بے ربط سوچوں کا سفر!


”اماں میں دو منٹ میں کچھ چیزیں لے کر آ رہا ہوں“ سفیر نے گاڑی سائیڈ میں کر کے ایک سٹیشنری کی دکان کے سامنے روکی اور اتر کر اندر چلا گیا۔ جاتے ہوئے اس نے اے سی آف کر دیا تھا تو ہادیہ شیشہ نیچے اتارتے ہوئے ایک لمحے کو ٹھٹھک کر رکی تھی۔ اس کی نظریں ایک پرانی سی گاڑی میں بیٹھی لڑکی پر جم گئیں۔ عید کا چوتھا دن تھا آج کاروبار زندگی رواں داں تھا سب اپنے معمول پر واپس آچکے تھے۔ شاید یہ بھی اپنے میکے سے سسرال واپس جا رہی ہے، اپنی سوچ پر ہادیہ کو خود ہی ہنسی آ گئی۔

اس نے شیشہ اتارا اور گویا فرصت سے اس کو دیکھنے لگی۔ تیز گلابی رنگ کے سوٹ میں تیز چمکتی ہوئی لپ اسٹک، حد سے زیادہ ہلکے فاؤنڈیشن کی تہہ سے سفید پڑتا رنگ بھی اس کے چہرے پر تفکرات کی لکیروں کو چھپانے میں ناکام تھا۔ ہونٹ جیسے کسی سوچ کے تحت گولائی میں آچکے تھے، گود میں ایک ڈیڑھ سال کا بچہ تھا جو مدہوش سا ایک طرف کو ڈھلکا ہوا تھا اتنی تیز دھوپ میں انتہائی گہری نیند اور اس کی گردن پر بہتا پسینہ بھی اس کی ماں کی توجہ اپنی طرف نہیں کھینچ رہا تھا۔

اس کی نگاہیں کسی غیر مرئی نکتے پر مرکوز تھی اور چہرے پر جو چیز سب سے زیادہ نمایاں تھی وہ سوچوں کی ابھرتی ڈوبتی لکیریں تھیں۔ (یا تو ماں نے طعنہ دیا ہو گا کہ تحائف کچھ کم لے کر آئی ہوگی میکے میں یا پھل فروٹ، مٹھائی لے جانا بھول گئی ہوگی، یا ساس کا فون آیا ہو گا کہ میکے میں ہی عید گزارنا ہوتی ہے تو شادی کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ یا نند یا بھاوج نے استہزائیہ انداز میں پوچھا ہو گا جب اپنے لیے جوڑا لیا تھا تو ہم یاد نہ آئے؟

یا ایسا ہی کچھ! ) ہادیہ نے گہری سانس لے کر نظروں کا رخ موڑ لیا۔ اور لوگوں کے رویوں سے بیزار، طعنوں تشنوں سے نڈھال عورت کیا اپنی اگلی نسل کی پرورش اس ڈھنگ سے کر سکے گی جس پر کرنے سے بچہ مستقبل کا معمار بن سکے؟ اسے تو صرف یہ فکر ہوگی کہ خود کو ان رویوں سے کیسے بچایا جائے؟ ہر وقت دفاعی حالت میں! اور پھر کچھ عرصے بعد خود بھی یہی رویہ اپنانے میں خود کو حق بجانب سمجھے گی!

سفیر آ چکا تھا شیشے چڑھ گئے تھے اے سی کی ٹھنڈک گرمی کو شکست دینے لگی تھی ہادیہ کے ذہن میں سوچوں کا تسلسل جاری تھا ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ میں روڈ سے گزر رہے تھے تب ایک سٹاپ پر کھڑے کچھ لوگوں کے چہرے پر بھی تفکرات کی ایسی ہی لکیریں تھیں کسی کو بس یا چنگچی جلدی مل جانے کی فکر، کوئی گھر سے بیوی سے لڑ کر آیا تھا کہ راشن ختم ہو رہا ہے تو کس کی غلطی ہے؟ کسی کی بائیک چل نہیں رہی تھی، اور پیٹرول پمپ بھی دور تھا، قریب بھی ہوتا تو کون سا سستا ہے بندہ اپنے خون سے ہی چلا لیتا سواری اپنی اگر بس چلتا، اس نے بالکل نزدیک سے ہی بڑبڑاہٹ سنی تھی مڑ کر دیکھا، ایک نوجوان لڑکا تھا وہ بمشکل انیس سال کا ، یونیفارم میں تھا شاید کالج جانے کی جلدی تھی؟

تفکرات کے گہرے سائے، بیزاری سے بے رونق ہوتا چہرہ! آگے دو اور نزدیک فٹ پاتھ پر بیٹھے تھے لڑکے تھے ایسی ہی عمر تھی انیس بیس سال، سگریٹ ہاتھوں میں دبا ہونٹوں سے دھواں نکالتے ہوئے باتوں میں مگن تھے سامنے سے ایک بائیک تیزی سے گزری تو سامنے پڑا پانی اچھل کر بیٹھے ہوئے لڑکوں پر پڑا، دونوں ہی تیزی سے اٹھے اور حتی المقدور کوشش کی کہ وہ بائیک والا ہاتھ لگ جائے تو اس کی دھجیاں اڑا دیں، وہ تو ہاتھ نہیں آیا لیکن ماں بہن کی گالیاں اور مغلظات کا جو طوفان ان دونوں کے منہ سے نکلا تھا، ہادیہ نے رنج و غم سے دل پھٹتا محسوس کیا تھا اس نے بے اختیار ہی سفیر کی طرف دیکھا تھا وہ بھی اسی عمر میں تھا، سفیر نے بھی ماں کے جذبات سمجھ لیے اور کہنے لگا ”اگنور کریں یہ سب کوئی نئی اور بڑی بات نہیں ہے آج کل۔“

”سبحان اللہ“ ہادیہ نے ایک گہری سانس لی ”ماں بہنیں اسی کام کے لیے تو آئی ہیں دنیا میں یہ حال ہے تم لوگوں کی برداشت کا اور ظرف کا ؟“

”مجھے کیوں کہہ رہی ہیں اماں کوئی میں نے دی ہے گالی؟“ سفیر نے بدک کر کہا تھا
”نارمل تو ایسے ہی لے رہے ہو“ ہادیہ نے سر جھٹکا
”ظاہر ہے میں کیا جھگڑا شروع کردوں؟“ وہ ناراض ہو رہا تھا
”میں کر دیتی شروع“ وہ بڑبڑائی

یہ نوجوان نسل کا حال ہے؟ ہم انسان پیدا کر رہے ہیں یا زومبیز؟ سوچوں کا تسلسل دوبارہ سے جڑ گیا۔ سگریٹ کیسے پی رہے تھے؟ کوئی ڈر نہیں پہلے بچے ہاتھ پیچھے کرلیتے تھے کئی بڑا سامنے آ جائے تو کبھی ان کے منہ پر بیٹھ کر سگریٹ کا دھواں نہیں اڑاتے تھے۔ کیسی بے خفی ہے کیسی بے اطمینانی ہے ان بچوں کے چہروں پر ! کوئی خوش نہیں کوئی مطمئن نہیں یہاں تک کہ بچوں میں بھی تحمل اور برداشت نہیں ٹین ایجرز ہیں یہ اور غصہ گویا ناک پر دھرا ہے بات بعد میں کرتے ہیں پھاڑ کھانے کا کام پہلے کرتے ہیں۔

ماں بہن معتبر ترین ہستیاں۔ ان کی گالیاں مکمل نہیں ہوتیں ماں بہن کے بغیر! اخلاقی پستی کا لفظ بھی چھوٹا لگتا ہے اس بے حرمتی کے سامنے۔ انھیں خوش فہمی ہے کہ انھیں عورتوں پر قوام بنایا گیا ہے، اس لفظ میں کس ذمہ داری کی بات ہو رہی ہے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی ہوگی مگر قوی ہیں کہ بہن بیٹی کو گالی میں استعمال کرسکیں ان پر ہاتھ اٹھا سکیں ان کی آواز کو دبا سکیں!

پتہ نہیں گاڑی کون سے گڑھے، میں گری اور اچھل کر نکلی تھی ایک لمحے کو لگا کہ زمین آسمان ہل گئے ہوں سوچوں کا تسلسل بہت زوردار دھکے سے ٹوٹ گیا تھا۔ ہادیہ نے جیسے ہوش میں آ کر ارد گرد پر نظر ڈالی انتہائی گندا سا علاقہ گٹر اور بارش کے پانی کے ساتھ عید قربان پر قربان ہونے والے جانوروں کا خون اور آلائش بھی شامل ہو کر بے حد کراہت آمیز ماحول بنا رہا تھا۔ اس نے ایک ناگوار نظر سفیر پر ڈالی ”منع کیا ہے ہزار بار یہاں سے مت نکالا کر گاڑی، اتنے خراب راستے ہیں۔“ ابھی بات اس کے منہ میں ہی تھی کہ سفیر نے زوردار بریک لگائی ٹائر کی چرچراہٹ سے سارا علاقہ گونج اٹھا۔ کوئی بچہ گاڑی کے نیچے آتے آتے رہ گیا تھا۔ ہادیہ کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا تھا۔ اس نے دائیں ہاتھ کا مکا بنا کر سفیر کو جڑ دیا۔

”ہوش میں رہو تمہارے ابا جی کی سڑک نہیں ہے“ ۔ سفیر بھی زبان دانتوں میں دبا کر دائیں بائیں گردن ہلا رہا تھا۔

”بچت ہو گئی اماں“ ۔ وہ بچہ بھی انتہائی گندے سے حلیے میں تھا میلی سی قمیض گریبان کے بٹن ٹوٹے ہوئے اور ادھڑی ہوئی نیکر۔

ہادیہ نے غور سے اس بچے کے چہرے کو دیکھا تھا کانوں اور ماتھے پر آتے سر کے بال چہرے پر مٹی اور پانی مل کر نقش و نگار بنا رہے تھے، گندی سی گیند کو ہاتھ میں اچھالتے ہوئے ڈھٹائی سے ہنستا ہوا دوسرے اپنے جیسے دوسرے بچوں کی طرف چلا جا رہا تھا۔

”او۔ کے بچے!“ اسی کی عمر کے ایک بچے نے اسے گندی سی گالی دیتے ہوئے آواز دی۔ ہادیہ کے جسم میں سنسنی پھیل گئی یہ بچہ جانتا ہے کیا کہہ رہا ہے؟ وہ پھر سے چیخ پڑی

”علاقے کے حساب سے تو یہی انداز ہو گا نا اماں! آپ تو باہر نکلتی ہیں تو گاڑی چلانا مشکل کر دیتی ہیں بس شکر کریں کہ آپ نے اپنے بیٹے کی تربیت کردی ہے ورنہ لوگ اب تعلیم اور تربیت کو الگ ہی لے کر چل رہے ہیں! آپ نے کبھی کسی اچھے سکول کے بورڈ پر تربیت کا لفظ دیکھا ہے؟“۔ سفیر نے اس کا چہرہ دیکھا تو قدرے جھنجھلاہٹ کا شکار ہو گیا۔ وہ چپ رہی۔ (شکر کروں؟ بس میرا ہی بچہ ٹھیک ہونا چاہیے؟ کیوں؟ باقی بچے بھی تو میرے ہی ہیں ان کے بگاڑ میں میری چپ ذمہ دار نہیں بنے گی؟

کس دن مر گئی یہ اجتماعیت پر مبنی سوچ؟ وہ کون سا بد نصیب دن تھا جب ہم نے بحیثیت قوم سوچنا چھوڑ دیا اور اپنے گھر، اپنے بچوں کی فکر شروع کردی؟ مگر یہ کوئی ایک دن میں تو نہیں ہوا جس دن پاکستان بنا تھا اور لوگوں نے اپنی اپنی زمینوں کے لیے دعوے کیے تھے کچھ نے سچے اور کچھ نے جھوٹے دعوے! تو یہ سلسلہ تو تب سے چل رہا ہے جب پہلے دن ہی مطلب پرستی اور خود غرضی نے سرزمین وطن پر پنجے گاڑے تھے اس خرابی کا بیج تو اسی دن بو دیا گیا تھا، اب تو تناور درخت بن گیا ہے یہ خود غرضی اور انفرادی مفاد پر سوچنا! اچھا تو میرا بچہ ٹھیک ہے بس کافی ہے پھر مجھے کیا فکر؟ گھر آ چکا تھا ہادیہ نے خاموشی سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اندر آ گئی۔

Facebook Comments HS