کیا یہ ملک خواتین کے لیے نہیں بنا تھا؟

ابھی چند ہفتے گزرے ہیں کہ ملتان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ذہنی ہذیان میں مبتلا ایک شخص نے مریم نواز کے متعلق بہت بے ہودہ الفاظ استعمال کیے تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس بے ہودگی کے بعد اہل دانش کے ہاں زلزلے کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی، مگر ہر طرف قبرستان کا سا سکوت تھا۔ جن کالم نگاروں نے ذرا مذمت کی تو ساتھ یہ رام لیلا بھی بیان کر دی کہ ایسے کو تیسا۔ یعنی جو زبان نون لیگ والے بے نظیر کے متعلق استعمال کرتے تھے، ویسی زباں اگر مریم نواز کے خلاف استعمال ہو رہی ہے تو حیرت کیسی۔
یعنی خدا نخواستہ اگر کسی عورت کو جسمانی درندگی کا نشانہ بنایا جائے تو کہنے والے یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ عورت اس لیے ہوس کا شکار ہوئی ہے کہ اس کے بھائی نے بھی کسی خاتون کا ریپ کیا تھا۔ اس دلیل سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورت ایک ایسی جنس ہے جس پر باپ، بھائی، شوہر، اور بیٹے کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا واجب نہیں، فرض ہے۔ یہ ذہنیت کہ عورت گناہ کا منبع ہے، آپ کو ہر جگہ دیکھنے کو ملے گی۔
ماضی میں بہت پیچھے جانے کی ضرورت نہیں، مختاراں مائی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ گزشتہ صدی میں تو رو نما نہ ہوا تھا۔ آج بھی ایسے لوگوں کی اکثریت موجود ہے جو اس واقعے کو جھوٹ سمجھتی ہے اور ایک گروہ ایسا بھی جو اس واقعے کو کسی حد تک تو ٹھیک سمجھتا ہے لیکن مختاراں مائی کو بھی قصور وار سمجھتا ہے۔ گزشتہ برس مینار پاکستان پر پیش آنے والے حادثہ فاجعہ پر بھی خاتون کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ معلوم نہیں اس ملک میں خواتین کب تک نا کردہ گناہوں کی سزا بھگتتی رہیں گی، بیٹی پیدا ہو تو عورت ذمہ دار، شوہر کی ہر معاملے میں فرماں برداری نہ ہو تو عورت گناہ گار، اور اگر پسند کی شادی کرے تو عورت سزا وار۔
دیکھیے اس کو شاعری نہ سمجھیے، یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے۔ ایک بات اکثر حیران کرتی ہے کہ برصغیر میں عورت کو دیوی کا درجہ حاصل رہا ہے اور اب بھی ہے، لیکن اس درجے پر فائز ہونے کے بعد بھی اس قدر ناروا سلوک۔ ہندو، مسلم، عیسائی، گویا کہ اس معاشرے میں کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کو لے لیجیے، ہر عمل پر اختلاف ہو گا۔ لیکن عورت کے ساتھ سب کا سلوک ایک جیسا ہو گا، نہایت ظالمانہ۔ آخر اس معاملے میں اتنی یگانگت کیوں ہے؟
اس معاملے میں خامہ فرسا سمجھتا ہے کہ قائد اعظم سے بھی غلطی ہوئی ہے۔ انہیں اس بنیاد پر الگ ریاست کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے تھا کہ جہاں لوگ اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ قائد کو یہ مطالبہ کرنا چاہیے تھا کہ میں ایک ایسی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتا ہوں جہاں عورتیں محفوظ ہوں گی، جہاں انہیں اپنے فیصلے لینے کی آزادی ہو گی، جہاں وہ صرف بچے جننے کی مشین نہیں ہوں گی، جہاں وہ تعلیم حاصل کر سکیں گی۔
شہروں میں اب صورت حال قدرے بہتر ہے، وگرنہ دیہاتوں میں تو اب بھی خواتین کا کوئی پرسان حال نہیں۔ دیہی پس منظر رکھنے کی وجہ سے ہمیں یہ معلوم ہے کہ عورت اپنے شوہر کے غضب کا کس قدر شکار ہوتی ہے۔ بیوی کو پیٹنا تو شوہر کے لیے معمول کی بات ہوتی ہے۔ بات یہاں بھی کب رکتی ہے۔ اس عمل پر آسمان کیوں نہیں پھٹتا کہ دیور بھی بھابیوں کو پیٹ ڈالتے ہیں۔ زیادہ تر دیہاتی عورتوں کے لیے یہ دنیا گویا کہ جہنم ہے۔ دن بھر گھر کے کام کرو، گوبر کے اپھلے تھاپو، اور رات کا زیادہ حصہ جاگ کر بچوں کو سنبھالو۔
بچے بھی اگر ایک دو ہوں تو زندگی قدرے آسان ہو جائے۔ عورت کے ساتھ کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہو سکتا ہے کہ وہ ہر سال بچہ پیدا کرے۔ لیکن دیہاتوں میں کئی ایسی خواتین ہیں جو ہر سال بچے کو جنم دیتی ہیں۔ اس معاملے میں چوں کہ حضرت مرد کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، اس لیے منبر سے حضرت واعظ بھی خاموش رہتے ہیں۔ واعظ کو یہود و نصاریٰ کے لیے بد دعا تو نہیں بھولتی، مگر وہ خواتین کے حقوق کے تذکرے کو گول کر جاتے ہیں۔
ہمیں کچھ اقدامات تو اٹھانا ہوں گے جس سے ہمارے معاشرے میں عورت کی زندگی آسان ہو سکے۔ یہ اقدامات اٹھائے کون؟ صاحبان دانش؟ وہ تو عورت کے ساتھ ہونے والے ظلم کو ایسے کو تیسا بتاتے ہیں۔ سیاستدان؟ انہیں عورت کے حقوق سے کیا غرض۔ تو پھر کیا عدلیہ؟ وہ سویلین معاملات میں مداخلت کو ترک کریں تو انہیں کچھ سجھائی دے۔ مایوسی کے اس عالم میں نگاہیں اٹھیں تو کس طرف؟

