قدیم چین کے کنول پاؤں اور اکیسویں صدی میں پاکستانی گلاب کی کلی!


”تم ہو کون اور کس دنیا سے وارد ہوئی ہو“

محبت اور شفقت سے لبریز ان الفاظ کو پڑھ کر آواز بیٹھ گئی ہے، نہیں معلوم حلق میں آنسو گرتے ہیں یا کچھ اور؟ کیا کہیں، کیسے بتائیں کون ہیں ہم؟

ایک عورت جو زندگی کی اونچ نیچ سے گزر کر ایک ایسی جگہ آ کھڑی ہوئی ہے جہاں اس کے دامن میں وقت نے علم و تجربے کے موتی تو ڈالے ہی ہیں۔ لیکن اس پہ قدرت یوں مہربان ہوئی کہ ہر طبقے کی عورت کو اس نے قریب سے دیکھا، بات کی اور ان کی تکلیفوں کو اپنے دل پہ لکھ لیا۔ نصف دہائی جینے کے بعد علم ہوا کہ ارد گرد تو کچھ بھی نہیں بدلا۔ نہ عورت کے پاؤں کی زنجیریں، نہ مالک کی ڈگڈگی، نہ حالات اور نہ ہی سر پہ لٹکتی موت کی تلوار۔

اس عورت کے بس میں کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ظلم کے نشان جمع کرتے ہوئے اپنی آواز بلند کرے۔ نقار خانے میں طوطی ہی سہی، خاموش تماشائی بننے سے بہتر ہے کہ کچھ تو کہا جائے۔

پچھلے دو تین ماہ میں اکیسویں صدی کے پاکستان سے آنے والی خبروں سے طبیعت بوجھل ہے۔ ہم سوچتے ہیں ان سب کے متعلق جو ملک عدم روانہ کر دی گئیں۔ وہ سب ہم جیسی تھیں، ہماری بیٹیوں جیسی، ہمارے آس پاس بستی تھیں۔ شاید ہم نے انہیں کبھی دیکھا بھی ہو، یونہی آتے جاتے کسی سڑک پر، کسی بازار میں، شاید ائرپورٹ پہ، جہاز میں ساتھ والی سیٹ پر۔ اب وہ سب مٹی میں مل کر مٹی ہو گئیں اور ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ عورتیں تھیں۔

سرگودھا میں سسر صاحب نے انجینئر بہو کا سر کلہاڑی کی مدد سے جسم سے علیحدہ کر دیا۔ قصور یہ تھا کہ وہ تین بچوں کو لے کر واپس آسٹریلیا جانا چاہتی تھی جہاں سے وہ نوکری سے چھٹی لے کر بچوں کو دادا دادی سے ملوانے لائی تھی۔

کھاریاں میں سپین سے آئی دو بہنوں کو چچا اور کزنز نے ماں کے سامنے موت کے گھاٹ اتار دیا کہ وہ چچا/ پھوپھی کے بیٹوں سے شادی کرنے پہ تیار نہیں تھیں۔ دو مردوں کا سپین کی ہواؤں میں سانس لینے کا منصوبہ ناکام بنا دینے پہ ان لڑکیوں کی سزا پستول کی گولی ٹھہری۔

گجرات میں انگلستان سے آئی دو بہنوں کی رات سوتے میں موت واقع ہو گئی۔ کیس داخل دفتر ہو گیا کہ انکوائری افسر نامی مرد نے موت کی وجہ ہیٹر سے لیک گیس کے علاوہ کچھ اور سمجھنا گوارا نہیں کیا۔ ہیٹر کافی ہوشیار تھا، بیرون ملک سے آنے والی لڑکیوں کو خوب پہچانتا تھا۔

کراچی میں شوہر نے بیوی سے کسی اختلاف پہ جو اس کے چھ بچوں کی ماں بھی تھی کو قتل کیا، جسم کے ٹکڑے کیے اور دیگ میں پانی بھر کے ابلنے کے لیے چڑھا دیا۔ مقتولہ کی عمر سینتیس برس تھی اور بائیس برس پہلے، پندرہ برس کی عمر میں ابا محترم نے اگلے مالک کے ہمراہ روانہ کریا تھا۔ مالک کا غصہ بیوی کو قتل کر کے بھی ٹھنڈا نہ ہوا، اس ناہنجار کے ٹکڑے کرنا ضروری تھا۔

ان عورتوں کو قتل کیے جانے کی وجوہات کا جائزہ لیں تو ایک بات سب میں مشترک نظر آئے گی۔ ان عورتوں نے اپنی مرضی سے جینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور انہیں اپنی زندگی پہ اپنا اختیار چاہیے تھا۔ وہی حق جو ماں کے بطن سے اکیلے پیدا ہو کر قبر میں تنہا دفن ہونے تک ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔

لیکن مرد نامی حاکم کی انا اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔ صدیوں سے موجود روایات ہشت پا کی طرح عورت کو جکڑ کر رکھنے میں فخر محسوس کرتی ہیں، انہیں مرد نامی بزدل بونا کہاں توڑ سکتا ہے؟ جھوٹی غیرت کا سہارا لے کر آسان کام یہ ہے کہ زبان کاٹ دو، گلا گھونٹ دو، گولی مار دو، چولہے پر دیگ چڑھا کر ابال دو۔

کیا کیا جائے؟

کچھ سمجھ میں نہیں آتا لیکن اہل عرب کی دانش مندی کے ہم قائل ہوئے جاتے ہیں جہاں پیدا ہوتے ہی بچی زمین میں دفن کر دی جاتی تھی۔ ماں کچھ دن روتی دھوتی اور پھر صبر کر لیتی، کچھ گھنٹوں کے لیے دیکھی جانے والی موہنی سی صورت کب تک یاد رہتی؟ وقت کی گرد سب کچھ بھلا دیتی۔

پیدائش پہ گلا گھونٹنے کی بجائے کچھ برسوں کے بعد ایک جوان جہان عورت کو موت کے گھاٹ اتارنا تو کڑی منزل ہے۔ سسکیوں بھری تلخ یادوں کا انبار سانس لینے کے قابل کہاں چھوڑتا ہے پیچھے رہ جانے والوں کو۔

بہت سوچ بچار کے بعد ایک ترکیب سمجھ میں آئی ہے۔ کیوں نہ ایک قانون پاس کیا جائے کہ ہر لڑکی کو پیدا ہوتے ہی سر پہ لوہے کی ٹوپی پہنائی جائے جس سے دماغ کی بڑھوتری رک جائے۔

بالکل اسی طرح جیسے قدیم چین میں عورتوں کے پاؤں توڑ موڑ کر کنول کی شکل دینے لیے لوہے کے جوتے پہنا دیتے جاتے تھے۔ چار انچ کا پاؤں حسن کا معیار سمجھا جاتا تھا اور اس عورت کی بھاری قیمت لگائی جاتی تھی۔ اس بات کی پروا کس کو تھی کہ عورت کس قدر تکلیف سے گزرتی ہے اور ساری عمر کے لیے معذوری کا شکار ہو جاتی ہے۔ حاکم کا کام تو حکم دینا ہوتا ہے، سوچنا یا پروا کرنا نہیں۔

تاریخ میں کنول پاؤں کی روایت موجود ہے مرد کی طبیعت میں جولانی پیدا کرنے کے لیے تو ہم کیوں پیچھے رہیں؟ چڑھائیے عورت کے سر پہ لوہے کا خود اور بنائیے سر کو گلاب کی لمبوتری کلی۔

دیکھیے نا کئی فائدے ہوں گے، نہ سوچے گی، نہ مرضی کا اظہار کرے گی۔ جہاں بٹھائیں یا لٹائیں گے، حکم کی پابند ہو گی۔ دائرے سے باہر نکلنے کا خیال ہی نہیں آئے گا، ڈگڈگی کی آواز پہ سر جھکا کر وہ سب کرے گی جو مداری چاہتا ہے۔

مداری کی بھی گلو خلاصی ہو گی کہ کبھی کلہاڑی ڈھونڈتا ہے، کبھی رسی، کبھی چولہے پر چڑھی دیگ اور کبھی پستول کی گولی۔ شاہ دولے کی چوہیا یا گلاب کلی کے ساتھ ان سب تکالیف سے چھٹکارا پائے گا اور پھر موجاں ای موجاں۔

ہماری طرح کی کچھ بدبخت عورتیں اگر اپنی جان جگر کو لوہے کی ٹوپی پہنا کر گلاب کی کلی بنانا نہ چاہیں تو انہیں چاہیے بچے پیدا کرنا بند کر دیں یا پھر الٹراساؤنڈ پہ بچی دیکھ کر اسقاط حمل کروائیں۔ نہ پیدا ہوگی، نہ مارنے کا جھنجھٹ ہو گا۔

خون کے آنسو رونے کو جی چاہتا ہے۔ یہ درد صرف ایک عورت ہی محسوس کر سکتی ہے جو نہ جانے کہاں سے آئی ہے؟

Facebook Comments HS

One thought on “قدیم چین کے کنول پاؤں اور اکیسویں صدی میں پاکستانی گلاب کی کلی!

  • 20/07/2022 at 2:39 شام
    Permalink

    بے حد تکلیف دہ تحریر

Comments are closed.