چندا


 

ساری زندگی اس نام نے دکھ دیا۔ یہ نام رکھا کس نے تھا اور کیوں رکھا تھا۔ ذلیل کرنے کے لیے یا پھر دھوکہ دینے کے لیے، یہ بات اسے کبھی سمجھ میں نہیں آئی۔ مگر نفرت تھی اسے اپنے آپ سے منسوب اس نام سے۔ جب بھی کسی نے نام پوچھا۔ چندا۔ اس نے حلق سے گولی کی طرح اپنا نام اسے دے مارا مگر اب جوں جوں عمر بڑھتی جا رہی تھی اس نے اپنے نام کی توہین کرنے کا مہذب طریقہ اپنا لیا تھا۔ کسی سوال پوچھنے والے کو اپنا نام بتا کر اسی سانس میں کہتی۔ ہے بھلا کوئی تک۔ یہ منہ اور متھا اور یہ نام۔ پتہ نہیں ماں باپ نے محرم کا چاند دیکھا تھا یا اماوس کا ۔

نہ دنیا میں آنے میں اس کا دوش، نہ معاشرے کے بنائے گئے حسن کے تصورات پر پورا نہ اترنے میں اس کا قصور، اس کے باوجود بھی بدصورت کہلانے کی سزائیں خوب بھگتیں اس نے۔ تین بڑے بھائی بہن اور سب سے چھوٹی چندا۔ سب سے دبتا ہوا رنگ اور نہایت گیا گزرا ناک نقشہ، تو توجہ بھی اسی حساب سے ملی۔ یعنی سب سے کم۔ بچپن میں تو ماں باپ اور بہن بھائیوں کی محبت پانے کی آرزو میں ان کے آگے پیچھے پھرتی رہتی۔ کسی کے کپڑے استری کرتی اور کسی کے جوتے صاف کرتی۔ بہن بھائیوں کے سارے کام بھاگ بھاگ کر کرتی۔ مگر کسی کو اس سے کبھی کوئی دلچسپی پیدا نہیں ہوئی۔ آپا تو صاف صاف کہا کرتی تھی کہ کھرچن ہے، ہزاروں میں کوئی ایک بھوکا کھا کر پیٹ بھرتا ہے ورنہ پھنکتی ہے۔ پتہ نہیں کمبخت کس پر چلی گئی۔ ماں بڑبڑاتی۔

ماں باپ نے جو درخور اعتنا نہ سمجھا تو بہن بھائی کیونکر اہم گردانتے۔ باپ کو تو بیٹوں کے علاوہ کوئی دکھتا ہی نہیں تھا۔ ابا کی جان تھی دونوں بیٹوں میں۔ دونوں بیٹوں کی باتیں، ان کے جھگڑے، محبتیں اور لاڈ پیار۔ ابا کا مان تھے۔ ماں کا بھائیوں اور آپا کے لئے پیار دلار اور ان کے لیے کھانے پینے کی فرمائشوں کو پورا کرتے ہوئے مٹے جانا۔ چندا حسرت سے اس لاڈ کو دیکھا کرتی۔ کبھی اس کے لیے کسی بات پر اہتمام نہ ہوا نہ کبھی اس کی کسی فرمائش پر ماں باپ کو یوں واری صدقہ ہوتے دیکھا۔

گویا گھر میں ہوتے ہوئے بھی فرد کی حیثیت سے معدوم تھی۔ اسکول ختم کرتے کرتے وہ اپنی حیثیت پہچان چکی تھی۔ اس گھر میں کسی کو میری ضرورت نہیں۔ میں اپنی کھال کے جوتے بھی سلوا کر ان کو پہناؤں تو یہ میرے نہیں ہو سکتے۔ اور شاید تب سے ہی اس نے دل میں ان سب سے دور ہونے کی ٹھان لی تھی۔ اتنی دور کہ ان میں سے کسی کی آواز تک اسے نہ سنائی دے۔ کسی کی شکل دکھائی نہ دے۔ بڑی بیٹی دیکھنے میں اچھی تھی، اس کی شادی چٹ پٹ ہو گئی۔ چندا کو دیکھنے والوں نے بے چاری بنا ڈالا۔ پھر دونوں بیٹے بیاہے گئے۔ دلہنیں گھر میں آ گئیں۔ چندا، ایک درجے اور گر گئی۔

اس سے پہلے کہ بی اے کا نتیجہ آتا۔ اپنی ضروریات زندگی پوری کے لئے اس نے اپنے محلے کے پرائیویٹ اسکول میں نوکری کی درخواست دے دی۔ ایک تو چندا کو تھوڑی بہت انگریزی آتی تھی، دوسرے اسکول میں حساب پڑھانے والا کوئی استاد نہ تھا اس لیے اسے فوراً ہی نوکری مل گئی۔ اس نے بھی شکر کا سانس لیا کہ گھر پر بیٹھے سب کی چاکری کرنے کی اذیت سے جان چھوٹی۔

چھوٹے کی شادی کے دوسرے سال اچانک ابا چپ چپاتے گزر گئے۔ چند دن تو بالکل خالی خالی سے لگے جیسے کوئی اہم چیز گم گئی ہے۔ مگر کچھ ہی دنوں میں سوائے ماں کی دبی دبی سسکیوں کے سب کچھ نارمل سا لگنے لگا۔ پھر ایک دن دونوں بھائیوں نے ابا کی دکان کو فروخت کرنے کی خبر سنائی۔ اماں نے صدمے اور حیرت سے سبب پوچھا تو دونوں نے یک زبان ہو کر کہا، کہ ابا پر کافی قرضہ تھا، سو اسے بیچ کر سب کا قرض ادا کر دیا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔

ماں گنگ سی ہو گئی۔ کیسا قرضہ؟ اچھی بھلی دکان چل رہی تھی۔ سارا گھر اسی سے چلتا تھا، اسی دکان سے سب کو پڑھایا، اسی سے مکان بنایا، اسی سے سب کی شادیاں کیں۔ مگر سننے والا کون تھا۔ سال بھر کے اندر اندر ہی گھر کے اخراجات بھی بانٹنے کی بات ہو گئی۔ چندا کی نوکری اور اس کی تنخواہ کا حساب کتاب بھی پوچھا گیا۔ ماں ان تابڑ توڑ حملوں سے سنبھل نہیں پا رہی تھی۔ جب تک دلہنوں کا دلہنپا اترتا، اس وقت تک گھر کا نقشہ ہی بدل گیا۔

گو دلہنیں زیادہ تر اپنے اپنے کمروں تک محدود رہتیں مگر گھر بٹ سا گیا تھا۔ جس گھر میں ماں کی عملداری تھی، اب آہستہ آہستہ اس کی جگہ ایک پرانا تخت بچی۔ چندا کی عزت پہلے تھی نہ بعد میں، مگر اب جوں جوں بے بسی ماں کی آنکھوں میں ڈیرے ڈالنے لگی تھی۔ اس کی آنکھوں کا طواف چندا کے چاروں اور دھیان گیان سے ہونے لگا۔

بڑی بہن کی شادی کے چند سال بعد میاں اسے لے کر کینیڈا چلا گیا تو رشک اور حسد کے ملے جلے جذبات نے بیٹوں اور بہوؤں کے چہروں کے نقوش ہی تبدیل کر دیے۔ اور وہاں سے اس نے جو تصویریں اور وڈیو کلپ بھجوانے شروع کیے تو رہی سہی باقی کسر بھی نکل گئی۔ میں تو جنت میں آ چکی ہوں، یہی زندگی ہے۔ بے فکری اور آزادی کے ساتھ رہتی ہوں۔ نہ کوئی روک نہ ٹوک، نہ کوئی فکر نہ فاقہ۔ وہ کام کرتے ہیں۔ میں سارا دن ٹی وی دیکھتی ہوں یا شاپنگ کرتی ہوں۔ وہ میرا اتنا خیال رکھتے ہیں کہ بس۔ ورنہ نندوں اور ساس کے ساتھ رہتے ہوئے تو میری طرف دیکھتے ہی نہیں تھے۔ میں تو کبھی واپس نہیں آؤں گی اب۔ اور ہاں تم بھی کوئی ایسا ہی ڈھونڈو جس کے پاس باہر کا پاسپورٹ ہو۔ قسم سے زندگی بن جائے گی۔ آخری جملہ وہ آنکھیں گھما کر بڑی ادا سے چندا سے مخاطب ہو کر کہتی۔

فیس ٹائم اور اسکائپ پر کینیڈین بنی بیٹی کی باتیں سن کر تخت پہ بچھی ماں کا ہنکارہ، کانوں میں سیسے کی طرح پگھلتا۔

اور یہ تم کو لازمی مجھے جلانا ہے، یہ اتنی لمبی ہوک بھر کے؟ چندا تپ کر بات شروع کرتی مگر اس کا لہجہ جلد ہی آنسوؤں میں ڈوب جاتا۔

ساری عمر مجھے یہی بتایا ہے۔ کالی ہوں، بدصورت ہوں، بھدی ہوں، موٹی ہوں، کوئی نین نقش جگہ پہ نہیں تو کوئی قبولے گا نہیں؟ تو پیدا کیوں کیا تھا۔ بدصورت ماں باپ کو تو ویسے ہی حکومت کی طرف سے منع ہونا چاہیے کہ انہیں بچے پیدا کرنے کی سزا ملے گی۔

ماں نظر اٹھا کر دیکھتی پھر نصیحتوں کا بھنڈار کھول لیتی۔
شکر کرو ہاتھ پاؤں سلامت ہیں۔ دماغ دیا ہے اللہ پاک نے۔ اپنا کماتی اپنا کھاتی ہو۔
ہاں تو اور کون کمائے گا میرے لیے۔ وہ بھی پھٹ پڑتی۔

ابا زندہ تھے تو بھی میرے لئے گھرکیاں تھیں۔ مر گئے تو دوگنا عذاب۔ کما کر لاتی ہوں پر سارا گھر پر لٹاتی ہوں۔ مگر یہ دونوں بھائی اور بھابھیاں موج کریں اور تم کبھی ایک لفظ مت کہنا ان کو ۔ بس مجھے ہی کوستی رہنا۔

تو اور کیا کروں؟ تمہارا بس بھی تو مجھ پر ہی چلتا ہے۔ ماں چڑ کر بولی۔
اس سے پہلے کہ چندا مزید کچھ کہتی، ماں کا میٹر گھوم گیا۔ بغیر وقفے کے بولنے لگ گئی۔

کچھ معلوم ہے کہ میں کسی طرح دن کو رات اور رات کو دن کرتی ہوں؟ بوڑھی ہڈیاں جواب دے رہی ہیں۔ تو سمجھتی ہے کہ مجھے تیرا کوئی خیال نہیں۔ ارے نیند ختم ہو گئی ہے میری۔ میں تو یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہوتی رہتی ہوں کہ میں آج مر گئی تو تیرا کیا ہو گا۔ یہ زمانہ تو بالکل ہی بے حیا ہو گیا ہے۔ اس کی کوئی کل سیدھی نہیں رہی۔ محبت اور مروت کیا، شرم و حیا بھی گزر گئی زمانے سے۔ میں تو آنے والے وقت سے ڈرتی ہوں اللہ جانے ابھی اور کیا رنگ دکھائے گا اور تیری یہ نکلتی عمر۔ ماں نے پھر لمبا سانس کھینچا جو آہ سے بڑھ کر تھا۔

میری عمر سے تمہیں کیا لینا دینا۔ آپا کو بیاہ دیا۔ اور دونوں بھائیوں کو بیویاں لا دیں دھوم دھڑکے سے۔ ان کا مطلب تو نکل گیا۔ اب میں ان کی نوکرانی، مگر زیادہ دن رہوں گی نہیں اس عذاب گھر میں۔ دیکھ لینا۔

”اللہ تیرا بھی گھر بسائے گا۔ میری دعائیں رنگ لائیں گی۔“ اتنا کڑوا کسیلا سننے کے بعد بھی ماں نے لہجہ دھیما ہی رکھا۔

بی اے کے بعد ایم اے کا رزلٹ آئے بھی خاصا وقت ہو چلا تھا۔ دل تو بہت چاہتا تھا کہ کوئی آرام دہ نوکری ملے جس میں خود کو آٹھ آٹھ گھنٹے گھسنا نہ پڑے۔ مگر نصیب میں یہ پرائیویٹ اسکول کا کالا پانی ہی لکھا تھا اور پیسہ بس اتنا کہ ماں کی دوا اور گھر اور اپنی ضروریات پوری کر سکے۔ بھائیوں کی ذمے گھر کے سارے بل تھے۔ جبکہ راشن میں اسے اپنا اور ماں کا حصہ ڈالنا ہوتا تھا۔ دونوں بھابھیاں سارا دن گھر پہ ہوتیں مگر اس کے حصے کا کام بہت احتیاط اور ذمے داری سے اس کے لیے بچا رکھتیں۔

اسکول سے سر کھپا کہ آتی تو معلوم ہوتا کہ آج اسے رات کے کھانے میں کیا پکانا ہے۔ کھانا پکانے اور کھلانے کے بعد ، باورچی خانہ صاف کرنے اور صبح کی تیاری کے درمیان میں ماں کو دوا دینا، اس کی تکلیفوں کو سننا اسی کی ذمے داری تھی۔ گھر کے دیگر امور پر ماں اس کی توجہ چاہتی تھی۔ اور تھا ہی کون جو اس سے بات کرتا یا اس کی بات سمجھتا۔ مگر چندا خود کہاں اتنی ہمت رکھتی تھی کہ ان باتوں کے لئے ٹائم نکالے۔ آئے دن بڑی بہن کی فرمائشیں بھی آتی رہتی تھیں۔

اپنے تینوں بچوں کو خالہ سے لاڈپیار کر کے تحفے تحائف منگوانے کا ڈھنگ سکھا چکی تھی۔ اور موقع محل کی مناسبت سے ماں کو بتاتی رہتی تھی کہ اس کے سسرال میں کب اور کیا بھیجنا ہے تاکہ اس کی عزت بنی رہے۔ بیٹے تو اپنی زندگیوں اور بیویوں میں مگن تھے۔ اگر ماں بات بھی کرنا چاہتی تو ہاں ہوں میں اڑا دیتے، بلکہ چھوٹے نے تو ایک سال پہلے ہی یہ کہہ کر جان چھڑا لی تھی کہ اب آپا کو ہم سے فرمائشیں کرنا زیب نہیں دیتا۔ جو دینا تھا وہ ابا اور آپ نے ان کی شادی پر دیدیا۔ اب کیا ہم بھی ساری زندگی ان کو دیتے رہیں گے۔ ہماری اپنی بھی تو کوئی زندگی ہے۔ ہمارے اپنے مسائل کم ہیں کیا اور وہ بھی اتنی مہنگائی کے زمانے میں۔ آپ سننا بند کر دیں آپا کے بھاشن۔ بہت بڑا سسرال ہے ان کا ۔ جتنا منہ بھریں گے اتنا ہی کھلے گا۔ آسرا ختم کریں ان کا ۔

مگر تمہاری بھی تو بہن ہے نہ وہ۔ بھائی کا کر ارہ جواب سن کر چندا بول اٹھی۔
ہمیں معلوم ہے، تم ہمیں مت بتاؤ۔ بھائی تنک کر بولا۔
شادی ہو جاتی میری تو کون یہ معاملات سنبھالتا؟ چندا پھر بولنے سے باز نہ آئی۔

ہم نے کہا ہے تم سے ان باتوں کو معاملہ بنانے کو ؟ وہ وہاں کینیڈا میں بیٹھی موج کر رہی ہے۔ ڈالر میں کما رہا ہے اس کا میاں اور ہم یہاں خود کو مار کے جو چار پیسے کماتے ہیں، وہ اس کے سسرال اور بچوں پر خرچ کر دیں۔ پاگل ہیں کیا؟

چندا تلملا کر رہ گئی۔ مگر کوئی جواب نہ بن پایا۔

بڑے نے بھی چھوٹے سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ ان کی بیویوں کی تیوریاں ویسے بھی چڑھی رہتی تھیں۔ انہیں سوائے اپنے شوہروں کے کسی اور سے کوئی غرض نہ تھی۔ ساس کا وجود انتہائی غیر ضروری تھا، مگر موجود تھا جسے وہ جھٹلا نہیں سکتی تھیں۔ جس گھر میں رہتی تھیں اسے مرنے سے پہلے بڑی بی کے شوہر نے بنوایا تھا۔ اور اس کے حصے بخرے کرنا اتنا آسان نہیں تھا سونا چار اسے برداشت کیے ہوئے تھیں۔ دونوں بہوؤں نے اپنی شوہروں کو قائل کر لیا تھا کہ تمہاری ماں ہماری ذمے داری نہیں اور یہ شریعت کی رو سے حکم ہے جو کہ درس دینے والی باجیوں نے بتایا ہے۔ مذہب جہاں سے جتنا مل جائے اچھا ہے اور سمجھدار بیویوں نے بات ٹھیک ہی کی کہ جب بیٹی موجود ہے خدمت کرنے کی لیے تو بہوئیں ساس کی خدمت کیوں کریں۔ بیویوں کا کام شوہروں کی ضرورت بجا لانا اور ان کی خدمت کرنا ہے، ساس کی نہیں۔

یوں خلیج اور بڑھ گئی۔

بہوؤں کا کام ٹی وی دیکھنا۔ کھانا پینا۔ گھومنا پھرنا۔ تیار ہونا۔ اپنے اپنے کمروں کو صاف ستھرا رکھنا اور بھائیوں کو خوش رکھنا تھا۔ ماسیوں سے باہر کا کام کروا لیتیں، مگر جھوٹے منہ بھی ساس سے پانی کا گلاس پوچھنا گوارا نہ تھا۔ چندا صبح ناشتہ دے کر ، پانی کی بوتل ماں کے پاس رکھ کر اسکول روانہ ہوتی تھی اور جب دوپہر ڈھلے واپس آتی تھی تب دن کا کھانا بھی اسے ہی گرم کر کے ماں کو دینا ہوتا تھا۔

کتنی بار ماں پر برس پڑی تھی کہ کم سے کم ان سے کھانا تو گرم کروا کر کھا لیا کرو۔ مگر ماں کی طاقت دن بدن جواب دیتی جا رہی تھی۔ جوڑوں کے درد نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا تھا۔

تم آ تو جاتی ہو وقت پر ۔ انہیں اور بھی تو کام ہوتے ہوں گے اپنے؟

”اور کون سے کام؟ سوائے اپنے میاؤں کے بستر گرم کرنے کے، اور کون سا کام کرتی ہیں؟ کم سے کم اتنا تو کروا لو کہ کل میں کہیں مر مرا جاؤں تو پانی کے دو قطرے تمہارے منہ میں ڈال دیں۔ “

