کشمیر کا گھاؤ اور دعا سے خالی قبریں



امی اور ان کے خاندان کی باقی عورتیں حج کرنے گئیں تو کسی نے کہا ہمارے لیے بھی دعا کرنا۔ میں اور میری کزن ہنسنے لگے۔ ہماری شادی کے لئے دعا تو آج تک کی نہیں۔ ان کی دعائیں کشمیر کی آزادی سے شروع ہو کر کشمیر کی آزادی پر ختم ہو جاتی ہیں۔ مگر ممکن ہے آزادی کے بعد آپ کی باری بھی آ ہی جائے۔

خیر حج سے واپسی پر حاجی خواتین کے پاس بہت مزیدار قصے تھے چونکہ ان تمام خواتین کا براہ راست تعلق مقبوضہ کشمیر سے تھا اس لیے انہوں نے سعودی پالیسی پر گہری نظر کے علاوہ کھانے پینے اور ڈسپلن پر کافی دھیان بھی دیا۔

جس خاتون کا سب سے زیادہ ذکر رہا وہ بنت جالب تھیں جو ہنس مکھ ہونے کی ساتھ تمام خواتین کے کھانے پینے کا بھی خیال رکھتی تھیں۔ وہ 80 کی دہائی میں سرینگر سے مظفرآباد بیاہ کر آئیں تھی۔ ماں، باپ کی دو بیٹیاں تھیں اور ان کا پہلا نمبر تھا۔

پاکستان، ہندوستان کی کشمیر پالیسی کی وجہ سے دو دہائیوں تک وہ صرف سو کلومیٹر دور بیٹھے ماں، باپ کو نہ مل سکیں۔ ابا جو ممبئی میں علاج کی غرض سے بیٹی کے پاس رہائش پذیر تھے، کل رات خدا کو پیارے ہو گئے۔ جب تک باقی رشتہ دار سرینگر سے ممبئی پہنچے تب تک چھوٹی بہن ممبئی میں دوستوں کی مدد سے ابا کی تدفین کر چکی تھی۔

آج جب میں افسوس کرنے ان سیڑھیوں سے اوپر چڑھ رہی تھی تو لگا یہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں کیونکہ وہ تمام کشمیر کے بیٹے اور بیٹیاں دماغ میں آنے لگے جو تیس، پچاس، سو کلومیٹر گھر سے دور ہیں۔ بہن، بھائی، ماں باپ مر جاتے ہیں مگر درمیان کی خونی لکیر ان کے آنسو نہیں دیکھ سکتی۔ یہ ماتم تو کرتے ہیں مگر آنسو بہانے کی اجازت نہیں۔ یہ قدم اٹھا کر لکیر کی جانب بھاگتے تو ہیں مگر ہمدردی کی اجازت نہیں۔

ہم نے پانچ سال پہلے اس وقت کے صدر آزاد کشمیر جو آج کل پاکستان کے امریکہ میں ایمبیسیڈر تعینات ہیں، گزارش کی تھی

#Aweekforacoffin

کہ دونوں ملکوں سے ماتم کرنے کیلے ایک ہفتے کی اجازت لے دو تاکہ امی، ابا، بہن، بھائیوں ایسے موقعوں پر لحد میں اتار کر الوداع تو کہہ لیں۔ شنوائی تو دور کی بات کبھی کسی ظالم نے اس کا دوبارہ ذکر تک نہ کیا۔

کشمیر اس وقت پاکستان اور ہندوستان کے لئے ایک شوگر کا مریض ہے۔ جس کے جسم پر لگنے والے گھاؤ بھرنا ان دونوں کے بس کی بات نہیں۔ جیسے ہی انہیں، جسم پر لگے زخم سے خون رستا اور تعفن اٹھتا محسوس ہوتا ہے اسے یہ کاٹ پھینکتے ہیں۔ ہاتھ، پاؤں کاٹ چکے ہیں بینائی چھین چکے ہیں۔ بس دل اور دماغ کہیں ہلکا ہلکا چل رہا ہے بس یہ دونوں اس انتظار میں ہیں کہ کب اس کی جان نکل جائے پھر فیصلہ کریں گے کہ ماضی میں اسے کہاں دفن کرنا ہے۔

Facebook Comments HS