بدلی ہوئی دنیا میں زمانے کی ہوا ہے!

یہ ضرور ہے کہ پڑھے لکھے پاکستانی رنج و ملال کا شکار ہیں۔ رنج و ملال کے کچھ اسباب ظاہر ہیں تو کچھ ہماری نظروں سے اوجھل۔ کچھ میں سچ ہے تو کچھ ذہنوں کی اختراع۔ یہ البتہ ایک حقیقت ہے کہ درپیش بد گمانیوں کو کچھ عناصر، اپنی بقاء کی جو جنگ لڑ رہے ہیں، ہوا دینے میں جٹے ہیں۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ جن کی پشت پر کھڑی ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی، واحد وفاقی اور متحیر کر دینے والے جذبے سے سرشار سیاسی پارٹی کے افواج پاکستان سے ٹکراؤ میں جو اپنی نجات دیکھ رہے ہیں۔
ازکار رفتہ سپاہی نے وہ دن اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھے ہیں جب دہشت گردی کا عفریت مغربی دروں سے ہمارے ہاں اتر آیا تھا۔ جب پاکستان اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا تھا۔ جب موت قبائلی علاقوں میں رقص کرتی تھی۔ جب اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کے لمس سے اپنے نوجوان شہید افسر کی گردن پر جمے خون کی سردی خود اپنی رگوں میں اترتی پائی تھی۔ بے چہرہ سفاک دشمن سے نبرد آزما، جان ہتھیلیوں پر رکھے سرفروشوں کو کچھ اور نہیں قوم کی تائید درکار تھی۔
ٹی وی کی سکرینوں پر انتہا پسندوں کے وکیل مگر سوئی کی نوک پر بیٹھے فرشتوں کو گنتے نظر آتے۔ جب ذہنوں میں فتووں کے ذریعے یہ فتور اتارا جا تا کہ پاک فوج کے شہیدوں کے جنازے بھی پڑھنا جائز ہے یا نہیں۔ جب اسمبلی میں کھڑے ہو کر بتایا جا رہا تھا کہ یہ قوم کی ہڈیوں سے گوشت تک چچوڑ کر کھا گئے ہیں۔ آج وہی ٹی وی افلاطون، وہی فتویٰ باز ملا، پاک فوج پر بلوچوں پر بمباری کرنے کا الزام دھرنے والے سیاستدان، ہمارے شہیدوں کے دکھ میں دہرے ہوئے جا رہے ہیں۔
اداروں کی حرمت کی آڑ میں جو اب ایک پوری کی پوری سیاسی جماعت کو فنا کرنا چاہتے ہیں۔ شہباز گل نے حماقت کی۔ سراسر حماقت کی۔ قانون کا انہیں سامنا کرنا ہو گا۔ سوال مگر یہ اٹھایا جا رہا ہے اور درست اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ قانون صرف ایک شخص کے لئے ہے؟ کیا یہ قانون ملک میں اس سے پہلے موجود نہیں تھا؟ ابھی کل ہی ملتان میں ایک شخص کہ جسمانی ہی نہیں ذہنی طور پر بھی جو مفلوج دکھائی دیتا ہے، ایک بار پھر ہذیان کا شکار دیکھا گیا۔
کیا یہ شخص نون لیگ کا حصہ نہیں؟ ایک غیر معروف لڑکے کا ایک احمقانہ ٹویٹ، دو صحافی جسے لے اڑے، پی ٹی آئی کا بیانہ قرار پاتا ہے، یہاں تو ویڈیوز موجود ہیں۔ گھر گھر میں موجود ہیں۔ تو کیا یہ نون لیگ کا بیانہ ہے؟ اگر نہیں ہے تو کسی ایک فرد کے لئے پوری کی پوری پی ٹی آئی ذمہ دار کیوں ہے؟ وہ ٹرالنگ کہ جس کا غلغلہ ہے خود حکومتی تحقیقات نے اس میں بھارتی ہاتھ کی نشاندہی کی ہے۔
تو پھر کیا یہی درست اندازہ ہے کہ بیس حلقوں میں بساط الٹنے کے بعد ایک جماعت نہیں، جماعتوں کا اتحاد نہیں، پورے کا پورا نظام ہیجان کا شکار ہے؟ اداروں میں تقسیم کی کوششیں نئی نہیں ہیں۔ اس مسلسل مہم کا آغاز اس وقت ہوا جب بلا ناغہ ’اچھے اور ایماندار ججوں‘ کے نام سر عام پکارے جانے لگے۔ جب ’دو افراد‘ کو ’ادارے‘ سے الگ قرار دیا گیا۔ جب مغرب زدہ لبرلز کے ترجمان انگریزی اخبار کے صفحوں پر ایجنڈا صاف لکھا دکھائی دینے لگا۔
آج انصاف کا سیکٹر گہری تقسیم کا شکار بتایا جا رہا ہے۔ کیا دوسرے اداروں میں بھی انتشار مقصود ہے؟ وہ بھی وقت تھا، جب سلامتی کے اداروں سے نفرت کو ایمان کا درجہ دینے والوں سے سویلین بالادستی، شخصی آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق کا درس لگاتار سننے کو ملتا۔ جب مغربی نشریاتی اداروں کی اردو سروس میں ماتمی مضمون تواتر سے چھپتے تھے۔ جب مخصوص صحافی اور خود رو یوٹیوبرز قومی اداروں کو کھلم کھلا تضحیک کا نشانہ بناتے۔
مقامی نہیں، یہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کا کھیل تھا۔ گدھوں کی طرح جن کے کارندے اب دم سادھے کسی انتظار میں بیٹھے ہیں۔ کہاں گئے وہ سب بہادر صحافی جو انسانی حقوق اور میڈیا کی آزادی کے لئے مرے جاتے تھے؟ آج صحافی گرفتار ہو رہے ہیں۔ گرفتار ہو کر ایک عدالت سے دوسری عدالت میں گھسٹتے پھرتے ہیں۔ کچھ گرفتاریوں کے خوف سے ملک چھوڑ گئے۔ ملک کا سب سے مقبول ٹی وی چینل کھڑے کھڑے بند کر دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق اور آزادی صحافت پر کمائی کرنے والی تمام مقامی اور عالمی تنظیمیں مگر خاموش ہیں۔ شیر خوار بچے کی نوجوان ماں رات تنہا حوالات میں بسر کرتی ہے۔ عورت مارچ والی معزز خواتین جو پاکستان میں عورتوں کی حالت زار پر واویلا کرتی پھرتی تھیں، حیران کن طور پر منظر سے مگر غائب ہیں۔
ایک کے بعد ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر چڑھا کر دہائی دی جا رہی ہے کہ دیکھئے نواز شریف نے نام لے لے کر کیا کچھ نہیں کہا تھا۔ صاحبزادی کی ڈھیروں ویڈیوز ہیں۔ سینئر رہنماؤں کے ارشادات ہیں۔ کئی ایک تو بھارت میں سرکاری سطح پر سنوائے گئے۔ عالمی عدالتوں میں گواہی کے طور پر پیش کیے گئے۔ سوال کیا جا رہا ہے اور درست کیا جا رہا ہے کہ ان سب کے خلاف قانون کیوں حرکت میں نہ آیا تھا؟ راتوں رات گرفتاریاں کیوں نہ ہوئیں؟
کون کرتا؟ یہ نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اپنی قیادت کے خلاف ہرزہ سرائی سن کر اس وقت مضطرب نہیں ہوتی ہوگی۔ لیکن ان پر ہاتھ کون ڈالتا؟ جو یہاں سے ہٹائے جاتے، عالمی نشریاتی اداروں کے دروازے ان کے لئے وا ہو جاتے۔ مغربی حکومتیں بے چین ہو ہو جاتیں۔ سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی کی کوئی کوشش ہوتی تو صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں آسمان سر پر اٹھا لیتی تھیں۔ مغربی مفادات کے رکھوالے مقامی کارندوں کا نیٹ ورک سویلین بالا دستی کا ڈھول پیٹنا شروع کر دیتا۔
سیمینار منعقد ہوتے۔ اسلام آباد کے چوکوں میں موم بتیاں روشن ہو جاتیں۔ بدقسمتی سے ملک میں خوف و ہراس کی جو فضا اب ہے، کبھی نہ تھی۔ مارشل لاؤں میں بھی نہیں۔ اب مگر ایک عجب سناٹا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی مجبوریوں کا ہمیں اب بھی اندازہ ہے۔ کچھ خوش گمانی مگر اب بھی باقی ہے۔ گمان یہی ہے کہ وطن عزیز کی سیاسی تاریخ کو مدنظر رکھا جائے گا۔ امید ہے ملک کی مقبول ترین جماعت کو دیوار میں چنوائے جانے کی کوششوں سے خود کو دور کیا جائے گا۔
ملک کی سب سے بڑی جماعت اس وقت حکومت ہی نہیں قومی اسمبلی سے بھی باہر ہے۔ حالیہ انتخابات کے نتائج بتاتے ہیں کہ حکمران اتحاد عوام میں پرلے درجے کا غیر مقبول ہے۔ چنانچہ فوری انتخابات کا مطالبہ عین قرین انصاف اور جمہوری ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کو بھی ایک دم لینا ہو گا۔ سوشل میڈیا اس کی طاقت ہے۔ اسے بردبار بنانا ہو گا۔ مسلسل محاذ آرائی اس کے مفاد میں نہیں۔ عوام کی اندھی حمایت اسے حاصل ہے۔ مگر اسی قدر مقبولیت ذوالفقار علی بھٹو کو بھی حاصل تھی۔
آگ کا دریا ہے۔ تحمل، استقامت اور حکمت سے اسے پار کرنا ہے۔ اس سب کے بیچ دہشت گردی کا عفریت ایک پھر سر اٹھا رہا ہے۔ فصلی بٹیرے اپنے اپنے بیرونی ٹھکانوں کو پرواز کر جائیں گے۔ کسی اور کو نہیں، عوام کی مدد ان افسروں اور جوانوں کو درکار ہوگی، سر ہتھیلیوں پر رکھ کر جنہیں بالآخر ایک بار پھر مقتل میں اترنا ہے۔

