افسانہ چائے کی پیالی کا تنقیدی جائزہ


حسن عسکری صاحب نے افسانہ چائے کی پیالی شعور کی رو کی تکنیک میں لکھی ہے اس وجہ سے سب سے پہلے ہم شعور کی رو کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ شعور کی رو دراصل ولیم جیمز کا نظریہ ہے۔ اس نظریے کے مطابق انسانی ذہن ایک سیال چیز ہے۔ جس میں تاثرات، خیالات اور تصورات ایک مسلسل رو کی شکل میں ابھرتے ہیں۔ جن میں منطقی ربط نہیں ہوتا اور یہ تصورات و خیالات بے ہنگم اور غیر مربوط طریقے سے انسانی ذہن کے پردوں پر نمودار ہوتے رہتے ہیں۔

اردو ادب میں پہلی بار یہ نظریہ سجاد ظہیر کے ناولٹ ”لندن کی ایک رات“ میں دکھائی دیتا ہے جب کے باقاعدہ طور پر اس کی بہترین مثال ناول "آگ کا دریا” ہے۔ یہ ذہنی عمل کے بارے میں جدید نفسیات کا ایک نظریہ ہے۔ سادہ ترین الفاظ میں ذہن میں موجود بے ربط خیالات کا بہاؤ شعور کی رو کہلاتا ہے۔ خیالات اچانک حال سے ماضی میں، ماضی سے مستقبل میں پہنچ جاتے ہیں۔ ایک وقت میں انسانی ذہن کئی بے ربط خیالات کی آماج گاہ بنا ہوتا ہے۔ اسے شعور کی رو سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

ایسی تحریر جس میں بظاہر منطقی ربط نہ ہو اور بیک وقت حال، ماضی اور مستقبل کی بازگشت ہو۔ اب فلیش بیک کی تکنیک کو بھی اس میں شامل سمجھا جاتا ہے۔ ایسی تحریر جس میں خیالات ایک ندی کی طرح بہہ رہے ہوں۔ سادہ سی مثال دیتا ہوں۔ آپ کسی شادی میں جاتے ہیں۔ دلہن کا لباس سرخ دیکھ کر ذہن میں جاتا ہے۔ میری شادی پر بھی سرخ تھا۔ آگے مستقبل میں اولاد کا سوچتے ہیں کہ بیٹے کی شادی پر کیسا لباس ہو گا۔ ایک وقت میں حال۔ ماضی اور مستقبل کی سوچ ہے۔

شعور کی رو سے مراد ایسی تکنیک ہے جس میں لکھاری اپنے سوچنے کی طرز پر تحریر میں حال سے ماضی اور ماضی سے حال کے واقعات، مناظر، کردار وغیرہ کو بیان کرتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہم عام حالت میں سوچتے ہیں یعنی کسی ایک منظر کو دیکھتے ہوئے اس منظر سے متعلق جزئیات کی مناسبت سے ماضی کے کسی منظر یا واقعے کو یاد کرنے لگتے ہیں اسی طرح افسانے یا ناول کا لکھاری بھی اسی طرز پر لکھتا ہے۔ اس کی مثال میں آپ حسن عسکری کے افسانے حرام جادی یا سجاد ظہیر کا ناول لندن کی ایک رات کو پڑھ سکتے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عالمی ادب میں تکنیک اور ہیئت کی لحاظ سے کئی تبدیلیاں رونما ہوئی ہے جس کا اثر اردو ادب نے بھی قبول کیا ہے۔ جب ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ نے اپنا نظریہ تحلیل نفسی پیش کیا اور اس میں تخلیقات کا سر چشمہ لاشعور کو قرار دیا تو اس نظریے کے زیر اثر عالمی ادب میں ”شعور کی رو یا بہاؤ“ کے نام سے ایک نئی تکنیک سامنے آئی۔

فنی جائزہ:

پلاٹ؛

چائے کی پیالی نام بھی اس وجہ سے رکھا ہے کہ پیالی چھوٹی ہوتی ہے جس سے مراد چھوٹی ڈولی ہے اور چائے سے مراد گرمائش ہے جو چھوٹی عمر میں ڈولی کے اندر ہوتی ہے۔ حسن عسکری کے افسانے ”چائے کی پیالی“ کو اردو افسانے میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ اس افسانے میں شعور کی رو کی تکنیک استعمال کی گئی ہے۔ جہاں ساری کہانی مرکزی کردار کے اردگرد اس کی خیالات میں گھومتی ہے۔ اس افسانہ میں باقاعدہ پلاٹ کا وجود نہیں بلکہ مرکزی کردار ڈولی کی ذہن میں حال اور ماضی کی متعلق جو خیالات زیر گردش ہوتے ہیں۔

غرض اس میں ڈولی اپنے خیالات کو بھی پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بجائے آدھے میں ہی چھوڑتی ہے۔ یعنی اپنی ذات میں بھی خود کنفیوز ہے۔ کبھی یہاں تو کبھی وہاں سے خیالات کو بھی ایک ردھم یا ربط میں نہیں سما سکتی جس کا ایک نقصان یہ ہے کہ قاری پوری کہانی اخذ نہیں کر سکتا۔ کیونکہ شعور کی رو کی تکنیک میں پلاٹ کے بجائے خیال کو اہمیت حاصل ہے پلاٹ چونکہ واقعات کے ایک دوسرے کے ساتھ ربط کا نام ہے اور پلاٹ میں کہانی کو ایک خاص ترتیب سے پیش کیا جاتا ہے جبکہ اس کے بر عکس شعور کی رو کے زیر اثر جو افسانے لکھے گئے ہیں ان میں واقعات کے درمیان کوئی منطقی تسلسل نہیں ہوتا بلکہ کردار کے ذہن میں جو کچھ ہوتا ہے اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں لہذا اس افسانے میں بھی باقاعدہ پلاٹ موجود نہیں اور نہ ہی ظاہرا کوئی پیغام ہے۔

کردار نگاری؛

اس افسانے میں مرکزی کردار ڈولی کے علاوہ دو تین کردار اور بھی موجود ہیں جن میں ڈولی کا بھائی فریڈی اور اس کی سہیلی برنس کے علاوہ ایمی اور بھی جمیلہ شامل ہیں لیکن اس افسانے میں ساری اہمیت ڈولی کی کردار کو ہی حاصل ہے۔ ڈولی ساتویں جماعت کی طالبہ ہے جس کا پورا خاندان عیسائی مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ ڈولی کا باپ باہر کام کاج کے علاوہ گھر میں بچوں کو انجیل پڑھاتا ہے جبکہ ماں بھی باہر چماریوں کو عیسائیت کی تبلیغ کر کے کچھ دانہ اناج کماتی ہے جس سے گھر کا سسٹم چل رہا ہوتا ہے۔

اس افسانے میں ڈولی کی نفسیاتی کیفیات کو موضوع بنایا گیا ہے یہ افسانہ ڈولی کی حال، ماضی اور مستقبل کے حسین یادوں کی کیفیات پر مشتمل ہے۔ ڈولی ایک گاؤں سے تعلق رکھتی ہے جو پسماندہ ہونے کے باوجود بھی تعلیم حاصل کرتی ہے۔ جس میں جمیلہ کا کردار یہ باور کراتا ہے کہ مسلمانوں میں عصری تعلیم کی کوئی اہمیت نہیں۔ کیونکہ اس افسانے میں جمیلہ کا کردار وہ کردار ہے جو انپڑھ ہے، جسے پاؤڈر کہنا نہیں آتا سو دل ہی دل میں حقیر سمجھتی ہے۔ اور پوڈر کہلوا کر تمسخر بھی اڑایا جاتا ہے۔ جمیلہ کسی ماڈرن فیشن کو نہیں اپناتی۔ ایک عید اور دوسرے عید کو نئے کپڑے پہنتی ہے جس کی وجہ سے ڈولی اس کو اپنی سہیلی کم حقیر زیادہ سمجھتی ہے۔

ایک کردار ایمی کا ہے جو معمولی پیسے والی ہونے کی وجہ سے جو نرگسیت کا شکار ہے جس کو اپنے جوتے کپڑے یعنی اپنا سب کچھ باقی لڑکیوں سے بہتر لگتا ہے جو انگریز کلچر کی دلدادہ ہوتی ہے ایمی انگریزی کے دو تین الفاظ بول کر خود کو بڑا قابل سمجھتی ہیں۔ سکول میں چھوٹے بڑے سب اس کا بڑا خیال رکھتے ہیں۔ اور یہی دراصل عسکری صاحب کا اپنا کردار ہے وہ اپنی لائف میں بڑے نرگسیت کے شکار تھے۔

برنس جو سکول کی ایک دوسری سہیلی ہوتی ہے جس کے کردار سے لیزبین ہونے کی بو آتی ہے یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ عسکری صاحب اس کردار سے اس وقت کے معاشرے کی خباثت سے پردہ اٹھاتے ہیں۔

ڈولی دراصل سکول کی چھٹیوں کی وجہ سے گھر جا رہی ہوتی ہے۔ اور یہ تمام کہانی اس کے راستے میں وقت گزاری ہی کی وجہ سے اختتام کو پہنچتی ہے۔ کہانی بڑی آسانی سے آگے بڑھتی ہے لیکن اکثر بیچ میں مصنف آ کر وضاحتیں کرتا ہے۔ اس کردار پر میرا پہلا اعتراض یہ ہے کہ ایک ساتویں جماعت کی طالبہ کیسے اپنے جسم کی نمائش کر سکتی ہے کیسے وہ اپنی سہیلی کے ساتھ سو کر صبح سکون کا کہتی ہے۔ ایک چھوٹی بچی کی مدد سے عسکری صاحب نے ایک بڑی تلخ حقیقت کو بیان کیا ہے۔

