فادرز ڈے پر والد کے نام خط


پیارے ابو جان،
آپ پر سلامتی ہو۔

یہ دس برسوں میں آپ کے نام تیسرا خط ہے اور دلچسپ بات یہ کہ آپ کو لکھے جانے والے خط میں آج بھی سوچ بچار زیادہ کرنی پڑتی ہے۔ سو بار ارادہ باندھا جاتا ہے کہ خط لکھا جائے یا نہیں یا پھر جب آپ کو سلام کہنے کے لئے آپ کی آرام گاہ پر جایا جائے تب ہی بہت سی باتیں گوش گزار کردی جائیں؟ لیکن وہاں جاکر دل ڈوب جاتا ہے خاص کر جب تب خدا سے سفارش کرنی پڑے کہ اس جگہ ابدی نیند سونے والے شخص کا خیال رکھنا مالک، کیونکہ ساری زندگی اس نے کام کیے ہیں، خود کو تھکایا ہے ہم سب کو آرام دینے کے لئے۔ اس بار عید پر جب آپ کو سلام کرنے آئی تو خوشی اس بات کی تھی کہ شہر خموشاں میں سب ہی اپنے پیاروں سے ملنے آئے ہوئے تھے۔ جب اس رش سے گزر کر آپ تک پہنچی تو دیکھ کر ایسے ہی لگا جیسے آپ کو انتظار تھا۔ بالکل ویسے جیسے عید کے روز ہمیں انتظار ہوتا تھا کہ آپ کب نماز پڑھ کر آئیں اور ہم عید مبارک کہہ کر آپ سے عیدی وصول کریں اور پھر سب ایک ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب گھر کا سربراہ نہ رہے تو پھر کتنی عیدیں آئیں یا خوشی کے اور تہوار کمی پھر بھی رہتی ہے۔

جیسے میں ان دنوں بہت شدت سے سوچتی ہوں کہ آج میں جہاں ہوں وہاں تک پہنچنے کا تو میں نے بھی نہیں سوچا تھا لیکن جو کامیابیاں، آسانیاں میری زندگی میں ہیں اسے آپ کو ضرور دیکھنا چاہیے تھا۔ میں آج شہر کے کسی بھی بڑے مالز سے جو مجھے پسند آئے خرید لیتی ہوں لیکن مجھے عید سے پہلے آپ کے اور امی کے ساتھ بازار جانا آج بھی نہیں بھولتا جب آپ عید کے تین دنوں کے لئے ہم سب کے تین الگ الگ ڈریس اور شوز خریدتے تھے۔

مجھے یاد ہے کہ ہم نے ایک بار حیدری سے شاپنگ کی اور تین دن کی مناسبت سے میری تین نئی فراکس تھیں جس کے ساتھ میچنگ چوڑیاں، کلپس بھی تھے لیکن شوز نہیں مل رہے تھے تو آپ ہم سب کو دوسری مارکیٹ لے گئے۔ وہاں آپ نے مجھے، بھائی، بہن کو اور امی کو شوز، سینڈلز دلائیں جب ہم دکان سے باہر آئے تو میں نے پوچھا آپ کے شوز کہاں ہیں؟ تو آپ نے ہنس کر کہا مجھے ضرورت نہیں پچھلی عید والے اب بھی نئے جیسے ہیں۔ میں ضد میں وہیں کھڑی ہو گئی اور کہا کہ آپ کو نئی چپل خریدنی ہوگی ورنہ میں گھر نہیں جاؤں گی۔ دکاندار نے میرا رونا اور ضد دیکھ کر آپ کو کہا کہ اب تو آپ خرید ہی لیں۔ یوں آپ نے نئی پشاوری چپل جو آپ کی پسندیدہ ہوتی تھی خریدی۔

