میاں چنوں کا فخر: ارشد ندیم


میاں چنوں جنوبی پنجاب کا ایک چھوٹا سا شہر ہے جسے دنیا بھر میں ”ایما زون“ سٹی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس چھوٹے سے شہر کو جو خاص مقبولیت حاصل ہوئی اس کی وجہ شہرت چوہدری غلام حیدر وائیں تھے جو پنجاب کے وزیر اعلی کے عہدے پر فائز رہے، اس کے علاوہ ہزاروں باصلاحیت نوجوان ہیں جو مختلف میدانوں میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ان میں کئی گنا ایسے نوجوان بھی ہیں جو بلا کے ذہین اور محنتی ہیں مگر حالات کی ستم ظریفی اور صاحب ثروت لوگوں کی سرپرستی نہ ملنے کی وجہ سے گلیوں میں رل رہے ہیں۔

انہی باصلاحیت نوجوانوں میں سے ارشد ندیم ہیں جنہوں نے برمنگھم میں جیولین تھرو مقابلے میں نوے اشاریہ اٹھارہ میٹرز دور جیولین تھرو کر کے نہ صرف گولڈ میڈل جیتا ہے بلکہ انہوں نے کامن ویلتھ گیمز مقابلوں کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا ہے اور ارشد ندیم کا ایک اور شاندار اعزاز یہ بھی ہے کہ ساٹھ سال کے طویل عرصہ کے بعد پاکستان کا کوئی ایتھلیٹ کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوا ہے جس کا کریڈٹ بھی انہی کو جاتا ہے۔

کہنی اور گھٹنے کی تکلیف بھی اس نوجوان کے ارادوں کے سامنے ٹک نہ سکی، لگاتار محنت کو اپنا رہنما تسلیم کرتے ہوئے ارشد ندیم نے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کر دیا۔ ان کے فیملی بیک گراؤنڈ کی بات کریں تو انتہائی متوسط طبقے سے ان کا تعلق ہے۔ ان کا تعلق میاں چنوں کے قریب واقع گاؤں چک نمبر 101 سے ہے ان کے والد راج مستری ہیں مگر حالات جیسے بھی رہے انہوں نے اپنے بیٹے کی بھرپور سرپرستی کی اور ارشد ندیم نے اپنے عزم اور حوصلے سے وہ سب کچھ کر دکھایا جس منزل کے حصول کے لئے آلسی اور توہمات کے مارے نوجوان ”توہماتی چکر“ میں پڑے رہتے ہیں اور محنت سے کوسوں دور رہتے ہیں۔

ارشد ندیم نے اپنی محنت سے ثابت کر دیا کہ ٹیلنٹ یا صلاحیت کو کسی بھی قسم کی سفارش یا روحانی چلے کی ضرورت نہیں ہوتی اگر آپ کی محنت میں دم ہے تو یہ تنہا غربت و افلاس کا مقابلہ کر کے آپ کو ”وننگ پوائنٹ“ تک لے جا سکتی ہے۔ اس مضمون کے لکھنے کا مقصد مختلف حلقوں کی طرف سے چلائی جانے والی اشتہاراتی مہم کا آغاز ہے جس میں ایسے ایسے لوگ سامنے آ کر اس جیت کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں جنہوں نے شاید گلیوں میں رلتے ہوئے ارشد ندیم سے کبھی خیریت بھی دریافت نہیں کی ہوگی اور آڑے وقت میں کبھی اس کے گھر کی دہلیز بھی پار نہیں کی ہوگی۔

یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ یہاں کسی کو اچھے لفظوں میں یاد کرنے کے لیے اس کا مرنا ضروری ہوتا ہے یا زندگی میں منفرد قسم کی کامیابی تک پہنچنا پڑتا ہے۔ ان دو آپشن کے علاوہ آپ کسی طرح سے بھی اپنی جائز تعریف اپنے نام نہیں کر سکتے۔ زندہ لوگوں کی خیریت دریافت کر کے ان کے دکھوں میں سہارا بننے کا اس معاشرے میں چلن ہی نہیں ہے۔ ارشد ندیم کی اس کامیابی کے بعد ایک تبلیغی بھائی نے سوشل میڈیا پر وہ محفوظ تصویر شیئر کر ڈالی جو آج کے دن کے لیے بطور سٹنٹ یا شہرت کے لیے محفوظ کر لی گئی تھی۔ اس تصویر میں مولانا طارق جمیل کو ارشد ندیم کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس تصویر کے کیپشن میں تبلیغی بھائی نے لکھا کہ

”ارشد ندیم نے برمنگھم جانے سے پہلے مولانا سے دعا کروائی تھی جس کے صدقے آج ارشد ندیم کو یہ مقام حاصل ہوا ہے“ عجب ستم ظریفی ہے جب وہ گمنامی میں اکیلا لڑ رہا تھا اس وقت تو اسے کسی نے اہمیت نہیں دی جب وہ اپنی ”خالص مسلسل محنت“ کی بدولت ایک انٹرنیشنل فیس بن گیا تو یہ کہہ دیا گیا کہ مولانا کی دعاؤں نے کام کر دکھایا اور ان کی مشترکہ تصویر شیئر کر ڈالی۔ مقصد صرف ایک ہے کہ شہرت یافتہ لوگوں کی حیثیت یا فیس کو استعمال کر کے زیادہ سے زیادہ تبلیغ کے سسٹم کو مضبوط بنایا جائے، اگر مولانا صاحب کی دعاؤں میں اتنی تاثیر ہے تو دیر کس بات کی اور انتظار کس لمحے کا ہے اپنی دعاؤں کے ذریعے سے پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنا ڈالیں ہم خواہ مخواہ میں بھکاری بن کر ترقی یافتہ ممالک کے آگے امداد کے نام پر جھولی پھیلاتے رہتے ہیں۔

مولانا صاحب یقین مانیں ہم بنگلہ دیش سے بھی بہت پیچھے چلے گئے ہیں اور لاکھوں ارشد ندیم گلیوں میں خجل ہو رہے ہیں، خدارا اپنی دعا و مناجات کا کچھ تو کرشمہ دکھا دیں اور رو رو کر قدرت کو مسلمانوں کے حق میں کر لیجیے تاکہ ہم کفار کو دھول چٹا سکیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو خدارا نوجوانوں کو ڈی ٹریک یا تبلیغی سحر میں مبتلا مت کریں۔ دعا و مناجات جز تو ہو سکتی ہے کل نہیں، تبلیغی مبلغین، مولویوں یا مدرسین میں تو ہم پہلے ہی خود کفیل ہیں اور فقط ”لپ سروس“ کے اس ٹیلنٹ کی بنیاد پر ہم دنیا میں ترقی نہیں کر سکتے۔

ہمیں زندگی کے ہر میدان میں ارشد ندیم جیسے باصلاحیت نوجوانوں کی ضرورت ہے جو دنیا میں ترقی کے ضامن بن سکتے ہیں۔ اس لئے آپ سے التماس ہے کہ اپنی سحر بیانی کے ذریعہ سے نوجوانوں کے ٹیلنٹ کا قتل مت کریں انہیں دنیا کے تقاضوں کے تحت آگے بڑھنے دیں، آپ نے جس پروفیشن یا فیلڈ میں قدم رکھا ہے وہ لوگ اپنا پروفیشن چھوڑ چھاڑ کر تبلیغ کے ہو گئے۔ ہماری کرکٹ ٹیم کا جو حال آپ نے کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے، پروفیشن اور تبلیغ کو مکس مت کریں۔

ویسے بھی تبلیغ کا دور اب بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ اب قرآن کریم کی درجنوں تفاسیر یا ذخیرہ حدیث دنیا کی مختلف زبانوں میں انٹرنیٹ پر موجود ہے ہر کوئی اپنے وقت، تقاضا اور بساط کے حساب سے انٹرنیٹ پر اپنا مطلوبہ مواد سرچ کر کے اپنے حساب سے اپنا محاسبہ یا تزکیہ نفس کر سکتا ہے آپ کو زیادہ فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

Facebook Comments HS