کیا عورت ہر وقت اپنی جنسی تسکین کے متعلق سوچتی رہتی ہے؟

یہ اکیلی عورت جو بازار میں شاپنگ کرنے نکلی ہے لازمی طور پر گندی عورت ہوگی۔
جینز پہنے جو لڑکیاں کالج جا رہی ہیں یہ ضرور دو نمبر ہوں گی۔
آفس جاب کے بعد جو لڑکی دوڑتے ہوئے بس پر چڑھی ہے یہ نجانے کتنے بندوں کے ساتھ سو چکی ہوگی۔
لڑکی کے ساتھ جو لڑکا جا رہا ہے یہ لازمی طور پر اس کا جنسی پارٹنر ہی ہو گا۔
چند خواتین جو پارک میں بیٹھی گپ شپ لگاتے ہوئے ہنس رہی ہیں ان کا مختلف لوگوں سے چکر چل رہا ہو گا۔
بائیک یا کار ڈرائیو کرنے والی لڑکی تو لازمی طور پر طوائف ہی ہوگی۔
جاب کے سلسلے میں کرائے کے مکان میں تنہا رہنے والی خواتین کا ہائمن یا پردہ بکارت تو محفوظ رہ ہی نہیں سکتا۔
فاسٹ فوڈ پر کام کرنے والی نوجوان لڑکیوں کا تو بہت سوں سے چکر چلا ہوا ہوتا ہے اور ان کی دوشیزگی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔
بینک میں جاب کرنے والی خواتین کا ٹاسک ہی کسٹمر بلڈنگ کرنا ہوتا ہے وہ بھلا کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں۔
عورت کے اندر بہت زیادہ جنسی آگ ہوتی ہے اسی لیے وہ ہر وقت اپنی جنسی بھوک مٹانے کے متعلق ہی سوچتی رہتی ہے۔
یہ چند لائنیں ہمارے معاشرے کی عورت کے متعلق سوچ کی عکاس ہیں اور عورت کا ہر ”آزادانہ روپ یا آزاد معاشرتی قد کاٹھ“ ہمیں سیکس میں لتھڑا ہوا نظر آتا ہے چونکہ ہماری نظر میں عورت محض ایک ”وجائنا“ کا نام ہے جس کی تسکین کے لیے وہ ہر وقت بے چین رہتی ہے اور اس کی زندگی کا محور یا یوں کہہ لیں کہ ”بی آل یا اینڈ آل“ مرد کے عضو تناسل کا حصول ہوتا ہے اس سے زیادہ عورت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
انتہائی پسماندہ یا گھٹیا سوچ ہے اور معاشرتی فکر کی انتہائی پست ترین سطح ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی ہم انہی دقیانوسی تصورات کے اسیر ہیں جن سے مہذب و ترقی یافتہ ممالک کب کے پیچھا چھڑا چکے ہیں اور وہاں خواتین بطور فرد بغیر کسی جنسی تفریق کے ہر فیلڈ میں اپنا ان پٹ دے رہی ہیں اور بہت ساری فیلڈ میں مردوں سے بہتر پرفارم کر رہی ہیں۔ ہم ابھی تک اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ کالج یا یونیورسٹی کے اندر ٹیچرز یا اسٹوڈنٹس کا ڈریس کوڈ کیا ہونا چاہیے؟
خواتین یا بچیوں کو غیرت کے نام پر درجنوں کپڑوں میں لپیٹ کر ایک چلتی پھرتی زندہ لاش یا اذیت دہ روبوٹ میں تبدیل کر دیا جاتا ہے تا کہ مرد برائی سے محفوظ رہ سکیں۔ ویسے ہم بھی کیسے مہان لوگ ہوئے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر اہل ایمان کا ایمان ڈولنے لگتا ہے ان کا نفسیاتی علاج کروانے کی بجائے عورت کو ہی درجنوں لباسوں میں ڈھانپ دیا جاتا ہے تاکہ مرد گناہ سے محفوظ رہ سکے۔ ویسے کمال کا فلسفہ اور انتہا کی لاجک ہے کہ عضو تناسل مرد کا تناؤ میں آتا ہے جب کہ پردے کے نام پر اذیت عورت کو دی جاتی ہے۔ شاید انڈر وئیر کے پیچھے بھی یہی حکمت و فلسفہ پوشیدہ ہو کون جانے؟
یہ تو سیدھی سادی بیمار ذہنیت ہے جس کا نفسیاتی علاج ہونا چاہیے ویسے بھی ریپ، گینگ ریپ یا جنسی زیادتی طرز کی تمام بد نام زمانہ اصطلاحات مرد حضور سے ہی وابستہ ہیں عورت سے نہیں۔ پھر سوال تو بنتا ہے کہ کیا علاج کی ضرورت مرد کو ہے یا عورت کو؟ مرد جو کہ اکیسویں صدی میں بھی عورت کے متعلق بالکل اسی طرح سے سوچتا ہے جس طرح سے وہ قرون وسطیٰ یا تاریک دور میں سوچا کرتا تھا کہ آزاد عورت کا مطلب فقط ”آوارہ یا طوائف“ ہی ہوتا ہے کیونکہ آزاد تو مرد ہوا کرتا ہے اور عورت تو گھر کی چاردیواری کی لکشمی ہوتی ہے۔
