تو کیا اب اس چوری کے ایڈیشن پہ آٹو گراف دینا پڑے گا مجھے؟ (قرۃالعین حیدر)۔


”۔ تو کیا اب پاکستان میں چھپے ان چوری کے، پائریٹڈ ایڈیشنز پہ آٹو گراف دینا پڑے گا مجھے؟“

اردو کی نام ور ادیبہ قرۃالعین حیدر یعنی عینی آپا میرے ہاتھ سے اپنی کتاب لیتے ہوئے مسکرا کر کہہ رہی تھیں۔ اب بھلا میں کیا کہتا۔

عینی آپا سے گفتگو کا وقت اسی روز برلن میں منعقدہ انٹرنیشنل اردو سیمینار کے ظہرانے کے بعد طے کیا تھا۔ جب وہ ایک جرمن ٹی وی صحافی سے ”دو دو ہاتھ“ کر کے لوٹ رہی تھیں۔ میں وہیں ایک طرف کھڑا ان کے فارغ ہونے کا منتظر تھا جب اس خاتون صحافی نے عینی آپا سے ان کے پاکستان چھوڑنے کے بارے میں سوال ”داغا“ ۔ اسے معلوم نہ تھا کہ عینی آپا اس موضوع کے حوالہ سے خاصی حساس ہیں۔ چنانچہ انہوں نے جواباً اس خاتون صحافی کی خوب خبر لی۔

اس سے دریافت کیا کہ یہ کون سا سال ہے؟ پھر کہا کہ اب بتاؤ جس واقعہ کے بارے میں تم استفسار کر رہی ہو اس کو کتنے برس ہو گئے؟ اور یہ کہ اتنی پرانی بات میں کسی کو کیا دل چسپی ہو سکتی ہے اب؟ گویا سوال وقت سے ریلیونٹ ہونا چاہیے۔ صحافی ہڑبڑا سی گئیں مگر وہ اب بھی انٹرویو جاری رکھنا چاہتی تھیں تاہم عینی آپا یہ کہہ کر کہ لنچ کا وقت ہو رہا ہے۔ وہاں سے چل دیں۔ اسی وقت میری ہم، کار خواتین شہناز حسین، شہلا علاؤالدین، فرزانہ حسین اور سینی دیدی جو سیمینار میں شرکت کے لیے کولون سے آئی تھیں آگے بڑھیں اور عینی آپا کو گھیر کر کھڑی ہو گئیں۔

رسمی تعارف کا دور چلا اور اسی دوران مجھے بھی متعارف کروا دیا اور ساتھ ہی ریڈیو کے لیے انٹرویو کی بات بھی کرلی۔ یوں سہ پہر کو ہوٹل ہی میں ملاقات طے پائی۔ میں نے ان کی چند کتابیں جرمنی آتے ہوئے آتے ہوئے جو لاہور سے خریدی تھیں اپنے دائیں ہاتھ میں اٹھا رکھی تھیں جبکہ بائیں کندھے پر میرا ریکارڈر والا سیاہ بیگ جھول رہا تھا۔

یہ 1991کے موسم بہار کی ایک دل کش سہ پہر کا ذکر ہے۔ جب وائس آف جرمنی کے اردو، ہندی اور بنگالی نشریاتی شعبوں کے جرمن سربراہ ڈاکٹر گوئبل گروس کے ساتھ میں اور میری بیگم طاہرہ شہر برلن کے مرکزی حصہ سے کچھ دور واقع اس ہوٹل پہنچے تھے جس میں بھارت سے آئی عینی آپا ٹھہری ہوئی تھیں جن کے ناول اور افسانے آگ کا دریا، آخر شب کے ہمسفر، میرے بھی صنم خانے، کار جہاں دراز ہے، گردش رنگ چمن اور چاندنی بیگم کی صورت میں اردو دنیا کو مسحور کیے ہوئے تھیں۔

