جشن آزادی ڈائمنڈ جوبلی

پورے ملک میں کہیں بھی پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی کی وہ خوشی اور جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آ رہا جیسا کہ اس دن کا حق ہے۔ ملک میں سیاسی بھونچال آیا ہوا ہے، سیاستدان ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ رہے ہیں، اپنے گندے کپڑے چوک میں دھو کر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔ جتنا ہو جس قدر ہو کیچڑ اچھال لو چاہے کوئی شعبہ یا کوئی محکمہ ہو، اب تو اس کیچڑ کے چھینٹے پاک فوج کے دامن تک بھی پہنچ گئے ہیں۔ ٹی وی اسکرین پر کونے پہ بنے مونوگرام کو سبز کر کے ظاہر کیا جا رہا کہ یہ آزادی کا مہینہ ہے۔
ملک میں ہوشربا مہنگائی، بجلی گیس کے بلز، نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے سارے ہی آزمائے جا چکے ہیں پھر بھی اصرار ہے کہ ہمیں آزمایا جائے، عوام کی اکثریت ہمارے ساتھ ہے۔ عوام کی اکثریت تو بھٹو، نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے ساتھ بھی تھی لیکن کیا ہوا عوام دھوکہ کھاتے رہے اور مزید دھوکہ کھاتے رہیں گے۔ یہ حالات نا جانے کب بدلیں گے۔ دعائیں ہی سہارا ہیں گریب عوام کا ورنہ پچھتر سال بعد تو پاکستان کو ہیروں جیسا ہونا چاہیے تھا، کیونکہ جن اعلٰی مقاصد کے لیے پاکستان حاصل کیا گیا تھا تو اسے بہترین مملکت ہونا چاہیے تھا مگر غلط منصوبہ بندیوں اور بے تکی سیاست، مفاد پرستی نے اسے کیڑوں بھرا امرود بنا دیا ہے جو بظاہر باہر سے صاف ستھرا نظر آ رہا ہے جبکہ اندر سے کھوکھلا کر دیا گیا ہے۔
کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں ترقی یا کامیابی دیکھی جا سکے۔ پاکستان بننے کے پچیس سال بعد بنگلہ دیش ہم سے الگ ہو کر اپنی شناخت بنا چکا ہے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔
ہمارے پاکستان میں غربت کی لکیر بڑھ کر ایک سیاہ داغ بنتی جا رہی ہے۔ ملک کا قبلہ ہی درست نہیں ہے۔ بچیاں بچے منحوس گیم کھیل کر گھروں سے بھاگ کر ماں باپ کا سر شرم سے جھکا رہے ہیں۔ معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، غریب باپ بچوں سمیت خودکشی کر رہا ہے، کہیں غربت کی ماری ماں خود سوزی، روز ایسے درد ناک اور دہشتناک واقعات ہو رہے ہیں۔ کیا اسی لیے پاکستان حاصل کیا تھا، کیا یہی مقصد حصول پاکستان کا، شمالی علاقہ جات سوات اور دیگر علاقوں سے جس کامیابی سے تحریک طالبان کا صفایا کیا گیا تھا وہاں پھر یہ تحریک سر اٹھا رہی ہے، مالاکنڈ جرگہ میں سیاحت میں خواتین پر پابندی کا فیصلہ صادر کیا گیا ہے۔
کیا کسی کو ہوش آئے گا کہ پچھتر سال بعد بھی پاکستان کو استحکام حاصل نا ہوسکا ہے۔ ایک سیاسی لیڈر ہمارے ایٹمی اثاثوں کو غیر محفوظ ہاتھوں میں بتا رہا ہے تو دوسرا ایک بڑے صوبے کو دہشتگردوں کے نشانے پر بتا رہا ہے، سب اپنی اپنی ڈفلی بجا رہے ہیں، کوئی ملک کے استحکام یا ترقی کے لیے عملی کام نہیں کر رہا بس زبانی جمع خرچ ہے۔
ان مشکل ترین حالات میں بھی پاکستانی قوم کے فرد واحد کی ترقی کا سفر جاری ہے، سب سے کم عمر مائیکرو سافٹ انجینئر جنم لے رہے ہیں۔ کہیں کیمرج کے امتحان میں اے پلس لینے کا ریکارڈ بن رہا ہے، بحیثیت پاکستانی، فرد واحد اپنی شناخت بنا رہا ہے، بیرون ملک پاکستانی ڈاکٹرز، انجینئرز ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔
ایسے ہی کارنامے ڈائمنڈ جوبلی جشن آزادی سال میں ہمارے نوجوان ایتھلیٹس نے ہمارے سابق آقاؤں کی سرزمین برطانیہ کے شہر برمنگھم میں کامن ویلتھ گیمز میں تقریباً تیس سال بعد گولڈ میڈلز اپنے نام کیے، نوح دستگیر بٹ نے 405 کلو گرام وزن اٹھا کر اور نیزہ باز ارشد ندیم نے 90.18 میٹر پر اپنا نیزہ پھینک کر پاکستان کا نام روشن کیا اور ایسے ہی مایہ ناش پاکستانی کوہ پیما سر باز خان نے آٹھ ہزار میٹر بلندی کی دس چوٹیاں اسی سال سر کر کے دنیا کے تیسرے کوہ پیما بن گئے، شہروز کاشف بیس سالہ نوجوان پانچ بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے دنیا کے کم عمر ترین کوہ پیما بنے، نائلہ کیانی تین بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والی پہلی خاتون کوہ پیما کہلائیں، یہ ہیں قابل رشک پاکستانی نوجوان جو پاکستان کا پرچم سر بلند کر رہے ہیں۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
واقعی پاکستانی قوم میں ہیرے موتی بکھرے ہوئے ہیں بس انھیں بس انھیں سمیٹ کر مالا بنانے والا کوئی نہیں۔ اس پاکستانی ہجوم کو قوم بنانے کی ضرورت ہے ایک قائداعظم کی ضرورت ہے جو اس ہجوم کوئی ایک مرتبہ پھر قوم کی صورت میں ڈھال دے
پاکستان پائندہ باد