ویسے حقائق کچھ اور ہی بتاتے ہیں اور حیرت کی بات ہے کہ گندی یا نجس عورت ہوتی ہے مگر ”ویاگرا“ یا درجنوں قسم کی جنسی ادویات کی ضرورت مرد کو درپیش رہتی ہیں اور مرد کے متعلق تشہیراتی جملے ”مردانہ کمزوری کا علاج“ کچھ اور ہی داستان کی طرف اشارہ کرتے ہیں مگر کیا کریں معاشرہ تو بیچارے اکیلے مرد کے کندھوں پر کھڑا ہوا ہے اور کسی بھی قسم کی کمزوری چاہے وہ ”مردانہ“ ہی کیوں نہ ہو مرد کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔
اسی وجہ سے تمام گناہوں کی جڑ عورت کو قرار دے کر مکتی حاصل کر لی جاتی ہے۔ ڈریں اس دن سے جب خواتین حکیم بن کر سرعام کلینک کھول کر مردوں کی مردانہ کمزوری کا علاج کرنے کی طرف بڑھیں گی اور مردوں کی درجنوں بیماریوں کی نشاندہی کریں گی۔ ”سیکشوائل سینٹرڈ“ ذہنیت بطور سٹگما جو ہم نے عورت کے ساتھ جوڑ دی ہے دراصل یہی بیمار ذہنیت ہے اور اسی بیمار ذہنیت کا مقابلہ خواتین نہ جانے کب سے کرتی آ رہی ہیں اور یہی سٹگما ان کی ترقی کے راستے میں پہاڑ بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
یہ بلاگ لکھنے کا محرک ڈاکٹر شمائلہ حسین ہیں جو کہ لاہور کے کسی کالج میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو میں اپنا فریضہ سرانجام دے رہی ہیں۔ ان کی کی پہلی پوسٹنگ چونکہ میاں چنوں ہوئی تھی، میرے شہر سے وابستگی ہونے کی وجہ سے میں نے اس ”ون ویمن آ رمی“ طرز کی نڈر اور بہادر خاتون کے متعلق لکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ ہماری بچیوں کے لیے شمائلہ حسین کی زندگی کے مختلف پڑاؤ مشعل راہ ثابت ہو سکیں۔ ڈاکٹر شمائلہ حسین کا ”ٹچ اینڈ گو“ طرز کا مختصر انٹرویو نظروں سے گزرا جس میں اختصار کے ساتھ شمائلہ حسین نے معاشرے کا گھناؤنا چہرہ جو عورت کے متعلق بن چکا ہے بیان کر ڈالا۔ ان کا فرمانا تھا کہ ”
بدقسمتی سے اس بدبودار معاشرے کی جو رائے ہمارے بارے میں بن چکی ہے وہ انتہائی پست ہے۔ آزاد، منہ پھٹ یا اپنے پاؤں پر پورے قد کے ساتھ کھڑی خاتون کو یہ معاشرہ آج بھی گندی، جسم فروش اور بدکردار ہی گردانتا ہے۔ غربت میں پل بڑھ کر سخت سے سخت حالات کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے خونی رشتوں کی بے رخی، سہیلیوں کی الزام تراشیاں، سہیلیوں کے شوہروں کا اپنی بیویوں کو مجھ سے دور رہنے کی تلقین کرنا اور معاشرے کی ہوس ناک نظروں کا سامنا کرتے کرتے آج جس مقام پر پہنچی ہوں مجھے فخر ہے۔ مگر زندگی کا یہ سفر کئی طرح کے ”چیپٹر آ ف ایکسیڈینٹس“ پر مشتمل ہے۔ آزادی کی معراج کو چھونے کے لئے ”اکیلا پن“ کو اپنا ساتھی بنا یا اور آج اونچائی پر کھڑے اس درخت کی مانند ہو چکی ہوں جو تنہا کھڑا ہوتا ہے مگر ہمت نہیں ہاری اور آج بھی یہ سفر جاری ہے ”
اس گفتگو کے دوران شمائلہ نے جو زناٹے دار تھپڑ اس معاشرے کے منہ پر رسید کیا ہے وہ بہت خوفناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”عورت کے ساتھ جو بدقسمتی اٹیچ ہے وہ اس کا اکیلا پن ہے، ہمیں کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ ہمارے ساتھ مرد ججمنٹل ہو کر گفتگو کرتے ہیں اور پاکستان کے کلچر کے حساب سے دیکھا جائے تو عورت کا نام اذیت ہے۔ وہ پیدا ہوئی اذیت سہی اور مر گئی اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ میرے متعلق یا ہراس اکیلی عورت کے بارے میں اس قسم کی رائے قائم کرنے میں یہ معاشرہ ایک سیکنڈ نہیں لگاتا کہ یہ عورت تو درجنوں مردوں کے ساتھ انجوائے کرتی ہو گی“
ڈاکٹر شمائلہ حسین اس وجہ سے قابل تحسین ہیں کہ انہوں نے تن تنہا معاشرتی سفاکیوں کا مقابلہ کر کے معاشرے میں اپنا خود کا منفرد مقام اپنے بل بوتے پر بنایا ہے اور پردہ بکارت کو عزت ذلت سے تشبیہ دینے والی بیمار مردانہ ذہنیت کا سامنا کرتے ہوئے لاکھوں خواتین کو بے خوفی سے آگے بڑھنے کا ایک قرینہ دیا ہے۔ ڈاکٹر شمائلہ حسین ہمیں تم پر ناز ہے۔

