سلمیٰ اور نیلم


آپا سلمیٰ اعوان اور نیلم احمد بشیر اردو ادب کے دو بڑے اور بھاری بھرکم نام ہیں۔ ان دونوں نامور ہستیوں نے ادب کے دامن کو سچے موتیوں سے بھر دیا ہے۔ نیلم احمد بشیر کی تحریروں میں وہ کاٹ ہے جو ذہن کو جھنجھوڑنے اور دل میں نشتر چبھونے کے ساتھ ساتھ بہ یک وقت ذہن کو آسودہ اور دل کو گداز بھی کرتی ہے۔ آپ کی تحریریں قاری کا نقطہ نظر اور زاویہ نگاہ بدلنے پہ قادر ہیں۔ ان کے قلم میں ایک بے ساختہ پن اور کمال کی روانی ہے۔ جیسے وادی ناران کاغان کے بیچوں بیچ بہتا دریائے کنہار۔ اپنی مستی میں راہ میں آئے پتھروں کو درخور اعتناء نہ سمجھتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ دوسری طرف آپا سلمیٰ اعوان کی تحریریں اپنے اندر عجب ٹھہراؤ اور چاشنی رکھتی ہیں یوں جیسے کسی ٹھنڈے میٹھے چشمے سے قطرہ قطرہ سیراب ہو رہے ہوں۔ ان کے سفر ناموں میں دلکشی اور خوبصورتی ہے۔ وہ اپنی مثال آپ ہے کہ انسان پڑھتے پڑھتے کب سفر نامہ نگار کے ہمراہ قدم بہ قدم چلنے لگتا ہے خبر ہی نہیں ہوتی۔

ذاتی زندگی میں یہ دونوں خواتین بڑی دبنگ اور سچی کھری ہیں مجال ہے کسی کی کوئی غلط بات برداشت کریں۔ ایسے مدلل اور دو ٹوک جوابات دیتی ہیں کہ اگلے کے پاس بغلیں جھانکنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔ مصلحت کوشی ان دونوں کو چھو کر بھی نہیں گزری۔ دراصل آپ نڈر اور بے خوف اس وقت ہوتے ہیں جب صرف بظاہر نہیں بلکہ روح کی گہرائیوں سے سچ کے علمبردار ہوں۔

ان دونوں بڑی ہستیوں سے ایک عرصہ دراز سے میں بھی بہت متاثر تھی اور دل چاہتا تھا کہ انہیں قریب سے جانا جائے۔

نیلم احمد بشیر سے پہلی ملاقات بہت سال پہلے لاہور کے لٹریری فیسٹیول میں ہوئی۔ ڈرتے ڈرتے سلام دعا کی اور ان کے ساتھ تصویر کھنچوانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وہ فٹ بولیں، ”ارے کہیں تم مجھے بشریٰ انصاری تو نہیں سمجھ رہیں، اکثر لوگ مجھے بشریٰ سمجھ کر ساتھ تصویر کھنچوانے کی فرمائش کرتے ہیں“ ۔

”نہیں ایسی بات نہیں۔ میں آپ کو آپ کی تحریروں کے حوالے سے جانتی ہوں۔“ میں نے فوراً صفائی پیش کی۔ انہوں نے خوشی خوشی تصویر بنوائی اور آگے بڑھ گئیں۔ ان کے دوستانہ انداز کے باوجود میری ان سے ڈھیر ساری باتیں کرنے کی خواہش اندر کہیں دبی رہ گئی۔ میری اپنی کم ہمتی کے باعث۔

سلمیٰ اعوان کو بھی پہلی بار لٹریری فیسٹیول میں ہی دیکھا۔ وہ آڈیٹوریم میں مجھ سے کافی دور بیٹھی تھیں اور تقریب ختم ہو نے سے پہلے ہی چلی گئیں۔ بہت سال بعد حلقہ ارباب ذوق لاہور پاک ٹی ہاؤس کے تنقیدی اجلاس میں اپنا افسانہ ”نانا کی لڑکی“ پیش کیا تو صدارت سلمیٰ اعوان کی تھی۔ ان کی ٹھنڈی میٹھی شخصیت نے بڑا حوصلہ دیا۔ مجھ پر سارا وقت یہ احساس غالب رہا کہ ان کے وجود سے شفقت و محبت کی لہریں امنڈ امنڈ کر میرے وجود کو اپنے حصار میں لے رہی ہیں اور جب تقریب کے اختتام پر انہوں نے مجھے بے حد سراہا اور گلے لگا کر پیشانی چومی تو میں روح تک سر شار ہو گئی۔

فیس بک ہم سب کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا سبب بنی۔ میں ان دونوں ہستیوں کی فرینڈ لسٹ میں شامل ہو کر خوشی سے پھولے نہیں سماتی تھی اور میسنجر، واٹس ایپ پر ہلکے پھلکے میسجز بھیجتی رہتی تھی۔ نیلم احمد بشیر ہمیشہ محبت سے جواب دیتیں جبکہ سلمیٰ اعوان شاید میسنجر اور واٹس ایپ دیکھتی ہی نہ تھیں۔ بڑی مایوسی ہوتی۔ دراصل میں تحریر کے پیرائے میں تو عقیدت و محبت کا اظہار کھل کر کر لیتی ہوں روبرو مجھ سے کوئی خاص گفتگو نہیں ہوتی۔ یہ ایک بڑی خامی ہے مجھ میں۔

