رومن اردو؛ خاموش قاتل


انسان کی پہچان اس کی ثقافت، روایات اور رسوم کے ساتھ ساتھ اس زبان سے بھی ہوتی ہے جسے وہ عام زندگی میں روز مرہ کے معاملات حل کرنے کے لیے بولتا ہے۔ بحیثیت مسلمان، سب مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ دنیا کی مقدس ترین زبان عربی ہے کیونکہ یہی وہ زبان ہے جسے حضور ﷺ کی زبان مبارک سے ادا ہونے کا شرف حاصل ہوا اور یہی وہ زبان ہے جسے آخری آسمانی اور رہتی دنیا تک کے انسانوں کی ہدایت کا سامان بننے والی کتاب کی زبان بننے کا اعزاز حاصل ہوا لیکن جس طرح ہر قوم اپنی روایات سے جانی جاتی ہے ویسے ہی اس کی ثقافتی زبان کا مقام ہے۔

ایمان کے بعد کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کا مقام کسی بھی قوم اور ملک کی شناخت کو باقی رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ انہی چیزوں میں سے ایک زبان اور اس زبان کو لکھنے کے لیے استعمال ہونے والا رسم الخط ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں کثرت سے بولی اور سمجھے جانے والی زبانوں میں اردو آج بھی سر فہرست ملتی ہے۔ 1857 کی جنگ آزادی میں شکست کے بعد جہاں مسلمانوں کا معاشی، تعلیمی اور معاشرتی استحصال کیا گیا وہیں ان کی زبان اردو کو بھی انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور اسے جڑ سے ختم کر دینے کی بھر پور کوششیں کی گئیں جو اللہ کی نصرت سے ناکام ٹھہریں۔

اسی استحصال سے 1867 میں زبانوں کا جھگڑا وجود میں آیا جسے اردو ہندی تنازعہ کہا جاتا ہے۔ اردو زبان کا عہد بہ عہد ارتقاء کا سفر ہندی، ہندوی اور ریختہ کہلائے جانے کے بعد ، وقت کے ساتھ ساتھ بدل کر موجودہ شکل اردو پر ختم ہوا۔ اردو زبان کو لکھنے کا رسم الخط عربی اور فارسی سے ماخوذ ہے۔ یوں جب اردو زبان کو اردو حروف تہجی کا استعمال کر کے صفحہ قرطاس پر منتقل کیا جاتا ہے تو جو عبارت سامنے آتی ہے وہ عربی سے مماثلت رکھتی ہے۔

فتح مکہ کے بعد جب اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے صحابہ کرام دنیا کے کونے کونے کو روانہ ہوئے تو جہاں بھی اسلام کی تعلیمات پہنچیں، اس علاقے کی زبان میں محفوظ کر لی گئیں۔ عربی زبان کے بعد فارسی اور اردو کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسلام کی تمام تعلیمات ان دونوں زبانوں میں بحیثیت خزینہ محفوظ ہیں۔ آج تمام عالم میں عربی کے بعد اردو زبان میں اسلام کی تبلیغ جاری ہے جو کہ اردو زبان کے لیے بہت بڑا مقام ہے۔

کائنات میں موجود اقوام کو تباہ کرنے کے لیے جن ہتھیاروں اور حربوں کا استعمال کیا جاتا ہے ان میں سے ایک اس قوم کی قومی زبان کو ختم کرنا بھی شامل ہوتا ہے۔ مختلف تحریکوں اور در اندازیوں کا سہارا لے کر اس قوم کی زبان کو کسی اور زبان سے بدل دیا جاتا ہے یوں وہ قوم اپنے اجداد کا علم پڑھنے اور اسے اپنی نئی نسل کو منتقل کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے جو کہ اس قوم کی بربادی کی نشانی ہوتا ہے۔ زبان کو لکھنے کے رسم الخط بدلنے کا سب سے بڑا اثر ہمیں موجودہ ترکی میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد جب اتاترک نے ٹکڑے ہو کر رہ جانے والے ترکی کی حکومت سنبھالی تو جہاں دیگر شعائر اسلام پر پابندی نافذ کی گئی وہیں ترکی زبان جو عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی اسے بدل کر رومن حروف میں لکھنے کا حکم دے دیا۔ اس تبدیلی رسم الخط کا نتیجہ یہ نکلا کہ ترک لوگ اپنی تاریخی کتابوں کو پڑھنے اور لکھنے سے قاصر ہو گئے کیونکہ ان کا پالا ایک ایسی زبان سے پڑا تھا جس وہ مکمل ناواقف تھے۔ اس کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ اس سے شرح خواندگی اوپر آئے گی لیکن اس اقدام کا اصل مقصد آنے والی ترک نسل کو اسلامی کتب جو عربی رسم الخط میں تھیں ان سے دور کرنا تھا۔

