قرضے، مہنگائی اور نظام کی ناکامی


ہمارا وطن پاکستان ان دنوں خوفناک معاشی بحران کی دلدل میں دھنسا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ملکی کرنسی کی قدر روزانہ کی بنیادوں پر کم ہو رہی ہے، جس سے مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے۔ ملکی خزانہ اس حد تک خالی ہو چکا ہے کہ چند ماہ کی تنخواہوں کے سوا کچھ نہیں بچا۔ سرمایہ دارانہ ممالک کے معیشت دان اور معاشی تجزیہ کار پیش گوئی کر رہے ہیں کہ پاکستان کو اپنی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فوری طور پر 2 0 8 بلین امریکی ڈالرز، یعنی 5 ہزار 9 سو ارب روپے کی ضرورت ہے۔

اتنی وسیع مقدار میں سرمایہ جمع کرنے کے قابل ہونے کی واحد امید آئی ایم ایف سے ایک اور قرض حاصل کرنا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پاکستان قرض کا بندوبست نہیں کر پایا تو پاکستان دیوالیہ ہونے کی طرف جا رہا ہے۔ ان سرمایہ دارانہ معیشت دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سال کے قرضے سے بات نہیں بنے گی، بلکہ پاکستان کو اگلے سال مزید 1 0 8 بلین ڈالر اور اس سے اگلے سال 1 0 6 بلین ڈالر درکار ہوں گے۔ یعنی ان قرضوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو ملک کے چپے چپے کو گروی رکھنے اور عوام کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینے کے مترادف ہے۔

پاکستان کا حکمران طبقہ، جو کہ سرمایہ داروں، جاگیرداروں، لینڈ و قبضہ مافیا اور سول و ملٹری بیوروکریسی پر مشتمل ہے، اس وقت شدید اندرونی تضادات کا شکار ہے۔ مسٹر عمران خان اور اس کی پی ٹی آئی کی کولیشن حکومت کے خاتمے کے بعد بننے والی پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی حکومت اور عسکری اسٹیبلشمنٹ مجموعی طور پر نہ تو موجودہ معاشی اور سماجی بحران پر قابو پا سکے ہیں، اور نہ ہی سامراجی غلامی کی چھتری تلے اس فرسودہ معاشی اور سماجی ڈھانچے کو قائم رکھتے ہوئے ملک کو قرض کی غلامی سے چھٹکارا ڈلوا سکے ہیں۔

ان کا سارہ دار و مدار سامراجی مالیاتی اداروں، بالخصوص آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کو مان کر مزید قرضوں کا حصول ہے، جس کے لیے وہ حسب معمول غیر ترقیاتی اخراجات بشمول دفاعی اخراجات میں کمی کرنے کی بجائے عوام کو بنیادی ضرورتوں کے لیے دی جانے والی محدود سبسڈیز کو ختم کر کے مالیاتی اداروں کو سیونگ دکھانا اور ملک پر قرضوں کا مزید بوجھ ڈالنا ہے، جس سے عوام اپنے بنیادی زندگی کے حق سے محروم اور آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی تلے چیخ رہے ہیں۔

منافقت کا یہ عالم ہے کہ اس وقت پاکستان کی رولنگ الیٹ جس میں سرمایہ داری، جاگیرداری اور اشرافیہ کی بالادستی پر یقین رکھنے والی تمام سیاسی جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ شامل ہے، ایک قومی حکومت کا سیٹ اپ بنا چکی ہیں، جسے عدالتوں کے ذریعے قائم اور کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ آپ دیکھیں نہ کہ اشرافیہ کی نمائندہ یہ جماعتیں اپنے تمام تر جھوٹ اور عوام کو دیے جانے والے فریب کے باوجود کس طرح حکومتی نظام اور ملکی وسائل کو بانٹ کے بیٹھے ہیں۔

