کنواری چاہیے: پردہ بکارت اور چادر کا معائنہ
کنوارہ پن اور اس سے جڑی بے تکی روایات کی شکار ہمیشہ عورت ہی کیوں بنتی ہے؟ مرد کو کنواری چاہیے مرد نے چاہے شادی سے پہلے کئی مرتبہ سیکس کیا ہو اس کے کنوارے پن پر سوال نہیں اٹھایا جاتا اس کا کوئی ٹیسٹ نہیں، کیوں؟ مرد کو عورت کی طرح پردہ بکارت کی کسوٹی سے گزرنا نہیں پڑتا۔
معاشرے نے کنواری لڑکی کا پیمانہ مرد کی ذہنیت سے طے کیا ہوا ہے۔ مرد کے کنوارے پن کو جانچنے کے لئے فقط اس کی اپنی گواہی ہی کافی ہے۔ جبکہ عورت اپنی عصمت کی قسم تک کھا لے مرد کو شادی کی پہلی رات خون چاہیے۔ سیکس کے دوران عورت کی یونی سے نکلنے والا خون۔ عورت کی تکلیف مرد کے لئے مردانگی کا اور عورت کے کنوارے پن کا کریکٹر سرٹیفکیٹ ہے۔ یعنی مرد کی طرف سے بے شرمی اور ڈھٹائی کی حد ہے اور اس حد پر حد تب ہوتی ہے جب سہاگ رات کا تماشا دیکھنے کے لئے لڑکے کے خاندان کی خواتین صبح بستر کی چادر کا معائنہ کرنے آتیں ہیں اور پردہ بکارت کا پردہ اٹھاتی ہیں۔
یہی سیکس ایجوکیشن اگر دی جاتی تو پتہ ہوتا ہایمن نامی جھلی کا پھٹنا اور اس سے خون کا رسنا کنوارے پن کی نشانی یا ٹیسٹ نہیں۔ پر مرد کی دقیانوسی سیل توڑنے والی منطق کی بنیاد صدیوں کی جہلانہ روایت سے ہے۔ میڈیکل سائنس کے مطابق ہایمن (جھلی کا نام جو کہ وجائنہ میں ہوتی ہے ) کے پھٹنے کا تعلق پہلی بار سیکس سے جوڑنا ایک بے تکی روایت ہے جس کی طب کی دنیا نفی کرتی ہے۔ پردہ بکارت گرم درجہ حرارت والی جگہوں پر جلدی پھٹتی ہے، اسپورٹس سے جڑی لڑکیاں خاص کر اتھلیٹکس کرنے والی کھلاڑیوں کی جھلی کا پھٹنا معمول ہے۔ میڈیکل سائنس تو یہ بھی کہتی ہے بعض اوقات پیدائشی طور پر ہایمن موجود ہی نہیں ہوتی تو اس کا کنوارے پن سے تعلق جوڑنا بالکل غلط ہے۔ اور ماہواری کے دنوں میں اسی پردہ بکارت میں موجود چھوٹے اور بڑے سوراخوں سے پیریڈز کا خون نکلتا ہے۔
سوال تو یہ بھی ہے اگر خاتون کو کنوارے پن سے جڑے بے تکے روایتی و غیر روایتی امتحان کی کسوٹی سے گزرنا پڑتا ہے تو مرد کو کیوں نہیں؟ مرد صاحب نے عالم شباب میں کیا کیا گل کھلائیں ہیں اس کا کیسے پتہ چلے گا؟
ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسے مرد ہیں جو شادی کی رات جنسی عمل (انٹر کورس ) کے بعد خون کے نہ آنے یا نہ ہونے کی وجہ سے لڑکی کے کنوارے پن پر شک کرتے ہیں اس پر ناپاکی کا الزام لگا دیتے ہیں کہ لڑکی کنواری نہیں تھی۔ بہت سی بچیاں و خواتین جنھیں سیکس ایجوکیشن ( ہائمن) سے متعلق آگاہی تک نہیں ہوتی وہ مردوں کے الزام کی وجہ سے ذہنی و جسمانی اذیت کا نشانہ بنتی ہیں۔ یہ سب کچھ مرد کے نامعقول رویے کی وجہ سے ہو تا ہے۔ اس بے تکے الزام کی بنیاد پر ایک خاتون کی زندگی برباد کرنے کا حق مرد کو کس نے دیا ہے؟ ورجینیٹی۔ فرج کی سیل۔ سیل کا ٹوٹنا۔ ان دقیانوسی تصورات کو ختم ہونا چاہیے، اس سب سے متعلق سائنس کی نظر سے علمی بنیاد پر بات کرنی، بتانی اور پھیلانی چاہیے۔
اس موضوع پر ایک ویب سائٹ سے حوالہ دیا جا ریا ہے جو کہ جامعہ بنوریہ کی ویب سائیٹ سے ماخوذ ہے۔ اس ویب لنک (https://www.banuri.edu.pk/readquestion/asbab-e-zawal-e-bakarat-144212202277/08-08-2021)
پر سوال اور جواب جیسے بیان ہوئے ویسے ہی رقم ہیں۔ فتوی نمبر : 144212202277 ”شادی سے پہلے پردہ بکارت زائل ہونا
سوال
پردہ بکارت زائل ہونے کے کیا اسباب ہوسکتے ہیں؟ غیر شادی شدہ خاتون کا پردہ بکارت کن اسباب سے زائل ہو سکتا ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ اس سے ہمارے متعلقہ شخص کو اس کی وجہ سے طلاق کا سامنا ہے۔
جواب
پردۂ بکارت زائل ہونے کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں، مثلاً شادی میں تاخیر، کوئی بیماری، کھیل کود، کسی جگہ سے چھلانگ لگانا یا کسی وجہ سے جھٹکا لگنا وغیرہ، اور مرد وزن والے تعلق کے علاوہ ان دیگر اسباب کی وجہ سے پردہ بکارت زائل ہونے کے باوجود عورت شرعاً باکرہ (کنواری) ہی شمار ہوگی؛ لہذا کسی خاتون کے پردہ بکارت زائل ہونے کو بد کاری کے ساتھ مخصوص کرنا قطعاً درست نہیں ”۔
سیکس ایجوکیشن ناگزیر ہو گئی ہے۔ اس سلسلہ میں اسکول کے نصاب میں سبق شامل ہونا چاہیے جو طبی ماہرین کی زیر نگرانی ترتیب دیا جائے۔ تعلیمی اداروں میں سیکس ایجوکیشن سے متعلق ورکشاپس کا انعقاد کیا جانا چاہیے۔ آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا مثبت استعمال کرتے ہوئے اینیمیٹڈ مختصر دورانیہ کی وڈیوز بننا چاہیے۔ ان موضوعات سے متعلق آگہی کے لئے فیملی اور معاشرہ کو مل کر کام کرنا ہو گا تب ہی عورت کے استحصال کا دروازہ بند ہو سکے گا۔
آخر میں ایک اچھی خبر۔ اسکاٹ لینڈ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے خواتین کے لئے سینیٹری پیڈز اور اس سے متعلقہ اشیاء مفت کر دیں ہیں۔
عورت کو عزت دو۔



Behtereen mozoo.. behtereen information