ڈاکٹر گوئبل گروس بھی ان کی اہمیت اور شہرت سے بخوبی آگاہ تھے۔ ایک تو انھوں نے پی ایچ ڈی بھارت سے کی تھی اور دوسرے وہ فرینکفرٹ میں کتابوں کے عالمی میلے میں بھی عینی آپا سے مل چکے تھے۔ میرا خیال تھا وہ بھی ساتھ چلیں گے مگر انہوں نے جانے کیا سوچ کر لابی ہی میں بیٹھ کر اکیلے کافی پینے کو ترجیح دی۔ سو، میں طاہرہ کے ساتھ عینی آپا کے کمرے کی طرف روانہ ہو گیا۔

عینی آپا کا کمرہ چوتھی منزل پر تھا۔ میں اور طاہرہ دروازے پر پہنچے اور آہستہ سے دستک دی۔ وہ گویا اندر ہماری منتظر ہی تھیں۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے دروازہ کھولا اور ہمارا مکالمہ آغاز ہو گیا۔

قرۃالعین حیدر: ارے، تم آ گئے۔ (یہ کہہ کر ہمیں اندر آنے کا راستہ دیا)

حامد یزدانی: جی، ملاقات طے ہو گئی تھی۔ آنا تو تھا۔ یہ میری بیگم ہیں، طاہرہ۔ ( میں نے بیگم کا تعارف کروایا)

قرۃالعین حیدر: طاہرہ؟ بھئی یہ تو میرا فیورٹ نام ہے۔ کیونکہ یہ میری پسندیدہ شاعرہ کا نام ہے : قرۃالعین طاہرہ۔ کمال کی شاعرہ ہے وہ۔ آج کا دن بھی بہت مصروف رہا۔ پہلے چائے پی لیتے ہیں پھر باتیں کریں گے۔ کیا خیال ہے؟

حامد یزدانی: جی ضرور۔
طاہرہ یزدانی: آپ لوگ باتیں کریں میں چائے بنا دیتی ہوں۔
قرۃالعین حیدر: شکریہ طاہرہ۔ ( پھر میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے ) چلو شروع ہو جاؤ۔

حامد یزدانی: عینی آپا، یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آپ ثقافتوں کے عالمی ادارے کے تحت منعقدہ بین الاقوامی سیمینار کے لیے جرمنی کے شہر برلن تشریف لائیں اور یوں ہمیں بھی آپ سے ہم کلام ہونے کا موقع مل گیا۔ سب سے پہلے یہ فرمائیے کہ ادھر مغرب میں مشرقی ادب کی نمائندگی کرتے ہوئے آپ کیسا محسوس کر رہی ہیں؟

قرۃالعین حیدر: بھئی، ایسے ادبی اجتماعات تو اکثر ہوتے رہتے ہیں مشرق میں بھی اور مغرب میں بھی اور ان سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مل بیٹھتے ہیں، بات چیت کرلیتے ہیں اور اس سے آگے، میرے خیال میں، کچھ بات نہیں۔ کیونکہ جو اصلی چیز ہے کہ ان اجتماعات کے نتیجے میں عالمی برادری بننی چاہیے وہ نہیں بنتی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے مابین کئی طرح کی رکاوٹیں حائل ہیں جن میں سیاسی حد بندیاں بہت نمایاں ہیں۔ اور مغرب کا جو مشرق پر تسلط رہا ہے اس کی وجہ سے جو اجتماعی رویے ہیں مغرب کے وہ بہت حد تک حائل ہوتے ہیں اس میں ایک تو میڈیا کا کردار ہے۔

مثلاً کل ہی ہم لوگ اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ برصغیر کے ادیبوں کی کتابیں یعنی مشرقی ادیبوں کی اور خاص کر اردو ادیبوں کی کتابیں مغرب میں نہیں شائع ہوتیں۔ کیوں شائع نہیں ہوتیں؟ اب اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ہاں، سوشلسٹ ممالک میں اردو کتابیں چھپتی تھیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں چھپتی تھیں اور اس کے پیچھے بھی سیاسی کارفرمائی کا عمل دخل رہا۔ اب اس کی تفصیل میں جانے کا موقع نہیں۔ تو ادب اس وقت بہت سی پالیسیوں اور بہت سے نظریات کا شکار ہے۔ یا جو بھی کہہ لیں۔ ایسے اجتماعات کا انعقاد بہرحال اچھی بات ہے لوگ مل بیٹھیں، باہم بات چیت کریں مگر میں پھر کہوں گی کہ جو کلچرل بیریئر یا ثقافتی رکاوٹ ہے، جو ذہنی تحفظات ہیں لوگوں کے اور جو حد بندیاں ہیں ان کی وجہ سے کمیونی کیشن نہیں ہو پاتا ایسٹ اور ویسٹ کے درمیان اور اگر ہوتا بھی ہے تو بہت کم۔

حامد یزدانی: آپ مشرق اور مغرب کے تعلقات پر بات کر رہی ہیں اور وہ بھی جرمن سرزمین پر تو میں یہ بھی پوچھتا چلوں کہ خاص کر جرمنی کے وہ کون سے ادیب تھے جو آپ کو زیادہ پسند رہے ہیں؟

قرۃالعین حیدر: دیکھو، جرمنی کے ادیبوں کی بات تو یہ ہے کہ جرمنی سے ہمارا جو ذہنی رشتہ رہا ہے وہ بہت پرانا ہے اور وہ رشتہ شروع ہوتا ہے پچھلی صدی کے آخر سے اور دل چسپ بات یہ ہے کہ تب تک شاید بہت سے لوگوں نے جرمن ادب اور ادیبوں کو پڑھا بھی نہ ہو لیکن جرمن موسیقی، جرمن آرٹ اور جرمن فلسفہ اور دوسری چیزوں کا تذکرہ لوگ ضرور سنتے رہیں رہے تھے۔ اچھا، اس کے بعد علامہ اقبال وسیلہ بنتے ہیں۔ علامہ اقبال، جیسا کہ سب کو معلوم ہے، جرمن فلسفے اور فلسفیوں سے خاص دل چسپی رکھتے تھے۔

اچھا، پھر یہ کہ ٹامس من اور دوسرے کلاسیکی ادیبوں سے ہم متعارف ہوئے۔ ان کے بعد جو ماڈرن رائٹرز ہیں یا جرمنی کے ماڈرن لٹریچر کے تذکرے جو ہوئے ہیں ان میں سب سے مشہور تو کرسٹوفر اشروڈ کا ناول ہے ’گڈ بائے ٹو برلن‘ ۔ تو ان سب سے جرمنی اور جرمن ادب کے متعلق ہمارے ہاں ایک رومانس بنا ہوا تھا اور پھر بیچ میں کیا ہوا کہ جنگ آ گئی تو پورے معاملات ہی بدل گئے۔ ہم برطانیہ کی کالونی یا نوآبادی تھے تو ہمارے رویے بھی مختلف بن گئے یا بنا دیے گئے۔

شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہو کہ اس دور میں ہندوستان میں جو قوم پرست یا انقلابی طبقہ تھا اس میں چٹوپا دھیائے اور مولانا برکت اللہ اور بہت سے انقلابی شامل تھے تو وہ چونکہ برطانیہ کے خلاف تھے وہ سب آتے تھے جرمنی اور وہ یہاں بیٹھ کر اپنی منصوبہ بندی وغیرہ کرتے تھے۔ جیسے برابر ہوا ہے کہ ماسکو سے لوگ بھاگ کر آئے اور پیرس میں جمع ہو گئے۔ ہندوستان سے بھاگ کر آئے تو جرمنی میں، برلن میں بیٹھ گئے۔ اور جو نئے یا نوجوان قوم پرست تھے جیسے عابد حسین، ذاکر حسین اور ڈاکٹر حمید۔ اور بھی بہت سے تھے جو کہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ برطانیہ کی یونی ورسٹیوں میں پڑھیں وہ بھی جرمنی آتے تھے۔ ظاہر ہے برطانیہ سے مخالفت کے سبب یہ نوجوان جرمنی کو اچھا سمجھتے تھے اور اسے ایک آزاد ملک تصور کرتے تھے کیونکہ وہاں وہ کسی دباؤ یا تسلط کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی مرضی سے جاتے تھے۔

