سلام اے فاروق!


ان کی طبیعت میں غیر معمولی سختی کو دیکھتے ہوئے بظاہر مسلمانوں کو یہ توقع بالکل نہیں تھی کہ وہ ایمان لے آئیں گے لیکن جس کے لیے اللہ تعالی ہدایت کا ارادہ کر لیتا ہے، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے، اور جسے اس کی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے گمراہ کرنا چاہے، اس کا سینہ اتنا تنگ کر دیتا ہے کہ پھر اس کے لیے ایمان لانا فضا پر چڑھنے جیسا لگ رہا ہوتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالی ہر کسی کے ظاہر اور باطن سے واقف ہے، وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ان کی طبیعت کی یہ سختی مستحکم ہے اور نہ ہی مستقل اور اس کے پیچھے چھپی ہوئی رحمت، رقت، طاقت اور عدل کو بھی خوب جانتا تھا، اس لیے ان کے حق میں اپنے حبیب ﷺ کی دعاء قبول فرمائی اور بہت جلد اسلام کی روشنی نے ان کے دل کی ظلمت کو دور کر دیا۔

یہ اس شخصیت کے بارے میں بات ہو رہی ہے کہ جس کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل کی امتوں میں کچھ لوگ ایسے ہوا کرتے تھے کہ جو نبی نہیں ہوتے تھے لیکن اس کے باوجود ان کو اللہ تعالی کی طرف سے الہام ہوا کرتا تھا اور میری امت میں اگر کوئی ایسا شخص ہو سکتا ہے تو وہ عمر ہوں گے۔ ترمذی۔

وہ عمر، جن کی کنیت ابو حفص اور لقب الفاروق ہے۔

آپ رضی اللہ عنہ ان خوش نصیب صحابہ میں شامل ہیں جن کو نبی کریم ﷺ نے جنت کی بشارت سے نوازا۔ آپ، اپنے لڑکپن میں اونٹ چراتے رہے، جوان ہوئے تو سپہ سالاری، شہ سواری، نسب، شعر و شاعری اور پہلوانی کی تعلیم حاصل کی۔ چنانچہ جس وقت قریش کے صرف سترہ لوگ پڑھنا لکھنا جانتے تھے، ان میں ایک آپ بھی تھے۔ رعب اور دبدبے سے اللہ تعالی نے اس قدر نوازا تھا کہ عرب کے بڑے دلیر اور پہلوان بھی آپ سے مقابلہ کرنے سے کتراتے تھے۔

آپ کا شمار نبی کریم ﷺ کے زمانے سے ہی ممتاز علما میں ہوتا تھا۔ پردہ کے حکم سمیت کئی بار آپ کی رائے اور خواہش کی تائید میں قرآن اترا، حق بات کو ان کی زبان پر جاری فرمایا، نہایت غیرت مند اور دلیر تھے، اسلامی تعلیمات پر سختی سے خود بھی عمل کرتے تھے اور دوسروں سے بھی یہی چاہتے تھے۔ آپ کی علم کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ نبی کریم ﷺ نے خواب میں دودھ پینے اور پھر اس دودھ کے پیالے کو حضرت عمر کو دینے کی تعبیر علم سے فرمائی۔

آپ کی ہیبت کے حوالے سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ: شیطان آپ کو دیکھ کر راستہ بدل لیتا ہے۔ بخاری۔ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ان سے ایک آیت کے متعلق سوال کے حوالے سے اپنا خوف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اللہ کی قسم میں یہ سوال آپ سے کرنے کے لیے ایک سال سے ارادہ کر رہا تھا لیکن آپ کے رعب کی وجہ سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔

ان کے جاہ و جلال کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب یثرب (مدینہ) کے زیادہ تر لوگ ایمان کے شرف سے مشرف ہوئے اور انہوں نے مکہ سے ہجرت کرنے والوں کے لیے امن و سلامتی کا وعدہ کیا تو نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ یثرب کی طرف ہجرت کریں۔ اس حکم پر عمل کرتے ہوئے زیادہ تر مسلمانوں نے چھپ کر یثرب کی طرف ہجرت کی، تاکہ قریش کے لوگ ان پر حملہ نہ کریں۔ فاروق، مگر چھپ کر نہیں گئے، بلکہ اسلام لانے کے بعد جب ہجرت کا ارادہ فرمایا تو اپنی تلوار پہنی، کمان اپنے کندھوں پر رکھی، اپنی مضبوط لاٹھی اور تیروں کا ایک بنڈل اٹھایا، سکون سے کعبہ کا سات بار طواف کیا، مقام ابراہیم کے قریب نماز ادا کی اور پھر مشرکوں کے ایک گروہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: جو یہ چاہتا ہو کہ اس کی ماں اس پر روئے، یا جو اپنے بچوں کو یتیم اور اپنی بیوی کو بیوہ کرنا چاہتا ہو، وہ مجھ سے اس وادی کے پیچھے آ کر مل لے۔

