تو کیا اب اس چوری کے ایڈیشن پہ آٹو گراف دینا پڑے گا مجھے؟ (قرۃالعین حیدر)۔
قرۃالعین حیدر: اور اب ’چاندنی بیگم‘ کا سرورق بھی میں نے ہی بنایا ہے۔ وہ کتاب شاید تم نے دیکھی نہیں ابھی۔
حامد یزدانی: جی، ابھی دیکھی نہیں وہ کتاب میں نے۔
قرۃالعین حیدر: دیکھئے، وہ پڑی ہے اس طرف۔ ابھی دیکھ لو۔
حامد یزدانی:جی ضرور۔ بہت عمدہ اور بامعنی ہے یہ سرورق بھی۔
قرۃالعین حیدر: ہاں، تو تصویریں بناتے ہیں ہم۔ کچھ شوق ہے اور بس۔
حامد یزدانی: میرا سوال یہ تھا کہ کب سے ہے یہ شوق؟
قرۃالعین حیدر: ہمیشہ سے۔ بچپن سے۔ جیسے بچے تصویریں بنایا کرتے ہیں ویسے ہی بنایا کرتی تھی۔ اور پھر بڑے بڑے فن کاروں کے فن پارے اور نمائشیں دیکھنے کے مواقع بھی ملے۔
حامد یزدانی: اس فن کی باقاعدہ تربیت کہیں سے حاصل نہیں کی؟
قرۃالعین حیدر: نہیں، زیادہ نہیں۔ ہاں، کچھ ماہ کے لیے لکھنو سکول آف آرٹ جوائن کیا تھا میں نے اور پھر لندن میں کچھ دنوں کے لیے ایک کورس میں شرکت کی تھی۔ بس شوق ہے۔ جی چاہا تو کچھ بنالیا نہیں بنایا تو مہینوں، برسوں کچھ نہیں بنایا۔
حامد یزدانی: ایک سوال خاص طور سے آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ۔۔۔
قرۃالعین حیدر:۔ کہ ہندوستان میں اردو کی صورت حال کیا ہے؟
حامد یزدانی: نہیں، نہیں اس بارے میں نہیں۔
قرۃالعین حیدر: اگر پوچھو گے بھی تو میں جو اباً تم سے پوچھوں گی کہ تم بتاؤ پاکستان میں اردو کی صورت حال کیا ہے؟ ہندوستان میں تو بائیس زبانوں میں سے ایک زبان ہے یہ۔ پاکستان کی تو یہ قومی زبان ہے۔ وہاں کیا حالت زار ہے اس کی؟
حامد یزدانی: یہ سوال تو میں کر ہی نہیں رہا۔ میرا سوال تو جمیل الدین عالی صاحب کے ایک بیان کے حوالے سے تھا کہ۔۔۔
قرۃالعین حیدر: افوہ! وہی نا کہ قرۃالعین حیدر پاکستان چھوڑ کر ہندوستان کیوں چلی گئی؟ بھئی، ان سے کوئی پوچھے کہ تقسیم کے وقت تو لاکھوں لوگ ہندوستان سے نقل مکانی کر کے پاکستان آئے تھے تو ایک بے چاری عورت پاکستان سے ہندوستان چلی گئی تو کون سی قیامت آ گئی! اتنے برس ہو گئے، بھول کیوں نہیں جاتے وہ اس بات کو ؟ بات کروں گی ان سے۔ اسی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں وہ۔ (میری بیگم سے مخاطب ہوتے ہوئے ) طاہرہ دیکھو، ادھر ٹیبل پر فون کے پاس مہمانوں کی لسٹ پڑی ہے اگر اس میں عالی کے کمرے کی ایکسٹنشن ملے تو ذرا فون ملاؤ۔ میں کہتی ہوں ابھی بات صاف کر لیتی ہوں اس سے۔ کب یہ لوگ جان چھوڑیں گے میری۔
(طاہرہ میز کی طرف چلی جاتی ہیں اور فون ملانے لگتی ہیں )
حامد یزدانی: عینی آپا، میں بات یہ کرنا چاہتا تھا کہ طاہر مسعود کی کتاب ’یہ صورت گر کچھ خوابوں کے‘ میں عالی جی کا جو انٹرویو شامل ہے غالباً اسی میں انہوں کہا ہے کہ پاکستان رائٹرز گلڈ سے انعام نہ ملنے کا دکھ بھی آپ کے پاکستان چھوڑنے کا سبب بنا۔ بہرحال رہنے دیتے ہیں اب اس قصے کو ۔
قرۃالعین حیدر: ہاں، چھوڑ ہی دو ان پرانی باتوں کو ۔ ویسے میں نے طاہر مسعود کی کتاب دیکھی تو تھی۔ وہ خود اچھے رائٹر ہیں۔ ( طاہرہ کی طرف دیکھتے ہوئے ) فون ملا کیا؟
طاہرہ : جی نہیں۔ کوئی اٹھا نہیں رہا۔ شاید وہ کمرے میں نہ ہوں۔
حامد یزدانی: چلیے، ان سے پھر بات کر لیجیے گا۔ ہم واپس آتے ہیں تخلیق کاری کے عمل کی طرف۔ آپ نے متعدد کام یاب ناول اور خوب صورت افسانے لکھے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ناول ہو یا افسانہ اس کی بنیاد تو کہانی ہی ٹھہرتی ہے۔ یہ بتائیے کہ آپ کے نزدیک کہانی افسانہ کب بنتی ہے؟
قرۃالعین حیدر: کہانی افسانہ اس طرح بنتی ہے کہ آپ نے کوئی واقعہ دیکھا یا کوئی واقعہ آپ کے ذہن میں ہے یا کوئی چیز آپ نے دیکھی تو اگر تو آپ نے اس کا سمپل نیریشن کر دیا، سیدھے سیدھے بیان کر دیا تو وہ تو بس ایک واقعہ ہی ہے ایک اینک ڈوٹ ہے۔ آپ نے بیان کر دیا کہ صاحب میں جا رہا تھا سڑک پراور میں نے دیکھا کہ ایک عورت پھول بیچ رہی تھی۔ اس کے پاس کچھ پیسے رکھے ہوئے تھے اور ایک آدمی آیا، اچکا، وہ پیسے اٹھا کر بھاگ گیا اس غریب عورت کے۔
تو یہ افسوس ناک اور المناک واقعہ ہے چھوٹا سا۔ اب تخلیق کار کے طور پر اسی کو آپ کسی اور طریقے سے پیش کریں گے۔ اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ نے اسے کسے ڈھنگ سے پیش کیا ہے۔ میں اس بات کی چھوٹی سی مثال دیتی ہوں آپ کو ۔ یہ حوالہ میرے ذہن سے کبھی نکلتا ہی نہیں۔ خالدہ ادیب خانم بہت بڑی رائٹر تھیں ترکی کی۔ اپنے ایک افسانے میں انہوں نے بس ایک شام بیان کی ہے انقرہ کی، پہلی جنگ عظیم کے بعد کی جب ترکی جنگ ہارا ہے اور وہاں پر بڑی سخت اداسی اور مایوسی کا سماں ہے اور ایک ہاری ہوئی قوم کی جو حالت ہوتی ہے، پورا ماحول ایسا تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ شام کا وقت تھا اور میں جا رہی تھی سڑک کے اوپر، بازار میں کہ ایک بچہ، نوعمر لڑکا ننگے پیر، سردی کا زمانہ، چیتھڑے پہنے ہوئے اور وہ اخبار بیچ رہا تھا۔ انہیں وہ لڑکا بہت پیارا لگا۔ اسے دیکھ کر انھیں کچھ دکھ بھی ہوا۔ انھوں نے اس سے اخبار لیا اور قیمت سے زیادہ پیسے دیے۔ اس نے بڑی خود داری سے کہا کہ نہیں اتنے ہی پیسے دیجئے جتنے کا اخبار ہے۔ ان کے پوچھنے پر لڑکے نے بتایا کہ اس کا نام مصطفے ٰ ہے۔
اس کے والد جنگ میں مارے گئے ہیں اور یہ کہ وہ اخبار بیچ کر اپنے خاندان والوں کے لیے روزی روٹی کا بندوبست کرتا ہے۔ یہ کہہ کر وہ اخبار کا نام چلاتا ہوا بھیڑ میں کھو گیا۔ اب یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ اس طرح کے ہزاروں واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ ہر جگہ ہو رہے ہیں۔ اور جہاں جنگ ہوگی وہاں ضرور ہوں گے۔ کتنے ایسے واقعات افغانستان میں ہوئے ہوں گے۔ کتنے عراق میں ہوئے ہوں گے۔ اور جانے کہاں کہاں ہوئے ہوں گے۔ ہمارے مشرق میں تو اس قسم کی ٹریجڈی یا اس قسم کا کرب اور رقت آمیزی، اور پھر ہمت اور مجبوری یہ سب چیزیں موجود ہیں۔
ہم دیکھتے نہیں۔ دیکھتے بھی ہیں تو پرواہ نہیں کرتے کیونکہ ہمیں ان کی عادت پڑ گئی ہے۔ اور اگر پراہ بھی کرتے ہیں تو ہر کوئی رائٹر نہیں ہوتا جو اس کو لکھے۔ اس ایک منے سے واقعے کو خالدہ ادیب خانم نے ایسی دل دوز کہانی میں ڈھال کر پیش کیا ہے کہ میں اس کو بھول ہی نہیں پاتی۔ تو یہ فرق ہوتا ہے۔ دراصل یہ لکھنے والے کے طرز بیان پر ، اس کی بصیرت پر اور اس ایک ایکسٹرا اور خاص چیز پر منحصر ہے جو اسے رائٹر بناتی ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
حامد یزدانی: آپ نے بھی بے شمار لکھے ہیں کوئی ایسا ہی چھوٹا سا واقعہ کیا ا آپ کو یاد ہے جوا فسانہ بن گیا ہو؟
قرۃالعین حیدر: واقعات تو بے شمار ہوں گے مگر فوری طور پر کوئی خاص ذہن میں نہیں آ رہا۔
حامد یزدانی: چلیے کوئی بات نہیں۔ بہت شکریہ کہ آپ نے گفت گو کے لیے وقت دیا۔
قرۃالعین حیدر:بہت بہت شکریہ۔ کیا تم لوگ بھی یہاں سے سیمینار کے شام کے سیشن کے لیے جا رہے ہو؟
حامد یزدانی: جی، ادھر ہی جانا ہے۔
قرۃالعین حیدر: تو اکٹھے ہی چلتے ہیں۔ بس میں ذرا تیار ہو جاؤں۔
حامد یزدانی: ٹھیک ہے۔ آپ تیار ہو کر لابی میں آ جائیے۔ ہم آپ کو وہیں ملیں گے۔ ڈاکٹر گوئبل گروس بھی ہمارے ساتھ ہوں گے۔
قرۃالعین حیدر: چلو، ٹھیک ہے۔ نیچے لابی میں ملتے ہیں۔ خدا حافظ
حامد یزدانی اور طاہرہ: خدا حافظ۔
…………………………..