حامد یزدانی: جرمنی اور جرمن ادب سے آپ کی ذاتی دل چسپی کا آغاز کب ہوا؟

قرۃالعین حیدر: بھئی، مجھے جرمنی سے شروع ہی سے، بچپن ہی سے اس لیے فیسینیشن رہا کہ گرم بردرزکی پریوں کی یا دیومالائی کہانیاں مجھے بے حد پسند تھیں۔ بھئی، جرمنی کا ایک جو رومانس ہے وہ پریوں کی کہانیوں کا ہے، اولڈ کیسلز کا، پرانے محلات کا ، مڈیول رومانس یعنی قرون وسطیٰ کے ایک رومانوی تصور کاہے۔ میوزک ہے اور پھر فاؤسٹ، گوئٹے ۔ بہت سی اہم تصانیف، شخصیات اور چیزیں ہیں جن سے جرمنی کا تصور بنتا ہے اور یہ تصور، یہ امیج میرے لیے ہمیشہ دل چسپی کا باعث رہا۔

حامد یزدانی: آپ کی اس دل چسپی کا ثبوت تو ہمیں ’کار جہاں دراز ہے‘ کے افسانوں میں بھی ملتا ہے جن کے مناظر میں جابجا یورپ اور خاص کر جرمن ماحول کی خوشبو بکھری ہوئی ہے۔

قرۃالعین حیدر: ہاں، یہ بات دیکھو گے تم میرے ہاں۔ اچھا، یہ بتاؤ اتم کب سے ہو یہاں، جرمن ماحول میں؟

حامد یزدانی:مجھے تو کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا یہاں۔ 1989 میں پہلی بار آنا ہوا تھا۔

قرۃالعین حیدر: میں نے سنا ہے کہ بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے پاکستان سے آئے سیاسی اور مذہبی پناہ گزینوں کو ۔ سفر کی صعوبتیں اور پھر مختلف ماحول۔

حامد یزدانی: جی، یقیناً مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے انھیں۔ تاہم میرا ایسا کوئی ذاتی تجربہ نہیں۔ میں پہلی بار تعلیمی اور تفریحی سلسلہ میں آیا تھا اور اب گزشتہ برس سے ریڈیو ڈوئچے ویلے، دی وائس آف جرمنی کی اردو نشریات سے منسلک ہو کر لاہور سے کولون آیا ہوں۔

قرۃالعین حیدر: اچھا تو لاہور سے ہو۔ تعلیم وغیرہ بھی وہیں ہوئی ہوگی!

حامد یزدانی: جی بالکل۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے کیا تھا اور پھر ایم اے سوشیالوجی پنجاب یونی ورسٹی سے۔

قرۃالعین حیدر : ارے واہ۔ سوشیالوجی کا سبجیکٹ تو مجھے بے حد پسند ہے۔ اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور! بھئی، اس کالج کا تو بڑا نام ہے۔ کیسی کیسی شخصیات اس سے وابستہ رہیں۔ ہمارے دوست ادیب ڈاکٹر سلیم اختر بھی تو وہیں ہیں۔ جانتے ہو تم انھیں؟

حامد یزدانی: ایف اے میں میرے اردو کے پروفیسر وہی تھے۔

قرۃالعین حیدر : بہت خوب۔ ہمارے اچھے دوست ہیں۔ بہت اچھے ادیب اور نقاد ہیں۔ ان کی کتابیں انڈیا میں بھی دست یاب ہیں۔

حامد یزدانی: کتابیں تو آپ کی بھی لگ بھگ سبھی پاکستان میں شائع ہو چکی ہیں اور شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ یہ دیکھئے کچھ تو میرے پاس بھی ہیں۔ لاہور سے آتے ہوئے لایا تھا۔ ’میرے بھی صنم خانے‘ ہے، ’گردش رنگ چمن‘ ، ’آخر شب کے ہمسفر‘ ہے۔ یہ دیکھیے۔ سوچا آپ سے ملاقات ہوگی تو ان پر آٹو گراف بھی لے لوں گا۔ ”

