جنسی بھوک، طیبہ گل اور ہمارے حقیقی حالات


ہم ایک ایسے ’آزاد ملک‘ کے باشندے ہیں جو گزشتہ کئی مہینوں سے معاشی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے (دراصل 75 سالوں سے)۔ جنگ کیا لڑ رہا ہے بلکہ اب کی بار خاص منصوبہ بندی سے عام اور متوسط طبقے کے افراد کی زندگی کو بالواسطہ اور بلاواسطہ محصولات کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے جبکہ جس معاشی اژدھے کے نزول کی خبر دی جاتی ہے وہ خوش نصیب ہے کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہا باوجود اس کے کہ اس ’نادیدہ آفت‘ اور ’غیر متوقع‘ وبال نے متوسط طبقے کی زندگی کو حقیقی معنوں میں وبال بنا کر رکھ دیا ہے۔

ازل سے حکومت اور وزیر اعظمی ”شیروانی“ کے شیدائی ایک طرف تو اپنے ہاتھوں پر بادشاہت کی لکیریں کھود کر وزیر اعظم بن گئے ہیں تو دوسری طرف وہ پوری قوم کی ناک سے عجیب و غریب لکیریں کھدوا رہے ہیں جو ہر فرد کی لاکھ کوشش کے باوجود ایک ہیولہ ضرور بناتی ہیں مگر کھدائی کا تمثالی معجزہ ہے کہ رونما ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے اونچی سے اونچی اڑان بھر کر اپنے تئیں مشکل اور ”دانش مندانہ“ فیصلے کیے ہیں، مشکل سے بھری قانون سازی کی ہے، ایک فیصل آبادی محب وطن کو ’اپوزیشن لیڈر‘ بنوایا ہے، حمزہ شہباز کو غریب پرور کھدر کی واسکٹ سلوا کر دی ہے اور کوکو مو جیسی مضر صحت اجزاء کے پیکٹ میں اجناس کی مقدار پر پچاس فی صد تک کمی کروا کر قوم کے ہونہار بچوں کو غلط اشیاء زیادہ کھانے سے روکنے کی منصوبہ بندی ضرور کی ہے لیکن درحقیقت انہوں نے اپنے ورکر پر بھوک، بیماری، مایوسی اور تھکن جبکہ اپنی پارٹی پر بالعموم اور اپنے خاندانی افراد پر لگے ”چوری“ کے الزام کو بالخصوص غذا تو فراہم کی ہے مگر ساتھ ہی عام اور متوسط طبقے کے چالیس فیصد سے زیادہ لوگوں سے غذا چھین بھی لی ہے اور ان کے وزیر با تدبیر، بے حس اور ہنستے ارب پتی نے چار بھائیوں کو ایک روٹی کے چار پارچے بنا کر کھانے کا مشورہ دے کر اپنی معاشی منصوبہ بندی کا سینہ بھی چاک کیا ہے (گو اس کانٹ چھانٹ کا درد عام آدمی کے سینے میں تیز تر ہوتا جا رہا ہے ) کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس سیاسی کھیل میں سب پیادے اپنی جگہ اور اپنی وقعت سے خوب واقف ہیں اور اپنا مال پانی بنانے کے چکر میں آتے جاتے رہتے ہیں (سیاسی جماعت خواہ کوئی بھی ہو) محسوس تو یہ بھی ہوتا ہے کہ موجود وزیر اعظم کے پاس بڑے بھائی کو سیاسی نقصان پہنچانے کا اس سے بہتر موقع نہیں مل سکتا تھا، نہ ہی مریم نواز شریف کی روز بروز بڑھتی مقبولیت کے دیو پر اس سے زیادہ کاری ضرب لگائی جا سکتی ہے کہ اگر وہ مجسمہ ٹوٹا نہیں تو کم از کم اس قدر بد نما ہو گیا کہ مریم نواز شریف اور حمزہ شہباز شریف اسی راستے پر گامزن رہے تو جلد ایک ہی مقام تک پہنچ جائیں گے۔

آپ ملاحظہ کریں ایسا ملک جس میں اکثریتی آبادی کے پاس دو وقت کی روٹی خریدنے کی استطاعت نہیں، جس قوم کی غالب آبادی کے پاس پینے کے لیے صاف اور صحت افزاء پانی نہیں، صحت کی سہولیات صرف اشرافیہ کو میسر ہیں، جس قوم کے کروڑوں بچے سکول کی چار دیواری سے باہر رہنے ہر مجبور ہیں، جس ملک میں جگہ جگہ کم عمر بچے ہوٹلوں، کار موٹر سائیکل پنکچر کی دکانوں، کریانہ فروشوں، زلف تراشوں اور حد یہ کہ ملک بھر کے ”یتیم خانہ“ جیسے چوکوں پر ”مالشیوں“ کے ساتھ ”نہایت ضرورت مندوں“ کی خدمت کے لیے حاضر ہوں۔

جس ملک میں استاد، مولوی، کلرک، سپاہی، اخباری رپورٹر سمیت 99 فی صد لوگ رشوت خور اور بے ایمان ہوں اور باقی ایک فی صد بلند فشار خون کے مریض۔ جس ملک میں سترہویں گریڈ کا سرکاری ملازم 1300 سی سی گاڑی رکھے، کنال کا گھر چلانے میں کوئی مشکل محسوس نہ کرے، اشرافیہ کے اداروں میں بچوں کو تعلیم دلوانے کے ساتھ اپنی چودہ گریڈ اسسٹنٹ کو بھی ’خوش رکھے‘ جبکہ اس کی تن خواہ پانچ ہندسوں سے اوپر نہ ہو تو یہ کس جادو کی چھڑی سے ممکن ہو پاتا پے؟

دوسری طرف جہاں مزدور، ریڑھی بان سمیت بے شمار لوگ آئے دن بچوں سمیت دریاؤں ایسی چوڑی، گہری، منہ زور نہروں میں اپنی لاچاری کا اعتراف کرتے ہوئے ڈوب مرنے کو فرار کی راہ سمجھیں، جہاں معاشی مجبوری کے سبب سے خودکشی عام ہو۔

اس سر زمین کے شاعر مصنف شام ہوتے ہی تین پیگ لگا کر محبوبہ کے غم میں آنسو بہاتے ہوں یا نوامدہ محبوبہ کی بانہوں میں رات بھر چربہ شدہ شعر گنگناتے ہوں اور شاہ دربار کے غلام مرکزی شہروں میں عالی شان دفاتر میں حاکمان وقت کی ہم جلیسی کے مزے لوٹتے ہوں، جس ملک میں کالم نویس شاعروں اور مصنفوں کا درجہ پائیں اور حقیقی دانشوروں کو اندھی گولیوں سے بھون دیا جاتا ہو یا انہیں ملک سے بھاگنے پر مجبور کیا جاتا ہو، جس ملک میں اہم ترین شاعر کا سامان سرکاری گھر سے زبردستی نکال کر سڑک پر پھینک دیا جائے اور سیاست دان غیر قانونی طور پر سالوں سرکاری گھروں میں مقیم رہیں۔ جہاں علماء کی گاڑیوں سے شراب کے کارٹن برآمد ہوں اور ان کے بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں نہیں بلکہ قریب از ارب روپے موجود ہوں۔ جہاں کی طاہرہ اپنے شوہر اور در درانی اپنے مجازی خدا کے عمل سے زندگی سے لاتعلق ہو جائیں۔

وہاں آپ کس بدلاؤ کی بات کرتے ہیں؟

یہ تصویر کا ایک پہلو ہے مگر اسی ملک میں تصویر کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ آپ سب سوچ رہے ہوں گے کہ میں سابق گورنر پنجاب کی سابق اہلیہ ”میڈا سوہنڑا سائیں“ کی بابت لکھوں گا؟ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ آپ مجھے رجائیت پسند ہوتا دیکھ رہے ہوں گے جو کہ میں ہوں لیکن حقیقت سے آنکھیں کیونکر چرا سکتا ہوں؟

آپ خیال کر رہے ہوں گے کہ میں ملک میں دوڑتے بھاگتے موٹے تازے کرپشن کے بیل کے نوکیلے سینگوں بارے کوئی بات لکھوں گا؟ لیکن ایسا بھی بالکل نہیں ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں کہوں گا حکومت کو چاہیے کہ چھوٹے چھوٹے صنعتی پیداواری یونٹ قائم کرے اور بڑھتی آبادی کو طاقت بنائے تاکہ ہم دوسروں سے چیزیں لینے کی بجائے خود کچھ کرنے کے قابل ہوں؟ مگر ایسا بھی ہرگز ہرگز نہیں ہے۔ آپ اندازہ لگا رہے ہوں گے کہ میں حاکم وقت کو فی گھرانا 12 ہزار ماہانہ بھیک دینے کی بجائے تین لاکھ قرض پر بکری پال، اسکیموں کے اجراء کی درخواست کروں گا؟

تو ایسا بھی بالکل نہیں۔ آپ کے دل میں ہو گا کہ میں کہوں گا کہ بھئی فوری طور پر کھربوں روپے کے لیپ ٹاپ دینے کی بجائے ملتان، لاہور، کراچی، سیال کوٹ، بہاول پور سمیت لاتعداد شہروں میں بند گھریلو انڈسٹری کے از سر نو قیام کے لیے ہنرمندوں کو پانچ سے دس لاکھ تین سالہ اسکیم پر بنا سود قرض دیے جائیں؟ نہیں بھائی ایسا بھی نہیں ہے۔ اچھا اچھا آپ کا خیال ہو گا کہ میں کسانوں کو جدید آلات کی فراہمی کا منصوبہ یہاں لکھوں گا؟

نہیں میرے دوستوں ایسا بالکل بھی نہیں ہے کیونکہ میں بے وقوف ضرور ہوں مگر اس قدر بھی نہیں کہ اس سادہ سے اصول سے واقف نہ ہوں کہ کوئی قوم اس وقت درست راستے پر آ سکتی ہے جب اس کے عوام بھلے سائنس دان نہ ہوں، بے شک افلاطون، دریدا اور فوکو کی طرح علم و حکمت کے موتی پرونے کی صلاحیت سے مالا مال نہ ہوں اور نہ ہی کسی سائنسی معجزے کے بانی ہوں اور نہ ہی سائنسی لیبارٹری یا سماجی فلاح میں بڑی ڈگریاں رکھتے ہوں بلکہ اقوام راہ راست پر آتی ہیں جب ان کے دماغ قومی وقار ایسے تصور سے لبریز ہوں، جب وہ کم از کم کردار کی سطح پر اتنے نہ گر جائیں کہ رشتوں کے مابین تفریق کرنے کی حس ہی کھو بیٹھیں، جب وہ مال، اولاد، زر، زن میں فرق کرنے سے قاصر ہو جائیں اور خاص کر جب جنس ان کے دماغوں پر بھوت بن کر سوار ہو جائے۔

جو قوم اپنی ماں بہن بیٹی کے بارے جنسی خیالات کا اظہار کرے جو جنس کو ”جبلت کے نام پر زندگی کا لازمی جزو قرار دے“ ایسا لازمی جزو جس کے لیے کوئی اقداری یا قانونی حد بند مقرر کرنا متروک تر ہو گیا ہو۔ ہم وہی بدقسمت قوم ہیں، جو طیبہ گل جیسے کرداروں کو روزمرہ حیات کا حصہ سمجھتے ہیں (گویا ہم حس اور کردار دونوں سطحوں پر مردہ ہو چکے ہیں ) ہمارے ملک میں ایوان بالا و زیریں جیسے بڑے بڑے سرکاری دفاتر، بینک، ہسپتال، جامعات، کالجز، مدارس جنسی ہراسانی کی بدبو سے لباب بھرے ہوئے ہیں۔ حتی کہ ہم شہروں کے نام لے کر گھٹیا جنسی لطائف کی اختراع کرتے ہیں۔ صوبوں کی شناخت پر جنسی درندگی لڑکا بازی کی تفریق کرتے ہیں۔ ہم گزشتہ عشرہ بھر سے زیادہ وقت سے یوٹیوب پر جنسی وڈیوز دیکھنے والی اقوام میں ہمیشہ امتیازی سطحوں پر براجمان ہیں اور اس دیکھ ریکھ میں ساری دنیا کو پچھاڑ رکھا ہے۔

آپ میر منتظم نیب جناب جسٹس جاوید اقبال اور طیبہ گل کے بارے میں سوچ رہے ہوں گے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جاوید اقبال جیسے غلیظ دماغ چاروں طرف پھیلے ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب طیبہ گل جیسی عیار اور مفاد پرست عورتوں /لڑکیوں کی بھی یلغار ہے یہ تو محض ایک کیس سٹڈی ہے جس کی بنیاد پر آپ پورے معاشرے کی حقیقی شکل سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔

ملک بھر میں دینی مدارس ہوں یا سرکاری اور نجی بینک، نجی تعلیمی ادارے ہوں یا سرکاری کالج اور یونیورسٹیاں سب کے سب کی حالت یکساں ہے۔ ذرا جائیں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والی لڑکیوں کو یقین دلائیں کہ آپ ان کا تحفظ کریں گے پھر دیکھیں کیسے سین ان کے فون میں، وٹس ایپ پر، میسینجر میں محفوظ ہیں۔ آپ میں ہمت ہے تو مدارس اور یونیورسٹی کے اساتذہ کے اعضائے رئیسہ کی پاگل کر دینے والی تصاویر اور وڈیوز ان کی پسندیدہ طالبات کے موبائل فون، ای میل، جی میل میں ملاحظہ کریں۔

کلاس رومز میں اساتذہ کی طرف سے مستعمل زبان سنیں تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ طالب علم ”کنجر، خنزیر، کمینے، کتے، جاہل ماں باپ کی اولاد“ جیسے نادر القابات کہاں سے سیکھتے ہیں۔ پچاس سال کی عمر سے متجاوز اساتذہ خواہ وہ یونیورسٹیوں سے یوں یا مدارس سے، مخلوط نظام تعلیم کے پرنسپل ہوں یا ڈائریکٹوریٹ میں بیٹھے کلرک، افسران، حتی کی چپڑاسی۔ بینک کار ہوں یا بس ڈرائیور، عورت کی مجبوری سے آگاہ معمولی زمین کے مالک ہوں یا مالک مکان جنہوں نے اپنا گھر کسی بیوہ کو دے رکھا ہو، اس بیوہ کی جوان لڑکیوں کی آنکھوں سے جاری آنسو کی روداد سنیں بشرطیکہ آپ اس سارے غلیظ کھیل کا حصہ نہیں ہیں۔

پھر دیکھیں کیسے برہنہ تصاویر کے تقاضے یہ اساتذہ اور افسران کرتے ہیں اور تعاون کرنے ”والی“ کو کیسے کیسے نوازتے ہیں۔ نوازش کا تعلق بھی سرکاری یعنی ہمارے محصولات سے ہو گا کہ یہ اپنی کرسی کا استعمال کر کے نوکری دیں گے تاکہ مال غنیمت ہر وقت دست یاب رہے ایک چشم دید واقعے پر گفتگو ختم کرتا ہوں جو سچ ہے گو مقامات فرضی ہیں۔ سندھ کی ایک یونیورسٹی کے کسی سائنس کے شعبہ میں سلیکشن بورڈ کے آخری مرحلے پر انٹرویوز جاری تھے تو جناب صدر شعبہ (جو اس فیکلٹی کے ڈین بھی تھے اور بورڈ آف ایڈوانس سٹڈیز کے سربراہ بھی) بار بار ایک نمبر سے فون سن رہے تھے اور وہ ہر بار ایک موٹی گالی دے کے کہتے پریشان نہ ہو یار۔ دے آ۔

صدر شعبہ انٹرویو میں جاتے ہوئے فون مجھے دے گئے اور ایک نمبر کی ہدایت کی کہ اس کے علاوہ فون سنتا رہوں اور آگاہ کروں کہ صاحب میٹنگ میں ہیں اور بطور ذاتی ملازم یہی میری ذمہ داری بھی تھی۔ اس خاص نمبر سے فون آنے کا سلسلہ بند ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا، اور اب تو مسلسل اور بے توقف میسجز بھی شروع ہو گئے یعنی کوئی آدھ گھنٹہ میں بیس سے زیادہ فون کالز اور میسجز گنتی سے باہر، آخر ایک میسج پڑھنے کی غلطی میں نے کر ڈالی جس پر خدا مجھے معاف کرے۔ صاحب کو واقعہ بتا کر اسی روز معافی مانگی کیونکہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ میسج میں نام لی جانے والی مستور آئندہ چند روز میں میری بھی افسر بننے والی تھیں۔ اب واپس میسج کی طرف آئیں اور میرا خدا حافظ بلکہ اللہ ہی حافظ قبول فرمائیں۔

”یار ب… ڈاکٹر خدا کا نام لو اور فون پک کرو، وہ مجھ سے پوچھ رہی ہے اور تم یاد رکھو اگر… کی سلیکشن نہ ہوئی تو تم سے میرا پچیس سالہ تعلق ختم کہ تمھیں پتہ ہے وہ سانگھڑ سے ہے اور وہیں پرائمری سکول میں پڑھاتی ہے اور میں ہر ہفتہ… کے لیے سانگھڑ جانے سے تھک جاتا ہوں گیسٹ ہاؤس کا خطرہ اور خرچہ الگ اور اگر وہ کراچی آ گئی تو میں جب چاہوں… سکتا ہوں۔ تم جواب تو دو ما…

 

Facebook Comments HS