مرکزی کردار سے معاشرے کی کشمکش اور اونچ نیچ کو بیان کیا کہ کس طرح وہ گاڑی میں بیٹھتی ہے تو ڈرائیور اسے وہ سیٹ نہیں دینا چاہتا جس پر ڈولی بیٹھنا چاہتی ہے کہ یہ داروغہ صاحب کی سیٹ ہے وہ بھی آج ہمارے ساتھ جا رہے ہیں یہاں غلامانہ ذہنیت کی طرف اشارہ ہے لیکن ڈولی ہمت کر کے اسی سیٹ پر براجمان ہوتی ہے۔ یہاں ڈولی ہمت اور خوف کی ملی جولی کیفیت سمیت بیٹھ جاتی ہے ادھر ایک قسم بغاوت کرتی ہے۔

ممکن ہے بنیادی طور پر ڈولی کا خاندان ٹیکم پور سے ہجرت کرتا ہے اور جس کا پتہ اس طرح چلتا ہے جب وہ سکول سے واپسی پر ٹیکم پور کا نام سنتے ہی تکلیف کی دنیا میں چلی جاتی ہے۔ لیکن وہاں سے سعد آباد ہجرت کرتے ہیں۔ گاؤں میں وسائل کی کمی کے باعث ڈولی گاؤں سے دور سکول میں پڑھتی ہے جہاں کھانا پکانا، ناشتہ تیار کرنا، اتوار کو بچیوں کی جوئیں دیکھنا سب کام خود کرنے ہوتے تھے۔ اس افسانے میں مذہب کی بنیاد پر سب لوگ ڈولی کو حقارت اور طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہیں۔

اس وجہ سے ڈولی سکول سے نکلتی ہی خود کو محفوظ ہاتھوں میں نہیں پاتی ہے اور ڈر کی وجہ سے اپنا کام جلدی جلدی کرنا چاہتی ہے۔ ٹانگنے میں سفر ہو یا لاری اڈے میں فریڈی کے لیے کچھ لینا ہو یا بس میں ہجوم میں بیٹھنے سے انتہائی خوف کھاتی ہے۔ مجموعی طور پر ڈولی کے کردار کے ذریعے معاشرے کی ایسی فرد کی عکاسی کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کو معاشرہ مذہبی انتہا پسندی کے باعث قبول نہیں کرتا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ شخص تنہائی کا شکار ہو کر ماضی اور لاشعور کی اذیت ناک یادوں میں کھو جاتی ہے۔ مخصوص لوگوں کے علاوہ ہر ایک کو اپنا دوست نہیں بنا سکتے۔ ڈولی صرف اپنے مذہب کی وجہ سے معاشرے کے ہر فرد سے بھاگتی ہیں۔ جو ہر ایک کے ساتھ منہ چھپا کر بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

مکالمہ نگاری؛

شعور کی رو کی تکنیک کی ایک قسم خود کلامی کا بھی ہے یعنی جب مرکزی کردار خود سے باتیں کرتے ہوئے قاری کو کہانی سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس افسانے میں بھی خود کلامی کی یہی تکنیک اپنائی گئی ہے، لیکن افسانہ چائے کی پیالی میں ڈولی اپنی اور اپنی سہیلیوں کی کہانی اپنے الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ کبھی ماں سے گفتگو کرتی ہے تو کبھی اپنے عاشق جس کا نام تک نہیں جانتی۔ ڈولی مکالمہ نگاری میں کبھی حال تو کبھی ماضی کے متعلق خودکلامی کرتی ہے۔ حسن عسکری صاحب نے ڈولی کے ذریعے ایک الگ تاثر دیا ہے یعنی اپنے خیالات کو ادھورے چھوڑ کر آگے بڑھنا اس کردار کا خاصا ہے، جس سے قاری کو ساری کہانی آسانی سے سمجھ نہیں آتی۔

فکری جائزہ:

فکری حوالے سے اگر بات کی جائے تو اس افسانے میں تنہائی کے شکار ایک بے بس انسان کی اندرونی کیفیات کو ہمارے سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے جو بیک وقت ماضی، حال مستقبل کی باتیں کرتا ہے مگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ فرائڈ کے مطابق انسان کی وہ بوسیدہ خواہشات اور نا مکمل آرزوئیں جن کو انسان معاشرے سے چھپانا چاہتا لہذا انسان ان خواہشات کو دباکر ان سے راہ فرار اختیار کرنی کی کوشش کرتا ہے مگر یہ یادیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی بلکہ لاشعور میں پناہ لیتی ہیں اور انسان کو مسلسل پریشان بھی کرتی ہے۔

مجموعی طور پر اگر اس افسانے کا جائزہ لیا جائے تو ہم کہہ سکتے کہ ترقی پسند تحریک کی وجہ اردو افسانے میں فرد کے اندرونی کیفیات کا جو رجحان ختم ہو چکا تھا حسن عسکری نے اس کو دوبارہ زندہ کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ مسلمانوں کو عصری تعلیم کی طرف راغب کرنے کی ایک کوشش کی ہے۔ اپنوں کا خیال رکھنا یعنی ان کے حال احوال پوچھتے رہنا گو ایسا نہیں کہ مغرب والوں کی طرح نہیں کہ اپنوں کے گھر بھی پوچھ کر یا دعوت کے بغیر جانا ہی نہیں چاہیے۔

Facebook Comments HS