بلوچستان کے باسی مسیحا کے منتظر


ہماری گندی، لالچی اور منافقانہ سیاست اور ناجائز اقتدار کی رسہ کشی نے عوام کو اس لیول تک پہنچا دیا ہے کہ اب وہ بالکل مایوس اور نا امید ہوچکے ہیں۔ ایک مہینے سے ملک بھر میں خصوصاً بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سینکڑوں گھروں اور خاندانوں کو سیلاب نے تباہ اور برباد کر دیا ہے، کوئی ان کا مسیحا نہیں۔ اشیائے خورد و نوش سے لے کر ادویہ تک کی ساری ضروری چیزیں مفقود ہیں۔ انسان کھلے آسمان تلے طوفانوں اور سیلابوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ کوئی ذمہ دار، نہ ہی کوئی غیر ذمہ دار فرد اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ علاقے کے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ان مجبوروں اور مقہوروں کی مدد میں مصروف ہیں۔

حقیقت میں ڈوبے ہوئے، بہائے ہوئے اور غرقاب عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ہمارے سیاسی سر پروں کو بادشاہت کی شہوت سے فرصت نہیں، حکمرانی کے حرص نے آنکھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ دیے ہیں، اقتدار کے قرار نے ضمیر بیچنے پر مجبور کر دیے ہیں اور منصب کے حصول نے اقدار کی پامالی تک لے گئے ہیں۔

ایک طرف عوام سسک سسک کر مر رہے ہیں، دوسری طرف معیشت بلک بلک کر ڈوب رہی رہے۔ ہمارے دیس میں مگر! عجیب کاروبار کا بازار گرم ہے، ضمیروں کی سوداگری جاری ہے، اقدار کی پاسداری عروج پر ہے اور ایمانوں کے سوداگر گلی و کوچوں میں بے باک گھوم رہے ہیں؟ کوئی روکنے ٹوکنے والا ہے، نہ ہی کوئی ملامت کرنے والا۔ قانون آنکھیں جھکا کر کھڑا ہے۔ انصاف دور بھٹا کر اپنا سینا پیٹتا ہے اور تراب وطن بے بسی کا نظارہ کرتا ہوا روتا ہے۔ ایک عجیب سا سماں ہے۔ لوگ نا امیدی کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک ریاست کے باسی ہونے کے باوجود خود کو اجنبی محسوس کر رہے ہیں۔ یہ بے چارہ عوام آخر جائیں کہاں؟

مال و جاہ کے دیوانوں، سیاست کی سوداگری سے اگر فرصت مل جائے، تو خدارا اس در بدر عوام پر بھی ذرا رحم فرمائیں۔ ان کی آہوں اور سسکیوں کی مداوا بنیں اور اس طوفانی صورتحال میں ان مظلوموں اور مجبوروں پر خصوصی کرم فرمائیں۔

Facebook Comments HS