نحوست اور وحشت کا آسیب


5 جولائی 1977 پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن، جب پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو غیر آئینی طور پر ختم کر کے آرمی چیف جنرل ضیا نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔

چاروں صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرتے ہوئے ایک آمر نے قوم کو یہ یقین دلایا کہ نوے روز میں انتخابات کرائے جائیں گے اور اقتدار منتخب حکومت کے سپرد کیا جائے گا مگر وعدہ خلافی کرتے ہوئے بطور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ملک کی باگ ڈور سنبھالے رکھی۔ پاکستان کی جمہوریت اور جمہوری سسٹم کو جنرل ضیا نے جتنا نقصان پہنچایا اس کا خمیازہ آج پینتالیس برس بعد بھی جمہوری حکومتیں بھگت رہی ہیں۔

یہ وہ دور تھا جب ملک میں کلاشنکوف کلچر، ڈرگز، دہشت گردی اور فرقہ واریت کو ہوا دی گئی۔ 11 سالوں پر محیط اس بدترین دور نے پاکستان کی ریاست کو وہ نا قابل تلافی نقصان پہنچایا کہ 45 ًسال گزر جانے کے باوجود ملک کے سماجی، سیاسی اور معاشی معاملات آج بھی اس تاریک دور کے اثرات کے زیر اثر ہیں۔ جنرل ضیا کی وراثت کے منحوس سائے آج بھی وطن عزیز کے اجالوں کو داغ داغ کیے ہوئے ہیں جس نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے مذہب کو بطور ڈھال استعمال کیا اور جس کے اثرات ہم آج بھی مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگردی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

5 جولائی سے شروع ہونے والی نحوست اور وحشت آج بھی دہشتگردی فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کی انتہائی بھیانک صورت میں اپنے پنجے گاڑے کھڑی ہے۔ جنرل ضیا نے ملک اور اس کے قانونی، تعلیمی، سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کو اسلامی بنانے کی خود ساختہ مشن کا آغاز کیا اور اپنے ناجائز اقتدار کو جائز ثابت کرنے کے لیے سیاست اور مذہب کو اس انداز میں مدغم کیا جس نے معاشرے کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کر دیا۔ جنرل ضیا نے اقتدار پر قابض ہوتے ہی ملک کے پہلے متفقہ آئین کو کاغذ کے پرزے قرار دے کر کالعدم قرار دے دیا اور عوامی حقوق کو معطل کر دیا۔ تمام ریاستی اداروں کو غیر اہم اور بے وقار کر دیا۔ پارلیمان کا خاتمہ اور عوام کا حق حاکمیت چھین لیا گیا۔ عدلیہ کو اپنے اشارہ ابرو سے کنٹرول کیا جانے لگا جس سے عدلیہ کی آزادی ختم ہو گئی انتظامیہ کو فوجی جنتا کے حکم کے تحت چلایا جانے لگا۔ آزادی صحافت پر قدغن اور آزادی اظہار رائے کو سلب کر دیا گیا۔

ریاست کے اداروں کو جتنا شدید نقصان ضیا دور میں پہنچا اس کے اثرات آج تک ان اداروں کی کمزوری سے عیاں ہیں لہذا ملک میں سول حکمرانی ایک خوفناک چیلنج بن چکی اور آج بھی عوامی فیصلے کے ذریعے وجود میں آنے والے ادارے اپنی بالا دستی ثابت کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ جنرل ضیا سے قبل آمرانہ حکومتوں نے بھی سیاست کو ہمیشہ زہر قاتل قرار دیا مگر جس قدر سیاست کی تذلیل ضیا دور میں ہوئی وہ ناقابل بیان ہے۔ جنرل ضیا نے سماج کو غیر سیاسی کرنے کے لیے اسے تقسیم در تقسیم کے عمل سے یوں گزارا کہ آج ہمارا معاشرہ ریزہ ریزہ ہو چکا۔

پاکستان کی تاریخ کے سب سے مقبول عوامی رہنما کو عدالتی قتل کے ذریعے ختم کر کے سمجھا گیا کہ بھٹو کا سحر ختم ہو گیا مگر ثابت ہوا کہ فرد کو ختم کرنے سے نظریہ ختم نہیں کیا جاسکتا مگر اس خون نا حق نے پاکستان کی سیاست کو خونی لکیر کے ذریعے تقسیم کر دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قومی حیثیت کو ختم کرنے کے کے لئے علاقائی، لسانی، مذہبی اور فرقہ وارانہ جماعتوں کو مضبوط کیا گیا لہذا قومی سیاست کمزور ہوئی اور عصبیت کی سیاست کو فروغ حاصل ہوا، مقامی سیاست کو فروغ دے کر قومی امور کو جان بوجھ کر بالائے طاق رکھ دیا گیا۔

غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے ایسے کٹھ پتلی سیاستدان بنائے گئے جو محدود وژن کے تحت قومی رجحانات سے محروم رہے نتیجتاً ملک کا سیاسی کلچر بدل گیا سرمائے کے بل بوتے پر سیاست کا آغاز اور کرپشن سیاسی نظام میں سرایت کر گئی اور اس طرح سیاست پیسہ بنانے کا کاروبار ضیا دور میں بنی۔ لہذا آج بھی پاکستان میں آئینی اور سیاسی معاملات میں فکر محبوس ہے۔ آج اگر ہمیں پاکستان کو قائد اعظم کے تصورات کے مطابق ایک پر امن، خوشحال، ترقی یافتہ ملک بنانا ہے تو ہمیں جنرل ضیا کی منحوس وراثت کے آسیب سے نکلنا ہو گا اور محبوس فکر کی آزادی کی جدوجہد کو منزل مقصود تک پہنچانا ہو گا۔

نوجوان نسل کو اس عظیم جدوجہد میں شامل ہو کر فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہماری ترجیح رواداری ہے یا انتہا پسندی ہمیں شعور اور جہالت میں سے ایک کو چننا ہو گا ہمیں برداشت اور عدم برداشت میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔ ہمیں جمہوریت اور آمریت میں سے ایک کے حق میں فیصلہ کرنا ہو گا اور ہمیں فساد اور امن میں سے ایک کو اپنانا ہو گا۔ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہو گا جہاں مذہب روحانی سکون دے نہ کہ تقسیم اور تفرقے کی بنیاد بنے ہمیں عوام کے حق حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ریاستی آئینی اداروں کو بالا دستی دینا ہوگی تاکہ عوام طاقت کا سرچشمہ قرار پائیں اور معاشی مساوات کے ذریعے پاکستان کو فلاحی ریاست بنایا جا سکے۔ مگر جنرل ضیا کی وراثت آج بھی جمہوریت پر شب خون مارنے اور آمریت زدہ ذہنوں کو پاکستان کے عوام پر مسلط کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔

قوموں کی تاریخ ایک دن میں نہیں لکھی جاتی۔ ملک مضبوط ہونے، ادارے بننے اور جمہوریت کا پھل کھانے کے لئے صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کی حکومت کا تختہ الٹنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ تاریخ کا جبر ہے کہ پاکستان کی سیاست اور نظام انصاف آج بھی 5 جولائی 1977 پر ٹھہری ہوئی ہے اس کے باوجود 5 جولائی 1977 کو دہرانا مسائل کا حل نہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ ہم ہی اپنی اصلاح کر لیں اور ماضی سے سبق سیکھیں۔ جنرل ضیا الحق کے لئے مارشل لا لگانے کا کوئی جواز نہیں تھا آج بھی مارشل لا لگانے کا کوئی جواز نہیں۔ احتساب نہ ہو اور انصاف ختم ہو جائے تو کون انقلاب کو روک سکتا ہے۔ یہی 5 جولائی کا سبق ہے اور ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ معاملات ٹھیک کر کے ہی اس خوف سے نکل سکتے ہیں ورنہ یہ خونی آسیب خدانخواستہ ہماری آنے والی نسلیں بھی نگل جائے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments