ہمارے تین بڑے مسئلے – مکمل کالم


اچھے وقتوں کی بات ہے، جب ہمارے پاس فراز، ندیم اور منیر نیازی ہوا کرتے تھے، ان دنوں کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ یہ لوگ عالمی مشاعرے میں شرکت کے لیے امریکہ جا رہے تھے، دوران پرواز منیر نیازی نے مشروب خاص کچھ زیادہ ہی پی لیا، جہاز جب نیویارک کے ہوائی اڈے پر اترا تو نیازی صاحب مکمل طور پر ’آؤٹ‘ ہو چکے تھے، انہیں نیم غنودگی کے عالم میں ائر پورٹ سے نکال کر ٹیکسی میں بٹھایا گیا۔ مشاعرے سے پہلے وائس آف امریکہ نے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا ہوا تھا جس کا موضوع کچھ اس قسم کا تھا کہ ’جدید عالمی شاعری کے رجحانات اور اردو غزل کا مستقبل‘ ۔

شعرا جب اس مذاکرے میں شرکت کے لیے وی او اے کے سٹوڈیو پہنچے تو نیازی صاحب تقریباً نیند میں تھے، بدقت تمام انہیں کرسی پر بٹھایا گیا اور میزبان نے بھی نہ جانے کیا سوچ کر نیازی صاحب سے ہی پہلا سوال پوچھ لیا: ’سامعین ہماری خوش قسمتی ہے کہ آج اردو ادب کے ستارے یہاں موجود ہیں تو ہم آغاز منیر نیازی سے کرتے ہیں، نیازی صاحب یہ فرمائیے کہ آج عالمی شاعری جس سطح پر ہے اور اس میں ہمیں جو جدید رنگ نظر آتا ہے، خاص طور سے جو لسانی تجربات مغربی شاعری میں کیے جا رہے ہیں، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اس قسم کے تجربات اردو شاعری میں بھی ہونے چاہئیں، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیجیے کہ معروضی صورتحال میں اردو ادب کے نقادوں نے تہذیبی عناصر کی روشنی میں غزل کے مزاج کو متعین کیا ہے اور ان میں جملہ نفسیاتی، حیاتیاتی اور تہذیبی عوامل کا ذکر کیا ہے جن سے اصناف شعر کو سمجھنا آسان ہو گیا، آپ اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟‘ جواب میں نیازی صاحب نے اونگھ کر کروٹ بدل لی، میزبان نے اپنا سوال دہرایا مگر نیازی صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا، پروگرام چونکہ براہ راست نشر کیا جا رہا تھا اس لیے نیازی صاحب کے ساتھ بیٹھے ہوئے شاعر نے ہلا جلا کر انہیں اٹھایا اور میزبان کا سوال سنایا۔ نیازی صاحب نے نیم وا آنکھوں سے میزبان کو دیکھا اور کہا ’اس ضمن میں دیگر مہمانوں نے جو بھی کہا ہے میں اس سے پوری طرح متفق ہوں۔‘

اس واقعے کا آج کے کالم سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا پپیتے کی قاشوں کا کٹے ہوئے آم سے، دونوں فقط دیکھنے میں ہی ایک جیسے لگتے ہیں۔ مذکورہ واقعے کی مماثلت میں بیان کیے دیتا ہوں۔ 21 مئی کو پرویز ہودبھائی نے روزنامہ ڈان میں ایک کالم لکھا جس میں انہوں نے پاکستان کو درپیش مسائل اور ان کا حل پیش کر کے دریا کو گویا کوزے میں بند کر دیا۔ میں نے صرف یہ کہنا ہے کہ جو کچھ پرویز ہودبھائی نے لکھا، منیر نیازی کی طرح میں اس سے پوری طرح متفق ہوں ماسوائے ان باتوں کے جہاں انہوں نے سرخ لکیر عبور کی ہے۔

پرویز ہودبھائی درویش آدمی ہیں، انہیں کسی لکیر کی کوئی پروا نہیں، میں ٹھہرا دنیا دار، میں رزق میں کوتاہی افورڈ نہیں کر سکتا۔ یہ ڈسکلیمر (اعلان دستبرداری ) دینے کے بعد عرض ہے کہ پاکستان جن مسائل میں گھرا ہوا ہے وہ ہم نے سالہا سال کی محنت کے بعد اپنے لیے پیدا کیے ہیں۔ جس طرح ایک عام آدمی زندگی میں غلط فیصلہ کر کے اس کی قیمت چکاتا ہے اسی طرح قومیں بھی اپنے غلط فیصلوں کا خمیازہ بھگتتی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ عام آدمی اپنے احمقانہ فیصلے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگا سکتا ہے جبکہ کسی ملک کے لیے یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے فیصلوں کے اثرات بہت دیر سے سامنے آتے ہیں۔

مثلاً افغان جنگ میں ہمارے ملک میں ڈالر آرہے تھے مگر ساتھ ہی اسلحہ اور انتہا پسندی بھی آ رہی تھی، ہماری سرکاری دستاویزات میں کہیں یہ تو لکھا مل جائے گا کہ 1979 سے لے کر 1987 تک ہمیں کتنے ارب ڈالر کی امداد ملی مگر یہ کہیں نہیں ملے گا کہ ملک میں انتہا پسندی کی جو فصل بوئی گئی اس سے کتنے کھرب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اگر کوئی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہر سال ہمارے سیاسی فیصلوں کی پڑتال کر کے کوئی ایسی رپورٹ جاری کرے جس سے یہ پتا چلے کہ ہمارے احمقانہ فیصلوں سے کتنے ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے تو ہم اپنا تجارتی خسارا بھول جائیں۔