چندا کا دماغ گرم ہوتا تھا تو اسے کہاں دکھائی دیتا تھا کہ وہ کس سے بات کر رہی ہے یا کیا کہہ رہی ہے۔ ایسے ہی بے برکت، غصیلے اور چڑچڑے دنوں میں اسے معلوم ہوا کہ اس کی ایم اے کی ڈگری اتنی بے وقعت بھی نہیں جتنی وہ سمجھی بیٹھی ہے۔ یہ جو رات بھر سر کھپا کھپا کر اس نے طرح طرح کی موٹی، بھدی اور ناقابل اعتبار و یقین باتیں رٹی تھیں اور تاریخیں دماغ کی سلیٹ پر درج کی تھیں۔ ان کا کوئی صحیح مصرف بھی ہو گا۔ اس خبر کا انکشاف اس پر اس وقت ہوا جب اس کی ایک کولیگ نے خاموشی سے لندن کا ٹکٹ کٹایا اور سارے سارے دن کی بے لگن و بے سود نوکری پہ چار حرف ڈال، یہ جاؤ ہ جا۔

سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے؟ یہ کیا؟ اس کی بڑھتی عمر پر تبرا بھیجنے والیاں، اور ہمدردی کی آڑ میں زخموں پر نمک پاشی کرنے والے سناٹے میں آ گئے۔ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی لڑکی یوں پردیس سدھارے؟ اور وہ بھی کلم کلی؟ کسی رنگیلے پاسپورٹ والے سے شادی کیے بغیر؟ پردیس میں رہنے والے کسی دیکھے ان دیکھے مرد کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا نیلایا برگنڈی پاسپورٹ ہوتا ہے۔ اور اگر کہیں صاحب پاسپورٹ کا رشتہ کسی گھرانے میں آ جائے تو لڑکی والوں کی آنکھیں ماتھے پر لگ جاتی ہیں۔

اور آس پاس کی لڑکیوں کو صدمے اور غم نامی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔ جس گھر میں اس رشتے کی بات چل رہی ہوتی ہے وہاں پردیسی بابو کو جانے بغیر، بس فخر سے اس کا ذکر کرنا معمول بن جاتا ہے۔ کسی بھی قسم کی چھان پھٹک کا رسک لینا نہایت معیوب خیال کیا جاتا ہے۔ صرف اللہ کی امان اور اللہ کے حوالے کی گردان کو ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ قصہ نیا تھا۔ نہ پاسپورٹ، نہ رشتہ، نہ رشتہ کروانے والیاں اور نہ ان کی منتیں ترلے۔ اور لڑکی جانے کو تیار۔ استعفیٰ مارا اسکول کی انتظامیہ کے منہ پر اور کھٹ کھٹ کرتی تعلیم کے نام پر انتہائی غیر تعلیمی ماحول کو ٹھوکر مارتی باہر اور وہ بھی خوابوں اور امیدوں کے شہر لندن میں۔

بس اسی دن سے چندا نے ٹھان لی۔ وہی ڈگری تو ہے میری بھی؟ دو نمبر زیادہ ہی ہیں۔ رہ گیا IELTS۔ لے لی لوں گی۔ انگریز لاکھ چلا گیا اس ملک سے، اس کی زبان جا کے نہ دے گی۔ اسی کا راج چلتا ہے آج بھی۔ جہاں اتنے سال پڑھائی کی خواری کی، کچھ مہینے اور سہی۔ نکل ہی جائے گا۔ ایسے ایسے گھامڑ پاس کر لیتے ہیں تو میں تو پھر بھی پڑھ کر پاس ہوئی ہوں۔ آئلس کی تیاری میں جان مار دی چندا نے کہ اس ملک سے نکلنے کا پروانہ یہی ایک کاغذ کا پرزہ تھا۔ رات رات بھر بیٹھی تیاری کرتی۔ اسکول سے تھک ہار کر آنے اور کاپیوں کے بنڈل چیک کرنے کے بعد جو تھوڑا بہت آرام ملتا تھا، سب تج دیا۔ بس ایک دفعہ یہ کمبخت آئلس نکل جائے تو پھر زندگی بن جائے گی۔ اس کے ذہن میں یہ خیال راسخ ہو گیا۔

تین بار امتحان میں بیٹھنے سے 5.5 سے 6 بینڈ تو آ گیا۔ 6.5 لینا جان جوکھوں کا کام تھا۔ یوں تو پاکستان میں ہر آدمی قرآن اٹھانے کے لیے تیار ہے کہ اس کو انگریزوں سے اچھی انگریزی آتی ہے مگر جب آئلس دینے کی باری آتی ہے تب سب رزلٹ چھپاتے اور اپنی سبکی مٹاتے نظر آتے ہیں۔ اور اگر یونیورسٹی 7 یا 6.5 بینڈ مانگ لے اور وہ بھی ہر ماڈیول میں، تب تو اپلائی کرنے والا پانچ چھ اور سات تو کیا درجن بھر امتحان دے ڈالتا ہے۔

ایک طرف آئلس پر آئلس دیے چلا جاتا ہے دوسری طرف الٹی سیدھی انگریزی میں ای میلز لکھ لکھ کر یونیورسٹی یا کالج کو دہائیاں دیتا پھرتا ہے کہ قسم سے میرا یقین کر لو۔ ایک بار مجھے بلا کر تو دیکھو کہ میں انگریزی کے ساتھ کرتا کیا ہوں۔ آپ نے ایسا زبان دان کبھی دیکھا نہ سنا ہو گا، مگر اللہ کے واسطے مجھے بلا لو۔ اور میری انگریزی دانی کی تصدیق تو میں اپنے تعلیمی اداروں سے بھی کروا کر بھیج سکتا ہوں۔ اپنے قابل ترین استاد سے کروا سکتا ہوں، تو بھلا پھر یہ نامراد آئلس ہی کیوں؟

یونیورسٹیاں بھی ایک نمبر کی ڈھیٹ۔ جب تک امیدوار مطلوبہ نتائج مہیا کر کے نہ دے، جواب ندارد۔

مر مر کے کینڈیڈیٹ 6.5 لاتا ہے تو ایسا لگتا ہے گویا اس نے منزل پا لی۔ اس دن سے تصور، خیال، سپنے سبھی برطانیہ کی گلیوں، شہروں، قصبوں اور کلبوں کے آتے۔ پرانے حسین آقاؤں کی دیس میں ان کی پریوں جیسی لڑکیوں کے ساتھ ہر طرح کی ممکن و غیر ممکن حرکات کرنے کی خواہشات نیندیں اڑا لے جاتیں، ابھی ویزا بھی نہیں لگا ہوتا کہ ٹور بدل جاتی۔ اپنی زبان میں بات کرتے کرتے منہ ضرورت سے زیادہ ٹیڑھا کر کے خواہ مخواہ انگریزی بول کر اگلے کو مرعوب کرنے کی عادت ہی پڑ جاتی۔