قرۃالعین حیدر ( کتابیں ہاتھ میں لے کر الٹ پلٹ کر کے دیکھتے ہوئے ) : ارے بابا، یہ سب تو پائریٹ ایڈیشنز ہیں۔ چوری کے ہیں۔ بلا اجازت شائع کی گئی ہیں۔ نہ ہم سے پوچھا گیا۔ نہ کوئی رائلٹی طے کی گئی۔ پاکستان میں یہی کچھ ہوتا ہے۔

حامد یزدانی: برا مت مانیے گا یہ جو ڈاکٹر سلیم اختر سمیت سبھی اہم پاکستانی لکھاریوں کی کتابیں ہندوستان میں مقبول ہیں۔ کیا وہ اجازت کے ساتھ اور رائلٹی طے کر کے چھاپی گئی ہیں؟ اب اشاعتی حقوق کے حوالے سے دوطرفہ قانونی معاملات تو پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کو طے کرنا ہوں گے۔ مجھ سے قاری تو پڑھنے سے مطلب رکھتے ہیں۔ کیا کریں!

قرۃالعین حیدر : ہاں، یہ بات تو ہے۔ دونوں طرف سے کچھ سرکاری پیش رفت ہونا چاہیے اس سلسلے میں۔ ( ہنس کر ، میری طرف دیکھتے ہوئے ) تو کیا اب ان چوری کے ایڈیشنز پہ آٹو گراف دینا پڑے گا مجھے؟ ”

حامد یزدانی: اور کوئی صورت ابھی ہے نہیں۔
قرۃالعین حیدر: اور ہاں یہ تم ’ہندوستان‘ بڑا چبا کر بولتے ہو۔ میں نے نوٹ کیا ہے یہ۔ ایسا کیوں؟
حامد یزدانی: ایسا کچھ نہیں۔ آپ کا احساس ہے بس۔ چلیے اب میں ہندوستان کے بجائے بھارت کہہ لوں گا۔ ٹھیک؟

قرۃالعین حیدر: اچھا اچھا لاؤ۔ انہی پائریٹڈ ایڈیشنز پر ہی دیے دیتی ہوں آٹو گراف۔ کیا یاد کرو گے۔ لیکن طاہرہ کا نام بھی لکھوں گی میں تمہارے ساتھ۔

حامد یزدانی: جی، ضرور لکھیے۔ ہم ساتھ ہی تو ہیں۔

قرۃالعین حیدر ( مسکرا کر کتابوں پر آٹوگراف دیتے ہوئے ) : مجھے لگتا ہے ادب لکھنے پڑھنے کچھ نہ کچھ دل چسپی ہے تمہیں بھی۔

حامد یزدانی:جی، کچھ نہ کچھ لکھتا پڑھتا رہتا ہوں۔ ابھی بانو قدسیہ کا ناول ’راجہ گدھ‘ پڑھتے ہوئے ایک مقام پر مجھے بے اختیار آپ کے ناول ’آخر شب کے ہمسفر‘ کے سندر بن کی یاد آتی رہی۔ کیسی متاثر کن منظر کشی کی تھی آپ نے! کہ جس سے بعد میں بھی استفادہ کیا گیا۔

قرۃالعین حیدر : بانو قدسیہ محبت والی خاتون اور اردو کی بہت اہم لکھنے والی ہیں۔ میں ان کی قدر کرتی ہوں۔

حامد یزدانی: یاد آیا ابھی پچھلے دنوں فیض احمد فیض صاحب کا ایک پرانا انٹرویو پڑھ رہا تھا جس میں انھوں نے ترقی پسند تحریک کی جانب سے علامہ اقبال اور آپ کے خلاف اختیار کیے جانے والے موقف کو تحریک سے اپنے اختلاف کی وجہ قرار دیا تھا۔ کچھ اس کا پس منظر بتائیں گی آپ؟

