سازش کے اندر ایک اور سازش
گزشتہ دنوں لسبیلہ میں پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کے دوران لاپتہ ہو گیا تھا جس کا ملبہ موسیٰ گوٹھ سے ملا۔ یہ حادثہ خراب موسم کے باعث پیش آیا تھا جس کے باعث ہیلی کاپٹر میں سوار کورکمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی اور ڈی جی پاکستان کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد سمیت 6 جوان شہید ہوئے۔ ایک منظم طریقہ سے شہدا ءکے خلاف منفی پروپیگنڈا مہم چلائی گئی۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد منفی سوشل میڈیا مہم کے باعث شہدا ءکے لواحقین کی دل آزاری ہوئی جس پر شہدا ءکے خاندانوں اور افواج پاکستان کے رینک اینڈ فائل میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے۔ اس مشکل اور تکلیف دہ وقت میں پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی تھی لیکن کچھ بے حس حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر تکلیف دہ اور توہین آمیز مہم جوئی کی گئی، یہ بے حس رویے ناقابل قبول اور شدید قابل مذمت ہے۔
دنیا کے کسی ملک میں شہداء سے متعلق نازیبا زبان کا استعمال نہیں کیا جاتا، سوشل میڈیا پر شہداء کی ٹرولنگ یقیناً ایک انتہائی افسوس ناک عمل ہے، قوم، مسلح افواج اور ریٹائرڈ فوجیوں کو اس عمل سے بہت زیادہ تکلیف پہنچی، اور یہ مطالبہ کیا جانے لگا کہ پراپیگنڈا کے ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائی ہونی چاہیے۔ ہیلی کاپٹر سانحے سے متعلق شرم ناک الفاظ کا استعمال یقیناً انتہائی ذہنی پستی کا اظہار ہے جس پر ملک کی سیاسی اور سماجی شخصیات نے اپنے غم اور غصے کا اظہار کیا۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے ہیلی کاپٹر حادثے سے متعلق سوشل میڈیا پر زہریلے پروپیگنڈے کے ردعمل میں کہا ہے کہ ایک جماعت کی سوشل میڈیا پر ٹرولنگ شرمناک ہے، ٹویٹس کرنے والوں کی مالی سرپرستی کی جاتی ہے۔ شہداء کے خلاف کی جانے والی ٹرولنگ سے ہمارے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ تحقیقات کی جائیں کہ فوج کے خلاف پراپیگنڈا کس کی ہدایات اور ایما پر کیا جا رہا ہے۔ فوج کے خلاف پراپیگنڈا انتہائی قابل مذمت ہے، فوج کی عظیم قربانیوں کو قوم سلام پیش کرتی ہے ’۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ‘ سیاستدان سیاسی معاملات، مصلحتیں پس پشت رکھ کر پروپیگنڈا مہم ناکام بنائیں، فوج کو مکمل سپورٹ کریں۔ ہر چیز برداشت کی جا سکتی ہے، فوج کے خلاف پروپیگنڈا مہم ناقابل برداشت ہے۔ ’
سوشل میڈیا پر ہونے والی ہرزہ سرائی پر وفاقی وزارت داخلہ نے مشترکہ انکوائری ٹیم تشکیل دی، جس میں آئی ایس آئی اور آئی بی کے افسران بھی شامل ہیں۔ کچھ لوگوں کی گرفتاری کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی ہے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی ٹرولرز کے زہریلے، جھوٹے اور منفی پروپیگنڈے پر صدر عارف علوی کو فیڈ بیک دیا گیا جس کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے، صدر کو بتایا گیا کہ پی ٹی آئی ٹرولرز نے شہدا سے متعلق زہریلا، جھوٹا اور منفی پروپیگنڈا کیا ہے۔ پھر صدر مملکت کا شہداء کے جنازے میں شرکت نہ کرنا بھی اپنی جگہ اہم سوال ہے۔
