روس کے ادارہ برائے مشرقی علوم میں اردو کا بیش بہا خزانہ


روسی اکیڈمی آف سائنسز 1724 عیسوی میں پیٹر دی گریٹ کے حکم سے قائم ہوئی۔ اس اکیڈمی کے تحت چلنے والا ادارہ برائے مشرقی علوم ( انسٹیٹیوٹ آف اورینٹل سٹڈیز) 1818 میں قائم ہوا۔ یہ ادارہ ان اہم اداروں میں شامل ہے جن میں علم و فن اور ثقافت کے شعبوں میں انتہائی قابل قدر کام ہوا۔ اس ادارے میں کام کرنے والے روسی، پاکستانی نژاد اور بھارتی دانشوروں اور عالموں نے جہاں روس اور اس کی ریاستوں میں تخلیق کیے جانے والے ادب عالیہ کو اردو زبان میں منتقل کر کے اردو زبان و ادب کو مالا مال کر دیا وہیں انہوں نے زبان اردو کے اہم ادب پاروں اور شاعری سے روسی خواص اور عوام کو روشناس کرایا۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے اس انسٹیٹیوٹ میں پاکستان سٹڈی سنٹر 2010 میں سفارت خانہ کے شعبۂ اطلاعات اور کونسلر ونگ کے تعاون سے مشرقی علوم کے ادارے کی لائبریری کے ایک ہال میں قائم کیا گیا۔ اس کے قیام میں کونسلر ونگ کے اس وقت کے سربراہ ظفر اقبال چوہدری اور شعبۂ اطلاعات کے کونسلر اعجاز احمد صاحب کی مساعی جمیلہ کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اس سنٹر میں پاکستان کی تاریخ و ثقافت، سیاست، ادب و شاعری، سیاحت، دست کاری، مذہب اور علاقائی زبان و ادب پر چیدہ چیدہ کتب، فلمیں، کتابچے، نقشے اور چارٹ وغیرہ مہیا کیے گئے ہیں جو پاکستان پر کام کرنے والے طلبہ اور دانشوروں کے لیے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں۔

علاوہ ازیں کمپیوٹر، ٹیلی ویژن، فوٹو اسٹیٹ مشین وغیرہ کی سہولتیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ پاکستان کے بارے میں تقریروں، سمپوزیم، نمائشوں وغیرہ کا اہتمام بھی اس سنٹر میں کیا جاتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیش آتا ہے جب پاکستان کے اہم قومی دنوں کو منانے کا اہتمام کیا جاتا ہے کیونکہ اس لائبریری میں جگہ کی قلت کا سامنا ہے۔ چنانچہ ایسے مواقع پر کسی بڑے ہوٹل میں انتظامات کرنے پڑتے ہیں۔ لیکن باقی ساری تقریبات عموماً یہیں منعقد کی جاتی ہیں۔

یہاں منعقد ہونے والی یادگار تقریبات میں روسی فوٹوگرافر جوڑے سرگئی نوویکوو اور ویلینٹینا کی پاکستان کے مختلف علاقوں خصوصاً گلگت و بلتستان اور خیبر پختونخوا کے علاقوں کے فطری حسن اور ثقافت پر مبنی تصویروں کی نمائش تھی۔ اس جوڑے نے 2011 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس دورہ میں انہوں نے پاکستان کے مختلف علاقوں کا خود مشاہدہ کیا۔ 25 نومبر کو ماسکو اسٹیٹ لائبریری کے تحت کام کرنے والی مشرقی علوم کی لائبریری میں قائم مذکورہ پاکستان سنٹر میں ان تصاویر کی نمائش کا اہتمام سب سے بڑی روسی نیوز ایجنسی ریانووستی، روسی سٹیٹ لائبریری کے شعبہ مشرقی علوم اور پاکستانی سفارت خانے کے پریس ونگ نے کیا تھا۔ اس میں ادارہ برائے ایشائی و افریقی علوم، روسی اسٹیٹ یونیورسٹی برائے انسانی علوم، وزارت خارجہ کی ڈپلومیٹک اکیڈمی، میگیمو MGEMO) ) کے طلبہ، اساتذہ، ماہرین، پاکستانی سفارت خانے کے افسران، اہل کاروں اور بین الاقوامی ایرانی سنٹر کے صدر ڈاکٹر محسن ہدانیہ نے شرکت کی۔

اس تقریب کی خاص بات سرگئی نوویکوو اور ویلنٹینا کی پاکستان کے شمالی علاقوں، خیبر پختونخوا ، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے سیاحتی علاقوں کے بارے میں پریزنٹیشن اور تصویری سلائیڈوں کی نمائش تھی۔ یہ نمائش 25 نومبر 2011 میں ہوئی۔

یوں تو وطن عزیز اپنے قیام سے لے کر ہی کچھ اپنوں اور کچھ اغیار کی ریشہ دوانیوں، سازشوں اور حماقتوں کی وجہ سے گوناگوں مسائل اور آلام کا شکار رہا ہے۔ لیکن 2011 کا سال شاید ہماری تاریخ کے مشکل ترین سالوں میں سے ایک تھا۔ ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ، سلالہ میں پاکستانی فوجی پوسٹ پر امریکی حملے میں 26 پاکستانی فوجیوں کی شہادت، میمو کا واقعہ اور پھر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی امریکیوں کے ہاتھوں ہلاکت، ایسے واقعات تھے جن کی وضاحت ایک مشکل مگر انتہائی ضروری عمل تھا۔

افغانستان میں جنگ میں تیزی کے ساتھ انخلاء کی تیاریوں کی وجہ سے دنیا بھر کی توجہ اس علاقے پر ویسے ہی مرکوز تھی۔ ان واقعات نے دنیا بھر کے میڈیا کو پاکستان کو ہدف تنقید بنانے کا ایک اور سنہری موقع فراہم کر دیا تھا۔ اس موقع پر طاقتور پاکستانی میڈیا ایک قومی موقف کو وضع کرنے اور اس بین الاقوامی میڈیا جارحیت کا بھر پور جواب دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا تھا۔ مگر

بسا اے آرزو کہ خاک شد

ہمارے میڈیا نے ان سارے واقعات کو خوب غل غپاڑہ مچانے کے لیے نادر مواقع سمجھا اور انہیں صورت حالات کو مزید پیچیدہ بنانے، حکومت اور افواج میں غلط فہمیاں پھیلانے اور بین الاقوامی طور پر پاکستان کے موقف کو کمزور کرنے کے لیے کامیابی سے استعمال کیا

ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

یہ میرے ماسکو میں قیام کا پہلا ایسا سال تھا۔ جب ان مواقع پر میں نے روسی اداروں کو پاکستانی اخبارات و جرائد فراہم نہیں کیے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ان مواقع پر روسی ذرائع ابلاغ کا رویہ ہمدردانہ اور دوستانہ رہا اور انہوں نے پاکستانی حکومتی موقف کا نہ صرف دفاع کیا بلکہ مغربی ذرائع ابلاغ کے متبادل اپنا نکتہ نظر پیش کرتے ہوئے ان واقعات کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا۔ ان مواقع پر مجھے ہر بار روسی اکیڈمی آف سائنسز، انٹر فیکس اور ریانووستی نشریاتی اداروں میں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔

سب سے زیادہ مشکل دن 2 مئی کو اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کا دن تھا۔ اس دن سوالات کی بوچھاڑ تھی اور جان ناتواں۔ جواب بہت سادہ تھا۔ اگر پاکستان کے سیکورٹی ادارے نا اہل تھے تو دنیا بھر کی انٹیلی جینس ایجنسیوں، خصوصاً نیٹو، ایساف، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ایجنسیوں کی اہلیت کے بارے میں کیا خیال ہے جو 11/9 کے بعد ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط اپنی کارروائیوں میں بقول ان کے دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد کو انتہائی سر گرمی سے تلاش کر رہی تھیں؟

اگر یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیوں نے دنیا بھر کی سیکورٹی ایجنسیوں کو دھوکے میں رکھ کر اسامہ بن لادن کو پناہ دے رکھی تھی تو کیا یہ پاکستانی ایجنسیوں کی اہلیت اور دنیا بھر کی سیکورٹی ایجنسیوں کی نا اہلیت کا کھلا اعتراف نہیں؟ یہ مشکل دن بڑا آسان ثابت ہوا۔

اس سارے منظر نامے میں 25 نومبر 2011 کی اس نمائش میں روسی فوٹو گرافروں نے پاکستان کی اتنی خوبصورت، جاندار اور مثبت تصویر پیش کی کہ دل عش عش کر اٹھا۔ سر گئی نوویکوو اور ویلنٹینا نے اپنی پریزنٹیشن کے دوران شرکا کو اپنے خوشگوار تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دنیا بھر میں پاکستانی قوم سے زیادہ کھلے دل اور کھلے ذہن کی قوم نہیں دیکھی۔ وہ پاکستانیوں کی مہمان نوازی پر حیران تھے۔ انہوں نے روسی حاضرین کے ہر سوال کا جواب دیا اور پاکستان اور اس کے معاشرے کے بارے میں مغربی میڈیا کی پھیلائی گئی تمام افواہوں، غلط فہمیوں اور تعصبات کا لبادہ چاک چاک کر دیا اور حاضرین کو دعوت دی کہ وہ خود پاکستان جا کر ان سب چیزوں کا مشاہدہ کریں اور ان کی کسی بھی بات کو غلط ثابت کریں۔

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

اس موقع پر راقم الحروف نے پریس کونسلر کی حیثیت سے ریانووستی کے شعبہ سیاحت، ثقافت و آرٹ کو پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے وسیع تر امکانات اور عصری ثقافت و آرٹ کی صورت حال پر ایک طویل انٹرویو دیا۔ جس کی اس نیوز ایجنسی نے الیکٹرانک اور انٹر نیٹ میڈیا کے ذریعے بڑے پیمانے پر اشاعت کی۔ الغرض اس سینٹر کے ذریعے کسی بھی حوالے سے پاکستان کے بارے میں، روس کے دانشوروں، اساتذہ، طالب علموں اور میڈیا کے ذریعے عامتہ الناس کو معلومات کی فراہمی اور پاکستانی موقف سے آگاہی کے بیش قیمت مواقع حاصل ہوتے ہیں۔

مشرقی علوم کے ادارے کی یہ لائبریری اردو زبان میں روسی زبان و ادب کے بیش بہا تراجم کے ذخیرے کی حیثیت رکھتی ہے۔ میرا ہاتھ یونہی ایک شیلف کی جانب بڑھا۔ شیلف کو کھولا اور حروف تہجی کی ترتیب سے لگائے گئے چند کارڈوں پر نظر دوڑائی تو صرف منظر سلیم کے ہاتھوں روسی سے اردو زبان میں منتقل ہونے والے چند شاہکاروں نے مجھے حیرتوں میں ڈال دیا۔

اس فہرست میں الینہ کی لکھی ’یادوں کی سطور‘ آرمینیا کے ایک ناول اور مختلف افسانوں کے ترجمے ”تنہا تنہا“ ، مقصود ابراہیم کے تین ناولوں کا ترجمہ ’رشتے نئے پرانے‘ ، پریم قل قادروف کے ظہیر الدین بابر، لوروکی پایند ربے کے غارہ بسحر، ایک تصویر کے خاکے ’کے عنوان سے بہترین روسی کہانیوں کے ترجمے، مختار آویزوف کے ناول‘ ابھرتی ہوئی آوازیں ’، بورس ویسیلیف کے ناولٹ‘ سحر پر سکوں ہے یہاں۔ ’۔ ممتاز سوویت افسانہ نگار رسول حمزہ توف کی منتخب نظمیں، منتخب افسانے اور شرف رشیدوف کے ناول‘ پتھر ’پتھر پھول لکھے‘ نظر آئے۔ یہ فہرست بڑی طویل ہے جس میں بہت سے معروف پاکستانی اور ہندوستانی ادیبوں اور شاعروں کے نام آتے ہیں جن کی عظمت کو ثابت کرنے کے لیے کسی سیاسی یا میڈیا کی مدد کی کوئی ضرورت نہیں۔

ان میں ایک نام ظ انصاری کا ہے جنہوں نے دستوئفسکی کی کہانیوں کو ’چچا کا خواب‘ ’نہایت افسوسناک واقعہ‘ اور ’جواری‘ کے نام سے اردو میں منتقل کیا۔ اس کے علاوہ اس کے چار حصوں اور اختتامیہ پر مشتمل ناؤل کا ’ذلتوں کے مارے لوگ۔ ‘ کے نام سے ترجمہ کیا۔ موج ہوائے سفر ’کے نام سے سوویت شاعروں کی نظموں کے انتخاب کو تقی حیدر کے ساتھ مل کر اردو میں منتقل کیا۔ چنگیز آیما توف کے ناول، جمیلہ، کو اردو میں منتقل کرنے کا سہرا بھی ظ انصاری کے سر ہے۔ انہوں نے عظیم روسی شاعر و نثر نگار اے۔ سی پشکن کی شاعری کے منظوم ترجمے کے علاوہ سوویت یونین کے 15 بڑے شاعروں کا منتخب کلام‘ بھی اردو میں اسی نام سے منتقل کیا۔

علاوہ ازیں دستؤ فسکی کے معرکتہ الآرا ناولوں ’ایڈیٹ‘ ( احمق ) ، ’جرم و سزا‘ او ر ’بے چارے لوگ‘ کو بھی ڈاکٹر صاحب نے اردو زبان میں منتقل کیا۔ تقی حیدر صاحب کا ایک کارنامہ ان چھوٹی چھوٹی روسی قومیتوں کے افسانوں کا ترجمہ ہے جن کی زبانوں کی 1917 کے انقلاب سے پہلے کوئی تحریری صورت موجود نہ تھی۔ اس کتاب کا نام ’انہیں زبان ملی‘ ہے اور اسے یوگینیا امبوویچ نے ترتیب دیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ڈاکٹر ظ انصاری کے ساتھ ’موج ہوائے سفر‘ کے نام سے منتخب روسی شاعروں کی نظموں کا ترجمہ بھی کیا۔

قارئین کے لیے یہ امر دلچسپی کا باعث ہو گا کہ مشہور ادیب اور ترقی پسند تحریک کے بانیوں میں شامل سجاد ظہیر نے اے مختار کی تصنیف ’بہنیں‘ کو اردو میں منتقل کیا تھا۔ اسی طرح رضیہ سجاد ظہیر نے میکسم گور کی کی لافانی تصنیف ’ماں‘ اور ’میری یونیورسٹیاں‘ کو بھی اردو میں منتقل کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے گورکی کے منتخب افسانے ’زندگی کی شاہراہ پر‘ اور تین ایکٹ کے دو ڈراموں ’دشمن‘ اور ’بچپن‘ کو بھی اردو کے قالب میں ڈھالا۔

میکسم گورکی کے شاہکاروں سے اردو زبان کو مالا مال کرنے والے ناموں میں ایک نام صابرہ زیدی کا بھی ہے جنہوں نے میکسم گورکی کی ’اطالوی کہانیاں‘ اور ’تین راہی‘ کو اردو میں منتقل کیا لیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ گوگول کے شہرہ آفاق ناول ’تارس بلبا‘ کو اردو میں منتقل کرنا ہے۔ بہت سی اہم روسی تصانیف کو اردو میں منتقل کرنے والے ناموں میں انور عظیم اور خدیجہ عظیم کے نام شامل ہیں جنہوں نے بہت سی روسی تصانیف کو اردو کے قالب میں ڈھال کر اردو زبان کی بیش بہا خدمت کی۔

لیکن میں جس نام نامی اسم گرامی کے ذکر سے اس گزارش نامے کا اختتام کر رہا ہوں وہ اردو زبان و ادب کی عظیم ادبیہ، بلکہ ادب عالم کا ایک اہم نام، قرۃ العین حیدر ہے جنہوں نے اے۔ ایچ استروفسکی کے ناول کا ’دارورسن کی آزمائش‘ کے نام سے 1940 میں ترجمہ کیا تھا۔

روح شاعر سے معذرت کے ساتھ
میری انتہائے نگارش یہی ہے
ترے نام سے ’انتہا‘ کر رہا ہے۔

Facebook Comments HS