ایاز امیر اور بے شرم حملہ آور


مولا علی علیہ سلام کا فرمان ہے کہ جاہل سے کبھی بحث نہ کرو کیونکہ جب اس کے پاس دلیل نہیں ہوگی تو وہ تم سے جھگڑا کرے گا پھر تمھارا دشمن بن جائے گا، سینئر صحافی ایاز امیر کے ساتھ بھی گزشتہ روز ایسا ہی ہوا، ایاز امیر نے اسلام آباد بار کے رجیم چینج کے موضوع پر مذاکرے میں اظہار خیال کرتے ہوئے سامنے بیٹھے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت سب کو لتاڑ دیا، آصف زرداری، شہباز شریف ان کے صاحبزادوں اور جڑواں شہر کے باسیوں پر الفاظ کے گولے داغے

صحافت میں اب تک دو شخصیات ہی ایسی ہیں جن سے متاثر ہوا ہوں، ان میں سے ایک مرحوم عباس اطہر المعروف شاہ جی اور دوسرے ایاز امیر صاحب ہیں، ایاز امیر کا خطاب ایک سکہ بند صحافی کا خطاب تھا جس کے نزدیک کسی عہدے، مرتبے، رعب و دبدبے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، ایاز امیر کا خطاب سن کر احساس ہوا کہ صحافت میں خالص صحافیوں کی ابھی سانسیں باقی ہیں، کوئی تو ہے جو کسی ڈر و خوف سے بالا ہو کر آج بھی حق بات کرنے کی جرات رکھتا ہے

مرحوم عباس اطہر کے ساتھ کئی سال کام کیا اور ان سے بہت کچھ سیکھا، شاہ جی سے پہلی ملاقات روزنامہ صداقت میں ہوئی، مظہر بخاری مجھے بھی ساتھ لے گیا تھا، میں ابھی صحافت کے شروع کے ایام تھے، شاہ جی، منو بھائی اور ڈائریکٹر ڈی جی پی آر چودھری اسلم سے ملاقات ہوئی، صحافت پر گفتگو ہونے لگی، شاہ جی نے ایک فقرہ کہا تھا جو آج تک ذہن میں نقش ہے، شاہ جی کا فرمانا تھا کہ ”اخبار میں چھپی خبر اپنی قیمت خود بتاتی ہے“ ، اس وقت تو ان کی بات سمجھ نہ آئی، پھر رفتہ رفتہ بات سمجھ آنے لگی کہ جب کسی خبر کی اہمیت فرنٹ پیج کی نہ ہو اور وہ فرنٹ پیج پر نمایاں کر کے لگائی گئی ہو تو فوراً سمجھ آجاتی ہے کہ اس کی قیمت کیا ہے

شاہ جی جیسی تحریر لکھنا عام صحافی کے بس کی بات نہیں، شاہ جی کمال کے جملے لکھتے تھے، ایک فقرے میں حکمرانوں اور سیاستدانوں کا ستایا ناس کر دیتے تھے، شاہ جی کی وابستگی پیپلز پارٹی سے تھی، آمر جنرل ضیاءالحق کے دور میں شاہی قلعہ میں قید بھی رہے مگر شاہ جی نے صحافت کے معاملے میں پیپلز پارٹی سے بھی کوئی رعایت نہیں کی، ادھر تم، ادھر ہم جیسی لیڈ اخبار میں لگائی، 1971 کے حالات میں ”ادھر تم، ادھر ہم“ کی اخبار کی لیڈ آج تک پیپلز پارٹی کے گلے کی ہڈی بنی ہوئی ہے، 43 برس بیت جانے کے بعد بھی پیپلز پارٹی اس فقرے سے جان نہیں چھڑا سکی

شاہ جی کے کالم تاریخ کا حصہ ہیں مگر شاہ جی بولنے میں بہت ہی ماٹھے تھے، سٹیج پر جانے سے ان کی جان جاتی تھی، ایکسپریس میں بطور گروپ ایڈیٹر جوائن کرنے کے بعد میڈیا مالک سلطان لاکھانی نے بہت فرمائش کی تو کالم کار پروگرام شروع کریں، جس پر شاہ جی اینکرز کو سیاسی اداکار کا نام دیا تھا، ہر پروگرام کی ریکارڈنگ کے بعد شاہ جی ہمیشہ غصے کا اظہار کرتے کہ کس عذاب میں پھنسا دیا ہے، شاہ جی کے ساتھ کام کرنے پر ہمیشہ فخر کرتا ہوں، جن صحافیوں نے ان کے ساتھ کام نہیں کیا وہ بدقسمت ہیں

ایاز امیر کا معاملہ الٹ ہے، ایاز امیر لکھنے کے ساتھ ساتھ بولنے میں بھی کمال رکھتے ہیں، وہ کالم میں بہت خوبصورت اور مدلل انداز میں تنقید کرتے ہیں، آج کل ایک ٹی وی پر پروگرام میں بطور تجزیہ نگار شریک ہوتے ہیں، ان کا تجزیہ پروگرام کے دیگر مہمانوں پہ بھاری ہوتی ہے، جب وہ اپنا تجزیہ پیش کرتے ہیں تو پھر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ سامنے کون ہے یا جس کے بارے میں وہ بات کر رہے ہیں اس سے ان کا کتنا گہرا تعلق ہے یا پھر جس پر تنقید کے نشتر چلا رہے ہیں وہ کتنا با اثر ہے، یہی ایک سچے اور کھرے صحافی کی نشانی ہوتی ہے

اسلام آباد بار کے مذاکرے میں جس خوبصورت انداز میں انہوں نے امریکہ پر تنقید شروع کی پھر جڑواں شہر والوں کو بھی رگید ڈالا، ایک دور تھا کہ عام شہری تو دور کی بات صحافی بھی جڑواں شہر والوں کے بارے میں کچھ کہنے کی جسارت نہیں کر سکتا تھا، اب حالات تو یکسر بدل گئے ہیں مگر جڑواں شہر والے اب بھی اپنا آپ دکھانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں، ایاز امیر کے حوصلے کی داد دینا لازمی ہے کہ راوی اربن منصوبے کے بارے میں عمران خان کو سامنے کھڑا ہو کر صاف کہہ دیا کہ ”آپ کے ذہین کی خباثتیں ہیں، پراپرٹی ڈیلرز کو یہ قیمتی زمین دے رہے تھے“ پھر ایکسٹینشن والے معاملے پر بھی کپتان کی ایسی کی تیسی کردی جس پر شاید کپتان اب پچھتا رہا ہے

ایاز امیر نے جس خوبصورت انداز میں پاکستان کے دو پراپرٹی ڈیلرز کا ذکر کیا، اس پر پراپرٹی ڈیلرز کا غصہ تو بنتا ہے، پڑھے لکھے افراد کے لئے یہ بات بہت اہمیت رکھتی ہے کہ اس ماحول میں اتنی باتیں کہہ دینا کسی جہاد سے کم نہیں، ایاز امیر کو ایسا ہی کرنا چاہیے، اللہ تعالی ان کو لمبی عمر عطاء کرے، اندازے کے مطابق ایاز امیر ستر سال سے زیادہ عمر کے ہیں، کوئی کتنا بھی کم ظرف مخالف کیوں نہ ہو وہ اس عمر کی بزرگی کا لحاظ ضرور کرتا ہے، حتی کہ جنگ میں بھی بزرگوں، بچوں اور عورتوں کا احترام کیا جاتا ہے مگر ایاز امیر پر حملہ کرنے والوں میں ظرف نام کی کوئی چیز نہیں تھی، اختلاف رائے رکھنا ہر کسی کا بنیادی حق ہے، اختلاف رکھنے پر دلیل سے جواب دینا ہی مہذب اور شریفانہ انداز سمجھا جاتا ہے مگر ایاز امیر کی باتیں شاید ہمسائے شہر والوں یا پھر اسلام آباد کے اونچے پہاڑ پر بسنے والے کو برداشت نہیں ہوئیں

زندگی تو سب ہی جیتے ہیں مگر ایاز امیر جیسی ہمت اور جرات کے ساتھ ایسی زندگی گزارنا ہر صحافی کے بس کی بات نہیں، سچ کہنے کا ”خمیازہ“ تو بھگتنا پڑتا ہے اور ایاز امیر نے عمر کے آخری حصہ میں خمیازہ بھگت لیا ہے، جن بے شرموں اور بے حیاؤں نے ایسا کام کیا ہے ان کا کیا خیال ہے کہ ایاز امیر اب سچ نہیں کہیں گے، یہ ان کی بھول ہے، سچ بولنا ایک عادت ہے اور یہ عادت اسی کو نصیب ہوتی ہے جس کی ماں نے پاک دودھ بچے کی رگوں میں اتارا ہو، حق و سچ کہنے والا سنت حسین علیہ سلام پر عمل کرتا ہے چاہے سر ہی کٹوانا کیوں نہ پڑے، ایاز امیر جیسے لوگ ہی سچائی کا مینارہ ہوتے ہیں، جن کی روشنی گھپ اندھیرے میں میلوں سے نظر آجاتی ہے، چار، چھ پلوں کو شیر پر چھوڑ کر کوئی مت سمجھے کہ شیر اپنی بہادری کی خصلت چھوڑ دے گا، ایسا نہیں ہوتا، بزدلوں اور گیدڑوں کی ان حرکتوں سے ایاز امیر جیسی شخصیات تاریخ میں امر ہوجاتی ہیں، تاریخ فرعونوں اور یزیدوں سے بھری ہوئی، آج فرعون اور یزید کی نسل کسی کو یاد بھی نہیں۔ ۔ کائنات تباہ و برباد ہو سکتی ہے مگر میرے مولا علی علیہ سلام کا فرمان غلط نہیں ہو سکتا ۔ پھر وہ تمھارے دشمن بن جائیں گے۔

Facebook Comments HS