اس بات کا واضح ثبوت ترکی کے پہلے وزیر اعظم عصمت انونو کے ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ ”حرف انقلاب کا مقصد نئی نسل کا ماضی سے رابطہ منقطع کرنا اور ترک معاشرے پر مذہب اسلام کی چھاپ اور اثر و رسوخ کو کمزور بنانا ہے۔“ (یادداشت عصمت انونو، جلد دوئم، ص، 223 ) ۔ یہ اسلام اور زبان دشمن منصوبہ کامیاب رہا اور آنے والی نسل دیگر کتب تو دور کی بات قرآن مجید پڑھنے میں بھی دشواری کا سامنا کر رہی تھی کیونکہ قرآن مجید بھی عربی رسم الخط میں ہے۔

نتیجے کے طور پر سلطنت عثمانیہ کے زمانے میں لکھی جانے والی بیش بہا کتب کا خزانہ تو موجود تھا لیکن ترک ان کتابوں کو پڑھنے سے قاصر تھے۔ کسی نے ان حالات کا خوب تجزیہ کیا کہ ”ترک قوم رات کو سوئی تو پڑھی لکھی لیکن صبح اٹھی تو ان پڑھ ہو چکی تھی کیونکہ ان کا واسطہ ایک ایسے رسم الخط سے پڑا تھا جس سے وہ نابلد تھے۔“

اردو ہندی تنازعہ کے بعد سے ہی اردو زبان اور اس کے رسم الخط کا وجود خطرے میں پڑ گیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد اردو کا پاکستان کی قومی اور سرکاری اور دفتری زبان قرار دے دیا گیا لیکن آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔ وزیراعظم اور صدر کے دفتر سے لے کر چپڑاسی تک کے، تمام سرکاری کام انگریزی زبان میں ہو رہے ہیں۔ اردو الفاظ کو اردو حروف تہجی (ا، ب، پ) میں لکھنے کے بجائے a، b، c یعنی انگریزی حروف تہجی میں لکھنا رومن اردو کہلاتا ہے۔

یعنی اردو الفاظ کو اردو حروف تہجی کی بجائے انگریزی حروف تہجی کا استعمال کر کے لکھنا رومن اردو کہلاتا ہے اور اس طرز تحریر کو دشمن اردو کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ مثلاً کتاب کو Kitaab اور قلم کو Qalam لکھنا۔ رومن اردو کی ابتدا کے بارے میں کچھ بھی کہنا عبث ہے مگر ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کا آغاز سوشل میڈیا کی تباہ کاریوں کے ساتھ ہی شروع ہوا تھا۔ شروع میں جب مختصر پیغامات کے لیے Yahoo اور دوسری رابطے کی ایپس کا۔= استعمال شروع ہوا تو رومن اردو کا بھی وجود قیام میں آ گیا۔ رومن رسم الخط قدیمی ہے اور انجیل اور عیسائیوں کی دوسری مذہبی کتابیں مدت سے رومن رسم الخط میں چھپتی ہیں۔ انگریزوں کے زمانے میں فوجیوں کو ہندوستانی زبان رومن رسم خط میں پڑھائی جاتی تھی۔ 1879ء میں لاہور سے ایک ماہنامہ ”رومن اردو جرنل“ نکلا کرتا تھا اور اس کے سر ورق پر عبارت لکھی ہوتی تھی۔ ”مشرقی زبانوں کی تحریر رومن حروف میں مروج کرنے کے لئے۔“ (رسالہ ادبی دنیا اکتوبر 1937) ۔ رومن رسم الخط کی حمایت فقط مغرب پرستوں کی جانب سے نہیں ہوئی ہے بلکہ ایوب خان نے اپنے دور صدارت میں انتہائی سنجیدگی سے اس تجویز کو پیش کیا تھا کہ اردو اور پاکستان کی دیگر زبانوں کو لکھنے کے لیے رومن رسم الخط کو اختیار کیا جانا چاہیے۔ جنرل ایوب نے اس تجویز کو جمہوریہ ترکی میں مصطفی کمال اتاترک کی اصلاحات سے کسی حد تک متاثر ہو کر پیش کی تھی۔

رومن اردو کی طرف ہمارا جھکاؤ بنیادی طور پر انگریزی سے غیر ضروری لگاؤ کی وجہ سے ہے۔ عصر حاضر میں پڑھے لکھے معاشرے کا حصہ ہونے کے لیے لازم ہو گیا ہے کہ آپ انگلش بولتے، لکھتے اور سنتے ہوں۔ یوں، پاکستانی قوم انگریزی زبان سے بے حد مرعوب ہو چکی ہے اور اس کا اثر آنے والی نسلوں پر ہو گا۔ جو غلطی آج کی نسل کر رہی ہے اس کا خمیازہ مستقبل میں بھگتنا ہو گا۔ اردو رسم الخط چونکہ عربی سے ماخوذ ہے اس لیے جب بچہ اردو زبان کا رسم الخط لکھنا اور۔

