بڑھتی ہوئی آبادی۔ توجہ طلب مسئلہ

پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ جاری ہے جس کی وجہ سے ضروریات اور دستیاب وسائل میں توازن برقرار رکھنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ زرعی اراضی، انفراسٹرکچر، صحت و تعلیم کی سہولیات، ملازمتوں کے ذرائع، آبی ذخائر اور صاف آب و ہوا سمیت تمام بنیادی ضروریات میں دن بدن کمی آ رہی ہے۔ ماحولیاتی و صوتی آلودگی، وبائی و نفسیاتی امراض، توانائی بحران، معاشرتی تناؤ، غربت اور بھوک و افلاس جیسے مسائل میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے جو کسی بھی معاشرہ، ملک اور قوم کی ترقی میں رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں۔
آزادی کے تقریباً چار سال بعد پہلی مردم شماری ہوئی تو پاکستان کی آبادی 3 کروڑ 30 لاکھ تھی جو 2017 میں ہونے والی چھٹی مردم شماری کے مطابق 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار 520 ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی موجودہ آبادی ساڑھے 22 کروڑ سے بھی تجاوز کر چکی ہے اس حساب سے آبادی کے لحاظ سے بڑے ممالک کی فہرست میں وطن عزیز چھٹے سے پانچویں نمبر پر آ چکا ہے لیکن ہم 2017 کی مردم شماری کے نتائج کو ہی قابل بھروسا سمجھتے ہیں۔
جس کے مطابق پاکستان آبادی کے لحاظ سے 2.40 فیصد شرح افزائش رکھنے والا دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے۔ کل آبادی کا 51 فیصد مرد اور 49 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے اگر حالیہ شرح افزائش آبادی کو کنٹرول نہ کیا جا سکا تو 29 سال میں پاکستان کی آبادی ڈبل ہو جائے گی اور 2050 میں بڑی آبادی والے ممالک کی فہرست میں چھٹے کے بجائے چوتھے نمبر پر پاکستان کا نام درج ہو گا۔ پاکستان کی 36 فیصد آبادی شہری جبکہ باقی ماندہ دیہی علاقوں میں مقیم ہے۔
پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے کل آبادی کا تقریباً 60 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ بھارت کی آبادی ایک ارب 37 لاکھ کے قریب ہے جو پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہے لیکن بھارت کی آبادی میں اضافہ کی شرح 1.08 ہے۔ آبادی والے بڑے چھ ممالک میں پاکستان کی شرح افزائش آبادی سب سے زیادہ 2.40 فیصد ہے۔ آٹھ ممالک کی فہرست میں نائجیریا جو کہ انتہائی پسماندہ ممالک میں شامل ہے کی شرح افزائش آبادی 2.60 فیصد ہے جو کہ پاکستان سے تھوڑی زیادہ ہے۔
آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے صوبوں کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو 11 کروڑ 12 ہزار کی آبادی کے ساتھ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے جس کی شرح افزائش آبادی 2.13 فیصد ہے اور اس شرح کے ساتھ 33 سالوں میں آبادی ڈبل ہو جائے گی۔ 2.41 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر 4 کروڑ 78 لاکھ 86 ہزار آبادی رکھنے والا صوبہ سندھ ہے۔ خیبر پختونخوا کی آبادی 3 کروڑ 5 لاکھ 23 ہزار اور شرح افزائش آبادی 2.89 فیصد ہے سندھ 29 اور خیبر پختونخوا کی آبادی آئندہ 24 سالوں میں دگنی ہو جائے گی۔ 1 کروڑ 23 لاکھ 44 ہزار نفوس کی آبادی رکھنے والا بلوچستان سب سے چھوٹا صوبہ ہے لیکن شرح افزائش آبادی 3.37 فیصد ہونے کی وجہ سے 21 سال کی مدت میں اس کی آبادی دگنی ہو جائے گی۔ پاکستان کی ٹوٹل آبادی کے حساب سے ہر عورت کے حصے میں 3.9 بچے آتے ہیں۔
پاکستان میں مانع حمل ادویات کے استعمال کی موجودہ شرح 31 فیصد ہے اور پاکستان دنیا بھر میں نومولود کی شرح اموات کے حوالے سے خطرناک ملک ہے ہر سال 45521 نومولود موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور 1 سے چار سال کی عمر کے 9816 بچے مر رہے ہیں۔ اگر مقررہ ہدف 50 فیصد تک مانع حمل ادویات کے استعمال کو بڑھایا جائے تو نومولود بچوں کی شرح اموات کو 15 ہزار سالانہ تک کم کیا جا سکتا ہے۔
مندرجہ بالا اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کے لیے بڑھتی ہوئی آبادی ایٹم بم سے کم خطرناک نہیں۔ لیکن ہم نے سامنے خطرہ محسوس ہونے کے باوجود کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ صرف ایک یا دو محکموں اور چند غیر سرکاری تنظیموں کو محدود مالی وسائل اور بوسیدہ ڈھانچوں کے ساتھ اہداف کے حصول کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے گزشتہ چھ دہائیوں سے آگاہی مہم تو جاری ہے لیکن بد قسمتی سے اسے متنازعہ بنانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ اسلامی ممالک ترکی، ایران اور بنگلہ دیش نے آگاہی مہمات کے نتیجے میں اہداف حاصل کر کے بغیر اختلافات کے مسئلہ پر قابو پا لیا ہے۔ لیکن ہم دیگر کئی مسائل کی طرح اس انتہائی حساس نوعیت کے مسئلہ پر بھی اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکے۔