ہمارا دوسرا بڑا مسئلہ آبادی ہے۔ اگر ہم اسی طرح بچے پیدا کرتے رہے تو پچیس سال بعد ہماری آبادی چالیس کروڑ ہو جائے گی۔ چالیس کروڑ کی آبادی کا یہ ملک رہنے کے قابل نہیں رہے گا چاہے یہاں تیل ہی کیوں نہ نکل آئے۔ یہ بات لکھتے ہوئے مجھے تکلیف ہو رہی ہے مگر سچ یہی ہے کہ اس ملک کی سلامتی کو سب سے بڑا خطرہ باہر سے نہیں اندر سے ہے۔ یہاں کوئی بندہ کام کرے یا نہ کرے، کھانے کو روٹی ہو یا نہ ہو، پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ، برگر ہویا دیسی، ایک بات پر سب کا اتفاق ہے اور وہ ہے شادی کر کے ڈھیر سارے بچے پیدا کرنا۔ یہ خطرہ نہ حکومت کے ریڈار پر ہے اور نہ عوام کے، 2050 تک جب اس ملک کی آبادی چالیس کروڑ ہوگی تو ذرا سوچیں کہ یہاں لوگوں کا کیا حال ہو گا۔

بائیس کروڑ کے ملک میں کھوے سے کھوا چھل رہا ہے، ہاؤسنگ سوسائٹیاں زمینوں کو نگل رہی ہیں، دریا سوکھ رہے ہیں، جنگلات ایک چوتھائی بھی نہیں رہے، اور دیہات میں قابل کاشت زمین جو 1947 میں چھ ایکڑ فی کس تھی اب سکڑ کر نصف ایکڑ رہ گئی ہے تو 2050 میں ہمارے پاس کتنی زمین اور وسائل بچیں گے، یہ اندازہ لگاتے ہوئے میں کانپ اٹھتا ہوں۔

ہمارا تیسرا مسئلہ تعلیمی معیار ہے۔ اس وقت جس قسم کی بچے اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم پا رہے ہیں وہ رو پیٹ کے کہیں نوکری تو تلاش کر لیتے ہیں مگر ان میں دو چیزوں کا فقدان ہوتا ہے، ایک، ہنر کی کمی اور دوسرے تنقیدی شعور۔ ہمیں یہ بھی خوش فہمی ہے کہ ہمارے لوگ باہر کے ممالک میں جا کر قابلیت کے جھنڈے گاڑتے ہیں۔ اس ضمن میں اتنا بتانا کافی ہے کہ باہر کام کرنے والوں میں سے صرف ایک فیصد ہی انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ کے درجے میں آتے ہیں جبکہ دو فیصد کو آپ اعلیٰ ہنرمندوں کے خانے میں فٹ کر سکتے ہیں، باقی ستانوے فیصد بیچارے ترکھان، لوہار، مزدور اور الیکٹریشن ہیں جو اپنے خون پسینے کی کمائی پاکستان میں اپنے غریب گھر والوں کو بھیجتے ہیں۔

یہ تین مسائل ایسے ہیں جن کا حل اگر ہم نے نہ کیا تو خاکم بدہن ملک کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ ہمیں اپنی معیشت کی سمت درست کرنی ہوگی، فی الحال اس کا رخ جنگ کی طرف ہے، ہمیں اسے امن کی طرف موڑنا ہو گا۔ دوسرا کام آبادی پر قابو پانا ہے، اس کے لیے ہمیں ایک ایسا قابل بندہ چاہیے جو بنگلہ دیش کا ماڈل یہاں نقل کر کے لاگو کردے، یہ بندہ بیوروکریسی میں بھی ہو سکتا ہے مگر اس کے لیے سیاسی حمایت درکار ہو گی وگرنہ یہ کار لا حاصل ہی ہو گا۔

تیسرا کام اپنے تعلیمی اداروں کی مکمل صفائی ہے، نصاب کے نام پر جو کچھ ہمارے طلبا کو پڑھایا جا رہا ہے اس کے نتیجے میں ایسے طوطے پیدا ہو رہے ہیں جو محض رٹا رٹایا سبق پڑھتے ہیں، ان کا دماغ سوال اٹھانے اور تنقیدی شعور سے عاری ہے۔ ہمیں اپنا تعلیمی ماڈل ہنر مندی پر شفٹ کرنا ہو گا تاکہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد ہمارا نوجوان معاشرے کے لیے اثاثہ ثابت ہو نہ کہ الٹا بوجھ بن جائے، اور ماں باپ یہ سوچ کر اس کی شادی کر دیں کہ بیوی آئے گی تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اور وہ دونوں یہ سوچ کر بچے پیدا کرنا شروع کر دیں کہ نیا آنے والا ان کے رزق میں اضافے کا باعث بن جائے، اور یہ چکر یونہی چلتا رہے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 323 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments