تھامس ہابس کا معاہدہ عمرانی اور جدید جارح ریاستیں
ایک انگریز سیاسی مفکر تھامس ہابس نے تقریباً چار سو سال پہلے اپنے تصور معاہدہ عمرانی میں یہ کہا تھا کہ انسان اپنے ابتدائی دور میں غیر محفوظ تھا۔ اسے دوسرے انسانوں سے اپنی جان و مال کے لالے پڑے رہتے تھے۔ طاقتور کمزور کے جملہ حقوق کو اپنی مرضی کے تابع سمجھتا تھا۔ یعنی معاشرہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی کہاوت کا مصداق تھا۔ پھر معاہدہ عمرانی کے تحت اسی معاشرے کے لوگوں نے خود میں سے ایک معتبر شخص کو اپنا حکمران مقرر کیا جس کو انہوں سے غیر محدود اختیارات دیے، جو ان کی جان و مال کا محافظ ہو گا اور ہر طاقتور جارح کو جارحیت سے باز رکھے گا تا کہ افراتفری اور خانہ جنگی کی سی غیر محفوظ فضا سے گلو خلاصی ہو۔
اس سے بہت روشن نتائج تو برآمد نہ ہوئے لیکن اتنا ضرور ہوا کہ وہ سراسیمگی اور قتل و غارت کی فضا قدرے مضمحل ہو گئی۔ وقت بڑھتا گیا اور وہ معاہدہ عمرانی زنگ آلود ہوتا گیا۔ پھر رفتہ رفتہ وہی پرانی روایت لوٹ آئی مگر فرق یہ تھا کہ اب چند جاگیردار اپنے ماتحتوں کا استحصال تو کرتے ہی تھے ساتھ ساتھ دیگر قبائل کے سرکردہ لوگوں نے دوسرے کمزور قبائل کے لوگوں کا جانی اور مالی استحصال شروع کر دیا۔ یعنی اب جنگ ایک علاقے کے لوگوں سے بڑھ کر بین القبائل تک پہنچ چکی تھی۔
ایک طویل عرصہ یہی جنگل کا قانون نافذ رہا۔ داخل القبائل اور بین القبائل کبھی زمین پر، تو کبھی حکمرانی کی ہوس پر قتل غارت جاری رہی۔ اب دنیا کا اجتماعی شعور اس بات کا متقاضی تھا کہ انسان کوئی قتل و غارت کا آلہ نہیں بلکہ جیتا جاگتا حس و جذبات رکھتا جاندار ہے جس کو جنگ کی نہیں بلکہ امن و آشتی کی ضرورت ہے۔ لہذا، چند سیانے بیٹھے کہ اس بحران سے کیسے نکلا جائے۔ انہوں نے سترہویں صدی کے وسط میں جرمنی میں معاہدہ ویسٹ فیلیا کا انعقاد کیا جس سے جدید ریاستی تصور منظر عام پر آیا۔
اس کے تحت یہ طے ہوا کہ ہر ملک اپنی مرضی سے اپنا نظم و نسق چلانے کا بلا شرکت غیرے حق رکھتا ہے۔ کسی ملک کو قطعاً یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے کے داخلی یا خارجی معاملات میں مداخلت کرے۔ ہر قسم کے جارحانہ عمل کو غیر قانونی قرار دیا گیا اور سبھی رکن ریاستوں کو پابند کیا گیا کہ وہ دوسری ریاستوں کی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کریں۔ کچھ عرصہ اس معاہدے پر بھی عمل درآمد ہوا لیکن بقول غالب
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
پھروہی ہوا جو پہلے معاہدات کے ساتھ ہوا تھا۔ عالمی جاگیرداروں نے اسے بھی پاؤں تلے روند ڈالا اور پھر وہی تھامس ہابس کے معاہدہ عمرانی سے قبل والی سیاسی انتشار کی صورت حال پیدا ہو گئی۔ لیکن اس بار حالات قدرے مختلف تھے۔ ژان ژاک روسو جیسے سیاسی مفکرین یورپ میں مزدوروں اور محنت کشوں کی اپنے حقوق کے لیے سلگتی چنگاریوں کو مہمیز دے چکے تھے۔ انقلاب فرانس کے نقیب روسو نے اگرچہ اپنی زندگی میں فرانس کا انقلاب نہیں دیکھا لیکن اس نے وہ تمام حالات پیدا کر دیے تھے کہ جاگیرداری نظام کو تہہ و بالا کیا جا سکے۔
نشاۃ ثانیہ یا ترقی پسند تحریک کا آغاز اگرچہ پرنٹ میڈیا کی ایجاد سے ہو چکا تھا لیکن اس پر اصل شباب انیسویں اور بیسویں صدی میں آیا۔ یہ وہ دور تھا جب پوری دنیا اور بالخصوص یورپ ہنگامہ خیز تبدیلی سے لرزاں تھا۔ معاہدہ عمرانی اور ویسٹ فیلیا سے پہلے کے حالات اب نہ رہے تھے۔ مزدور اور محنت کش طبقہ اپنے حقوق کے لیے سرگرداں تھا۔ اور ان کا سرخیل کارل مارکس تھا جسے اینگلز جیسے بہادر ساتھی کا ساتھ حاصل تھا۔
اس سب عالمی ہلچل کے باوجود ریاستوں کا باہمی ٹکراؤ جاری تھا۔ حالانکہ یہ وہ دور تھا جب ان کو اپنے اندرونی معاملات کی طرف توجہ دینی چاہیے تھی تاکہ ممکنہ بغاوتوں کی سرکوبی ہو سکے اور سٹیٹس کو، کو بحال رکھا جا سکے لیکن وہی ہزاروں سال پہلے کی ذاتی ہوس پر مبنی توسیع پسندانہ سوچ ان کو عالمی جنگ میں لے گئی۔ سارا مغرب میدان جنگ بنا۔ کروڑوں لوگ لقمہ اجل بنے اور صدیوں کا ریاستی سرمایہ لایعنی جنگ کی نذر ہوا۔
اس بار پھر عالمی سیانوں نے سوچا کہ کیوں نا ایک عالمی تنظیم بنائی جائے جس کا مقصد صرف اور صرف دنیا میں امن و امان برقرار رکھنا ہو۔ لہذا، لیگ آف نیشنز نامی پہلی عالمی تنظیم بنائی گئی تاکہ جنگ عظیم اول جیسے مزید ہولناک حادثات سے بچا جا سکے۔ اور تمام بین الممالک تصفیہ طلب مسائل اس پلیٹ فارم پر باہمی گفت و شنید سے حل ہوں لیکن دنیا کی یہ پہلی عالمی تنظیم بھی اتنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی۔ اور اس لیگ آف نیشنز کے قیام کے محظ دو دہائیوں سے بھی کم عرصے میں دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی جس سے یورپ کا بچا کچھا ڈھانچا بھی تباہ ہو گیا اور کروڑوں انسانوں کے ضیاع کے ساتھ جاپان کے دو شہر ایٹمی ہتھیاروں کی نذر ہوئے اور صفحہ ہستی سے محو ہو گئے۔ وہ ممالک جو براہ راست عالمی جنگ میں شریک نہ تھے بالواسطہ اس آگ کا حصہ بنے کیونکہ وہ کسی عالمی طاقت کی کالونی تھے جس سے فوجی بھرتی کر کے عالمی طاقتوں نے ذاتی لڑائی میں پرائے لوگ کام میں لائے۔
یہ وہ وقت تھا جب دنیا کی اجتماعی دانش اپنی نا اہلی پر نوحہ کناں تھی۔ یعنی لاکھوں سال کی انسانی تاریخ میں وہ جنگ جیسی مہلک لت سے چھٹکارا نہ پا سکی تھی۔
معاہدہ عمرانی ہو، معاہدہ ویسٹ فیلیا یا پھر لیگ آف نیشنز، عالمی امن کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ یہ واقعی المیہ تھا کہ جدید یورپ کی مجموعی دانش دیر پاء امن کی کوششوں کے حصول میں مکمل ناکام نظر آ رہی تھی۔ اور قانون شکن خود اس کے سفید فارم ساتھی تھے۔ گھر کو آگ گھر کے چراغ سے آگ لگنے والی بات تھی۔ تاہم، ایک مرتبہ پھر دنیا کی طاقتور ریاستیں جو عرصہ دراز سے دنیا کی سرپنچ بنی ہوئی تھیں، سر جوڑ کر بیٹھیں کہ آخر کار کوئی ایسا حل نکالا جائے کہ وقتاً فوقتاً یہ باہم دست و گریباں ہونے سے جان چھوٹے۔
اس بار انہوں نے ایسا مسودہ تیار کیا اور ایسی عالمی تنظیم بنائی کہ جس سے یہ اغلب امکان پیدا ہوا کہ اب دنیا مزید جنگ عظیم اول یا جنگ عظیم دوم جیسی عالمی تباہ کاریوں سے محفوظ رہے گی اور تمام تصفیہ طلب مسائل باہم تسلیم و رضاء سے ڈائیلاگ ٹیبل پر حل ہوں گے۔ دنیا کی تاریخ کی اس سب سے بڑی تنظیم کا نام ’اقوام متحدہ‘ تھا اور اس مسودے کا نام ’چارٹر آف یونائٹڈ نیشنز‘ تھا۔ یہ مسودہ اور عالمی تنظیم اس بات کی نوید تھی کہ پر امن دنیا کی طرف اقدام اٹھائے جا رہے ہیں اور اس مسودے کے تحت عالمی امن کو برقرار رکھنے کی سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اس مسودے کے نفوذ اور تنظیم کو فعال بنانے کے لیے ضروری تھا کہ ایسے شیروں کو رام کیا جائے جن کے منہ کو توسیع پسندی کا خون لگ چکا ہے۔ لہذا، ان کو اس قانونیت کے دھارے میں لانے کے لیے ویٹو کا اضافی اختیار دیا گیا۔ ویٹو کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر ان پانچ ویٹو کے حامل ممالک میں سے کسی ایک کو بھی اگر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے سیکورٹی کونسل جس کا کام امن عامہ برقرار رکھنا ہوتا ہے، کے کسی فیصلے سے اختلاف ہے تو وہ اجتماعی فیصلہ منسوخ سمجھا جائے گا۔
لیکن بد قسمتی سے انہی پانچ بڑے ممالک نے جو کہ ویٹو کا اضافی اختیار بھی رکھتے ہیں، نے اقوام متحدہ کو عزت بخشنے میں عدم دلچسپی دکھائی۔ یوکرین، تائیوان اور افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ذرا اندازہ لگائیں کہ گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی آلودگی کو روکنے کے لیے جو اہداف ان اہالیان ویٹو کو دیے گئے تھے، یہ بری طری اس کی تعمیل میں ناکام رہے۔ حالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ تیزی سے سرایت کرتی موسمیاتی تبدیلیاں آمدہ سالوں میں کتنی مہلک ثابت ہو سکتی ہیں۔
اب اگر عالمی بقاء کو لاحق خطرات کے متعلق ان کا یہ رویہ ہے تو یہ کیسے مان لیا جائے کہ یہ سیکورٹی کونسل یا اقوام متحدہ کا پاس رکھتے ہوئے کسی ملک کی سالمیت اور خود مختاری کے تار وپود نہیں بکھیریں گے؟ اگر نیٹو اپنے ہی خطے کے ملک یوکرین کو اپنے ہی پڑوسی ملک روس سے نہیں بچا سکا تو یہ کیونکر گمان کر لیا جائے کہ وہ فن لینڈ یا دیگر ممالک کا محافظ ثابت ہو گا۔ اگر اقوام متحدہ روس، امریکہ اور چین کو جارحیت سے نہیں روک سکتی کو پھر اس کے قیام اور بقاء کا مقصد کیا ہے سوائے اس کے کہ یہ ایک ڈیبیٹنگ سوسائٹی ہے جو ہر سال صدور یا وزراعظم کے تقریری مقابلے منعقد کرواتی ہے؟ کیونکہ طاقتور ملک جو مرضی کر گزرے سوائے مذمتوں اور وقتی معمولی معاشی پابندیوں کے کچھ نہیں ہوتا۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کے سیانوں کو ایک دفعہ پھر سنجیدگی سے بیٹھنا چاہیے کہ اس طاقتور اور کمزور کی تفریق سے کیسے نکلا جائے اور اس انسانیت سوز بحران کو کیسے شکست دی جائے۔ ہمیں ایک جدید اور مربوط ورلڈ آرڈر کی ضرورت ہے جو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ تمام بڑی طاقتیں اپنی حدود میں رہیں اور کوئی ریاست دوسری ریاست پر اپنا تسلط قائم نہ کرے۔ بھلے ویٹو کا اختیار 5 سے زائد ریاستوں کو دے دیں لیکن یہ یقینی بنائیں کہ جارحیت کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اس بات پر بالاجماع اتفاق ہو کہ جارح کے ساتھ سارے ناتے توڑ دیے جائیں گے۔ دس سال تک مکمل معاشی اور تجارتی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اگلے دس سال تک اسے کوئی اسلحہ فروخت نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بیرون ملک تمام اثاثے منجمد یا ضبط کر لیے جائیں گے۔ اور دس سال تک اس جارح ملک کا کسی بھی دوسرے ملک کے سربراہ ریاست یا ریاستی عہدیدار کی جانب سے سرکاری دورہ نہیں کیا جائے گا۔ اگر ان پابندیوں پر صرف ایک بار بلا تفریق و لچک عمل درآمد ہو تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ہر ریاست دوسری ریاستوں کی سالمیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھے گی۔
اس سے فائدہ انسانیت کا ہی ہو گا کیونکہ اب ریاستیں جنگی محاذوں پر خرچ کرنے کے بجائے عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کریں گی۔ غریب اور ترقی پذیر ممالک خط غربت سے اوپر آئیں گے جس سے عالمی خوشحالی اور آسودگی سارے عالم میں در آئے گی اور اجتماعی معیار زندگی بلند ہو گا۔ اگر بروقت ایسا منصف مزاج نظام عمل میں نہ لایا گیا تو اسی طرح بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو کھاتی رہیں گی اور تھامس ہابس کا تصور معاہدہ عمرانی درست ثابت ہوتا رہے گا کہ انسان فطرتی طور پر سفاک ہے۔