ابھی ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے بہادر فوجیوں کے خلاف کی جانے والی پروپیگنڈا مہم ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی کہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف اسٹاف ڈاکٹر شہباز گل نے اے آر وائی چینل پر متنازع گفتگو کی جس کا مقصد بظاہر مسلح افواج میں تفریق اور بغاوت کو ہوا دینا تھا۔ شہباز گل کی انتہائی قابل اعتراض اور نفرت انگیز گفتگو کے نتیجہ میں ایک جانب ریاست اور دوسری طرف پیمرا نے بھی نوٹس لیا۔ اسلام آباد پولیس نے شہباز گل کو نہ صرف گرفتار کیا بلکہ اور ان پر دفعہ 505، 120، 120 بی، 153، 153 اے، 124 اے، 131 اور 121 کے تحت مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ شہباز گل کے خلاف اداروں کے خلاف بیان بازی اور اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے سنگین الزامات ہیں۔ عمران خان نے اب تک شہباز گل کے بیان کی مذمت نہیں اور نہ ہی ان کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ جب کہ پی ٹی آئی کے اتحادی اور عمران خان کی حمایت سے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے والے چودھری پرویز الٰہی نے مشورہ دیا ہے کہ ”پاکستان تحریک انصاف اور دیگر رہنماؤں کو شہباز گل کے بیان سے فاصلہ اختیار کرنا چاہیے اس سے نقصان ہوا ہے۔“ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اور پوری جماعت کو اپنی پوزیشن کلیئر کرنی چاہیے تھی۔ شہباز گل آئسولیشن میں کچھ نہیں کرتے، جو بھی کرتے ہیں وہ عمران خان کی مرضی سے کرتے ہیں۔ دوسری طرف پیمرا نے اپنے شوکاز میں شہباز گل کے بیان کو انتہائی قابل اعتراض، نفرت انگیز، فتنہ انگیز، مکمل غلط معلومات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیان واضح طور پر مسلح افواج کے اندر بغاوت کو ہوا دے کر قومی سلامتی کو خطرہ لاحق کرنے کے مترادف ہے۔
پی ٹی آئی کی لیڈر شپ اور کارکنوں کو فوج اور اداروں پر تنقید اور منفی پروپیگنڈا کرنے کا حوصلہ اپنے ”گریٹ خان“ کی تقریروں اور پیغامات سے ملتا ہے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے چند ماہ سے ’خان‘ اداروں اور افواج پاکستان کے بارے میں جس طرح لب کشائی کر رہے ہیں اور انہیں نئے نئے القاب سے پکار رہے ہیں۔ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ خان کے چند بیانات پر نظر ڈالیں اور پھر بات کو آ گئے بڑھائیں گے۔
” عمران خان نے ایک جلسہ میں کہا“ اسٹیبلشمنٹ نے درست فیصلے نہ کیے تو فوج تباہ ہو جائے گی اور پاکستان کے تین ٹکڑے ہوں گے۔ اگر اس وقت اسٹیبلشمنٹ صحیح فیصلے نہیں کرے گی تو میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں یہ خود بھی تباہ ہوں گے اور فوج سب سے پہلے تباہ ہوگی کیونکہ ملک دیوالیہ ہو گا۔ ”
” اس وقت کسی کے لیے نیوٹرل رہنے کی گنجائش نہیں، اللہ ہمیں نیوٹرل رہنے کی اجازت ہی نہیں دیتا، اللہ نے کسی کو اجازت نہیں دی کہ وہ درمیان میں بیٹھ جائیں اس کا مطلب مجرموں کی مدد کرنا ہوتا ہے، خود کو نیوٹرل کہنے والوں کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے حلف لیا ہے کہ انہیں پاکستان کی سالمیت اور خودداری کی حفاظت کرنی ہے۔ ملک تباہی کی طرف جاتا ہے تو نیوٹرل بھی ذمہ دار ہوں گے۔“
” جانور نیوٹرل ہوتا ہے کیونکہ اس میں اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی ’انسان اچھائی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔“
”نیوٹرلز ’‘ کو متنبہ کیا تھا کہ سازش کامیاب ہوئی تو معیشت ڈوب جائے گی۔“
’‘ میرا اپنے نیوٹرلز سے سوال ہے کہ اگر گھر میں ڈاکا پڑ رہا ہو تو کیا چوکیدار نیوٹرل رہ سکتا ہے؟ ”