اس وقت ملکی صدر تحریک انصاف کا ہے، سینٹ چیرمین اسٹیبلشمنٹ کی جماعت باپ، یعنی بلوچستان عوامی پارٹی کا ہے، وزیر اعظم مسلم لیگ نون کا اور وزیر خارجہ پیپلز پارٹی کا ہے۔ صوبہ پنجاب کی حکومت مسلم لیگ نون کی، سندھ کی حکومت پیپلز پارٹی کی، خیبر پختونخوا کی حکومت تحریک انصاف کی اور بلوچستان کی حکومت اسٹیبلشمنٹ کی جماعت باپ کی ہے۔ مرکزی حکومت کے علاوہ پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں میں بھی ایم کیو ایم، مولوی فضل الرحمان کی جمعیت علماء اسلام اور دیگر چھوٹی و علاقائی جماعتیں اپنا اپنا حصہ لے کر موجودہ سیٹ اپ کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔

یہ سب اچھے بچوں کی طرح 75 برس سے ملکی اقتدار پر براجمان اسٹیبلشمنٹ، سامراجی غلامی اور ملک پر مسلط قبائلی، جاگیرداری، سرمایہ داری، لینڈ مافیا اور رئیل اسٹیٹ مافیا کے نظام کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ جب بھی ملک کے 98 فیصد عوام کے استحصال پر مبنی سسٹم کو خطرات لاحق ہوتے ہیں، تو یہ سب اکٹھے بھی ہو جاتے ہیں اور اس وقت سب مل کر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی، نون لیگ، ایم کیو ایم اور اسٹیبلشمنٹ سمیت یہ سب اقتدار کا مزہ بھی لوٹ رہے ہیں اور عوام کو بے وقوف بھی بنا رہے ہیں۔ ہمارے عوام بھی اتنے سادہ لوح ہیں کہ ایک دوسرے کو پٹواری، یوتھیا، جیالہ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

آج سے آٹھ ہفتے بعد ہم ملکی آزادی کے 75 برس مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہوں گے ، وہ بھی اس بات کا احساس کیے بغیر کہ تکمیل آزادی، یا آزادی کے ثمرات عوام تک پہنچانا تو دور کی بات ہے، ہم تو آج تک ملک میں بنیادی سیاسی ڈھانچے کو تشکیل کی ابتداء تک نہیں کر پائے۔ آج سے 75 برس قبل انگریز سامراج برصغیر سے گیا تو ہمیں آزاد کرنے کی بجائے جدید نوآبادیاتی نظام کے شکنجے میں جکڑ کر گیا۔ منڈیوں کی تقسیم، کمزور ممالک پر قبضے اور ان کے وسائل کی لوٹ اور کالونیوں کی بندر بانٹ نے دنیا کو پہلی عالم جنگ میں دھکیل دیا تو 1917 ء میں روس میں سوشلسٹ انقلاب آ گیا، جس نے دنیا میں کلونیل سسٹم، یعنی نوآبادیاتی نظام کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔

دنیا بھر میں قومی آزادی کی تحریکیں زور پکڑ گئیں اور کمزور ممالک کو اپنی آزادی اور نئے نظام کے تحت سماجی انصاف کی منزل نظر آنے لگی۔ دوسری عالمی جنگ نے تو سامراجی ممالک کی جانب سے مسلط کردہ نوآبادیاتی نظام اور دیگر ممالک میں براہ راست قبضے کو ناممکن بنا دیا۔ سامراجی ممالک نے بدلتے ہوئے حالات نوآبادیاتی نظام کی شکست و ریخت کو بڑی مہارت سے جدید نوآبادیاتی نظام میں ڈھال لیا۔ انہوں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد 1944 ء میں یورپ کی تعمیر نو میں مدد کے لیے ورلڈ بینک قائم کیا، جو ان ممالک کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بازیافت کرنے اور طویل مدتی ترقی کو فروغ دینے میں مدد فراہم کرے۔

دوسری طرف 1944 ء میں ہی انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، جسے عرف عام میں آئی ایم ایف کہتے ہیں، قائم کر لیا، جو اقوام متحدہ کی خصوصی ایجنسی، بین الاقوامی مالیاتی تعاون کو محفوظ بنانے، کرنسی کی شرح تبادلہ کو مستحکم کرنے، اور بین الاقوامی لیکویڈیٹی، یعنی مشکل کرنسیوں تک رسائی کو بڑھانے کے لیے کردار ادا کرے گا۔

یوں یوں دنیا میں نوآبادیاتی نظام کا تسلط کمزور ہوتا گیا اور سامراجی ممالک کو دیگر ممالک پر اپنے قبضے چھوڑنا پڑے، سامراج نے اپنے مالیاتی اداروں، بالخصوص آئی ایم ایف کے کردار کو سیاسی شکل دے دی۔ دوسری عالمی جنگ سے اپنی تباہ شدہ معیشت کو سہارا ملتے ہی ان ممالک نے سامراجی مالیاتی اداروں کے کردار کو بدل کر دنیا بھر میں معاشی غلامی کا ایسا جال بچھا دیا کہ نوآبادیاتی نظام ایک نئی قوت کے ساتھ منظرعام پر آ گیا۔

سامراجی ممالک نے ترقی پذیر ممالک کے وسائل کی لوٹ کو برقرار رکھنے اور اپنی صنعتی پیداوار کی فروخت کے لیے سابق قالونیوں اور کمزور ممالک کی معیشت کو کنزیومر اکانومی، یعنی صارفین کی معیشت تک محدود کر دیا اور ان ممالک کی رولنگ الیٹ اور اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے غیر پیداواری اخراجات کو اس قدر بڑھا دیا کہ ان کی معیشت اپنے قدموں پر کھڑا ہونے سے معذور ہو جائے۔ دوسری طرف ان ممالک کے عوام کو کنٹرول کرنے کے لیے ریجنل تنازعات کو ہوا دے کر جنگی ماحول پیدا کیا گیا، جس سے ان ممالک کے بجٹ عوامی فلاحی منصوبوں پر صرف ہونے کی بجائے دفاعی اخراجات پہ صرف کرنے، سامراجی ممالک سے اسلحہ کی خریداری اور دیگر غیر پیداواری اخراجات پر خرچ ہونے لگے۔

پاکستان میں اس ساری صورت حال کا لازمی اثر ملکی سیاسی ڈھانچے پر پڑا، جو قیام پاکستان کے وقت کمزور تھا، اور بھی کمزور ہوتا گیا اور حکومتی امور میں سول بیوروکریسی اور عسکری اداروں کی مداخلت بڑھتی گئی۔ ہمارے خطے میں ابھرنے والے سامراجی مفادات نے اسے اور بھی شہ دی اور عسکری اداروں نے ملک میں مارشل لاز نافذ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا، جو بعد ازاں سیاسی انجنیئرنگ کی شکل اختیار کر کے سیاسی جماعتوں کو کنٹرول کرنے کے ایک خود کار نظام کی شکل میں نافذ العمل ہو گیا۔

یہی وجہ ہے کہ جو بھی سیاسی جماعت بلند بانگ دعوؤں کے ساتھ اقتدار میں آتی ہے، وہ ملک پر مسلط نیم غلامانہ نوآبادیاتی نظام کا حصہ بننے کے سوا کچھ کر نہیں پاتی، کیونکہ ملک پر مسلط قبائلی، جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ نظام کو توڑ کر ایک عوامی فلاحی ریاست کا قیام تو ان کے ایجنڈے میں نہیں۔ اس لیے موجودہ نظام کا حصہ بننے میں ہی غنیمت سمجھتے ہوئے مستقبل کے انتخابات میں نئے نعروں اور جھوٹے وعدوں کے ساتھ دوبارہ انتخابات کے میدان میں اتر آتے ہیں۔ یہی عمران خان کے بیرونی سازش کے دعوؤں کے حقیقت ہے اور یہی دوسری جماعتوں کے راہنما کرتے ہیں۔ ورنہ عمران خان سمیت آج تک پاکستان میں کون سا حکمران سامراجی منظوری کے بغیر اقتدار میں آیا ہے۔

یہاں تک قرضوں کا تعلق ہے تو اپنا وطن 1947 ء کے بٹوارے سے لے کر 2008 ء تک چھ ہزار ارب روپے کے بیرونی قرضوں کا مقروض ہوا تھا۔ اس طرح 2008 ء میں پاکستان کا ہر شخص پانچ سو روپے کا مقروض تھا، جو آج 2022 ء میں بڑھ کر ہر شخص دو لاکھ ستائیس ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ 2008 ء میں بیرونی قرضوں کا حجم 36 ہزار ارب روپے تھا، جو 2013 ء میں بڑھ کر 88 ہزار ارب روپے ہو گیا اور 2018 ء تک ایک لاکھ چوالیس ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا۔

عمران خان جو پونے چار سال تک حکومتی ایوانوں کے نظارے لوٹتے رہے اور آج کل آزادی کا نعرہ لگا رہے ہیں، ان کے دور میں 2021 ء کے اختتام تک بیرونی قرضوں کے ذریعے خریدی گئی غلامی کے حجم میں اضافہ ہو کر یہ تشویشناک حد تک پہنچ چکا تھا، اور ان کے دور میں بیرونی قرضے دو لاکھ ستائیس ہزار ارب تک بڑھ چکے تھے۔ پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور میں 161 بلین ماہانہ، مسلم لیگ نون کے دور میں 235 بلین ماہانہ اور عمران خان کی تحریک انصاف کے دور میں 540 بلین ماہانہ کے حساب سے قرضے لیے گئے تھے۔ اب 2022 ء میں پاکستان کے کل قرضے 127 بلین ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور ملک کی رولنگ الیٹ ہمارے وطن کے چپے چپے کو گروی رکھنے پے تلی ہوئی ہے۔ غیر پیداواری اخراجات بشمول دفاعی اخراجات کو کم کرنے کی بجائے بے بس عوام پر مہنگائی کے بم گرائے جا رہے ہیں۔

ہمارے جیسے ترقی پسند کارکن تو قیام پاکستان کے وقت سے ہی کہہ رہے تھے اور مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں کہ آزادی کا مطلب ہی ملکی معاشی ڈھانچے کو توڑ کر وسائل کی منصفانہ تقسیم کے اصول پر تشکیل نو ہے، اور آزادی کے ثمرات ملکی عوام تک پہنچانا ہے۔ لیکن قیام پاکستان کے ساتھ ہی جاگیرداروں، قبائلی سرداروں، اشرفیہ اور سول و عسکری اسٹیبلشمنٹ نے ملک کے وسائل پر قبضہ کر لیا، اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو سیاسی منظرنامے سے باہر کر دیا۔

وہ جاگیردار، وڈیرے اور قبائلی سردار، جو قیام پاکستان سے قبل انگریز سامراج کے ایجنٹ اور تنخواہ دار تھے اور اپنے عوام سے غداری کرتے تھے، وہ ملک پر مسلط کر دیے گئے۔ قیام پاکستان کے حمایت کرنے والی کمیونسٹ پارٹی اور دیگر ترقی پسند تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی اور قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والی اور قائد اعظم کو کافر اعظم کہنے والی مذہبی جماعتوں کی سرکاری سطح پر نشوونما کر کے ملک میں ایک تسلسل کے ساتھ مذہبی جنونیت اور انتہا پسندی کو فروغ دیا گیا، جو آج تک اپنی پوری شد و مد سے جاری و ساری ہے اور ملکی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔

انگریز سامراج کا قائم کردہ جاگیرداری اور نیم سرمایہ داری نظام قائم رکھا گیا اور ملک میں سٹیٹس کو کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مراعات یافتہ طبقات کے ساتھ مذہبی عناصر اور سول و عسکری اسٹیبلشمنٹ کے ایسی تکون قائم کر لی گئی، جس نے ملک میں سیاسی عمل کو ناپید کر دیا۔ ملک میں سیاسی عمل کی بحالی، جمہوری اداروں کے قیام اور ملکی آزادی کی تکمیل کے لیے آئین تحریر کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے کی بجائے ملک کو بغیر آئین کے چلانے، جمہوری عمل سے روگردانی اور سیاسی عمل میں رکاوٹوں کی راہ اپنائی گئی، جس نے ملکی آزادی کی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا اور ملک بغیر کسی منزل کے انجانی راہوں پر چلنے لگا۔