خوامخواہ ہی ہر چیز گندی نظر آنی لگتی۔ انگریزی گانے اونچی آواز سے سننے کا دل چاہتا۔ ہر دن گن گن کر گزارنا پڑتا۔ کاغذات جمع کر کے، اٹیچیوں میں کپڑے اور جوتے رکھتے، گوگل کی تلاشی لیتے، یونیورسٹی کے سبزہ زار پر ادھ ادھورے کپڑے پہنے لاپرواہی سے لیٹی، کتابیں پڑھتی، ہنستی بولتی سفید سفید پریوں کی تصویریں دیکھتے لمحے لمحے کو گزارنا مشکل ہو جاتا۔ حسن کے اس جاری و ساری آبشار کو کھلی آنکھوں سے، اپنے سامنے دیکھنے کا تصور ایسا فرحت انگیز ہوتا کہ فخر و انبساط روح تک میں سما جاتا اور لمحہ لمحہ گزارنا دو بھر ہو جاتا۔

چھٹی بارIELTS کرنے کے بعد جب چندا کا رزلٹ 6.5 آیا تو اس کے قدم زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ میں تو یہ گئی۔ اس نے خود کو اچانک ہلکا پھلکا ہو کر غبارے کی طرح اونچا اور اونچا اڑتے دیکھا۔ اور اپنی حالت زار پر خود رحم آیا۔ مر کھپ گئی تھی غلامی کر کر کے سب کی۔ کتنے سال سے خود کو فنا کر رہی تھی اس پرائیویٹ اسکول میں۔ صبح سے لے کر تپتی دوپہر تک ایسا نچوڑتے ہیں کہ بندہ سانس لینے کو بھی ترس جائے۔ پھر خالی نیبو کی طرح گھر آتی ہوں تو دونوں مشٹنڈے بھائیوں کی بنی ٹھنی بیویاں میرے حصے کا کام رکھ کر میری منتظر ہوتی ہیں۔

رات کے کھانے کے برتن بھی نہیں اٹھتے کہ دونوں بھائی بیویوں کو بغل میں دبا کر اپنے اپنے کمروں میں چل دیتے ہیں۔ برتن دھو کر ۔ کچن صاف کر کے، پوچا لگا کر ، باتھ روم صاف کر کے، ہاتھ منہ دھو کر جب لیٹتی ہوں تو صبح جلدی اٹھ کر اسکول بھاگنے کا خیال ہی نیند حرام کر دیتا ہے۔ کولہو کے بیل کی طرح کی زندگی ہے۔ نہیں رہوں گی اب اس گھر میں زیادہ دن۔ بلکہ اس ملک میں۔ نہیں رہا جاتا اب مجھ سے اس حال میں۔ جان چھوٹی۔ گدھے کی طرح کام کرتی ہوں مگر مجال ہے جو کسی کو کوئی قدر ہو۔

سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ سب موج میں ہیں۔ بس ہو چکی ہے میری۔ بس ایک بار نکلوں یہاں سے۔ واپس آئے گی میری جوتی۔ انگریز کے کتے نہلانے پڑے تو وہ بھی نہلاؤں گی مگر واپس اس جہنم کدے میں نہ آؤں گی۔ کپڑے نہیں پہن سکی ڈھنگ سے آج تک۔ گھر تو گھر پورا معاشرہ ہی گندا ہے۔ ہے کیا رہنے کے قابل یہ جگہ؟ سر سے پیر تک کچرے کی تھیلی بن کر گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ پھر بھی چھاتیوں کو ایسے چھپاتی ہوں کہ کہیں کسی کو اندازہ بھی نہ ہو کہ اس کچرے کی تھیلی میں کچھ ہے۔

باہر کی گندی نظروں اور، بیہودہ جملوں کو سہ کر اسکول پہنچو تو اسکول میں خوامخواہ کی جیلیسی، جلن، بیکار کی چخ چخ، جھگڑنے کے لیے ہمہ وقت تیار اسٹاف اور باقی عملہ موجود۔ اور یہ استانیاں۔ اللہ کی پناہ! اس پرائیویٹ اسکول مین چند ہزار کی نوکری کیا مل گئی خود کو افلاطون سمجھنے لگ گئیں سب کی سب۔ اگر کسی کی شادی ہو گئی تو گویا اس نے کوہ ہمالیہ سر کر لیا۔ بھدا میک اپ کیے ، سستے نقلی زیورات سجائے، گندے گندے پیروں میں رنگ برنگی سینڈلیں پہنے، منہ پر سفیدی کا لیپ اور گالوں پہ لال کیک لگا کر گول گنڈا بنی صرف اس لئے اتراتی پھرتی کہ ایک مرد نما مخلوق کے ہتھے چڑھ گئی ہے۔

اور میری شادی صرف اس لیے نہیں ہو سکتی کہ میں بدصورت ہوں، کالی ہوں۔ ایک سے بڑھ کر ایک گنوار کی، جاہل کی شادی ہو جاتی ہے۔ پر میری قسمت خراب ہے۔ بدصورت اور خوبصورت ہونا انسان کے بس میں کہاں ہے اور وہ بھی مجھ جیسوں کے جو تن ڈھانپیں تو پیٹ شکایت کرتا ہے۔ پیٹ کی سوچیں تو گھر کے دیگر دلدر مصیبت کھڑی کر دیتے ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک مسئلہ عذاب جاں اور ان مسئلوں سے نکلنے کی ساری سبیلیں اس معاشرے میں بے کار اور بے سود ہیں۔

اور یہ جو خوفزدہ نظریں اٹھا کر ، دبے دبے لہجے میں بولنے والی ماں جو اب ہلنے جلنے سے بھی معذور ہوتی جا رہی ہے اس نے جو گالیاں کوسنے دیتے ہوئے دھپڑ میری پیٹھ پر رکھ رکھ کر مارے ہیں، کبھی نہیں بھولتے مجھے۔ سارا بچپن ان کمینوں کی نفرت بھری نظروں اور کڑوے بولوں کی تکلیف سہنے میں گزرا۔ زندگی زہر بنا کے رکھ دی۔ اور میرا قصور کیا؟ صرف اتنا کہ سب مجھے سب بدصورت سمجھتے ہیں۔ بکواس ہے ساری بات کہ ماں سب کو ایک نظر سے دیکھتی ہے۔

ماں بھی صرف فائدہ دیکھتی ہے۔ جہاں شہد زیادہ ہو وہیں ماں زیادہ لپکتی ہے۔ بڑی بہن کی شادی یوں چٹکیوں میں ہو گئی۔ اور مجھے سننے کو ملا کہ اگر تیری شکل بھی دیکھنے کے لائق ہوتی تو آج تو بھی کسی کھونٹے سے بندھی ہوتی۔ کیسی نفرت اور حقارت گھر بھر سے ملی۔ اب یہ جو ایک آواز نہیں نکال سکتی، کیسے بلائیں لیتی تھی اپنے چہیتے بیٹوں کی کہ ہائے میرے پیارے کماؤ پوت۔ ایسی حسین و جمیل بہوئیں لاؤں گی کہ دنیا دیکھتی رہ جائے گی۔ شکل دیکھتی رہ جاتی تھی میں تو ۔ ان ماؤں کو بھی چاند جیسی بہویں چاہئیں جن کے اپنے گھر میں اماوس کی راتیں بسیرا کیے ہوتی ہیں۔ ساری ماؤں کو حسین و جمیل لڑکیاں چاہئیں اپنے بیٹوں کے لئے، خواہ بیٹے کیسے ہی گئے گزرے کیوں نہ ہو۔

” جب سے تم نے باہر جانے کی بات کی ہے تو یہ دونوں بھی تمہارے بھائیوں کو مجبور کر رہی ہیں کہ اس گھر کو بیچو تاکہ رقم لے کر باہر نکل جائیں۔ اب تو یہ بات میرے سامنے کہنے سے بھی نہیں ہچکچاتیں۔ “ چندا نے رات کا کھانا ماں کے سامنے رکھا تو ماں نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اسے دھیمے آواز میں بتایا۔

ہاں تو ؟ چندا تڑخ کر بولی۔
میرا کیا ہو گا؟ مان کی آواز اور دھیمی ہو گئی۔

مجھے کیا پتہ؟ جن کے نام گھر کیا ہے۔ جن کی تعلیم اور شادیوں میں سارا روپیہ پیسہ لگادیا، جنہوں نے ابا کا چلتا کاروبار دنوں میں برباد کر دیا، ان سے پوچھو۔

اب تو چندا کے لب و لہجے کو فلٹر کی ضرورت بھی نہ رہی تھی۔ مگر اچانک پانی کا گلاس ماں کے ہاتھ میں پکڑاتی ہوئی چندا چونک پڑی۔

ارے یہ کیا ہوا؟ ماں کے سیدھے ہاتھ کی پشت پر پڑا بڑا سا سیاہ دھبہ دیکھ کر اسے اچنبھا سا ہوا۔
کچھ نہیں۔ نہانے گئی تو پاؤں پھسل گیا تھا۔ ہاتھ کسی سہارے کے لیے بڑھایا تو گر پڑی اور چوٹ لگ گئی۔
اور کہیں تو نہیں لگی چوٹ۔ چندا نے حیرت اور تاسف کے ملے جلے جذبات سے پوچھا۔

نہیں۔ کہتے کہتے ماں کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور آنسو چھپانے کے لیے ماں نے نظریں جھکا لیں۔ چندا کا سارا غصہ ہوا ہو گیا۔

لگی ہے کیا کہیں اور چوٹ؟ چندا نے پھر پوچھا۔
نہیں تو ، منع کر رہی ہوں نہ۔ ماں نے بھرائے ہوئے لہجے میں یقین دہانی کروائی۔

چندا نے غور کیا، کچھ عرصے سے ماں خود میں سمٹ سی گئی تھی۔ جیسے ہڈیوں کا ڈھانچے پے پھوہڑ پنے سے لجلجا کپڑا مونڈھ دیا گیا ہو۔ چند جملوں سے زیادہ کچھ نہ بولتی۔ بلکہ جب جب چندا اسکول سے گھر آتی تو اسے محسوس ہوتا کہ ماں کی آنکھیں دروازے پہ گڑی ہوتیں، گویا اس کے آنے کی منتظر ہوتیں۔ ایک دن دبے دبے لہجے میں خوفزدہ آنکھوں سے بھابھی اور بھائی کے بند دروازے کو دیکھتے ہوئے بولی۔ اب تو دونوں بہوویں گھر کے حصے کی بات کرنے لگی ہیں۔

تم تو ہوتی نہیں ہو گھر میں، مگر اب یہ دونوں چاہتی ہیں کہ یہ گھر بک جائے اور یہ اپنے اپنے میاؤں کو لے کر کہیں اور جا بسیں۔ اللہ تعالیٰ تمہارے باپ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، مگر میرے نام کروانے کا سوچتے سوچتے، دونوں بیٹوں کے نام یہ گھر کر گئے۔ وجہ پوچھی کہ بھلا ان دونوں کے نام گھر کیوں کیا، بولے زندگی کا کیا اعتبار کب تک ہے، تمہارے بڑھاپے کا سہارا بھی تو یہی بنیں گے۔ بڑے والے نے اپنی شادی کے بعد باپ سے بے کار میں خوب بدتمیزی کی تو میں نے تمہارے ابا سے کہا تھا، بہت جلدی تھی نہ تمہیں گھر ان کے نام کروانے کی؟ ”اداس ہو کر بولے، جب یہ دونوں چھوٹے تھے تو مجھے بہت پیارے لگتے تھے۔“

اتنا کہہ کر ایک لمحے کے لئے ماں رکی اور پھر دھیرے سے بولی۔
” اب خود تو پرلوک سدھارے اور مجھے یہ سب سہنے کے لیے چھوڑ دیا۔“

ہر وقت تیوریاں چڑھائے، غصے میں بھری بات بے بات ڈانٹنے والی ماں کس قدر بدل چکی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ آہستہ آہستہ بولنا بھول رہی تھی اور اب مرنے کی تیاریوں میں تھی۔

مگر چندا بھلا اب کہاں کچھ سننے والی رہ گئی تھی۔ اس پر تو باہر جانے کا بھوت سوار تھا۔ ماں سے نجات۔ اسکول سے نجات، بھائی بھابیوں سے نجات، سہیلیوں کے نام پر خون چوسنے والی جونکوں سے نجات اور گلی کے پڑوسیوں اور محلے داروں سے جان چھڑا کر بھاگنے کا تصور ہی اسے ہلکا پھلکا کر دینے کے لئے کافی تھا۔ پائی پائی جوڑ کر اس نے سارا بندوبست کیا تھا۔ ielts 6.5 کا رزلٹ تو اس کے لیے نجات کا پروانہ تھا۔ پاسپورٹ بنوا چکی تھی۔