عمران خان کی جانب سے ان کے خلاف مبینہ غیر ملکی سازش کے بیانیے کا جب بھی ذکر آتا ہے وہ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ”ان کے خلاف پاکستان کے ’میر جعفر اور میر صادق‘ نے امریکہ کا ساتھ دیا اور ان کی حکومت ختم ہوئی۔ برصغیر کی تاریخ میں میر جعفر اور میر صادق دونوں فوج کے سپہ سالار رہے ہیں اس لیے عمران خان کا اشارہ کہاں ہے۔ سب جانتے ہیں۔
عمران خان نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک ’مسٹر ایکس بھی ہے، جس کو چوروں کو ہر صورت جتوانے کا حکم ملا ہے، مجھے نئی خبر ملی ہے تم نے‘ مسٹر وائی کو ملتان پہنچا دیا ہے تاکہ دھاندلی کی جائے۔ ”
متواتر فوج اور ملکی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم مہم چلائی جا رہی ہے یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب عمران خان نے ایک جلسہ میں اپنی جیب سے کاغذ نکل کر لہرایا اور کہا کہ میرے خلاف بیرونی سازش ہو رہی ہے۔ ایک پیچ کا دعویٰ کرنے والے عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات اور کشیدگی اس وقت شروع ہوئے جب انہوں نے فوج میں تعیناتیوں پر ”ضد“ شروع کی۔
آرمی چیف، جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں فوج کی ہائی کمان نے حکومتی معاملات میں ”غیر جانبدار“ رہنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ عمران خان کو سہارا دیں گے اور نہ ہی متحدہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد میں مدد کریں گے۔ عمران خان کی خواہش یہ تھی کہ ان کی اپنی نالائقی اور ناکام حکومت کا بوجھ بھی افواج پاکستان کے کندھوں پر ڈال دیا جائے اور اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد میں فوج غیر جانب دار رہنے کی بجائے ان کا ساتھ دے۔ عمران خان کی ناپختہ، غیر سیاسی، بچکانہ سوچ اور غیر جمہوری مطالبات پر جب انہیں ”absolutely not“ کہا گیا۔ تب سے خان نے اسے اپنی ”انا ’کا مسئلہ بنالیا۔ پی ٹی آئی نے اپوزیشن سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا۔ اس مہم میں شدت اس وقت آئی جب خان کو جمہوری طریقے سے وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف کیا گیا۔ تب سے انہوں نے اندرونی اور بیرونی سازش کا ایک ایسا بیانیہ بنایا ہے جس میں وہ براہ راست اسٹبلشمنٹ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اداروں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ خان کے“ سازشی ”بیانیہ میں۔ سازش کے اندر کوئی سازش تو نہیں۔
9 اور 10 اپریل کو عمران خان کی کال پر ملک بھر میں ان کے سپورٹر اور ووٹر گھروں سے نکلے۔ انہوں نے عمران خان کی محبت اور ملک دشمنی میں آئینی، قانونی اخلاقی، رواداری اور برداشت کی تمام حدیں پار کر دیں۔ سوشل میڈیا پر وہ تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں جس میں پاکستانی پرچم کو جلایا گیا، پاکستانی پاسپورٹ کو پھاڑا گیا، اداروں کے سربراہان کی تصویریں کو جوتیاں ماری گئیں۔ تصاویر پر غلیظ نعرے لکھے گے۔ اگر اس وقت آئینی اور آہنی ہاتھوں نے ملک دشمن سوچ رکھنے والوں کے خلاف کارروائی ہو جاتی تو آج کسی کو افواج پاکستان اور ان کے بہادر شہداء کے خلاف ہرزا سرائی کرنے کی ہمت اور جرات نہ ہوتی۔ اب بھی وقت ہے کہ فوج اور اداروں کے خلاف زہر پھیلانے اور انہیں بے توقیر کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اس تفریق کے بغیر کون کارکن ہے اور کون پارٹی کا لیڈر ہے۔ معزز عدلیہ کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ترجیحی بنیاد پر اس طرح کے مقدمات کو سنوائی کی جائے، جلد سے جلد فیصلے ہوں تاکہ ملک دشمن قوتوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔


