سوتیلا رشتہ اور سوتیلا پن
”سوتیلا“ ایک ایسا لفظ ہے جس کا ذکر ہوتے ہی سب سے پہلے جس رشتے کا خیال آتا ہے وہ سوتیلی ماں اور سوتیلی اولاد کا ہے، حالانکہ سوتیلا باپ بھی ان بچوں کے لئے ایک تلخ حقیقت ہے جو اس کا سامنا کر رہے ہوں۔ سوتیلی ماں کا سب سے پہلے ذہن میں آنا اس لئے ہے کہ ماں کا رشتہ مامتا، قربانی اور محبت سے بھرپور ہوتا ہے جس میں شراکت کو قبول کرنا آسان نہیں ہوتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بیوہ خواتین میں رنڈوے حضرات کی نسبت دوسری شادی کا رواج کم ہے اور اگر شادی کریں بھی تو بچے ساتھ نہیں لے جاتیں۔ زیادہ تر عورتیں طلاق یا بیوہ ہونے پر اپنی زندگی اولاد کے لئے وقف کر دیتی ہیں۔
سوتیلا اس رشتے کو کہتے ہیں جو سگا یا خون کا رشتہ نہ ہو۔ سوتیلے رشتے کی ابتدا ماں یا باپ سے ہوتی ہے جو بعد میں سوتیلے بھائی، سوتیلی بہن اور دیگر تک پہنچ جاتی ہے۔ اب ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو رشتہ سگا ہے کیا وہ سوتیلا نہیں ہو سکتا؟ اس کا جواب ہے، تعلق یا سلوک سوتیلا ہو سکتا ہے، رشتہ نہیں۔ میں نے بہت سارے سگے رشتے ایک دوسرے کی جان کے دشمن دیکھے ہیں، دل پر گھونسا مارتے دیکھے ہیں اور اپنی ”میں“ کے سامنے اپنے ہی خونی رشتوں کے ارمان، بھروسے اور امیدوں کا قتل کرتے دیکھے ہیں۔
ایسے بھی ماں باپ ہوتے ہیں جو سگی اولادوں میں فرق کرتے ہیں گو کہ یہ مشکل کام ہے اور ہر ماں باپ کے لئے ممکن بھی نہیں۔ ارد گرد نظر دوڑائیں تو بہت سارے سگے، اپنے ہی سگے رشتے کا حق مارتے ملیں گے، سگے ماں باپ اور سگی اولادیں ایک دوسرے کے ساتھ سوتیلا سلوک کرتے نظر آئیں گے، اسی کو ہم سگے رشتوں میں سوتیلا پن کہتے ہیں۔
ترے سلوک کا غم صبح و شام کیا کرتے
ذرا سی بات پہ جینا حرام کیا کرتے
بہت سارے دوست احباب ایسے ہوتے ہیں جن سے ہمارا کوئی سگا یا خونی رشتہ نہیں ہوتا لیکن وہ سگوں سے زیادہ محبت اور تعلق کو ثابت کرتے ہیں، وہاں احساس کا مضبوط رشتہ موجود ہوتا ہے۔ بقول شاعر:
تیرے میرے بیچ نہیں ہے خون کا رشتہ پھر بھی کیوں
تیری آنکھ کے سارے آنسو میری آنکھ سے بہتے ہیں
کبھی سوتیلی ماں کا سوچیں تو خود بخود ایک ایسا جلاد نما رشتہ خیالوں میں آئے گا جس کے سامنے بچے بے بس ہوں، گو کہ میرے مطابق ایسا خیال مناسب نہیں ہے۔ دنیا میں بہت سارے واقعات اور خبریں ہم تک پہنچتے ہیں جن سے سوتیلے رشتے کی تصویر کچھ ایسی ہی بنتی ہے۔ اگر سوتیلی ماں کے اپنے بچے ہو جائیں تو پھر سوتیلی اولاد کا اللہ ہی حافظ جو اپنی ماں سے محروم ہوں، چاہے سگے باپ کے کان بھرنے ہوں یا کھانے کی پلیٹ سامنے سے اٹھا کر اپنی سگی اولاد کو دینی ہو، مامتا کے لئے ترسے ہوئے بچوں کے دل سے یہی آواز آئے گی:
صورت کو تیری دیکھنا ممکن نہیں رہا
یہ بیج کیا جدائی کا تو بو گئی ہے ماں
غالباً اسی سال اپریل کی بات ہے، ایک افسوسناک خبر نظر سے گزری۔ حیدر آباد میں ایک 5 سالہ بچی کے قتل میں سوتیلی ماں ملوث نکلی جو بچی کو مستقل تشدد کا نشانہ بناتی تھی، سیڑھیوں سے گرنے کا ڈرامہ رچایا۔ اس سوتیلی ماں کو بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ بچی کے باپ کے مطابق اس کی پہلی بیوی کا چند سال پہلے انتقال ہو گیا تھا، پھر اس نے دوسری شادی کی تھی۔
ان سب حقائق کے باوجود ضروری ہے کہ ہم اس بات کو بھی سمجھیں کہ سوتیلا رشتہ نبھانا آسان کام نہیں ہوتا، بچوں کی نفسیات، احساسات، ضروریات اور محرومی کو سمجھنا بہت اہم ہوتا ہے۔ سوتیلی مائیں اچھی بھی ملیں گی، سب بری نہیں ہوتی ہیں، اس معاملے میں باپ کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے کانوں کو پکا رکھ کر توازن کرے۔ میں نے ایک جگہ پڑھا کہ پاکستانی اداکارہ سویرا ندیم کی زندگی میں بہت مشکلات آئیں لیکن سوتیلی ماں کے حوالے سے وہ خاصی مطمئن رہیں۔ بچپن میں وہ والدین کے ساتھ بیرون ملک چلی گئیں، پاکستان واپس آنے پر والدین میں علیحدگی ہو گئی اور انہوں نے سوتیلی والدہ کے ساتھ بہت اچھا وقت گزارا۔
سابق مشہور کرکٹر وسیم اکرم کی دوسری بیوی شنیرا اکرم خود کو تین بچوں کی ماں کہتی ہیں، جن میں سے دو بیٹے سوتیلے ہیں جو وسیم اکرم کی مرحومہ بیوی سے ہیں۔ شنیرا کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد سوتیلے بچوں سے دوستی کرنا ان کے لئے اہم تھا کیونکہ وہ سوتیلی ماں جیسے الفاظ کو پسند نہیں کرتی ہیں اور سوتیلی اولاد کو وہی پیار دینا چاہتی ہیں جو ایک سگی ماں دیتی ہے۔
مثالیں بے شمار ہیں۔ دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو سوتیلے یا غیر ہو کر سگے بن جاتے ہیں اور بہت سارے سگے ہو کر سوتیلا سلوک کرتے ہیں۔ مثبت سوچ، انسانیت، برداشت، احساس اور رشتے کو نبھانے کی صلاحیت کا ہونا ضروری ہے۔ ہر رشتے کا احترام کریں۔ ضد، غصہ، نفرت، انتقام کی آگ، لالچ، مادی مفادات کی ہوس، حسد، مقابلہ، اور بے حسی کو نکال پھینکیں اور ہر سوتیلے پن کو سگے پن میں تبدیل کر دیں۔ آپ کی اور دوسروں کی زندگی بہت حسین ہو جائے گی۔