یہی وہ حالات تھے جنہوں نے ملک کو سامراجی شکنجے کی جانب دھکیل دیا۔ ملکی وسائل کو افسر شاہی کی شاہ خرچیوں، عیاشیوں اور دیگر غیر پیداواری اخراجات میں جھونکا گیا جس سے عوام کا آزادی کا خواب چکنا چور ہونے لگا۔ آزادی کے چند ہی برس بعد ملک سول بیوروکریسی کے شکنجے سے نکل کر عسکری اداروں کے کنٹرول میں جانے لگا، جنہوں نے ایک طرف مارشل لاز نافذ کر کے اقتدار پر براہ راست قبضہ شروع کر دیا تو دوسری طرف ملک میں مذہبی اور جنگی جنوں پیدا کر کے ملکی وسائل کا رخ عوامی بہبود کی بجائے دفاعی منصوبوں کی طرف منتقل کر دیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے دفاعی اور دیگر غیر ترقیاتی اخراجات اس قدر بڑھ گئے کی ملکی معیشت سکڑنے لگی اور سارہ انحصار بیرونی قرضوں پر ہوتا گیا اور نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔ نامور معیشت دان کارل مارکس نے کہا تھا کہ جو قوتیں آپ کے مجموعی پیداواری وسائل پر قابض ہیں، وہی قوتیں آپ کے دماغ اور زبان پر بھی قابض رہیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ 99 فیصد عوام آج ایک فیصد اشرافیہ کی زبان بولتے ہیں، کیونکہ انہیں جھوٹ اتنی مرتبہ سنایا اور رٹایا جاتا ہے کہ انہیں وہی سچ لگنے لگتا ہے۔

انگریز سامراج ہمارے وطن کے وسائل کو لوٹنے کی لیے ہماری بیوروکریسی کا استعمال کرتا تھا اور اسے اتنی مراعات دیتا تھا کے عام شہری انہیں ایک اعلیٰ نسل اور اعلیٰ رتبے کے انسان تصور کریں اور ان سے خوف کھائیں۔ آزادی کے بعد ہم نے نہ تو ملک کے مستقبل کی راہیں متعین کیں اور نہ ہی اپنے اداروں کی تشکیل نو کی۔ لہٰذا ہمارے ملکی اداروں کی عیاشیوں پر اربوں نہیں کھربوں روپے خرچ ہونے لگے اور وقت کے ساتھ بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں صرف سرکاری پروٹوکول پر 380 ارب روپے سالانہ خرچ ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی ریاست ہو سال اشرافیہ کو 2660 ارب روپے، یعنی 1 0 7 ارب ڈالر کی مراعات دیتی ہے۔ حالیہ بجٹ میں 3950 ارب روپے غیرملکی قرض کی واپسی کے لیے رکھے گئے ہیں، یہ رقم تقریباً بیس ارب ڈالر کے قریب رقم بنتی ہے۔ ملکی عوام کا پیٹ کاٹ کر عالمی مالیاتی اداروں کو اتنی بڑی رقم کی ایک سال میں ادائیگی کی جا رہی ہے۔ بیس ارب ڈالر کی رقم شاید ہی کبھی پاکستان کو ان مالیاتی اداروں کی جانب سے ایک سال میں دی گئی ہو۔

ہمارے ملک کے حکمران جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں۔ یونہی اقتدار کی مسند پر بیٹھتے ہیں تو ان کے تیور بدل جاتے ہیں اور ان کا بس چلے تو ٹائلٹ بھی ہیلی کاپٹر یا جہاز پر بیٹھ کر جائیں۔ یہ حکمرانوں عوام پر خرچ ہونے والی محدود سی سبسڈی کو ختم کر رہے ہیں، اس کے برعکس سرکاری افسران، ججوں، وزیروں، مشیروں کو جو مفت گیس، پانی، بجلی، پٹرول، گاڑیاں، علاج، ظہرانے، عشائیے اور فنڈز دیے جاتے ہیں وہ اربوں میں نہیں بلکہ کھربوں میں ہیں۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کے یہ ساری مراعات فوری طور پر بند کی جائیں اور عوام کو رلیف فراہم کیا جائے۔ مزید برآں تمام غیر پیداواری اخراجات 80 فیصد اور دفاعی اخراجات میں 50 فیصد کمی کی جائے۔ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ قوم کو قربانی دینے کے بھاشن بند کیے جائیں۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کا مطلوبہ پیکیج مل بھی جائے تو پاکستان نہ تو معاشی بحران سے نکل سکتا ہے اور نہ ہی دیوالیہ ہونے کا خطرہ مستقل طور پر ٹل سکتا ہے۔ پاکستان کچھ سال اور آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیجز لے سکے گا اور ہر دفعہ شرائط مزید سخت ہوتی جائیں گی اور حکمران ملکی وسائل کی تشکیل نو کی بجائے عوام پر مظالم اور مہنگائی کے پہاڑ ڈھاتے جائیں گے۔

پاکستان میں اصل مسئلہ کسی حکومت کی ناکامی یا معاشی بحران کا نہیں بلکہ یہ استحصالی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، اور آئے روز مزید قرضے ملک کو اس دلدل سے نکالنے کی بجائے مزید تباہی کے جانب دھکیل رہے ہیں۔ حکمران طبقے کی مراعات کا خرچہ غریب عوام کے ناتواں کندھوں پہ ڈالا جا رہا ہے۔ مہنگائی آسمانوں کو چھو رہی ہے، طلبہ سے تعلیم کا حق چھینا جا رہا ہے، غریب عوام کو صحت، روزگار، بجلی، تیل جیسی بنیادی ضرورتوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔

حکمران طبقے کی عیاشیاں، آئینی چالبازیاں اور دھوکہ دہی نے ملک کو معاشی تباہی کے موڑ پہ پہنچا دیا ہے، جہاں محنت کش طبقے کے لئے صرف بربادی ہی نظر آتی ہے۔ معاشی و طبقاتی تفریق میں مسلسل اضافے سے محنت کش طبقہ بدحالی کے باعث خودکشیوں پہ مجبور ہو رہا ہے۔ اس لیے جب تک ملک میں فرسودہ جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ، قبائلی لوٹ کھسوٹ کا ظالمانہ نظام اور اس کے رکھوالے اور دلال ملک پر قابض ہیں، عوام اسی طرح جئے جئے، ووٹ کو عزت دو اور تبدیلی کے نام پر تباہی کا شکار ہو کر بھوک، افلاس، مہنگائی، بیروزگاری سے پستے اور بے گھر ہوتے رہیں گے۔

آؤ ہم سب مل کر ملک کے ملک کے مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات، کسانوں، مزدوروں، اساتذہ، طالب علموں و نوجوانوں، محکوم قوموں، خواتین، اقلیتوں، دانشوروں، ادیبوں و صحافیوں اور دیگر پروفیشنلز کو منظم کر کے ایک ایسی وسیع تر ترقی پسند عوامی تحریک پیدا کریں جو 75 سالہ استحصال پر مبنی اس فرسودہ نظام کو کو توڑ کر معاشی ڈھانچے کی تشکیل نو کرے اور پاکستان میں ایک عوامی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھ سکے۔ قتیل شفائی نے کیا خوب کہا تھا:

دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

پرویز فتح (لیڈز-برطانیہ)

پرویز فتح برطانیہ کے شہر لیذز میں مقیم ہیں اور برٹش ایروسپیس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ وہ برطانیہ میں ساوتھ ایشین ممالک کے ترقی پسندوں کی تنظیم ساوتھ ایشین پیپلز فورم کورڈینیٹر ہیں اور برطابیہ میں اینٹی ریسزم اور سوشل جسٹس کے لئے سرگرم ہیں۔

pervez-fateh has 36 posts and counting.See all posts by pervez-fateh

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments