تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے (2)


1979 میں ایک پاکستانی سائنسدان نے طبیعیات کا نوبل انعام جیتا۔ ان کی زندگی کا اہم ترین کام ذراتی طبیعیات کے ایک نظریے کی وضاحت کی کلیدی تحقیق تھی جو آج بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

ان کی یہ تحقیق 2012 میں ہگز بوسن (Higgs boson) ذرے کی دریافت میں پیش خیمہ ثابت ہؤئی۔ یہ ایک بہت اہم بنیادی دریافت تھی کیوں کہ یہ ذرہ دیگر تمام ذرات کو مادہ فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے اس لئے اس ذرے کو خدائی ذرہ بھی کہا جاتا ہے۔

یہ سائنسدان 1926 میں پاکستان کے ایک چھوٹے شہر جھنگ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک غریب کاشتکاری ضلع میں محکمہ تعلیم میں عہدیدار تھے۔ ان کے خاندان میں حصول علم کی ایک طویل روایت رہی ہے۔ جب انہوں نے 14 سال کی عمر میں میٹرک کے امتحان میں اس وقت تک کے سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کے بعد لاہور سے سائیکل پر گھر کا رخ کیا تو پورا قصبہ ان کے استقبال کے لئے گھروں سے باہر نکل آیا۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج، یونیورسٹی آف پنجاب سے وظیفہ حاصل کیا اور 1946 میں ایم اے کی ڈگری مکمل کی۔ اسی سال انہیں سینٹ جانز کالج، کیمبرج میں وظیفہ دیا گیا جہاں انہوں نے 1949 میں ریاضی اور طبیعیات میں ڈبل فرسٹ کے ساتھ بی اے (اعزازی) مکمل کیا۔

1950 میں ان کو طبیعیات میں ڈاکٹریٹ کے دوران ان کے بھرپور علمی تعاون پر کیمبرج یونیورسٹی سے اسمتھ انعام دیا گیا۔ انہوں نے کیمبرج سے نظریاتی طبیعیات میں پی ایچ ڈی حاصل کی اور 1951 میں شائع ہونے والی ان کی تھیسز میں کوانٹم الیکٹرو ڈائنامکس کے بارے میں وہ بنیادی کام شامل تھا جس سے انہیں پہلے ہی بین الاقوامی شہرت مل چکی تھی۔

یہ سائنسدان 1951 ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں تدریس کے لیے پاکستان واپس آئے اور 1952 ء میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی کے سربراہ بنے۔ وہ پاکستان میں تحقیق کے ایک ادارے کے قیام کے ارادے سے واپس آئے تھے، لیکن جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ بعض لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے یہ ناممکن تھا۔

1953 میں احمدیہ برادری کے خلاف لاہور میں فسادات کا سلسلہ شروع ہوا۔ پنجاب حکومت کی رپورٹ کے مطابق ان فسادات سے ہلاکتوں کی تعداد بیس بتائی گئی لیکن دیگر اندازوں کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ اس نوجوان سائنسدان کو ان فسادات سے شدید صدمہ ہوا۔ نظریاتی طبیعیات میں تحقیق کا کیریئر بنانے اور پاکستان میں ان کے لئے غیر یقینی صورتحال سے بچنے کے لئے انہوں نے اپنا ملک چھوڑ کر بیرون ملک کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ کچھ سالوں کے لئے کیمبرج واپس آئے، اس کے بعد امپیریل کالج، لندن چلے گئے۔ لیکن انہوں نے پاکستان کو دل سے جدا نہیں کیا اور ملک کے نمایاں ترین سائنسی منصوبوں میں کام کرتے رہے۔

1961 میں انہوں نے پاکستان کا خلائی پروگرام قائم کیا، 1970 کی دہائی کے اوائل میں وہ پاکستان کی جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں میں بھی شامل تھے۔ لیکن 1974 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے احمدیہ عقائد کے بارے میں قانون منظور ہونے کے بعد بالآخر اس سائنسدان کی اپنے ملک کے پروجیکٹس میں شمولیت کم ہو گئی۔ اس قانون کے نتیجے میں انہیں اپنے آبائی ملک میں غیر مسلم قرار دیا گیا۔ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے بعد بھی انتہا پسندوں کی طرف سے ان پر تشدد جاری رہا۔ 2010 میں پاکستان میں دو احمدی عبادت گاہوں پر حملہ کیا گیا جس میں 94 افراد ہلاک اور 120 سے زائد زخمی ہوئے۔

دریں اثنا یہ سائنسدان اپنے ملک میں ہی نہیں بلکہ تمام ترقی پذیر دنیا میں سائنس کے فروغ کے لئے کوشاں رہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے 1964 میں اطالوی حکومت کے مالی تعاون سے اٹلی کے ٹرسٹ شہر میں انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل فزکس (آئی سی ٹی پی) کی بنیاد رکھی جو خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے طلبا کو دنیا بھر کے ماہرین تعلیم سے جڑنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ وہ پاکستان میں یہ مرکز قائم کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔

1979 میں عبدالسلام نوبل انعام جیتنے والے پہلے پاکستانی بن گئے۔

پاکستان میں احمدیہ برادری کے مشکل حالات کے باوجود سلام کی اپنے ملک اور پاکستان کے عوام کے لئے لگن متزلزل نہیں ہوئی۔ انہیں برطانوی اور اطالوی شہریت کی پیشکش کی گئی تھی لیکن وہ 1996 میں آکسفورڈ شہر میں انتقال تک صرف پاکستانی شہری رہے۔

اگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کھلے دل سے عبدالسلام کا خیرمقدم کرتی تو اس کے نتیجے میں پاکستانی طلبا کو عالمی معیار کے سائنسدان بننے اور عمومی طور پر سائنس کے علوم کے حصول اور ان کے پرچار کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔ مزید برآں، انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل فزکس (آئی سی ٹی پی) اگر پاکستان میں قائم ہوتا تو اس کے نتیجے میں پاکستان میں سائنس میں عمومی طور پر مطالعے اور خاص طور پر تھیوریٹیکل فزکس میں تحقیق کو فروغ دیا جاتا۔ اس کے بجائے عبدالسلام کو بیرون ملک رہنا پڑا اور برطانوی اور اطالوی اداروں نے ان کے علم سے بہت فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے امپیریل کالج میں پروفیسر پال ٹی میتھیو کے ساتھ مل کر نظریاتی طبیعیات کا شعبہ قائم کیا جہاں طلباء اور محققین سائنس کے علم کے حصول اور سائنسی دریافتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا اپنے تنگ نظر رویے کی وجہ سے عبدالسلام کے کارناموں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے رہیں ہیں جبکہ آنے والی نسلوں کو متاثر کرنے کے لئے ان کی زندگی کی کامیابیوں کو نمایاں کرنا چاہیے تھا۔ انگلش ہیریٹیج نے پروفیسر عبدالسلام کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ان کے گھر کے باہر ایک نیلی تختی نصب کی ہے جس میں اس گھر کو قومی ورثہ قرار دیا ہے۔ اس گھر کو انہوں نے 1957 سے 1996 میں اپنی موت تک لندن میں اپنے مستقل ٹھکانے کے طور پر استعمال کیا تھا۔

عبدالسلام کو نوبل انعام کا اعزاز پاکستان کے لئے ایک تاریخی لمحہ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن اس کے برعکس کئی دہائیوں بعد ان کی کہانی کو اس ملک نے بڑی حد تک فراموش کر دیا ہے جس میں وہ پیدا ہوئے، تعلیم و تدریس کی، اور کئی قومی سائنسی پروجیکٹس پہ کام کیا۔ اس کی وجہ ان کی مذہبی شناخت تھی جو انہیں بہت عزیز تھی۔ نیٹ فلکس پر ایک دستاویزی فلم Salam, The First ****** Nobel Laureate نے ان کی کامیابیوں کو دوبارہ منظر عام پر لانے کی مثبت کوشش کی ہے۔ یہ فلم محض عبدالسلام کی جد و جہد اور ان کی کامیابیوں پہ ہی مشتمل نہیں ہے بلکہ ان کی چند ذاتی کمزوریوں کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔

اس سلسلے کی پہلی قسط کے لئے رجوع کریں

https://www.humsub.com.pk/452488/habeeb-sheikh-70

Facebook Comments HS