یکم یا دو محرم کو ہجری تقویم کے بانی، یروشلم کے فاتح، عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، اناطولیہ، آرمینیا اور سجستان تک کی سر زمین پر اسلامی پرچم لہرانے والے اور بائیس یا پچیس لاکھ مربع میل کے رقبے پر تقریباً ساڑھے دس سال تک عدل کے ساتھ حکومت کرنے والے یہ عظیم، حکمران، بہترین منتظم اور مثالی عدل گستر جام شہادت نوش کرتے ہوئے اس فانی جہاں سے ہمیشہ کے لیے کوچ کر گئے۔

آج ہمیں اپنے اسلاف کی تاریخ پڑھنے، ان کی سیرت کا مطالعہ کرنے اور ان کے خوشحال اور تابناک ماضی سے سبق سیکھنے کی اشد ضرورت ہے، لیکن افسوس کہ اس حوالے سے ہمارا حال وہی ہے جو ایک عربی شاعر نے بیان کیا ہے کہ:

مغرب نے ماضی سے رہنمائی طلب کی تو اس نے اس کی رہنمائی کی * جبکہ ہم اپنا ماضی بھول گئے ہیں۔

حالانکہ حکومت چلانے کے لیے جس حکمت، بصیرت، سمجھ بوجھ، سادگی اور پرہیزگاری، نظم و نسق، نرمی اور سختی، عدل اور خود احتسابی جیسی صفات کی ضرورت ہوتی ہے، اس حوالے سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ چنانچہ بعض اوقات صاحب اقتدار کی زبان سے نکلا ہوا ایک چھوٹا سے لفظ سننے والوں کی روح میں جادو جیسا اثر کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ ان میں بے پناہ مقبولیت حاصل کر لیتا ہے۔ یہی ایک لفظ حکمران کو آگے بھی بڑھا سکتا ہے اور پیچھے بھی دھکیل سکتا ہے، بلندی پر بھی پہنچا سکتا ہے اور کھائی میں بھی پھینک سکتا ہے۔

کوئی بھی حکمران چاہے وہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، حکمت کے بغیر عوام کی درست طریقے سے قیادت نہیں کر سکتا، اور حکمت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کی جگہ پر رکھ دیا جائے۔ غصہ، سختی اور طاقت کا استعمال کب اور کیسے ہو، اور نرمی، رواداری، شفقت اور رحم دلی سے کب اور کیسے کام لیا جاتا ہے؟ اس ہنر کو فاروقی سیرت سے خوب سیکھا جا سکتا ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کامیاب حکمرانی کا اصل راز خوف خدا اور عدل و انصاف تھا۔ اسلام، بلکہ پوری انسانی تاریخ میں انصاف کو جو مقام بلند حاصل ہے وہ کسی پر مخفی نہیں ہے، عدالتی نظام کو آسان اور شفاف بنانے کی صورت میں اس کے بہترین نتائج اور بھرپور فوائد سے کسی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا۔

ہمارا پیارا وطن آج جن ہمہ جہت مصائب و مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے اور ہر دور حکومت میں ان مسائل میں اضافہ تو ہو رہا ہے لیکن حل کی کوئی صورت کہیں نظر نہیں آ رہی، اس کی وجوہات اور اسباب اور بھی کئی ہوں گے لیکن اگر بنظر انصاف، نظام انصاف کا جائزہ لیا جائے تو ایک بنیادی سب نظام عدل کی ابتر اور پیچیدہ صورت حال ہے۔ یہ درست ہے کہ عدل کا مفہوم صرف عدالتی نظام تک محدود نہیں اور اس میں بھی شک نہیں کہ اس وقت ہمارا پورا معاشرہ بحیثیت مجموعی بے انصافی کی دلدل میں پھنس چکا ہے۔

نہ رشتے داروں میں عدل ہے، نہ سیاست دانوں میں، نہ تاجروں میں، نہ صحافیوں میں، نہ مذہبی طبقے میں اور نہ ہی عوام میں، حتی کہ جو بظاہر مظلوم ہے وہ بھی اپنے ماتحت کے لیے ظالم بنا ہوا ہے، لیکن پورے معاشرے میں پھیلی یہ بے انصافی تب ہی ختم ہو سکتی ہے جب لوگوں کے دلوں میں شعور اور آگہی کے ساتھ ساتھ قانون کا ڈر ہو گا اور یہ ڈر لوگوں کے دلوں میں تب آئے گا جب ہمارا عدالتی نظام شفاف اور بے داغ ہو گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بے مثال عدل و انصاف کے پیچھے جو چیز کار فرما تھی اور جو آپ کو خود احتسابی پر مجبور کرتی تھی، وہ ان کے دل میں موجود خوف خدا تھا یہی وجہ ہے کہ آپ نے شاہ و گدا، اپنے، پرائے، کمزور و طاقتور میں کبھی فرق نہیں کیا، یہاں تک کہ اپنے متعین کردہ گورنرز اور اپنی اولاد کو بھی قانون سے مستثنٰی نہیں سمجھا۔

پس، سلام ہو ان پر جس دن آپ فاروق بنے، جس دن خلافت سنبھالی، جس دن خنجر کے وار سہے، جس دن شہید ہوئے، جس دن اپنے دو ہم نشینوں کے پہلو میں دفن ہوئے اور جس دن اٹھائے جائیں گے۔ سلام اے فاروق!

Facebook Comments HS