے گھر والوں نے اسے سر چڑھا رکھا ہے۔ میرے دل میں وہم کے سانپ نے پھن پھیلایا۔
وہ مجھے
دھکا دیتی یہ جا وہ جا، میں سوچتا ہی رہ گیا کہ کچھ نیا ہونے والا ہے۔ مگر محبت کرنے والے دل نے گواہی دی میری ہیرے اس دنیا کی سب سے سوہنی مٹیار ہے۔ سچی تلے کی تار جیسی، کھلتے کپاس کے پھول کی طرح۔ میں نے لاڈ سے تدبیر سوچی اسے ہیرے کی لونگ بنوا کے دوں گا۔ سارے پنڈ میں لشکارے مارتی پھرے گی میرے پیار میں ساری کہانیاں لکھنی بھول جائے گی۔
جب سے اس نے کہانیوں کی بات کی تھی میرا دل وسوسوں سے اٹ گیا تھا، جیسے کچی سڑک پر سے ٹرک گزرے تو پیچھے دھول ہی دھول چھوڑ جائے۔ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا وہ خود کو ڈھونڈتی بہت دور نکل گئی۔ مجھے لگا اس کی کہانی میں میرا کردار کہیں تھا ہی نہیں۔ وہ کہتی تھی ابھی اسے اور بہت کچھ کرنا ہے۔ دنیا میں اپنا نام بنانا ہے۔ تب مجھے
سمجھ میں آیا اس کے لئے اپنی شناخت میرا گھر بسانے سے زیادہ ضروری ہے۔ یہ حیرت کی بات تھی اور دکھ کی بھی کہ شناخت کی کہانی نے دیکھتے دیکھتے محبت کی کہانی کو ڈس لیا تھا۔
سترہ ساون نکل گئی۔ پھر انتظار کی رت لمبی ہوتی گئی۔ پہلے پہل وہ شہر تک گئی پھر اس سے اگلے شہر اور دھماکہ تو تب ہوا جب اس نے فیصلہ سنایا کہ وہ پڑھنے کے لیے باہر کے ملک جا رہی ہے یہ پہلی بار ہوا تھا ہمارے گاؤں کی کوئی لڑکی اکیلی ملک سے باہر پڑھنے جا رہی تھی۔ یار دوستوں نے مجھے بہت طعنے دیے۔ میں نے اور میرے گھر والوں نے سب ہنس کے سہے۔ وہ چاچا کی لاڈلی تھی جب وہ مان گئے تو کسی اور کی کون سنتا۔ کبھی کبھار اس کا خط پتر میری بہن کے نام آ جاتا اس میں مجھے سلام لکھا ہوتا۔
میرا دل مجھے تسلی دیتا آج یا کل وہ میری محبت کی چھپر چھاؤں میں لوٹ آئے گی۔
میری ماسی یعنی اس کی ماں بھی یہی کہتی کہ ایک دن ہیرے اپنا شوق پورا کر کے لوٹ آئے گی۔ میرے گھر والے اس بات پر خوش نہیں تھے مگر میری اور اس کی خاطر چپ تھے یا انہیں رشتے داری کا پاس تھا۔ میں مرد ہو کر اس کا انتظار کرنے لگا جیسے جنگ پہ جانے والوں کی گھر والیاں انتظار میں برس ہا برس گزار دیتی ہیں۔
میرے ساتھ ساتھ گاؤں کی ندی اس کا چھلیں مارتا بہتا پانی بھی اس کا انتظار کرتا کب وہ
آئے اور اپنے دل کی گڑوی میں سارے گاؤں کی عورتوں کے دکھ بلوئے۔ جب عورتیں کپڑے دھونے کے ساتھ ساتھ گپیں لگاتیں اس وقت میرا دل چاہتا کہ میں بھی اپنے دل کا سارا میل اس ندی میں دھو ڈالوں پر مجھے کوئی کہتا کہ تم مرد ہو۔ بہادر مرد۔
اپنے دکھ کا بوجھ اپنے کندھے پہ رکھو رونا آئے تو آنکھیں خشک رکھو پسینے کے بہانے اپنے صافے سے اپنا دکھ پونچھ ڈالو کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو کہ تم کمزور ہو
میرے نصیب کے بہت سے بہی کھاتے کھلے پڑے تھے جن کا حساب دیکھنا ابھی باقی تھا۔ میں اپنی دوپہریں کبوتروں کے ساتھ گزار دیتا۔ کبوتر اڑ رہے تھے کسی کبوتر کے پنجے میں کوئی رقعہ نہیں تھا۔
چار سالوں بعد بہت سی کتابوں اور ڈگریوں کے ساتھ ہیرے لوٹ آئی۔ دیکھنے میں وہ بالکل نہیں بدلی تھی۔ بس اب وہ پہلے کی طرح شرماتی نہیں تھی۔ میرا نام لے کر مجھے بلاتی۔ پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گئی تھی۔ کندھے سے کندھا ملا کے چلنے لگی تھی۔
میراثی ڈھول بجا رہے تھے، موتی چور کے لڈو اور مٹھائی بنائی جا رہی تھی آخر چوہدری کے بیٹے کے سر سہرا سجنے والا تھا۔
انور اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا
”تو خوش ہے“
میں نے کہا، ”ہاں میں تمہارے لئے خوش ہوں“ سوچ لو اس نے مجھے شک کی نظر سے دیکھا شاید اسے سمجھ آ گئی تھی کہ میں کچھ الجھا ہوا تھا۔ مجھے لگتا تھا وہ کوئی اور ہیرے تھی جو میری تھی۔ میں نے اس میں اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر کچھ نہ بدلنے کے باوجود بہت کچھ بدل چکا تھا۔ ایک رات اور سوچ لے یہ زندگی کا فیصلہ ہے اس نے مجھے تنبیہ کی جیسے میرے سے زیادہ سمجھ دار ہو۔
تم سے انکار نہیں ہوتا تو میں کر دیتی ہوں۔
چپ رہ ”
بہت سوچ سمجھ کر اگلے روز میں نے سب کے سامنے اس رشتے سے انکار کر دیا۔
”اوئے انورا تو نے کیوں جواب دیا تجھے تو اتھری گھوڑیاں سدھارنے کا شوق تھا۔“
میں چپ رہا اسے کیا خبر پڑھی لکھی زنانی اور اتھری گھوڑی میں بہت فرق ہوتا ہے۔ بس یہی کہا
”مجھے دو قدم پیچھے چلنے والیاں اچھی لگتی ہیں۔“

