کامونکی کے ننھے عبد الحسیب کو انصاف کون دے گا؟
پاکستان میں آئے روز معصوم بچوں کے ساتھ بدفعلی کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ اس حوالے سے سخت سے سخت قوانین بھی بنائے گئے۔ ماڈل عدالتوں کا بھی معاملہ سامنے آیا لیکن اصل بیماری کا علاج ابھی تک ممکن نہ ہوسکا، اصل بیماری ہے ملزم کی گرفتاری اور تفتیش کے مراحل، جہاں پر کرپٹ، احساس اور انسانیت سے عاری پولیس ملازمین ایسے کیسز کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں۔ متاثرہ خاندان کو ڈرانے دھمکانے کے ساتھ ساتھ خاموش کرانے کی الگ الگ ترکیبیں استعمال کرتے ہیں۔
اگر اس پر بھی بات نہ بنے تو معاملے کو ٹال مٹول سے متاثرہ فیملی کو تھکا دیتے ہیں اور بالآخر بات صلح تک آجاتی ہے۔ ایسا ہی کچھ کامونکی میں ہوا جہاں محلہ سلامت پورہ کے رہائشی محمد اعظم نے سال 2021 کے دسویں مہینے میں درخواست دی کہ اس کے چھ سالہ بیٹے کے ساتھ اوباش مٹھو نامی نوجوان نے زیادتی کا نشانہ بنایا جس کی عینی شاہد اس کی ماں ہے جس نے ملزم کو رنگے ہاتھوں یہ فعل کرتے دیکھا، لیکن اس واقعے کو آٹھ ماہ گزر جانے کے باوجود تھانہ سٹی صدر کامونکی کی پولیس مجرم کو گرفتار کرنے سے قاصر ہے۔
یہ نہیں کہ ملزم بھاگا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ملزم کو بھگایا گیا ہے اور پولیس محمد اعظم اور ان کی فیملی پر مسلسل صلح کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے۔ بات تلخ ضرور ہے لیکن اس کو کیے بغیر چارہ نہیں اللہ نہ کرے کہ اگر یہ واقعہ تھانہ کے ایس ایچ او عبدالرشید کے بیٹے کے ساتھ ہوتا تو کیا وہ ظالم کے ساتھ صلح صفائی کا معاملہ لین دین کے ساتھ طے کر لیتا؟
نہیں وہ انتقام کے لئے قانونی کارروائی کا بھی انتظار ہرگز نہیں کرتا، معلوم نہیں کہ ایسے واقعات کی رپورٹ درج کر کے ظالم کے ساتھ ہاتھ ملانے والے افسران اتنا سخت دل کہاں سے لاتے ہیں۔ کیا ان کی آنکھوں میں ان کے اپنے بچوں کی تصاویر نہیں گھومتیں؟ کیا وہ یہ نہیں سوچتے کہ ایسے مجرموں کو آزاد رکھنے سے کسی اور بچے یا بچی کے ساتھ یہ گھناؤنا فعل ہو سکتا ہے اور بات زیادتی سے بڑھ کر اقدام قتل تک پہنچ سکتی ہے؟ 8 ماہ مجرمانہ خاموشی اور مظلوموں کی دادرسی کے بجائے دھونس جمائے رکھنے کے بعد بالآخر کامونکی کے سماجی کارکن اسماعیل انعام یہ معاملہ سوشل میڈیا پر لے آئے جہاں ہزاروں افراد نے آواز اٹھائی تو سی پی اور گوجرانوالہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ملزم کو گرفتار کرنے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
ملزم کی فوری گرفتاری اور تفتیش کے مراحل کو یقینی بنانے کے لئے وفاق کی طرح دیگر صوبوں کو بھی زینب الرٹ جیسے قوانین بنانے چاہیے۔ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں متعارف اور پاس ہونے والا زینب الرٹ بل ہر لحاظ سے جامع ہے جس میں بچوں کے خلاف جنسی استحصال کے روک تھام اور ایسے مکروہ جرائم میں ملوث افراد کے گرد قانونی گھیرا تنگ کرنے کے لئے نئی اصلاحات کو متعارف کروایا گیا ہے۔ زینب الرٹ بل کے تحت بچوں کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کی سزا کم از کم دس سال سے بڑھا کر چودہ سال قید کر دی گئی۔
اس بل کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر بچے یا بچی کے اغوا، بھگا کر لے جانے اسے قتل یا زخمی کرنے یا اس سے جنسی خواہشات پوری کرنے کے ذمے دار کو سزائے موت، عمر قید اور ایک سے دو کروڑ روپے جرمانہ تک سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ یہ بھی درج ہے کہ ایسے افسر کو بھی سزا دی جائے گی جو بچے کے خلاف جرم پر دو گھنٹے کے اندر ایکشن نہیں لے گا۔ اس کے علاوہ اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کے اغوا، جنسی زیادتی یا قتل کی اطلاع کے لیے زینب الرٹ جوابی رد عمل اور بازیابی کے تحت ایجنسی قائم کی گئی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب حکومت اور دیگر صوبائی حکومتیں بھی ایسے قوانین سامنے لائیں تاکہ جو افسران ایسے کیسز میں غفلت کے مرتکب ہوں انہیں فوری طور پر سزا دی جائے تاکہ آئندہ وہ ایسے معاملات میں غفلت نہ برتیں۔ بچے قوم کا مستقبل ہے اور ان کا بچپنا ان سے چھیننے والے کسی رعایت کے ہرگز مستحق نہیں۔