خیر ایک دن آپا سلمیٰ اعوان کو فون کھڑکایا کہ آپ سے ملنا ہے اور ڈھیر ساری باتیں کرنی ہیں۔ انہوں نے کمال مہربانی سے کہا آ جاؤ۔ سو میں بیٹی رابیل بلوچ کے ساتھ ملنے چلی گئی۔ ہائے کیا ہی یادگار ملاقات تھی۔ کیسی کیسی پیاری گفتگو ہوئی۔ میں نے بہت سے تشنہ سوالات کے جوابات پوچھے۔ اس دو گھنٹے کی ملاقات میں انہوں نے جس طرح ہماری خاطر داری کی وہ الگ داستان ہے۔ بس جی اٹھنے کو جی ہی نہ چاہتا تھا۔ پھر تو ان سے رابطہ معمول سا بن گیا۔ اکثر فون پر بات ہو جاتی۔ اپنائیت اور محبت کا تعلق بڑھتا ہی رہا۔

خیر اسی طرح نیلم احمد بشیر کو میں نے ڈرتے ڈرتے اپنا ناول بھیجا کہ ریویو لکھ دیں۔ انہوں نے جس طرح میرا حوصلہ بڑھایا اور جتنے خوبصورت الفاظ لکھے وہ سدا میرے دل پر نقش رہیں گے۔

میں خود کو بہت خوش نصیب تصور کرنے لگی تھی کہ ایسی ایسی نابغہ روزگار شخصیات مجھے کسی قابل گردانتی ہیں۔ حوصلہ بڑھا تو ان دونوں کو اپنے گھر آنے کی دعوت دے ڈالی جو قبول بھی کر لی گئی۔ اور بہت سی ادبی سہیلیاں بھی اس محفل کا حصہ تھیں۔ اس دن میں نے ان دو بڑی ہستیوں کے اندر سلمیٰ اور نیلم کو دریافت کیا۔ اتنی معصوم، بے ریا، نکھری ستھری الہڑ سی لڑکیاں۔ ایک دوسرے کو تو تو کہہ کر مخاطب کرتی ہوئی۔ بلند اور بے فکر قہقہے لگاتی ہوئی، ایک دوسرے پر مزے مزے کے فقرے کستی ہوئی۔

یہ سب کتنا خوبصورت اور دلکش تھا۔ کوئی مجھ سے پوچھے۔ کیونکہ میں نے بہت کم دیکھا ہے کہ کوئی اندر سے بھی اتنا ہی خوبصورت ہو جتنا وہ باہر سے نظر آتا ہے۔ میں بظاہر اس دن بھی خاموشی سے انہیں دیکھ کر مسکراتی رہی مگر میرے اندر کی لڑکی سلمیٰ اور نیلم کی دریافت پر خوشی کے مارے تالیاں پیٹنے لگی۔ یہ بھی میرے جیسی ہیں۔ یہ بھی میرے جیسی ہیں۔ ایک سر خوشی کا عالم طاری رہا۔

اس دوران کسی نے میرے دل کی بات دونوں سہیلیوں یعنی سلمیٰ اور نیلم سے پوچھ لی۔ ”آپ دونوں کی دوستی کب اور کیسے ہوئی؟“

سلمیٰ کے چہرے پر بڑی دل آویز مسکراہٹ پھیل گئی۔ کہنے لگیں ”بہت سال پہلے کی بات ہے۔ نیلم امریکہ رہتی تھی۔ اس کا میاں ڈاکٹر تھا۔ کبھی کبھی پاکستان آتی تو اس کی بڑی ٹوریں ہوتی تھیں۔ کئی تقریبات میں سامنا ہوا۔ مگر کبھی بات نہ ہوئی۔ میں اسے مغرور سمجھتی رہی۔ سوچتی یہ مجھ سے بات نہیں کرتی تو میں کیوں کروں۔ مگر ایک دن کچھ ایسا ہوا کہ میں چپ نہ رہ سکی۔ نیلم نے بڑی ہی خوبصورت چپل پہن رکھی تھی۔ جس میں اس کے نرم و نازک دودھیا پاؤں جگمگا رہے تھے۔ آخر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے پوچھ ہی لیا کہ یہ چپل کہاں سے خریدی؟“

نیلم منھ سے کچھ نہ بولی مگر آنکھوں کے اشارے چہرے کے تاثرات سے جو جواب اس نے دیا وہ بڑا ہی اچھوتا اور دلکش تھا۔

”ارررے۔ میں وہ اشارہ بھلا کیسے نہ سمجھتی۔ عمر گزری تھی اسی دشت کی سیاحی میں۔ میں نے سوچا یہ تو بڑی اپنی اپنی سی ہے۔ میں ایویں اسے مغرور سمجھ رہی تھی۔ بس جی وہ دن اور آج کا دن ہم دونوں پکی سہیلیاں ہیں۔“

جی دوستو آپ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ نیلم نے وہ جوتے کہاں سے لیے تھے۔
سو خلاصہ احوال یہ ہے کہ
انوکھی اور منفرد روحیں بالآخر ایک دن اپنے جیسی ہم روحوں کو ڈھونڈ ہی لیتی ہیں۔

Facebook Comments HS