سمجھنا شروع کر دیتا تو اس کے لیے عربی سمجھنا اور بنیادی طور پر قرآن پاک و پڑھنا آسان ہو جاتا تھا۔ آج، جبکہ ہر طرف رومن اردو کا دور دورہ ہے تو نئی نسل اپنی قومی زبان کی اہمیت و افادیت سے نابلد ہو چکی ہے۔ موجودہ نال رومن اردو لکھتے اور پڑھتے ہوئے جوان ہو چکی ہے۔ جس طرح کسی بھی زبان کو بننے اور بگڑنے میں وقت لگتا ہے، وہ وقت اردو زبان کے بگڑنے کا پورا ہو چکا ہے۔ اردو ادب کو چھوڑ کر سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نصابی کتب انگریزی میں پڑھائی جاتی ہیں۔

چاہے اسلامیات ہو یا مطالعہ پاکستان یہ کتب اب انگلش رسم الخط میں شائع ہوتی ہیں جو اردو زبان اور رسم الخط کے مٹنے کی شروعات ہے۔ بعض اوقات موبائل کمپنیاں اور سافٹ ڈرنکس کی تنظیمیں، پیسے بچانے کے لیے رومن اردو کا استعمال کرتی ہیں اور یہ صورتحال نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی موجود ہے جہاں پر اردو زبان کو ہندی کہا جاتا ہے اور دیوناگری رسم الخط میں لکھا جاتا ہے۔ ہوں دنیا میں جہاں کہیں بھی اردو رسم الخط رائج ہے اسے مٹانے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔

رومن اردو لکھنے پر اعتراضات کا جواب بہت ہی دلگیر ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کے مطابق اردو ٹائپنگ مشکل ہونے کی وجہ سے وہ انگریزی حروف تہجی کا استعمال کر کے رومن اردو لکھتے ہیں جس سے وقت کی بچت اور آسان پیغام رسانی ہوتی ہے۔ یہ سب عوامل رومن اردو کو رواج دینے کی بلا واسطہ کوششیں ہیں جن کے سائے میں آ کر ہم خود کو محفوظ سمجھتے ہیں مگر یہ سب اردو دشمنی کے حربے ہیں۔ محمد اظہار الحق لکھتے ہیں کہ ”پہلے فرغل اترا۔ پھر صدری!

“ پھر کرتا اتار کر ایک طرف رکھ دیا۔ کچھ عرصہ بعد پاجامہ گیا۔ اب صرف زیر جامہ رہ گیا۔ یعنی نیکر! وہ جو اردو کو انگریزی حروف تہجی میں لکھنے پر مصر ہیں یعنی رومن اردو! وہ اس نیکر کو بھی اتارنے پر تلے ہوئے ہیں! رومن اردو بلا شبہ اردو زبان، رسم الخط اور اردو ادب کے لیے خطرہ ہے۔ آج جس بے دردی سے اردو کا قتل عام ہو رہا ہے، وہ۔ وقت دور نہیں جب آنے والی نسلیں اپنے اجداد کے صدیوں پرانے اردو کے نادر علمی و ادبی سرمائے کو پڑھنے سے قاصر ہو جائیں گے۔

رومن اردو کو اپنانے کا ایک اثر ابھی سے ظاہر ہو چکا ہے کہ نئی نسل عربی سے ناتا توڑ چکی ہے۔ اردو زبان کی چاشنی کے سامنے سب ڈھیر ہے۔ یہ وہ زبان ہے جسے محبت کی زبان کہا جاتا ہے۔ غیر ہوں یا اپنے اردو ادب کی تاریخ کے سب معترف ہیں۔ رومن رسم الخط کو رائج کرنا ایٹم بم گرانے سے کم نہیں ہے اور پاکستان اس حادثے کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔ ہمیں اپنے قدم اردو رسم الخط کو عام کرنے کے لیے بڑھانے ہوں گے جس میں اگرچہ مشکلات و کٹھنائیوں کا سامنا ہو گا مگر ایک دن یہ محنت رنگ لائے گی اور اردو رسم الخط ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے گا۔ رومن اردو کو خیر باد کہ کر ہی ہم اپنے اجداد کے صدیوں سے محفوظ شدہ ادبی سرمائے سے مستفید ہو سکتے ہیں اور اسے بچا کر ہم اردو زبان کی خدمت کا حق ادا کر پائیں گے۔

چرچا ہر ایک آن ہے اردو زبان کا​
گرویدہ کل جہان ہے اردو زبان کا

Facebook Comments HS