قرۃالعین حیدر: یہ تو بھئی اب تم نے مجھے بتایا ہے۔ مجھے اس بات کا علم نہ تھا۔ اگر فیضؔ صاحب نے علامہ اقبال کے ساتھ بریکٹ کر کے میرا ذکر کیا ہے تو یہ تو اعزاز کی بات ہے میرے لیے۔ مگر اب کیا پس منظر بتاؤں اس معاملے کا ! اس پر اتنی بحث ہو چکی ہے کہ بس ہی کریں۔ دراصل اس زمانے میں یہ لوگ بے انتہا سیکٹیرین تھے، فرقہ واریت کا شکار تھے۔ ان میں بے پناہ ان ٹالرنس تھی، عدم برداشت تھی۔ وہ جوش کا زمانہ دو تین سال رہا پھر سب کچھ ٹھیک ہو گیا۔

یہ اس زمانے کی بات ہے۔ کون پرواہ کرتا ہے اب ان سب کی۔ وہ زمانہ ہی بدل گیا سب کا سب۔ سوشلزم جہاں سے یہ سب معاملات شروع ہوئے تھے ترقی پسندی کے وہاں کی حالت ہی پلٹ گئی تو اب باقی کیا رہا۔ ویسے بھی ایسی باتوں سے فرق کیا پڑتا ہے؟ دیکھیے، ایسے جتنے بھی ہنگامے اٹھتے رہتے ہیں یہ بس چائے کی پیالی کے طوفان ہوتے ہیں ان سے کیا فرق پڑتا ہے! انسان نے جو کچھ لکھا ہے وہ اگر زندہ رہتا ہے تواصل چیز وہ ہے۔ اگر میں نے کوئی چیز ڈھنگ کی لکھی ہے تووہ لوگوں کو یاد رہ جائے گی آج سے پچاس سال بعد بھی۔ وہی چیز ہے کام کی اور کچھ نہیں۔

حامد یزدانی: کیا آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ ادبی تحریکوں سے کچھ فائدہ نہیں پہنچتا یا نہیں پہنچا ادب کو ؟ حال آں کہ ترقی پسند تحریک کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ یہ اردو ادب کی اہم ترین تحریک تھی۔

قرۃالعین حیدر: نہیں، نہیں، میرا یہ مطلب نہ تھا۔ بھئی، فائدہ ہے۔ ترقی پسند تحریک اہم ترین تحریک اس لحاظ سے تھی کہ اس نے تھیم، موضوع اور مواد، ان سب چیزوں میں بڑا انقلاب متعارف کروایا جس کے نتیجے میں بڑا جان دار ادب تخلیق ہوا۔ ہاں یہ بات بھی ماننا پڑے گی کہ اس کے ساتھ کچھ انتہا پسندی بھی تھی۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ ادبی تحریکیں بے فائدہ ہیں میں تو یہ کہہ رہی ہوں کہ اگر کسی نے کسی کے خلاف کچھ کہہ دیا تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔

اب اگر انہوں نے پہلے میرے خلاف بہت کچھ کہہ دیا اور سب اپنے موقف سے پلٹ بھی گئے تو ان باتوں کی اہمیت کیا ہے! ہاں، علامہ اقبال کی بات دوسری تھی۔ اس کے بارے میں جو کچھ کہا، کچھ روز بعد ان میں سے کچھ کو محسوس ہوا کہ یہ تو غلط بات ہو گئی تو انہوں نے نہ صرف رائے بدل لی بلکہ جو لوگ مذہب کی جانب جھکاؤ کی وجہ سے اقبال کے خلاف تھے وہی بعد میں خود بڑے مذہبی بن گئے تو کیا فرق پڑتا ہے اس سب سے۔ یہ سب تو چلتا رہتا ہے۔

حامد یزدانی:چلیے، بات کا رخ کچھ بدل لیتے ہیں۔ ’آخر شب کے ہمسفر‘ کے سرورق پر پہلی بار میں نے آپ کے فن کا ایک نمونہ دیکھا تھا۔ اب میرے سامنے ہے ”گردش رنگ چمن“ تو اس کا ٹائٹل بھی آپ کی فن کاری کی داد دے رہا ہے۔ یہ تصویر کاری کا شوق کب سے آپ کے ساتھ ہے؟

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2