آصف عمران کا افسانوی مجموعہ: لوح تحیر

افسانہ نگاری اصناف نثر کی مقبول ترین صنف ہے۔ یہ صنف نہ صرف دلچسپی کا محور ہے بلکہ اثر پذیری کے اثرات سے بھی بھرپور ہوتی ہے۔ جو وحدت تاثیر سے لے کر زمان و مکان تک خیالات کی عکاسی کرتی ہے۔
کسی نقاد نے کیا خوب کہا ہے۔
افسانہ فکری داستان ہے جس میں کسی خاص واقعہ یا کردار پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اس کا بیانیہ انداز جس قدر شگفتہ ہو یہ اسی قدر اثر قبولیت پیدا کرتا ہے۔
یوں تو افسانہ نگاری کی بے شمار اقسام ہیں البتہ چار ایسی اقسام ہیں جو ہمہ گیریت کا دامن تھام لیتی ہیں اور زیادہ تر افسانے انہی گرہ میں باندھے جاتے ہیں۔ مثلاً موضوعاتی افسانہ، واقعاتی افسانہ، نفسیاتی افسانہ اور کرداری افسانہ
افسانہ لکھتے ہوئے اس کے اجزائے ترکیبی ترتیب و تنظیم سے منظم ہوتے ہیں۔ تاکہ ایک بہتر تاثیری، تعمیری اور تخلیقی افسانہ لکھا جائے اور اس بات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تاکہ افسانے کا اسلوب شیریں اور شگفتہ بیانی پر مشتمل ہو۔ یہ ناول کی طرح طویل نہیں ہوتا بلکہ مختصر تحریر پر مبنی ہوتا ہے تاکہ قاری کے ذہن و قلب پر گہرے نقوش مرتب ہوں۔
اگر افسانے کے آغاز اور ارتقاء پر روشنی ڈالی جائے تو یہ انگریزی ادب سے منتقل ہوا امریکا فرانس اور روس کے ادبا نے اس صنف میں کمال شہرت پائی اور دنیا بھر میں اپنی قلم کا لوہا منوایا۔ بے شک انسان کو ادب کے فنی اور نفسیاتی اثرات صدیوں تک زندہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے
کہ عصری تقاضوں میں اس کی عمدہ امثال موجود ہیں۔
البتہ لکھنے والے پر یہ شرط اور فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اسے خاص ترتیب و تدوین سے لکھے۔ تاریخ کے مطابق اردو کا پہلا افسانہ نگار سجاد حیدر یلدرم ہے۔ بعد ازاں پریم چند کے افسانوں نے جو شہرت اور مقام پایا وہ تاریخ کے سنہری اوراق میں قلمبند ہے۔ اگرچہ پریم چند کے افسانے سیاسی، معاشرتی، ذہنی، تہذیبی، جذباتی معرقوں سے مزین تھے اور ساتھ ہی ان میں دیہی زندگی کا محور بھی شامل تھا۔ اس نے اپنی ساکھ کو راکھ میں ملنے نہیں دیا۔
اسی طرح جدید دور کے افسانہ نگاروں میں سعادت حسن منٹو اور راجندر سنگھ بیدی، غلام عباس، محمد حسن عسکری، احمد ندیم قاسمی، اے حمید، کرشن چندر، علی عباس حسینی، خواجہ احمد عباس، اشفاق حسین، غلام ثقلین، سلمہ اعوان، غلام حسین ساجد، منظور راہی، اصغر ندیم سید اور طارق بلوچ صحرائی اور کئی ایسے خوبصورت نام جنہیں میں نہیں جانتا افسانہ نگاری میں شامل ہیں۔
اگرچہ تخلیقی فن پارے خواہ کسی بھی زبان اور صنف میں لکھے ہوں ان کے اثرات کی خماری، رعب اور دبدبہ ذہن و قلب میں نقل مکانی کر جاتا ہے۔ میرے نزدیک تخلیق کی چاشنی صرف اہل ذوق لوگوں کو ہضم ہوتی ہے باقی اگر کوئی علم و ادب کی بھوک اور پیاس رکھے تو وہ سفر طے کر کے چشمے تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ کیونکہ ادب کا سایہ شرینی اور ٹھنڈک انہی لوگوں کو راس آتا ہے جن کا شغف اور جستجو جذبات سے لبریز ہو۔ بے شک تخلیق انسان کو باذوق اور باوقار بناتی ہے۔ یہ شعور و آگاہی کا خوبصورت عنصر ہے جو تاثیر سے تعبیر تک کارآمد ہے۔
اسی طرح ہمارے درمیان آصف عمران وہ تخلیقی منش ہے جس کا نام اور کام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کے افسانوں میں فکری آبیاری کے عناصر کوٹ کوٹ کر بھرے نظر آتے ہیں۔ وہ عصر حاضر میں جدید طرز کے افسانہ نگار ہیں نہ ان کے دل میں برائی، نہ ذہن میں فتور، نہ ہاتھ میں تلوار، نہ پاؤں میں زنجیر بلکہ اپنے ہاتھ میں قلم کی سیاہی سے علم اور فن کی دولت بانٹتے نظر آتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں فکری عوارض کی وہ پرتیں موجود ہیں جہاں فکر اور سوچ کا جذبہ کشید ہوتا ہے۔ وہاں یہ افسانے روشی بحالی اور فنی چابک دستی سے بھرپور دکھائی دیتے ہیں جو فنی تاثر اور تعمیر میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان کی کتاب ”لوح تحیر“ میں گیارہ افسانے شامل ہیں جن کا طرز تحریر منفرد، علامتی، اور فکری عوامل سے پر ہے۔
ان کے ہر افسانے کی اجزائے ترکیبی کو دیکھ کر ایسے لگتا ہے جیسے قدرت نے ان کو فنی رازداری بخشی ہے۔ ادب ایک سمندر ہے جس میں چھلانگ لگانا تو آسان ہے لیکن باہر آنا اتنا ہی مشکل ہے۔ ان کی افسانوی پرتیں قارئین کو آسانی سے ہضم نہیں ہوتیں بلکہ انہیں پہلے منہ میں رکھ کر کئی گھنٹے جگالی کرنی پڑتی ہے تب کہیں جا کر قلب و ذہن تک وہ بات پہنچتی ہے۔
مذکورہ افسانوں میں ان کے شعوری اور حسی قو توں کا توازن خدا کی خاص فضیلت کا تحفہ ہے۔ ان کا پختہ شعور اس بات کا علمبردار ہے کے وہ الہامی فضیلت کو اپنے افسانوں میں اس طرح قلم بند کرتے ہیں تاکہ قاری غور و فکر پر مجبور ہو جائے۔
وہ اپنے افسانوں کا آغاز اور اختتام اس عمیق انداز سے کرتے ہیں کہ خارجی اور باطنی مشاہدات روح میں اتر جاتے ہیں۔ ان کے ہر افسانے میں تسلسل، شگفتگی، زندگی، پاکیزگی، تاثراتی عمل کا ثبوت ملتا ہے جس سے قاری کی دلچسپی شروع سے آخر تک برقرار رہتی ہے۔ میں فاضل دوست کو خوبصورت اور جمالیاتی طرز کے افسانے لکھنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ خدا انہیں افسانہ نگاری میں اور زیادہ سرفرازی عطا کرے کیونکہ سرفرازی نہ مشرق سے اور نہ مغرب سے آتی بلکہ خدا کی طرف سے آتی ہے۔

