برطانیہ میں مزدور ہڑتالوں کی لہر


جون کی 21، 23 اور 25 تاریخ کو برطانوی ریلوے کے 40 ہزار سے زائد مزدوروں نے ہڑتال کر کے ملکی ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ مارگریٹ تھیچر کے دور میں ٹریڈ یونینز کو کرش کرنے کے بعد یہ 40 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال تھی، جو بظاہر ایک آغاز ہے اور ریلوے مزدوروں کے ساتھ برٹش ائرویز کی یونین، برٹش ائر لائنز اسٹیورڈز اینڈ اسٹیوارڈیسس ایسوسی ایشن کے ملازمین ہڑتال کرنے جا رہے ہیں۔ جبکہ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹی کے اساتذہ کی متحدہ تنظیم نیشنل ایجوکیشن یونین، جس کے ممبران کی تعداد 4 لاکھ 50 ہزار ہے، ہڑتال کی کال دینے کا فیصلہ کر چکی ہے۔

ان ہڑتالوں کی بنیادی وجہ سرمایہ داری نظام کا بڑھتا ہوا بحران، اداروں اور فیکٹریوں میں چھانٹیاں، محنت کشوں اور محنت کار عوام میں بڑھتا ہوا عدم تحفظ، کووڈ کی وبائی مرض کے آغاز سے تنخواہوں کا منجمند کیا جانا، پبلک سروسز میں کٹوتیاں و انڈر انویسٹمنٹ اور خوراک اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں، جن سے محنت کشوں، محنت کاروں اور عام شہریوں کا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔

دنیا اس وقت زبردست بحرانوں کی زد میں ہے۔ عالمی معاشی انحطاط، سرمایہ داری نظام کے بڑھتے ہوئے بحران اور دنیا پر کمزور ہوتی ہوئی سامراجی گرفت کی بدولت دنیا بھر میں جنگیں مسلط کی جا چکی ہیں، جن کا دائرہ کار اب ترقی پذیر ممالک سے نکل کر یورپ تک پہنچ چکا ہے۔ دوسری طرف سامراجی ممالک کی دنیا پر بے لگام ڈومینیشن کے جواب میں چین اور روس نے ایک نئے معاشی بلاک کی داغ بیل رکھنے اور ڈالر کے مقابلے میں لوکل کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دینے کی طرف قدم بڑھائے تو سامراجی ممالک کے گاڈفادر امریکہ نے پہلے چین کی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیکس لگا دیا، پھر یوکرین کو روس کے خلاف اکسا کر کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ سامراجی ممالک نے یوکرین کو نیٹو اتحاد کا حصہ بنا کر ان کے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے سبز باغ دکھلائے اور یوکرینی صدر ولڈیمیر زیلینسکی کو ایسا ٹریپ کیا کہ ان کا ملک جنگ کا ایندھن بن گیا۔

روس چونکہ دنیا میں تیل، گیس اور خوردنی اجناس پیدا کرنے والا اہم ملک ہے اور یورپ کی صنعت کا دار و مدار روسی گیس پر ہے، جو ان ممالک کو پائیپ لائن کے ذریعے بہت سستی ملتی ہے۔ جونہی یورپی ممالک امریکی سامراج کی سازش سے شروع کی گئی روس یوکرین جنگ کی مدد کے لیے کودے تو روس نے انہیں گیس کی قیمت ڈالر کی بجائے روبل میں ادا کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ اس اعلان نے دنیا، بالخصوص امریکہ میں نئی ہلچل مچا دی اور روس کی جانب سے گیس بند کرنے کی دھمکی کے ساتھ ہی سب ڈھیر ہو گئے اور روسی روبل میں ادائیگیوں کا اعلان کر دیا۔

امریکی سامراج کے لیے یورپین ممالک کی تجارت کی روسی روبل میں ادائیگیاں یقیناً ایک بڑا دھچکا تھا اور اس نے دباؤ ڈال کر روسی تیل اور گیس کی خرید کم کر کے امریکہ اور دیگر ممالک سے مہنگے داموں خریدنے کی ترغیب دی۔ اس سے دنیا بھر میں، بالخصوص یورپ اور امریکہ میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ گیا، جس نے عوام کا معیار زندگی اس قدر گرا دیا کہ وہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو گئے۔ سامراجی ممالک کا خیال تھا کہ روس چند ہفتوں میں یوکرین پر قبضہ کر لے گا اور وہ یوکرینی عوام میں افغانستان کی طرز پر گوریلا جنگ کے لیے امداد شروع کر دیں گے، جس سے روس میں عدم استحکام کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی اس پلان بارے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے۔ روس نے اس پلان کو ناکام بنانے کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی اور قبضے کے عمل کو آہستہ اور محدود کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کو برملا کہنا پڑا کہ اگر روس یوکرین جنگ جلد ختم نہ ہوئی تو دنیا میں خوراک کا قحط پیدا ہو جائے گا۔

یورپ اور امریکہ میں اس وقت بحرانی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ خوراک نایاب ہے، یا پھر عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے۔ روز مرہ کے اخراجات پہنچ سے دور ہو چکے ہیں اور عوام کا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ کووڈ کی وبائی مرض نے ایک طرف ملینئرز کو بلینئرز بنا دیا تو دوسری طرف عام محنت کشوں اور ملازمت پیشہ عوام کی تنخواہوں کو فریز کر دیا گیا۔ کووڈ حالات میں ایک طرف محدود ورک فورز نے کام سنبھالے رکھا، تو دوسری طرف سرمایہ داروں نے اسے بنیاد بنا کر اداروں کی ماڈرنائزیشن کے نام پر چھانٹیاں اور کم افراد سے کام چلانے کی روش اپنا لی۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ترقی یافتہ ممالک میں بے روزگاری عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ہر ادارہ اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے چھانٹیاں کو رہا ہے، جس نے ورکنگ کلاس اور ورکنگ پیپلز میں عدم استحکام کو جنم دیا ہے۔ یہی وہ حالات ہیں جن کی بدولت برطانیہ میں ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

گزشتہ ہفتے برطانوی ریلوے کی نیشنل یونین آف ریل، میری ٹائم اور ٹرانسپورٹ، جسے عرف عام میں آر۔ ایم۔ ٹی یونین بھی کہتے ہیں، نے ریلوے پر قابض 13 پرائیویٹ کمپنیوں کی جانب سے ماڈرنائزیشن کے نام پر چھانٹیوں کے پلان اور ملازمتوں کے عدم تحفظ، گزشتہ تین برس سے تنخواہوں کو منجمند رکھنے، کام کی شرائط اور اوقات کار، ادارے میں سیکیورٹی کے خدشات اور دیگر اقدامات کے خلاف اپنے بلٹ پیپر کے ذریعے فیصلہ کر کے ہڑتال کر دی۔

کوویڈ بحران سے لے کو اب تک برطانوی سرکار نے ماڈرنائزیشن کے نام پر ریلوے کو ملنے والی سرکاری فنڈنگ سے 2 بلین پونڈز روک لیے اور ریلوے کو چلانے والی ریلوے نیٹ ورک اور پرائیویٹ اپریٹر کمپنیوں سے کہا کہ بچت کی سکیمیں شروع کریں، اور تنخواہوں و اخراجات کو محدود کر کے گزارہ کریں۔ اس صورت حال نے ریلوے ملازمین میں عدم تحفظ کو جنم دیا اور وہ احتجاج کے لیے مجبور ہو گئے۔

ریلوے کی آر۔ ایم۔ ٹی یونین کے کے صدر الیکس گورڈن اور جنرل سیکرٹری مک لنچ نے خبردار کیا ہے کہ ان کے اراکین مزید ہڑتال کی کارروائی کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آر۔ ایم۔ ٹی یونین صرف تعمیری بات چیت کرے گی اور بلیک میل نہیں ہو گی۔ انہوں نے اصرار کیس یونین ریلوے کی آپریٹر کمپنیوں کے ساتھ مل کر ایک ایسے تصفیے تک پہنچنے کے لیے کام کرے گی جو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔ نیشنل یونین آف ریل، میری ٹائم اور ٹرانسپورٹ ورکرز ایک ترقی پسند، جمہوری اور انتہائی پیشہ ورانہ ٹریڈ یونین ہے۔ یہ ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی یونین ہے جس کے تقریباً 85,000 اراکین ٹرانسپورٹ انڈسٹری کے تقریباً ہر شعبے سے ہیں، جن میں مین لائن اور انڈر گراؤنڈ ریلوے، شپنگ اور آف شور، بسیں اور سڑک کا سامان شامل ہیں۔

ریلوے کی آر۔ ایم۔ ٹی یونین کے صدر ایلکس گورڈن برطانیہ کے نامور مارکسی دانشور ہیں اور ان سے راقم کے گہرے مراسم ہیں۔ وہ برطانیہ میں جلیانوالہ باغ خونی سانحہ کے خلاف ہماری سینیٹری کمیٹی اور دیگر کمپینوں کی بھرپور حمایت کرتے اور تقریبات میں شرکت کرتے رہتے ہیں۔ جلیانوالہ باغ خونی سانحہ کے سو سال مکمل ہونے پر ہم نے 13 اپریل 2019 ء کو لندن میں منعقد ہونے والی یشنل کانفرنس کی سپانسر بھی انہوں نے آر۔ ایم ٹی یونین سے کروائی تھی۔

موجودہ ہڑتال بارے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے راقم کو بنایا کہ یہ ہڑتال کوئی جلد بازی میں نہیں کی گئی، بلکہ ہم تقریباً دو سالوں سے حکومت اور آجروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ ہماری صنعت کو درپیش چیلنجوں سے نمٹا جا سکے، جن میں ہمارے ریل کارکنوں کی ملازمتیں، تنخواہ اور شرائط قابل ذکر ہیں۔ مزید برآں، ہڑتال کی کارروائی کے لیے ہمارا بھاری مینڈیٹ ووٹ تقریباً چار ہفتے پہلے تھا، اور ہم اس وقت بھی دوبارہ مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت براہ راست مذاکرات کو کنٹرول کر کے کسی تصفیے پر پہنچنے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔

یونین نے حکومت کے ساتھ فوری بات چیت کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ کمپنیوں کو سیٹلمنٹ پر پہنچنے کے لیے مجبور کرے۔ یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ حکومتی وزراء تنازعہ کو حل کرنے یا کمپنیوں کو مزید آزادانہ بات چیت کرنے کی اجازت دینے سے مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ درحقیقت انہوں نے براہ راست ریل کارکنوں کو مزید ملازمتوں سے محروم ہونے کی دھمکی دی ہے۔ آپ کو حیرت ہو گی کہ حکومت نے ٹیکس دہندگان کے پیسے کو نجی ٹرین کو بیل آؤٹ کرنے کے لیے استعمال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

یہ کمپنیاں ہڑتالوں کے دوران اور ہڑتال کے حق پر پابندی کے لیے قانون سازی کریں گیں، یہاں تک کہ وہ کارروائی کے دوران ریلوے کو چلانے کے لیے غیر تربیت یافتہ عملے کا استعمال کر کے مسافروں کی حفاظت کو خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یوں لگتا ہے کہ موجودہ ٹوری حکومت اور پرائیویٹ کمپنیاں مذاکرات کے بجائے محاذ آرائی چاہتے ہیں۔ ہم اس تنازعہ کو حل کرنے کے لیے بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ آجروں کو جلد از جلد حقیقت پسندانہ تجاویز پیش کرنے کے لیے بند باندھے۔

یونین نے ملازمتوں کے تحفظ اور تنخواہوں سے متعلق خدشات کو دور کرنے کے لیے دو سال تک دباؤ جاری رکھا اور ہڑتال کو آخری حربے کے طور ہر ہی استعمال کیا۔ دو سال کی جدوجہد سے کام نہ بنا تو ریلوے کارکنوں نے 71 فیصد ٹرن آؤٹ کے ساتھ ہڑتال کی کارروائی کے حق میں تقریباً 9۔ 1 کے تناسب سے ووٹ دیا اور اپنے ہڑتال کے حق کو استعمال کیا۔

اس تنازعہ کا ایک اہم پہلو ہزاروں ملازمتوں کو غیر ضروری قرار دے کر چھانٹیاں کرنے کا خطرہ ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ ٹرینوں کی بحفاظت ترسیل کے اہم انفراسٹرکچر پر بڑھتی ہوئی کٹوتیوں کے خطرات، اسٹیشنوں اور ٹرینوں پر کم عملہ، بشمول گارڈز اور کیٹرنگ اسٹاف کو ہٹانا، صفائی میں کٹوتیاں اور تقریباً تمام ٹکٹ دفاتر کی بندش شامل ہے، جو جدیدیت نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے ریلوے کا منظم زوال ہے۔ ان کٹوتیوں سے مسافروں کے لیے خدمات بری طرح سے متاثر ہوں گیں اور ریلوے کو غیر محفوظ اور ناقابل رسائی بنا دیا جائے گا۔ مسافروں پر ریسرچ کرنے والے ادارے ٹرانسپورٹ فوکس نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ انہیں اس بات کا قوی مکان تھا کہ کووڈ کی وبائی مرض کا مثالی ردعمل یہ ہو گا کہ عملے کو بڑھایا جائے گا، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے اور عملے کو کم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

ریلوے کے عملے کی شناخت بنیادی طور پر کلیدی کارکنوں کے طور پر کی جاتی ہے۔ وہ تمام قسم کے منفی موسم اور حالات میں انتہائی غیر سماجی اوقات کار میں مجموعی طور ہر ہفتے کے ساتوں دن اس اہم صنعت میں کام کرتے ہیں۔ ریلوے میں کلینر، کیٹرنگ سٹاف، کنٹرولر، گارڈز، ڈرائیورز، انجینئرنگ، ریونیو پروٹیکشن، سگنل ورکرز، سٹیشن سٹاف، ٹریک ورکرز اور ٹرین مینٹیننس سٹاف شامل ہیں۔ زیادہ تر ریل کارکنوں کی بنیادی تنخواہ بھی قومی اوسط سالانہ تنخواہ شرح سے کم ہے۔

اس تنازعہ سے قبل یو کے ٹرانسپورٹ سیکرٹری گرانٹ شیپس نے ریلوے ورکرز کو ’ہیرو‘ کے طور پر سراہا، جنہوں نے وبائی امراض کے دوران ملک کو حرکت میں رکھا۔ اب جب کہ حالات بہتر ہو گئے ہیں، خوراک اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں تو ایسے بحران کے باوجود زیادہ تر ریل ورکرز کی تنخواہیں تین سال سال سے منجمد کی گئی ہیں، جب کہ ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اس مدت کے دوران تقریباً 6 فیصد مالیت کا اضافہ ہوا ہے۔

ریل ورکرز ناراض ہیں ان کی روزی روٹی خطرے میں ہے۔ کووڈ کی وبائی مرض کے دوران ریل کے مالکان اور باسز ایک ایک ملین پونڈز کے پے پیکٹس اپنے گھروں کو لے کر گئے اور ریل کمپنیاں ہیلتھ ایمرجنسی کے آغاز کے بعد سے سالانہ 500 ملین پونڈز کا اضافی منافع کما چکی ہیں۔ اب کٹوتیوں کی تجویز پیش کی جا رہی ہے تاکہ کمپنیاں منافع میں اضافہ اور بھی بڑھا سکیں۔ اس وقت برطانوی حکومت اور نجی ریل کمپنیاں تصادم کی تیاری کر رہی ہیں، اور وزراء نے یہاں تک کہا ہے کہ وہ پرائیویٹ ٹرین آپریٹرز کے اس بحران میں ہونے والے کسی بھی نقصان کو پورا کرنے کے لیے ٹیکس دہندگان کی رقم کا استعمال کریں گے۔ اس وقت ٹوری حکومت ہڑتالی کارکنوں کو ہٹانے کے لیے قانون میں تبدیلی کی دھمکی دے رہی ہے، جو کہ ملازمین کا جمہوری اور آئینی حق پر ڈاکا ہے۔

موجودہ حکومت ریل کی ہڑتال میں اپنا کوئی کردار نہ ہونے کا کہہ کر لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ یہ ہڑتال صرف ٹرین آپریٹرز اور یونینوں کے درمیان ہے، سراسر غلط بیانی ہے۔ ریل آپریٹرز اور حکومت کے درمیان معاہدے کے تحت اگر آپریٹرز حکومت کی ہدایات پر عمل نہ کرے تو حکومت ان پر مالیاتی پابندیاں عاید کر سکتی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے وزیر کو ریل آپریٹرز اور یونین کے درمیان معاہدے کے حوالے سے بہت وسیع اختیارات حاصل ہیں، اور انھیں اس بات کے نمایاں اختیارات حاصل ہیں کہ وہ بتا سکیں کے صنعتی تنازع کو کس طرح ہینڈل کیا جائے۔

قانونی رائے کے مطابق وزیر ٹرانسپورٹ کی شرکت کے بغیر ریل آپریٹرز اپنے ملازمین کے ساتھ قواعد و ضوابط پر معاہدہ نہیں کر سکتے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یونینوں کے ساتھ ملازمین کی تنخواہوں، شرائط و ضوابط، چھانٹیوں اور ادارے کی تنظیم نو کی بات چیت سے قبل ریل آپریٹرز کو ٹرانسپورٹ کے وزیر کی تائید حاصل کرنا ضروری ہے۔ ٹرانسپورٹ کے وزیر ٹی وی اسٹوڈیوز کے دورے کر کے جلتی پر تیل چھڑکنے کے بجائے اور لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کے بجائے یہ مسئلہ حل کرا سکتے ہیں اور انہیں اس بات کی تحریری ضمانت دینی چاہیے کہ ریلوے میں لازمی چھانٹی نہیں ہوں گی ۔ اس صورت حال میں حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو اس بحران سے نکالے اور صورت حال تبدیل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ مزید برآں حکومت افراط زر کی شرع کے تناسب سے ریلوے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے اور ملازمتوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

Facebook Comments HS

پرویز فتح (لیڈز-برطانیہ)

پرویز فتح برطانیہ کے شہر لیذز میں مقیم ہیں اور برٹش ایروسپیس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ وہ برطانیہ میں ساوتھ ایشین ممالک کے ترقی پسندوں کی تنظیم ساوتھ ایشین پیپلز فورم کورڈینیٹر ہیں اور برطابیہ میں اینٹی ریسزم اور سوشل جسٹس کے لئے سرگرم ہیں۔

pervez-fateh has 60 posts and counting.See all posts by pervez-fateh