برطانیہ کی ایک یونیورسٹی میں انڈر گریڈ میں اس کا ایڈمشن ہو گیا تھا۔ یونیورسٹی کو جو لاکھوں روپے دکھانے تھے، وہ بنک کے عملے کو کچھ دے دلا کر دکھا دیے تھے۔ اور ایک سمیسٹر کی فیس تو اس کے پاس پکی تھی۔ ہاسٹل کا کمرہ، کھانے کا حساب، میڈیکل کی لازمی فیس، اس کے ذہن میں سارا حساب کتاب موجود تھا۔ نئے کپڑے لتے لینے کی کیا ضرورت تھی۔ جو بھی تھے فی الحال اس کے لئے کافی تھے۔ بس دو چادریں، تکیے کے غلاف اور شوز وغیرہ کافی ہیں۔

وہاں جاتے ہی سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کی دکان سے پینٹ شرٹ خریدوں گی، کوٹ، ہیٹ۔ موزے۔ سب آسانی سے مل جاتے ہیں۔ سب کچھ آن لائن موجود ہے۔ گوگل نے زندگی آسان بنا دی ہے۔ غیر اہم لوگوں سے سوال کرنے اور ان کے غلط سلط جوابوں سے نجات دے دی ہے۔ دوسرے سمیسٹر کی فیس کا سوال جب اسے تنگ کرتا تب وہ تصور میں یونیورسٹی کی بلند و بالا عمارت اور اس کے وسیع و عریض سر سبز و شاداب لان پر بیٹھے بے فکرے سٹوڈنٹس کی رنگ برنگی تصویریں دیکھ کر سوچتی۔ کوئی تو مل ہی جائے گا۔ سنا ہے سیدھے سادے انگریز لڑکوں کو کالی، بھدی، موٹی، حبشی افریقی لڑکیاں تک پھنسا لیتی ہیں تو میں ان سے تو پھر بھی بہتر ہوں؟

ہمارے والوں کو تو ہر غریب کے ناک نقشے میں عیب نکالنے کی بیماری ہے۔ ان کے لئے میں بدصورت ہوں، بھدی ہوں، کالی ہوں تو کیا حبشیوں سے بھی گئی گزری ہوں۔ جب کوئی چکنا انگریز پھنساؤں گی نہ تب ان کے منہ دیکھنے والے ہوں گے۔ بے وقوف ہی ہو گا کوئی جو ایک بار انگلستان جانے کے بعد دوبارہ پلٹے۔ اللہ نے چاہا تو ایک سال کے اندر اندر شادی کر کے موج کروں گی۔ نکل جائیں گی سارے سمیسٹرز کی فیسیں۔ جل بھن کر کوئلہ ہو جائیں گے، کبھی مڑ کہ واپس نہ آؤں گی اس منحوس جگہ پر ۔ ایک سے بڑھ کر ایک تصویر لگاؤں گی فیس بک پر ان خبیثوں کو جلانے کے لئے۔ اب یہ جانیں اور ان کی مکروہ حرکتیں جانیں۔

سفری کاغذات مکمل کرنے میں ایجنٹ نے مزید چونا لگایا۔ یہ فیس۔ وہ فیس۔ بحثابحثی چھڑتی، مگر جس دن ایک ایک چیز ٹھکانے سے ہو گئی۔ ایڈمشن ہو گیا۔ ویزہ مل گیا۔ یونیورسٹی سے دھڑادھڑ ای میلز آنے لگیں تو چندا کے پاؤں گویا زمین پر نہ ٹک پا رہے تھے۔ خوابوں میں خود کو ہواؤں میں اڑتا دیکھتی۔ پریوں اور شہزادوں کے دیس کی تصویریں اور وڈیوز دیکھ دیکھ کر تصور کی آنکھ سے خود کو ان مقامات پر موجود دیکھ کر گویا وہ ذہنی طور پر کب کی اس جگہ سے جا چکی تھی۔ دو بڑے سوٹ کیس اور ساتھ ایک چھوٹے سائز کا ہینڈ کیری ساتھ رکھ کر ، کندھے پر بیگ ڈال کر وہ ماں کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔

اچھا اب میں جا رہی ہوں۔

ماں کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں۔ ایک ہاتھ میں تسبیح لرز رہی تھی اور دوسرے ہاتھ سے خوامخواہ ہی لپٹے ہوئے مصلے کے کونے کو مروڑے جا رہی تھی۔

تمہاری ساری دوائیں اور ڈاکٹر کے پرچے سنبھال کر تمہارے دراز میں رکھ دیے ہیں۔ ٹائم پر دوا لے لینا۔ چندا پھر بولی۔

کوئی جواب نہیں آیا۔ خاموشی۔

اور یہ جو ہر وقت ٹائم ٹائم کرتے رہتے ہیں نہ تمہارے چہیتیاں اور چہیتے، ان کو بولنا کہ دوپہر اور شام کو ایک ایک چپاتی بنا دیا کریں تم کو ۔ صبح کا دلیہ تم کو خود لینا پڑے گا اب کیونکہ اس گھر میں سب کو دیر سے اٹھنے کی لت لگی ہوئی ہے۔

اب کی بار ماں کی آنکھوں سے گرنے والے آنسو سیدھے تسبیح پڑھتی انگلیوں پر ٹپ ٹپ گرے۔
ایک لمحے کو تو چندا کا دل دھک سے رہ گیا۔

میری بلا سے۔ ٹھیکہ اٹھایا ہے میں نے ان سب کا ۔ اور ہے کون ہے میرا یہاں پر ۔ ایک دم پھر سے وہی غصیلا اور ضدی مزاج حاوی ہو گیا۔

کوئی بات کرنی ہے۔ اس نے کھڑے کھڑے پھر ماں سے پوچھا۔
”نہ ’، ماں نے انکار میں گردن ہلائی۔

کھلی ہوا میں پنکھ پھیلائے اپنی مرضی سے اڑنے کی خواب نے اس کی آنکھوں اور ذہن میں بسیرا کیا ہوا تھا۔ اس کی پوری کوشش تھی کہ اس کا کوئی ایک دوپٹہ بھی اس گھر میں نہ رہ جائے۔ گھر کے در و دیوار یا کھڑکیوں سے انسیت کو اس نے بے دردی سے کل ہی دو آنسوؤں میں بہا دیا تھا۔ اس گھر، اسکول اور شہر کا نقشہ تک بھول جانے کی شدید آرزو لے کر وہ گھر سے نکلی۔ ٹیکسی والے نے اسے منٹوں میں ائرپورٹ پہنچا دیا۔ پہلی بار۔ ائرپورٹ کے اندر کا ماحول دیکھا۔

یہاں سے وہاں تک پھیلے راستے۔ جگہ جگہ پاسپورٹ، ٹکٹ اور دیگر کاغذات دکھائے۔ جب سوٹ کیس جمع کروا دیے تب وہ ہلکی پھلکی ہو گئی۔ صرف ایک ہینڈ کیری ہاتھ میں، اور ایک کتاب اور ایک دروازہ کھلنے کی منتظر وہ گیٹ نمر 12 کے سامنے آ بیٹھی جس کے کھلتے ہی اس کے خوابوں کی تعبیر کا دروازہ کھلنا تھا۔ جہاں پر اس کا منتظر جہاز وہاں تک اڑان بھرنے کے لئے اسے پکار رہا تھا، جہاں اس کے خوابوں کا حسین شہر بستا تھا۔

ماضی سے چھٹکارا پانے کی خواہش اندر شدت سے مچلی تو اس نے کرسی کی پشت سے آنکھیں ٹکا لیں اور خود کو لندن آئی میں بیٹھے محسوس کیا۔ فضائے بسیط میں خود کو پرندے کی مانند اڑتا دیکھا، مسکراہٹ لبوں پر آنے کو تھی کہ ماں کی دائیں آنکھ کے عین نیچے گہرا سیاہ دھبہ، اس کے دھیان کی کائنات میں ہلچل مچا گیا۔ جس کی طرف، جلد بازی سے ائر پورٹ کے لئے نکلتے وقت اس کی توجہ بالکل نہیں گئی تھی۔ بالکل ایسا ہی سیاہ دھبہ اس دن چائے دیتے ہوئے ماں کے ہاتھ کی پشت پر بھی دیکھا تھا۔

جب اس کی بابت ماں سے پوچھا تھا تو ماں کا جواب تھا، ”نہانے گئی تو پاؤں پھسل گیا تھا۔ ہاتھ کسی سہارے کے لیے بڑھایا تو گر پڑی اور چوٹ لگ گئی۔“ چوٹ لگتی تو ہتھیلی پر لگتی، کہنی پر لگتی، یہ ہاتھ کی پشت پر کیسے لگی ایسی چوٹ؟ اپنے باتھ روم کا نقشہ تصور میں لا کر اس نے غور سے سوچا۔ لکڑی کی چوکی پر بیٹھ کر نہانے اور وضو بنانے والی ماں اس باتھ روم میں کہاں پھسلی ہوئی ہو گی؟ اور آج جب وہ گھر سے نکل رہی تھی تو دوپٹے کی آڑ سے دکھنے والے گہرے سیاہ دھبے کو پوچھنا وہ کیسے بھول گئی؟

ایسا کیا ہوا ہو گا؟ بار بار ایسی چوٹیں کیوں لگ رہی ہیں؟ آنکھ کے نیچے کیسے چوٹ کیسے لگ سکتی ہے؟ ایسا کیا ہو رہا تھا گھر میں جس سے وہ مکمل بے خبر اپنی دنیا میں مگن تھی۔ لرزتی انگلیوں سے پھسلتے تسبیح کے دانے اور ان پر گر کر ٹوٹتے آنسوؤں کے موتی اچانک اسے بیکل کر گئے۔ اس نے آنکھیں کھول کو دیکھا۔ اسے یوں محسوس ہوا کہ اس کے چاروں طرف گہرے سیاہ دھبے گھوم رہے ہوں اور ان دھبوں کے درمیان، ماں کا آنسوؤں سے بھیگا چہرہ اسے منتشر کر گیا۔

کیا ہو رہا تھا گھر میں؟ یہ اچانک چوٹیں کیسی؟ کیا کوئی ماں کو ؟ نہیں۔ تشدد کون کرے گا ماں پر ؟ کون کر سکتا ہے بھلا ایسا؟ تو پھر یہ گہرے گہرے نشان؟

پی آئی اے کی فلاں پرواز لندن روانگی کے لئے تیا ر ہے، تمام مسافروں سے درخواست ہے کہ۔ ائر پورٹ پر آواز گونجی۔

مشاق مسافروں نے اپنے ساتھ رکھے سامان کے ساتھ ساتھ، پاسپورٹ اور ضروری کاغذات چیک کرنے شروع کر دیے۔ کچھ اٹھ کھڑے ہوئے، قطاریں بننا شروع ہو گئیں۔ ماؤں نے بچوں کو تنبیہ کرنا شروع کر دیا۔ باتھ روم گئے پسنجرز تیزی سے اپنے سامان اور فیملی ممبرز کی طرف آ رہے تھے۔ اس نے ہینڈ کیری کا ہینڈل ہاتھ میں پکڑا، ہاتھ میں پکڑے بورڈنگ کارڈ کو واپس پاسپورٹ میں رکھا اور اسے اپنے شولڈر بیگ میں ڈال کر ، بیگ کو کاندھے پر ڈالا۔

گیٹ نمبر 12 کا دروازہ کھل چکا تھا۔ جہاں لوہے کا سفید و سبز قوی ہیکل پرندہ اپنے پر پھیلائے اسے اس کے خوابوں کے دیس لے جانے کے لئے بالکل تیار تھا۔ مگر ایک لمحہ نہ لگا اسے اس گیٹ کے مخالف سمت والی راہداری کی طرف تیز تیز قدموں سے جاتے ہوئے۔ ائر پورٹ سے ٹیکسی اور ٹیکسی کا گھر تک سفر گویا خلا میں گزرا۔ ماں کے ہاتھ کی پشت اور آنکھ کے نیچے سیاہ دھبے نے اس کے حواس معطل کر رکھے تھے۔

گھر کے دروازے کے دونوں پٹ بھڑے ہوئے تھے۔ بنا چاپ کے، تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی خالی الذہن سی وہ گھر کے اندر داخل ہوئی۔ اندر کا منظر اسے جھنجھوڑ گیا۔ بڑی بھابھی کے ہاتھ میں ڈوئی تھی اور زبان اور آنکھوں سے شعلے لپک رہے تھے۔ بڑے بھائی کا ایک پاؤں ماں کے دیوان پر تھا اور دوسرا زمین پر ۔ چھوٹے کے ہاتھ میں ہتھیار کی طرح پکڑا ہوا ہینگر اور سب کی قینچی کی طرح چلتی زبانیں۔ اور ان چاروں کے درمیان لرزتی اور کانپتی ہوئی ماں۔ بالکل ایسے جیسے بارش میں بھیگی ہوئی کوئی بے آسرا چڑیا۔

Facebook Comments HS