کامیاب ازدواجی زندگی یا ستی؟


آگ جل رہی تھی۔ شعلوں کی لپلپاتی سرخ زبانیں دو انسانی جسموں کا ذائقہ چکھ رہی تھیں۔ فضا میں لکڑیوں کے تڑ تڑ جلنے کے ساتھ گھی میں لت پت انسانی گوشت جلنے کی بو تھی۔

لکڑیوں کے ڈھیر پہ دو جسم تھے۔
ایک مرد کا جسم جو شوہر تھا اور مر چکا تھا۔
ایک عورت کا جسم جو بیوی تھی اور زندہ تھی۔

زندہ عورت کو اپنی مرضی کے خلاف مردہ شوہر کے ساتھ جلنا تھا۔ جل کر خاک ہونا تھا کہ یہی اس کی ازدواجی زندگی کا تقاضا تھا۔ کامیاب ازدواجی زندگی جس کے مطابق دونوں کو اکٹھے جینا اور اکٹھے مرنا تھا۔ ازدواجی زندگی تو ناکام رہ جاتی نا اگر شوہر کے مرنے کے بعد بیوی اپنی زندگی جی لیتی کہ ملک عدم کو سدھارے شوہر کی غیرت اسے وہاں بھی چین سے نہ رہنے دیتی۔ سو علاج یہی تھا کہ بھلے بیوی زندہ ہو مگر اسے ساتھ ہی لے کر مرا جائے، بچے جائیں بھاڑ میں!

سوال یہ ہے کہ اگر بیوی شوہر سے پہلے مر جاتی تو؟ کیا مردہ بیوی کی چتا میں زندہ شوہر کو جلایا جاتا تھا؟

تاریخ خاموش رہتی ہے۔

مطلب یہ نکلا کہ شوہر کے مرنے کے بعد بیوہ کو زندہ رہنے کا حق نہیں لیکن اس اصول کا اطلاق رنڈوے شوہر پہ نہیں ہوتا۔ بیوی کے مرنے کے بعد وہ آخر کیوں اداس پھرے؟ پاؤں کی جوتی اگر ٹوٹ جائے تو نئی لانے میں کیسی ہچکچاہٹ؟

سو ترتیب یہ بنی کہ عورت جب ازدواجی زندگی میں داخل ہو تو اپنے جسم کے ساتھ اپنی سانسوں کا سودا بھی کرے کیونکہ مالک کے مرنے کے بعد داسی کو سانس لینے کا حق؟ توبہ کریں جناب!

اس خطے کے مرد و عورت نے اس رواج سے نباہ کیا اور خوب کیا۔ ویسے ہمارے خیال میں یہ نباہ تو صرف عورت نے ہی کیا۔ پدرسری معاشرہ مرد بچے کے لیے ضابطہ نہیں بنایا کرتا۔ جنگل کا بادشاہ ہے، جو چاہے کرے۔

خطے میں اسلام آ گیا، کلمہ پڑھ لیا گیا لیکن کیا کلمہ پڑھنے سے ماہیت قلب تبدیل ہوئی، یا معاشرت پہ کچھ اثر ہوا یا انسانی جینز میں کوئی بدلاؤ آیا۔ نہیں لکڑیوں کے الاؤ کو آگ لگنی بند ہو گئی۔ جلنا جلانا چھوڑ کر مردے کو دفن کرنے کا رواج شروع ہوا۔ اب زندہ عورت کو دفناتے کیسے کہ چودہ سو برس پہلے اس قتل کو روک دیا گیا تھا۔

کیا کرتے ستی کے فلسفے کو جس میں پدرسری معاشرے کی جان تھی۔ سو ستی کے نام پہ کامیاب ازدواجی زندگی کی اصطلاح ایجاد کی گئی اور اس کا تمام تر بوجھ عورت کے کندھوں پر ڈال دیا گیا۔

گھر کی خاطر قربانی عورت دے۔
گھر بنائے عورت۔
عورت صبر و تحمل سے کام لے۔
عورت گھر کی چوکھٹ سے قدم باہر نہ نکالے کہ صبح کا بھولا شام کو گھر ضرور آتا ہے۔

( تھک ہار کے، جب بڑھاپا اور بیماریاں دروازے پر دستک دے رہی ہوں تب بیوی سے بہتر کون سی کنیز مل سکتی ہے )

طلاق شدہ عورت یا علیحدگی پسند عورت کی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں رکھی گئی۔ اچھی عورت وہی جو شوہر کے ساتھ نباہ کرے چاہے

بند دروازوں کے پیچھے اس کی بوٹیاں نوچ لی جائیں، اس پہ الزام تراشیوں کی غلاظت اچھالی جائے، اس کا جسم توڑ پھوڑ دیا جائے، لعن طعن کرتے ہوئے قبر کے دہانے تک پہنچ جائیں مگر دروازوں کے باہر چہروں پہ نقاب اوڑھتے ہوئے معاشرے کو باور کرایا جائے کہ محبت و عزت تو گھر کی لونڈی ہے۔

ماں باپ کے گھر سے رخصت ہوئی بیٹی کے لیے کوئی دروازہ نہیں کھلتا، اسے اسی گھر سے ڈولے میں باہر نکلنا ہے، جہاں وہ ڈولی میں گئی تھی۔

کیا ایسا نہیں لگتا کہ کامیاب ازدواجی زندگی کے نام پہ عورت کو آج بھی ستی کیا جا رہا ہے۔

جو عورت جیتے جی اپنی خواہشات، آرزوؤں اور مرضی کو سسرال اور شوہر کے ترتیب دیے گئے ضابطوں میں جلا کر بھسم کر ڈالے، وہ ستی کی جدید قسم نہیں تو اور کیا ہے؟

ایک خاتون ہمارے کلینک آئیں، رجسٹریشن پہ نام حمیرا کامران لکھا تھا۔ ہم نے نوٹ کیا کہ شوہر صبا کہہ کے مخاطب کر رہے ہیں۔ مارے تجسس کے پوچھ بیٹھے کہ کیا پورا نام حمیرا صبا ہے؟ خاتون نے زخمی نگاہوں سے ہمیں دیکھا مگر جواب نہ دے پائیں۔ صاحب بہادر چھاتی پھلا کے فوراً بولے، وہ ان کا اصل نام تو حمیرا ہے لیکن مجھے اور گھر والوں کو پسند نہیں تھا سو تبدیل کر کے صبا رکھ دیا۔ ہم چپ کیسے رہتے؟

” کامران صاحب کیا حمیرا کو بھی اجازت ہے کہ اگر انہیں آپ کا نام کامران اچھا نہ لگے تو بشیر، نذیر، خالد یا شاہد کہہ کے پکاریں“ ۔

ان صاحب کا بس نہیں چلتا تھا کہ ہمیں کچا چبا ڈالیں۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ اب حمیرا کو ہمارے کلینک دوبارہ نہیں لائیں گے کہ خرانٹ ڈاکٹر سے حقوق نسواں کے جراثیم مول لینے کا خطرہ بدرجہ اتم موجود ہے۔

ایک اور خاتون کو ہم جانتے ہیں جو پچھلے پچیس برس سے وہ عید کا تہوار سسرال کے ساتھ مناتی ہیں۔ عید اور میکے میں؟ شادی کے بعد میکے سے محبت رکھنے کا کوئی جواز ہے کیا؟

سسرال کا موقف اس کے سوا کچھ اور نہیں، کہ بی بی بھول جاؤ شادی سے پہلے تم کیا تھیں؟ کیا کرنا چاہتیں تھیں؟ اب زندگی بسر کرنے کا نسخہ تمہیں ہم دیں گے تبھی کامیاب ازدواجی زندگی کے ایوارڈ کی حقدار ٹھہرو گی۔ یاد رکھو اس نسخے کا اطلاق شوہر پہ نہیں ہو گا کہ مالک تو حرف آخر کا حق رکھتا ہے۔

جب رشتوں کے ترازو میں عورت محکوم ٹھہرے، اس کی مرضی اور پسند کو دیوانے کی بڑ سمجھا جائے، جب وہ اپنے دل کی خواہش کو اندر ہی اندر دفن کر دے تو ایسی عورت کیا ہو گی آخر؟

امنگ و ترنگ سے خالی، مالک کی مرضی کی پابند، مداری کی چھمک سے خواب میں بھی ڈرنے والی، زندگی کی شاہراہ پر ہانپتے کانپتے دوڑنے والی، سستانے کے لیے اجازت ملنے کی پابند، ایسی عورت کو آپ زندہ عورت کہیں گے یا کامیاب ستی زدہ زوجہ؟

Facebook Comments HS