ایک زرداری: پھر سے بھاری


دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

یہ شعر شاعر نے کس موقع پر کہا ہو گا مجھے علم نہیں البتہ 22 جولائی کو پنجاب اسمبلی میں جو ہوا اس کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے یہ شعر زرداری صاحب کی سیاسی حکمت عملی پر صادق آتا ہے۔ آصف علی زرداری پاکستانی سیاست میں متنازع شخصیت کے طور پر مشہور ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی سیاست دانوں میں سب سے بلند پایہ سیاست دان بھی مانے جاتے ہیں، جن کی سیاسی چالیں کامیاب ترین چالیں کہلائی جاتی ہیں۔

میں زرداری صاحب سے نفرت کرنے والے سوشل میڈیا کے کی بورڈ کارکنان سے پوچھتا ہوں کہ تمہیں زرداری سے نفرت کیوں ہے؟ تقریباً 90 فیصد لوگوں سے ایک ہی قسم کا جواب سنتا ہوں کہ زرداری مسٹر 10 پرسنٹ ہیں، زرداری سینما کا ٹکٹ بلیک کرتا تھا اور سب سے گھناؤنا الزام یہ کہ انھوں نے اپنی بیوی یعنی بے نظیر کو مروایا۔

شروع کی دونوں باتوں کو چھوڑ کر بے نظیر کے حوالے سے بات کی جائے تو زرداری صاحب کے قریبی لوگ بتاتے ہیں کہ زرداری صاحب اور بی بی کا بہت خاص اور منفرد رشتہ تھا اور اکثر نجی محفلوں میں بی بی کے ذکر پر زرداری صاحب کے آنسو بھی چھلک پڑتے تھے جس کو وہ ظاہر نہ کرنے کے لئے تھوڑی دیر کے لئے منظر سے غائب ہو جاتے تھے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بہت سے سیاست دانوں نے عظیم کارنامے انجام دیے ہوں گے مگر آصف علی زرداری کے کارنامہ سب سے زیادہ ہیں۔ حادثاتی طور پر پاکستانی سیاست میں واپس آ کر پاکستان کھپے کا نعرہ لگانا بلاشبہ سب سے بڑا کارنامہ تھا کیونکہ اس وقت کشیدگی بہت زیادہ تھی اور اس کو ٹھنڈا صرف آصف زرداری ہی کر سکتے تھے کیونکہ یہ دوسری بار ہوا تھا کہ جب سندھ سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم کا جنازہ پنجاب سے آیا تھا۔

اس کے علاوہ دوسرے کارناموں میں اٹھارہویں ترمیم، پہلی بار 5 سال کی جمہوری حکومت کی مدت پوری کرنا، پارلیمان کو خود مختار بنانا اور اس کے علاوہ دوسرے بہت سے اقدامات تھے جو بلاشبہ زرداری صاحب کی بدولت ہی انجام پائے جس نے پاکستان کی کمزور پارلیمانی سیاست میں نئی روح پھونک دی۔

ایک شخص جس نے اپنی زندگی کا طویل حصہ جیل میں گزارا، وہ شخص جو ملزم ہی رہا مجرم نہ ہوا، وہ شخص جو اپنے بچوں کے بچپن سے محروم رہا، وہ شخص جس کو کئی سالوں تک ہراساں کیا گیا، وہ شخص جس پر سب سے زیادہ بہتان تراشی کی گئی، وہ اپنے تمام پر دشمنوں کو مسکراتے مسکراتے معاف کرتا رہا، وہ تلخ بھی ہو سکتا تھا، وہ بھی چور چور، ڈاکو، لٹیرا کا راگ الاپ سکتا تھا، وہ بھی بلیک میل کر سکتا تھا، مگر اس پر پڑی مشکلات نے اس کو تحمل اور صبر سکھا دیا اور پھر وہ مسکراتے مسکراتے سیاست کرتا رہا اور کامیاب ہوتا رہا۔

زرداری سیاست تو کرتا ہے مگر گالی نہیں دیتا، وہ جملہ ضرور مارتا ہے مگر بدزبانی نہیں کرتا، وہ اپنی بیٹی کا احترام بھی کرتا ہے اور اپنے سیاسی مخالفین کی بھی، وہ مریم کو بیٹی بولتا ہے، وہ اپنے پارلیمانی ساتھیوں کو دوست کہ کر مخاطب کرتا ہے، وہ سندھی ثقافت کے زیر اثر بڑے کا پاؤں چھوتا ہے وہ پاؤں نہیں پڑتا، وہ چور ڈاکو لٹیرا کہہ کر مخاطب نہیں کرتا۔

سیاست بہت سارے لوگ کر رہے ہیں مگر تمیز اور ادب کی سیاست کوئی کر رہا ہے تو وہ زرداری ہے یا بے نظیر کا بیٹا بلاول۔ ایسا نہیں کہ یہ مخالفین کو کچھ نہیں بولتے، یہ بھی مخالفین کو بہت کچھ بولتے ہیں مگر تہذیب کے دائرے میں رہ کر بولتے ہیں۔ ہم سب کو زرداری صاحب یا ان کی پارٹی کی کارکردگی پر اعتراض ہو سکتا ہے اور ہونا بھی چاہیے مگر سیاسی طور پر اور تہذیبی طور پر کوئی بالغ ہے تو وہ زرداری یا پھر بلاول۔

Facebook Comments HS