اب کروڑوں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے ذرائع جو کہ ان کا بنیادی حق ہے کہا سے مہیا کیے جائیں؟ تعلیم اور صحت کی سہولیات کی طلب کس طرح پوری کی جائے؟
بچوں کی تربیت اور خوراک کی ضروریات کہاں سے پوری ہوں؟ باغات اور جنگلوں کی کٹائی کا کیسے سدباب ہو، قلت آب اور زرعی اراضی کی کمی جیسے سینکڑوں مسائل جو مستقبل میں درپیش ہوں گے سے دستیاب وسائل کے ساتھ کیسے نمٹا جائے گا؟
ہر سال 11 جولائی کو عالمی یوم آبادی تو ہم منا لیتے ہیں لیکن انفرادی اور اجتماعی طور پر کوئی فیصلہ کرنے یا ذمہ داری لینے کی کوشش نہیں کرتے۔ کئی دہائیوں سے ایک خطرے کو محسوس کرنے اور اس کی نوعیت سے واقف ہونے کے باوجود ہم خاموش ہیں۔ لیکن اب مزید خاموش رہے تو آئندہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اس لیے روشن مستقبل کے لیے آج سوچنا اور فیصلہ کرنا ہو گا۔ معاشرے کے مختلف طبقات اور ہر ذمہ دار و باشعور شہری پر لازم ہے کہ وہ آگے بڑھے اور اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔
محکمہ بہبود آبادی، محکمہ صحت اور سماجی تنظیموں کی آگاہی مہمات کو سنجیدہ لینا ہو گا بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلہ سے نبرد آزما ہونے کے لیے سوچ و فکر کو پروان چڑھانا ہو گا۔ تمام طبقات کو مسئلہ کے حل کی خاطر مل بیٹھ کر غور و خوض کرنا ہو گا۔ دین و شریعت سے رہنمائی لیتے ہوئے خود سمجھ کر دوسروں کو سمجھانا ہو گا۔ علمائے کرام اور مفتیان عظام کو بیداری شعور کی خاطر مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔
خیبر پختونخوا کی حکومت نے علمائے کرام سے مشاورت اور رہنمائی لینے کی خاطر صوبہ بھر میں سینکڑوں خطباء و آئمہ کرام کو خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کے متعلق تربیت دی ہے اور ان شعبوں میں جاری پروگراموں پر تعاون حاصل کیا ہے جس کے انتہائی مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں اس حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس میں علمائے کرام کا نقطہ نظر جاننے کا موقع ملا۔ بیشتر علمائے کرام نے کہا کہ انھیں بچے دو ہی اچھے جیسے بیانیہ سے اختلاف تھا اور مستقل مانع حمل طریقے اپنانے یا بچوں کی تعداد متعین کرنے کو تقریباً سب ہی مکاتب فکر کے علمائے کرام ناجائز سمجھتے ہوئے اختلاف رائے رکھتے تھے۔
لیکن صوبائی محکمہ بہبود آبادی کے حکام نے تربیتی ورکشاپس کے دوران واضح کیا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی پروگرام میں بچوں کی کوئی تعداد مقرر کرنے اور مستقل مانع حمل ادویات کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی بلکہ موزوں جوڑوں کو طویل مدتی رجوعی مانع حمل ادویات کے استعمال کی ترغیب دی جاتی ہے اور بلا عذر اسقاط حمل کرنے پر سختی سے پابندی عائد ہے۔ قرآن و حدیث کے مطابق مدت رضاعت کی تکمیل جو بچوں کا بنیادی حق ہے اور ماں و بچہ کی صحت کا خیال رکھنے کی آگاہی دی جاتی ہے۔
علمائے کرام کے مطابق خاندانی منصوبہ بندی پر حالیہ بیانیہ جاننے کے بعد اکثریتی علماء نے موجودہ معاشرتی و معاشی حالات کے پیش نظر وسیع تر قومی مفاد میں خاندانی منصوبہ بندی کی آگاہی مہم کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جہاں کوئی عمل اسلامی تعلیمات کے منافی ہوا تو علمائے کرام اصلاح کر کے اپنی ذمہ داری پوری کریں گے۔ سائنسی معلومات اور دینی تعلیمات کے مطابق ماں اور بچوں کی صحت، نشوونما اور بہترین تعلیم و تربیت کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کی آگاہی مہم کا بھرپور ساتھ دیا جائے گا۔
خیبر پختون خواہ حکومت اور علمائے کرام کی جانب سے اتفاق رائے پیدا کرنے کی خاطر مل بیٹھنا انتہائی احسن و قابل تعریف اقدام ہے جس کو معاشرے کے مختلف طبقات و مکاتب فکر اپنے لیے مثال بنائیں اور بڑھتی ہوئی آبادی کے توجہ طلب مسئلہ پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حصہ کا مثبت کردار ادا کریں۔ موجودہ دور میں پاکستان مسائلستان بنا ہوا ہے اگر اب بھی بڑھتی ہوئی آبادی کے توجہ طلب مسئلہ کو نظر انداز کیا گیا تو خدانخواستہ ہمارا پیارا وطن مسائل اور بحرانوں کی دلدل میں مزید دھنستا چلا جائے گا۔

