بچے کی پیدائش کے لیے سی سیکشن: مسیحائی یا کاروبار

ماں بننا ایک بہت بڑا اعزاز ہے اور اس کا پہلا بڑا فیصلہ یہ ہے کہ اپنے بچے کو کیسے ڈلیور کیا جائے۔ جیسے ہی خاتون کو حمل کی خوشخبری ملتی ہے تو وہ اللہ کریم کا شکر ادا کرنے کے بعد سب سے پہلے یہ سوچا جاتا ہے کہ کسی مناسب، اچھی ساکھ کے حامل گائنی ہسپتال میں اپنا نام درج کرائے، جسے ’بکنگ وزٹ‘ کہا جاتا ہے۔ اس وزٹ میں خاتون کے ابتدائی ٹیسٹس سے اس کی ابتدائی صحت جانچی جاتی ہے۔ ہر مہینے حاملہ کی مکمل جانچ کے لیے کسی بہترین مسیحا کا انتخاب بہت اہم ہے۔ ویسے تو اندام نہانی کی ڈیلیوری یا نارمل ڈیلیوری کو سب سے محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن ڈاکٹر آج کل زیادہ تر سیزیرین ڈلیوری یا بڑا آپریشن ہی کا مشورہ دیتا جاتا ہے۔ سی سیکشن بچے کو جنم دینے کے عمل کا ایک طریقہ ہے جو سرجری کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
ایک روایت کے مطابق اس کی ابتدا روم کے بادشاہ جولیس سیزر کی والدہ کے ہاں جب جولیس سیزر صاحب کے آنے کی امید پیدا ہوئی تو اس زمانے کے نجومیوں نے پہلے ہی بیٹے کے آنے کی خبر دے دی۔ اکلوتے ہونے کی وجہ سے جولیس سیزر کو پیدائش سے پہلے ہی ولی عہد کے مرتبے پر فائز کر دیا گیا۔ جب زچگی کا وقت قریب آیا تو ماہر ترین دائیاں بلائی گئیں تا کہ زچگی کے عمل کو آسان اور محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ زچگی ماں کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوئی اور بچہ ماں کے کولہے کی ہڈی کے تنگ ہونے جانے کی وجہ سے نارمل ڈلیور نہ ہو پایا۔
درد کی شدت سے سیزر کی والدہ کی حالت انتہائی تشویشناک ہوئی تو سیزر کے والد صاحب نے دائیوں کو پیغام بھجوایا کہ میرے تخت کے وارث کو کچھ ہوا تو تم سب کا زن بچہ کولھو میں پلوا دیا جائے گا۔ اسی دوران سیزر کی والدہ نے آخری سانس لی اور ختم ہو گئی۔ اب کوئی اور رستہ باقی نہ تھا سب سے بڑی دایہ نے ایک بہترین فیصلہ کیا اور وقت ضائع کرنے کی بجائے ایک لمبے خنجر سے ملکہ کا پیٹ چاک کر کے زندہ بچہ باہر نکال لیا۔
اس زمانے میں بچہ پیدا ہوتے ہوئے ماں یا بچہ یا دونوں کا جان سے گزر جانا عام بات تھی لیکن سیزر کے معاملے میں ولی عہد کی جان بچانے کے لیے یہ طریقہ استعمال کیا گیا۔ اس طرح سیزر کی پیدائش کا ذریعہ بننے والا طریقہ کار دنیا کی ان گنت ماں اور نوزائیدہ بچوں کی جان بچانے کا سبب بن گیا۔ اس طریقے وضع حمل کو جولیس سیزر کے نام کی مناسبت سے سیزیرین کہا جانے لگا۔
آپ میں سے کتنے لوگوں کے سی سیکشن ہوئے ہیں۔ اور ہم میں سے کتنی خواتین پہلے یہ چاہتی تھی کہ ہمارا آپریشن کیا جائے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ 23 مارچ کے دے میں ساری رات لیبر پین لینے کے بعد صبح جب ہسپتال پہنچی تو پتہ چلا آج ڈاکٹرز کی چھٹی ہے۔ یہ ایک پرائیویٹ ہسپتال ماڈل ٹاؤن میں واقع ہے۔ میں ہر بندہ چیک اپ کے لیے ان کے پاس جاتی رہی۔ ایک لمحے کو بھی مجھے انہوں نے یہ نہیں کہا کہ آپ کا آپریشن ہو گا۔ میرے ہاسپٹل پہنچنے پر سٹاف نے ڈاکٹر کو مطلع کیا کہ آپ کی پیشنٹ آئے ہیں تو وہ تقریباً ایک گھنٹے میں ہاسپٹل میں تھی اور ساتھ ہی مجھے یہ خبر ملنے شروع ہو گئی کہ آپریشن کی تیاری کی جائے مہران تھی کہ ڈاکٹر نے مجھے تو دیکھا بھی نہیں تو آپریشن کی تیاری کیسے۔
میں اس وقت بہت تکلیف میں تھی مگر اپنے اردگرد کے سارے ماحول کو اور اتنے بڑے ہسپتال کے اسٹاف کے کے رویے کو کبھی نہیں بھول پاؤں گی۔ ایسے معلوم ہو رہا تھا کہ یہاں سب بھیڑ بکریاں پڑی ہوئی ہیں اور ان کی رکھوالی کے لئے گیدڑ بیٹھے ہوئے ہیں۔ سر اتنے میں ڈاکٹر میرے پاس آئی اور آ کر انہوں نے مجھے انٹرنلی چیک کیا۔ ان کے مطابق ابھی ڈلیوری میں کچھ وقت تھا۔ مگر مجھے اچانک محسوس ہوا کہ انہوں نے میرا واٹر بیک ہاتھ سے پھاڑ دیا تھا۔
کیونکہ اس وقت میرا پہلا بچہ تھا اور مجھے اتنا تجربہ نہیں تھا کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے ابھی ڈاکٹر ہو کے گئی تھی پیچھے سے ایک نرس آئی اور اس نے کہا کہ ان کا بیک لیٹ ہو گیا ہے اب تو فور آپریشن کرنا پڑے گا۔ کیونکہ اس وقت میری اپنی حالت ایسی تھی کہ میں کچھ نہ سمجھ پا رہی تھی اور نہ ہی کچھ کہہ رہی تھی۔ غرض کہ یہ ایک ایسا پری پلانڈ کھیل تھا جو مجھے آپریشن کے بعد ہی سمجھ نہیں آیا سمجھ مجھے اس وقت آیا جب میں اپنی بہن کے ساتھ اس ہاسپٹل میں بہن کی ڈلیوری کے لیے گی میں اس وقت لیبر روم میں موجود تھی جس وقت ڈاکٹر اس کو چیک کرنے اندر آئی اور نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ ان کا آپریشن ہو گا جبکہ میں حیران تھی کہ وہ اپنا لبرل کا ٹائم پورا کر کے ہسپتال میرے ساتھ آئی ہے۔
اس پروفیشنل ڈاکٹر نے اسی انداز کے ساتھ اس کو اندر سے چیک کرنے کے لئے ہاتھ ڈالا اور ویسے ہی میری آنکھوں کے سامنے اس کا واٹر بیک پھاڑ دیا۔ اس وقت پھر ایک بھگدڑ مچ گئی کہ فوراً سے پہلے اس کا آپریشن کیا جائے ورنہ بچے کا واٹر لیول لو ہو جائے گا۔ اس لمحے میرے ذہن میں بہت سے سوالات اٹھے میری بہن آپریشن تھیٹر میں چلی گئی اور میں اس راز کو جاننے کے لیے مختلف کمروں کے دروازے کھڑکا کر لوگوں سے پوچھتی رہی اور پوچھنے پر سب ان کے پیشنٹ نے یہی بتایا کہ ہمارا تو سیدھا سیدھا نارمل ڈلیوری کا کیس تھا جو بگاڑ کر آپریشن بنا دیا گیا اور صرف یہی نہیں کیا گیا آئندہ کے لئے بھی ان کے دماغ کے ساتھ ایسا کھیل کھیلا گیا کہ آئندہ بھی وہ کسی اور ڈاکٹر کے پاس نہیں جا سکے اس ڈاکٹر کا اس معاشرے میں ایک بڑا نام ہے ان کے پاس سر کھجانے کی فرصت نہیں واپڈا ٹاؤن میں بھی اپنے ذاتی کلینک پر بیٹھتی ہیں نام صرف اس لئے یہاں پر نہیں لے رہی ہیں کہ ان کا تجربہ شاید اور بہت سی زندگیوں کو بچا بھی سکتا ہے۔ چند پیسوں کی خاطر لڑکیوں کو ساری زندگی کے روگ میں مبتلا کرنا والا مسیحا نہیں ہوتا
اس پر ظلم یہ کے دوسرے دن ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا جاتا ہے ڈاکٹروں کے مطابق اس کے بعد نگہداشت ویسے ہی کرنی چاہیے جیسے عام سرجری کے بعد کی جاتی ہے۔ عام طور پر سی سیکشن میں 10 سینٹی میٹر لمبا کٹ لگتا ہے لیکن کٹ کی لمبائی اور اس کی گہرائی جسامت اور ضرورت پر منحصر ہوتی ہے۔
پاکستان میں گزشتہ 20 برسو میں سی سیکشن کے بڑھتے ہوئے اس رجحان کی وجہ صحت کے حوالے سے کم علمی، ملک میں پیشہ ورانہ میڈیکل اسٹاف کی کمی اور طب کے شعبے کی نگرانی کے لیے کسی موثر نظام کی عدم موجودگی ہے۔
اب ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اکثر خواتین نارمل ڈلیوری میں ہونے والے درد کے خوف اور لوگوں کی سنی سنائی باتوں میں آ کر سی سیکشن کا مطالبہ کرتی ہیں۔ جبکہ دوسری جانب کچھ ڈاکٹر بھی پیسوں کے لالچ میں آ کر مریض کا سی سیکشن کر دیتے ہیں۔
پاکستان میں سی سیکشن کمائی کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ اکثر خواتین کو ایسے آپریشن کی طرف راغب کیا جاتا ہے
تم بہت کمزور ہو، دوسرا بچہ ہے، پیٹ میں پانی کی مقدار بھی کم ہے اور بچے کی پوزیشن بھی سیدھی نہیں۔ تمہارا کیس نارمل نہیں ہو سکتا ”
آج پاکستان کے زیادہ تر ڈاکٹرز ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال بھاگتے نظر آتے ہیں۔ اس دوڑ میں مریض کو ’آسان عمل‘ بتانے کے چکر میں سی سیکشن تجویز کیا جاتا ہے جو اکثر لوگ اپنی جان کی آسانی کے لیے اس وقت کر لیتے ہیں مگر بعد میں پچھتاتے ہیں۔ ’اس وقت پاکستان کے ہر ہسپتال میں نارمل ڈیلیوری اور سی سیکشن کی قیمت مختلف ہے۔ جہاں نجی ہسپتالوں میں جانے والے مریض 50 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک دیتے ہیں وہیں سرکاری ہسپتالوں میں نارمل ڈیلیوری چند ہزاروں میں کی جاتی ہے۔
بروقت درست مشورہ عوام کا حق ہے تکلیف تو اس بات کی ہے کہ اتنے پیسے لگانے کے باوجود بھی ہمارے مسیحا اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔ خدارا اس پیشکش سے منسوب تمام افراد اپنی ایک مخصوص فیس رکھ لے وہ چاہے جتنی بھی ہو مگر اپنے مریضوں کی جانو سے نہ کھیلیں ہمارے معاشرے میں چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے باقی ایماندار ڈاکٹرز کی ساکھ پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے خاص طور پر بتائی ہوئی جو بظاہر ایک عام مگر بہت اہم شعبہ ہے ہر گھر ایک عورت کس سر پر چل رہا ہوتا ہے اور اگر عورت صحت مند ہے تو پورا کنبہ صحت مند ہے لہذا اس شعبے میں سے ایسی تمام کالی بھیڑوں کو نکالنا چاہیے جو کہ نیک نامی اور ایمانداری سے کام کرنے والے ڈاکٹرز کا امیج بھی خراب کر رہے ہیں۔