عید کے پہلے روز میں نے جب آپ کو وہ پہنے دیکھا تو میں ایسے خوش ہو رہی تھی جیسے میں نے اپنی جیب سے دلائی ہو۔ میں جب بھی وہ وقت یاد کروں تو احساس ہوتا ہے کہ کاش آپ ہوتے تو میں آپ کے لئے کوئی تحفہ لیتی۔ ہماری ہر سالگرہ پر آپ ایک مخصوص بیکری سے میری پسند کا کیک لاتے تھے گھر کے کچھ لوگ وہ شوق سے نہیں کھاتے تو ان کے لئے چاکلیٹ کیک آ جاتا تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ہم نے کبھی آپ کی سالگرہ نہیں منائی نہ ہی کبھی آپ کے لئے کیک لائے۔ آپ کو گھڑیوں کا بہت شوق تھا میں آج یہ بھی سوچتی ہوں کہ آج چاہ کر بھی میں آپ کو کوئی قیمتی گھڑی تحفے میں نہیں دے سکتی۔ آپ کو پولو شرٹس پہننا پسند تھیں آج میں بازار میں دیکھوں تو سوچتی ہوں کہ خرید سکتی ہوں پر آپ اسے پہننے کے لئے موجود نہیں۔

میں نے آپ کے تمام بچوں میں سب سے زیادہ آپ کے ساتھ سفر کیا ہے۔ اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک آپ دفتر جانے سے قبل مجھے میرے کالج، یونیورسٹی، کوچنگ سینٹرز، دوستوں کے گھر اپنی سواری پر ڈراپ کیا کرتے تھے۔ مجھے بعض اوقات اس وقت شدید کوفت ہوتی تھی جب آپ بتاتے تھے کہ آفس سے واپسی پر آپ کا لاڈلہ ویسپا خراب ہو گیا اور پھر آپ کو ناظم آباد تک پیدل مکینک تک اسے لانا پڑا۔ میں چڑ جاتی اور کہتی کہ اب یہ 76 کے ویسپا کو بخش دیں۔ لیکن آپ کا جواب ہوتا کہ میں نے اپنی کمائی سے یہ پہلی سواری لی تھی یہ میرے اس شہر میں جدوجہد کے دنوں کا ساتھی ہے۔ اس کے ساتھ انسیت تم سب نہیں سمجھ سکتے تم سب بہت بعد میں آئے ہو میری زندگی میں، یہ پہلے سے ہے میں اسے نہیں چھوڑ سکتا اور واقعی آپ نے ثابت کیا آپ کے اس دنیا سے جاتے وقت بھی وہ صحن میں کھڑا تھا۔ اس کا قدردان دنیا سے جا چکا تھا لیکن وہ پھر بھی موجود تھا۔

میں نے جب اپنی کمائی سے پہلی گاڑی خریدی تو اس روز مجھے بہت خوش ہونا تھا لیکن مجھے ایک دم خیال آیا کہ کاش آج آپ ہوتے تو یہ گاڑی دیکھ کر کتنا خوش ہوتے اور میں اس میں سب سے پہلے آپ کو فرنٹ سیٹ پر بٹھاتی اور شہر کا ایک چکر لگواتی پر ایسا بھی نہ ہوسکا۔ لیکن اب اگر کہیں میری یا کسی دوسرے کی غفلت سے گاڑی لگ جائے تو اس پر پڑنے والا اسکریچ بتاتا ہے کہ آپ کو اپنی محنت کی کمائی سے خریدی جانے والی پہلی سواری سے کتنی انسیت ہوتی ہے۔

یاد تو آپ اس وقت بھی بہت آتے ہیں جب میں کسی چھوٹی بچی کو پارک یا گلی میں کھیلتے بھاگتے دیکھوں اور اس کا باپ اس کے پیچھے پیچھے سائے کی طرح موجود ہو۔ کئی ایسے مناظر نظروں سے گزرے کہ بچی کھیلتے ہوئے گری اور باپ نے اسے سینے سے لگا لیا اور وہ سب بھول گئی۔ مجھے جب شدید سر درد (مائیگرین) ہوتا او ر میں اس درد سے بیہوش ہوجاتی تو اس وقت آپ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے کر دوڑتے تھے اور ڈاکٹر سے سفارش کرتے کہ میری بیٹی کو ٹیبلٹ، کیپسول کھانے کی عادت نہیں اسے دوا یا تو سیرپ میں دیں یا پاوڈر میں۔ آپ میری عادت سے واقف تھے کہ میں دوا پھینک دوں گی تو آپ چمچ میں پسی ہوئی گولیاں چینی کے ساتھ لے کر آتے اور سامنے کھلواتے اور ساتھ ہی کہتے کہ زبان کڑوی ہو گئی تو مسئلہ نہیں آئسکریم لایا ہوں دوا کے بعد کھا لو۔ مجھے وہ کم بخت مائیگرین آج بھی ہے پر آج میں خود دوا کھاتی ہوں زبان کڑوی بھی ہو تو آئسکریم کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ آپ کا کہا ایک جملہ اس کڑواہٹ کو زائل کر دیتا ہے۔ اگر ماں باپ کے بس میں ہو تو وہ بچوں کے حصے کی دوا بھی کھالیں کہ بچہ ایسے ٹھیک ہو جائے۔ لیکن ابھی سائنس نے اتنی ترقی کی نہیں تو دوا کھا لو۔

مجھے آپ یاد اس وقت بھی آتے ہیں جب مجھے اپنے کپڑے استری کرنے پڑیں۔ کیونکہ میری عادت آپ نے بگاڑ رکھی تھی مجھے استری کرنا سب سے برا لگتا تھا تو میں جان کر اپنا یونیفارم آپ کے آفس کے کپڑوں کے ساتھ رکھ دیتی تھی کہ ابو استری کر دیں گے اور صبح وہ مجھے ہینگر میں مل جاتا تھا۔ مجھے آپ شدت سے یاد تب بھی آتے ہیں جب بجلی کا کم استعمال کرنے کے لئے میں گھر کے اضافی پنکھے لائٹیں آف کر رہی ہوتی ہوں۔ تب لگتا تھا کہ یہ سب مڈل کلاس گھرانوں کے اباؤں کا مسئلہ ہے پر آج اندازہ ہوتا ہے کہ جب گھر کا کفیل ایک ہو اور ساری ذمہ داریاں اس کے کاندھوں پر ہوں تو وہ کیسے بجلی بچا کر، نئے کپڑے نہ بنا کر، پرانے جوتے میں گزارا کر کے، پرانی سواری کو چلا کر، اپنی ضرورتوں کو مار کر ہم سب کے آرام کا بندوبست کر رہا ہوتا ہے۔

ایک آدمی کیسے اتنے لوگ پال سکتا ہے؟ وہ کیسے یہ جان سکتا ہے کہ اس کے بچے کو کون سا کیک، مٹھائی، نمکین پسند ہے؟ وہ کیسے سمجھ سکتا ہے کہ اس کا بچہ بیماری میں بھی دوائی کھانے کا چور ہے؟ وہ کیسے پڑھ سکتا ہے کہ اس کے بچے کے ذہن میں کیا چل رہا ہے وہ کسی الجھن کا شکار ہے؟ وہ کیسے اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ جب سوئے تو کون سا بچہ رات گئے مائیکرو ویو میں چوری چھپے کھانا گرم کر کے بزر بجنے سے پہلے سوئچ آف کر دیتا ہے؟ وہ کیسے یہ یاد رکھتا ہے کہ آج اس کے بچے کا پیپر ہے تو اسے صبح کتنے بجے اٹھانا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک باپ ہی کر سکتا ہے جس کو زیادہ تر اس کے غصے، سختی، اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کے سبب یاد رکھا جاتا ہے لیکن وہ جو کچھ اس کے علاوہ کر رہا ہو اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

میں آج یہ تواتر سے دیکھتی ہوں کہ گھر کے صحن میں یا گلی کے باہر، کسی ایک کمرے میں یا کسی پارک کی بینچ پر مجھے ایک ایسا مرد اکیلا بیٹھا ضرور دکھائی دیتا ہے جس کے بچے اب بڑے ہو گئے ہوں اور اپنی زندگیوں میں مگن ہوں۔ لیکن وہ باپ یا تو اب نئی نسل کے کھیل کود دیکھ کر محظوظ ہو رہا ہوتا ہے یا ہاتھ میں موبائل تھامے اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھا ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر شدت سے احساس ہوتا ہے کہ زندگی بھر کڑکتی دھوپ، برستی بارشوں، سرد ہواؤں میں گھر سے نوکری پر جانے والا باپ جو بیمار بھی ہو تو چھٹی نہیں کرتا، کسی ذہنی الجھن کا شکار بھی ہو تو کہیں دل ہلکا نہیں کرتا ریٹائرمنٹ کے بعد یوں اکیلا کیوں بیٹھا ہوتا ہے اس کے گھر کا کوئی ایک فرد بھی اس کے ساتھ کرسی رکھ کر اس سے بات کرنے کا وقت کیوں نہیں نکالتا؟ کیا اس لئے کہ جب بچے بڑے ہوجائیں کچھ بن جائیں تو وہ اپنے باپ کی کوئی سختی یاد رکھیں یا انھیں وہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے جب ان کو یہاں تک لانے کے لئے ان کا یہی باپ جو آج تنہا ہے، اپنی ضروریات اور آرام کو نظر انداز کر کے کمانے میں مصروف تھا اسے اب وقت کی ضرورت ہو تو اسے تنہا کر دینا چاہیے۔ ایسے باپ دیکھ کر میں آپ کو بہت شدت سے یاد کرتی ہوں ابو۔ پھر مجھے لگتا ہے کہ آپ بھی یوں اکیلے چٹختی دھوپ اور سیاہ رات میں اسی طرح بیٹھے بیتے دنوں کو یاد کر کرتے ہوں گے اور ہم ہیں کہ آپ کے پاس آنے کے لئے شب برات، عید تہوار یا پھر آپ کی برسی کا انتظار کرتے ہیں۔

میں نے آج سوچ رکھا تھا کہ اس خط میں کوئی شکوہ شکایت نہیں ہو گا صرف یاد کیا جائے گا اس سب کو جو آپ نے میرے اور ہم سب کے لئے کیا۔ میری کامیابیاں، جدوجہد، ستائش، مقام بھلے آپ نہ دیکھ سکے لیکن یہ سب جو پایا ہے وہ آپ کی محنت کے سبب ہے اگر آپ نے میرے لئے وہ سب نہ کیا ہوتا تو جو باپ کرتے ہیں تو میں آج یہاں اتنے اعتماد سے نہ کھڑی ہوتی۔ جاتے جاتے کچھ مزے کی باتیں کرلیتے ہیں۔ جس میں ایک راز کی بات یہ ہے کہ آج بھی صبح جب مجھے کبھی کہیں جلدی جانا ہو تو موبائل پر الارم بجنے سے پہلے مجھے آپ کی آواز سنائی دیتی ہے جس میں آپ کہتے ہیں سدرہ اٹھ جاؤ کافی دیر ہو گئی یہ دیکھو بیس منٹ گزر چکے ہیں اور یوں میری آنکھ وقت سے پہلے کھل جاتی ہے۔ میں آج بھی سوچتی ہوں کہ ملک کی سیاست کتنی دلچسپ ہو چکی ہے لیکن آپ سے بہتر تبصرہ کرنے والا بندہ مجھے میسر نہیں۔ میں جب کوئی ٹاک شو دیکھوں تو کہتی ہوں ابھی ابو ہوتے ناں تو کیا بہترین تبصرہ آتا۔ کچھ نہیں تو کبھی کبھی آپ کو یاد کرنے کے بہانے وہ کھانے بھی پکاتی ہوں جو آپ رغبت سے کھاتے تھے۔

میں یہ محسوس کرتی ہوں کہ آپ اب ہمارے ساتھ نہیں لیکن ہمارے پاس ضرور ہیں جب کچھ اچھا ہو تو خوش ہوتے ہیں اگر کچھ برا ہو تو اداس نظر آتے ہیں۔ لیکن زندگی کتنی ہی سہل ہو جائے آپ کی کمی کبھی پوری نہیں ہو پائے گی بس اس کا ملال تمام عمر رہے گا کہ آپ نے جو کچھ ہمارے لئے کیا ہم اس کا تھوڑا سا بھی حق ادا نہ کرسکے اور آپ سے یہ بھی کھل کر نہ کہہ سکے کہ ہمیں آپ سے بہت پیار ہے اتنا کہ آپ کے جانے کے بعد ہم ایسے بکھرے کہ پھر جڑ نہ پائے۔

اس فادرز ڈے پر آپ کے لئے ڈھیر سارا پیار اور دعائیں، خدا آپ کے درجات بلند فرمائے، آمین
فقط، آپ کی بیٹی
سدرہ


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سدرہ ڈار

سدرہ ڈارنجی نیوز چینل میں بطور رپورٹر کام کر رہی ہیں، بلاگر اور کالم نگار ہیں ۔ ماحولیات، سماجی اور خواتین کے مسائل انکی رپورٹنگ کے اہم موضوعات ہیں۔ سیاسیات کی طالبہ ہیں جبکہ صحافت کے شعبے سے 2010 سے وابستہ ہیں۔ انھیں ٹوئیٹڑ پر فولو کریں @SidrahDar

sidra-dar has 81 posts and counting.See all posts by sidra-dar

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments