عامر لیاقت: تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد



عامر لیاقت کی دفعتاً موت کی خبر نے دل دہلا دیا۔ دل ماننے کو تیار نا تھا۔ مبادا یہ خبر سچ نا ہو۔ یہ وہ عامر لیاقت ہیں جن کو برسوں عروج حاصل رہا۔ ان کے چاہنے والے ان کے پرستار ہر رمضان ان کی ٹرانسمیشن کے منتظر رہتے۔ مداح تو خیر دیکھتے اور سراہتے لیکن ناقدین بھی ان کے ہر فعل پہ کڑی نظر رکھتے تھے۔ آج دنیا سے یوں ان کے جانے کا دکھ اپنی جگہ۔ لیکن اس دکھ میں اضافہ تب ہوا جب لوگ ان کی موت پر خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ ٹویٹر پر ملحدین بھی کافی خوش ہیں۔

عامر لیاقت حسین کو ابتدا سے مخالفین کا سامنا رہا، وہ ہمہ وقت کسی نا کسی تنازع میں گھرے رہے۔ کبھی وہ مسلکی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنتے کبھی سیاسی جماعت سے وابستگی کی بنیاد پر ۔ اور کبھی نجی زندگی پر تنقید کا سامنا رہا۔ تنقید اگر مثبت یا تعمیراتی ہوتی تو اور بات تھی۔ مگر سوشل میڈیا کی خبط عظمت کا شکار، بے ادب نسل نے تمسخر اڑانا شروع کر دیا۔ عامر لیاقت کوئی معمولی شخص نہیں تھا۔ نا وہ اس کا مستحق تھا۔ وہ لوگوں کو ہنسانے کے لیے بہت کچھ کرتے۔ کوئی شخص اگر مشہور ہے اس کا مطلب نہیں کہ ہم اس کی زندگی میں داخل ہو جائیں۔

نکاح کرنے پہ اعتراض کرنے والوں کو اس بات پہ کوئی اعتراض نہیں کہ ملک کے بڑے بڑے نامور سیاستدان بیوروکریٹ بزنس مین ببانگ دہل غیر ازدواجی تعلقات رکھتے ہیں۔ کچھ معزز ہستیاں یہ معاملات پوشیدہ رکھتی ہیں کیوں کہ وہ نکاح نہیں کر سکتے۔ کچھ کی تو اولادیں بھی ہو جاتی ہیں مگر قومی ہیرو کہلاتے ہیں اور کچھ بے شرمی سے شادی کیے بنا دودھ اور بھینس کی مثال دیتے ہیں اور مختلف خوب رو ماڈل اور اداکاراؤں کے ساتھ منسلک رہتے ہیں۔

مزے کی بات کہ بلیک میلنگ کے لیے ان کی کوئی ویڈیوز بھی سامنے نہیں آتی۔ بد قسمتی کہیں کہ عامر لیاقت کا تعلق لا وارث شہر کراچی سے تھا۔ اس لیے بہت آسان تھا کہ ملک بھر کے جاہل ترین لوگ بھی ان کے خلاف ہذیان گوئی کرتے۔ جن کا عامر لیاقت سے کوئی تعلق تھا نا کچھ بگاڑا تھا۔ مگر مختلف اختلافات اور آخر میں پی ٹی آئی چھوڑ دینے کے بعد ان کے خلاف ٹرینڈ چلنا شروع ہو گئے۔ جس کا اظہار انہوں نے آخری ویڈیو میں یہ کہہ کر کیا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی میں نے عمران خان کی مخالفت کی اور یوں سب کے سب میرے پیچھے پڑ گئے۔

یہ سیاست کوئی حق و باطل کی جنگ نہیں ہے جہاں اپنے مخالف کو برہنہ کر کے آپ ٹھٹھا لگائیں۔ یا اس کو منہ توڑ جواب دے کر اپنے آپ کو اعلیٰ ظرف سمجھیں۔ شادیاں کرنا، سیاسی جماعتیں تبدیل کرنا کوئی گناہ نہیں۔ عامر لیاقت سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ ان کی طرز صحافت یا طرز سیاست سے۔ ان کی شخصیت، ان کے نظریات و معاملات سے۔ لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ وہ ایک باصلاحیت عالم فاضل انسان تھے۔ اردو زبان پہ گرفت اور مکمل عبور حاصل تھا۔ گفتار میں کیا خوب لطافت اور صراحت رکھتے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ جس شخص کی وجہ شہرت یہ وطن یہ ارض پاکستان تھا۔ وہ اس گندی گھٹیا نسل کی دشنام طرازی کی وجہ سے یہ ملک ہی چھوڑنے والے تھے۔ شاید وہ ملک سے باہر جا کے زیادہ خطرناک ہوسکتے تھے۔ ممکن ہے یہ ہی وجہ بنی ہو ان کی پر اسرار موت کی۔

بہر کیف اس داستان کا اختتام ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ سوشل میڈیا کی دنیا واقعی بہت ظالم ہے۔ آخر وقت تک دست بستہ وہ احتجاج ریکارڈ کراتے رہے کہ کوئی ویڈیوز ڈیلیٹ کیوں نہیں کرتا؟ ایف آئی اے، سائبر کرائم ونگ کا کیا کردار تھا۔ اب تک کوئی ایکشن کیوں نا لیا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں خواتین کے لیے آواز اٹھاتی ہیں مگر افسوس ایک مرد کے لیے کسی نے مذمت تک نہیں کی۔

ان کو سب سے زیادہ رنج وہ ذاتی ویڈیوز کا لیک ہونا تھا۔ لیکن کاش انہیں ان کی زندگی میں ہی کوئی کہہ دیتا کہ ان ویڈیوز سے برہنہ عامر لیاقت نہیں ہوا۔ دانیہ ہوئی ہے۔ اس کی ماں اس کا پورا خاندان، ان کی تربیت ہوئی ہے۔ جو گاؤں کی ٹک ٹاکر نکاح میں رہتے ہوئے ریکارڈنگ اور ویڈیوز بناتی رہی، جو شادی کے بندھن میں رہتے ہوئے ثبوت اکٹھے کر رہی تھی کہ ناچاقی کی صورت میں اپنے شوہر کو ہر طرح سے رسوا کرے۔ جو آستین کا سانپ بنے میاں بیوی کے ذاتی معاملات پبلک کرتی رہی۔ اور مرنے کے بعد مگرمچھ کے آنسو بہائے کہتی ہے کہ ہماری صلح ہو گئی تھی میں بیوہ عامر ہوں۔ تاکہ جائیداد میں سے حصہ مل جائے۔

ایک ایسی عورت نے کیسے ایک زیرک خوش بیان، نامور معروف مضبوط اعصاب کے مالک شخص کو تباہ و برباد کر دیا۔ طوبیٰ اور دانیہ دونوں ہی ان کی دماغی حالت اور بیماری کی ذمہ دار ہیں۔ جنہوں نے شادی کو مذاق بنا دیا، بھرپور فائدہ اٹھا کر تجرباتی شادی کر کے بھاگ گئیں۔ آج وہ مگرمچھ کے آنسو بہا کر خود کو پارسا ثابت نہیں کر سکتیں، ایسی عورتیں شادی کے بندھن میں عمر بھر چل بھی نہیں سکتیں تھیں۔ لیکن اس وقت تمام یوٹیوبرز ریٹنگ اور چند لائیکس کے لیے اور فواد چودھری والے مخصوص ایجنڈے کے تحت دانیہ کے موٹے موٹے آنسو عوام کو دکھا کر عامر لیاقت کو بدنام کر رہے تھے۔

دانیہ کے رنگ ڈھنگ سے سب واقف تھے مگراس وقت عامر لیاقت پر بہتان تراشی، کردار کشی کرنا مقصود تھا۔ اور آج ان کی موت پر ان کی خوبیاں، کامیابیاں اور ڈپریشن پر اسٹوری کر رہے ہیں۔ اب دانیہ سب کو غلط لگ رہی ہے اس وقت سب دانیہ کے گھر جا کے گھٹیا زرد صحافت کر رہے تھے۔ اب وہ تمام نامور میڈیا کے لوگ بھی جو زندگی میں ان کے خلاف رہے۔ ویڈیوز کے لیک اور شیئر ہونے پر مذمت کر رہے ہیں۔ مینٹل ہیلتھ ڈپریشن پر بات کر رہے ہیں۔

جب کہ اس وقت ابتدا میں اگر ایسی مثبت رپورٹنگ یا اسٹوری آتی تو شاید وہ زندہ ہوتے کیوں کہ آخری وقت میں گوشہ نشینی میں وہ ایک ایک کمینٹ پڑھتے اور ری ٹویٹ کرتے تھے۔ تعاون سہارا یا حمایت زندہ انسان کو درکار ہوتا ہے۔ اب ان کو کچھ نہیں ملنا۔ ہاں میمرز یوٹیوبرز کو ان کے نام پر جاتے جاتے بھی ریٹنگ مل جائیں گی۔ کیوں کہ ریٹنگ اور لائیکس کے لیے ہمارا معاشرہ حد درجہ تنزلی کا شکار ہے۔

اپنی ذاتی زندگی میں گناہ گار ہم سب ہیں۔ مگر ہماری خوبیاں عوامی نہیں ہیں، ہماری کوئی پہچان کوئی نام نہیں ہے۔ اس لیے ہماری خامیوں اور گناہوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ ہماری ذاتی زندگی کتنی پاک یا ناپاک ہے اس کا ادراک صرف ہم کو ہے۔ تاہم جانے والے کو برے القابات سے نوازنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ وہ چلا گیا اور اس دنیا سے اس کا ناتا ختم۔ مگر ہم ابھی تک زندہ ہیں اور جو وقت بھی میسر ہے اس کو غنیمت جان کر بہتر استعمال کریں۔ کیوں کہ ہمارے گناہ اور کمی کوتاہیاں جاری ہیں۔

ہمارے نبی نے فرمایا کہ کسی کے اچھا یا برا ہونے کے لیے تین وجوہات کی بنیاد پر گواہی دو ۔
”اگر اس کے ساتھ سفر کیا ہو یا اس کے پڑوس میں رہے ہو یا پھر لین دین کیا ہو“

ذاتی حیثیت میں اس بندے نے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ وہ ایک ہائی پروفائل شخصیت تھے۔ مگر سادہ زندگی گزار رہے تھے۔ مڈل کلاس گھرانے سے نکل کر اپنے بل بوتے پر اپنا نام اپنا مقام بنایا۔ یہ گھٹیا ٹرینڈز گھٹیا لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ مگر کچھ لوگ حساس ہوتے ہیں۔ ان کو لوگوں کا ایک ایک کمینٹ دل پہ تیر بن کے لگتا ہو گا۔ ان کا کوئی گھرانا ہوتا تو شاید ان کے دکھ سمیٹ لیتا، مگر بدقسمتی سے شادیوں کے لیے انہوں نے صحیح عورت کا انتخاب نہیں کیا اور ان کا تماشا بنا دیا گیا۔

ہمارے معاشرے میں اچھا کہلوانے کے لیے مرنا ضروری ہے۔ کاش کہ زندگی میں ہم لوگوں اور رشتوں کو گلے سے لگا لیں۔ ان کی محرومی ان کی کمی کوتاہیوں کو درگزر کرتے ہوئے اپنا لیں۔ اور جن کو جانتے تک نہیں ان کو جج نا کریں۔ ڈپریشن اور لوگوں کی مینٹل ہیلتھ کو سمجھیں۔ نا جانے والدین کا اس ضمن میں کیا کردار ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر اپنی تربیت اور گندی نسل کی پہچان کرانے سے کہیں بہتر ہے کوئی مثبت کوئی تعمیراتی کام سر انجام دیں۔ بد کلامی پر فخر کرنے کے بجائے اصلاح کریں۔

نا کہ دوسروں کو گالیاں برے برے القابات سے نوازیں۔ ان کے چہرے، رنگت یا جسمانی ساخت کا مذاق اڑائیں۔ زندہ لوگوں کو چین سے جی لینے دیں۔ ٹرولنگ ہذیان گوئی، تضحیک آمیز جملوں نے کسی کو تنہا کر دیا۔ کسی کی جان لے لی۔

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اپنی ہنگامہ خیز زندگی میں خوب شہرت سمیٹی۔ ان کے لاکھوں مداح تھے۔ یاروں کے یار سمجھے جانے والا شخص جس کے ارد گرد ہمیشہ لوگوں کی بھیڑ تھی۔ اپنے ساتھیوں کو کام دینا، ہمیشہ ساتھ رکھنا۔ ان کی مدد کرنا۔ خدمت خلق کے جذبہ سے بھرپور شخص کا جمعرات کو جب اپنے آبائی گھر میں انتقال ہوا تو وہ تنہا تھا۔ ان کو سہارا چاہیے تھا۔ رحلت سے ایک رات قبل وہ بہت روئے۔ نا جانے کتنا بوجھ لیے وہ اس ظالم دنیا سے رخصت ہوئے۔

عامر لیاقت کی موت کے بعد ایک عہد تمام ہوا۔
وہ کہتے تھے کہ میں چلا جاؤں گا تو سب قدر کریں گے ایسا ہی ہوا۔ اللہ انہیں غریق رحمت کرے اور کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد ۔

Facebook Comments HS