سونامی اور سیلاب


پانی سر سے اونچا ہو گیا، سیل رواں۔ سیل بلا۔ سیل اشک۔ سیل مرگ سب گزر چکے۔ سامان بہا۔ حیوان بہا۔ انسان بہا۔ فصلیں ڈوبیں۔ گھر ڈوبے اور ساتھ مکین بھی۔ کئی جگہ سیلابی ریلے نے زندوں کو نگلا، مردوں کو اگلا اور کہیں بچ رہنے والے پیاسوں نے پانی کی قبر پر ہی اپنے پیاروں کی فاتحہ پڑھ لی۔ جن کی زندگی پہلے ہی دشوار تھی اب مزید اجیرن ہو گئی۔ پانی بھی کم ظالم نہیں جب بے قابو ہوتا ہے تو کچے مکانوں کی بستیوں پر ہی اپنا زور دکھاتا ہے۔ اطلاعات یہی ہیں کہ گاؤں کے گاؤں بہہ چکے، بستیوں کی بستیاں غرقاب ہو چکیں۔ وہ فاقہ مست جو کسی طرح بہت تھوڑی میں جی رہے تھے آج اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ غربت میں آٹا گیلا ہونا ہی غضب ہوتا ہے یہاں تو قیامت برپا ہو گئی۔

بلوچستان۔ سندھ۔ وسیب۔ پختونخوا

سب حالیہ بارشوں اور سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ وہ بائیس کروڑ جن کے لئے ہر سیاستدان غم سے گھلتا نظر آتا ہے اس وقت ناکافی ذرائع، خزانے کی حالت اور وسائل کی قلت کو رو رہا ہے۔ انکار بھی نہیں۔ حقیقت ہے کہ ملک معاشی اور سیاسی بحران سے جوج رہا ہے۔ پھر بھی یہ بے بس و بے وارث آپ ہی کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ حکومت اور عسکری قیادت نے دورے بھی کیے اور حسب مقدور اقدامات بھی مگر ہم جانتے ہیں کہ یہ انتظامات بہت ناکافی ہیں۔

سیلاب کی بلند سطح اور تیز بہاؤ بہت سے پل ٹوٹنے یا بڑا شگاف پڑنے کا سبب بنا۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان کی تعمیر کب اور کیسے کی گئی تھی؟ کیا ان تمام کی موثر مرمت کی جاتی رہی؟ انہیں رکاوٹوں کے بہنے سے زرعی و رہائشی علاقے زیرآب آئے۔

لیکن جواب مانگیں تو کس سے؟ یوں بھی ہم سے پیٹ بھروں کو ایسے بور سوالات سے کہیں زیادہ دلچسپی یہ جاننے میں ہے کہ چیف آف اسٹاف آف بنی گالہ کے ساتھ کس نوعیت کا تشدد ہوا ہے؟ اس میں کتنے فیصد تلذذ شامل تھا؟ یا سرکار کی جاری کردہ ویڈیو میں گل صاحب ہی ہیں یا ان کے وہ بھائی جو میلے میں بچھڑ گئے تھے؟

پچھلے دنوں میں اس عنوان سے پچاس کے قریب مضامین پڑھ چکی،
”مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا“

سمجھ لیجیے گویا ان بے سرو ساماں و سراسیمہ سیلاب زدگان کی فریاد جن کا جرم فقط مفلسی ہے مگر یہاں کوئی آنکھ کھولنے کو تیار نہیں۔

ابھی تک ان کے بام و در پہ امیدیں لرزتی ہیں
یہ کن شہروں کے نقشے وادیٔ سیلاب سے نکلے

آئے دن سرکار اور مخالفین اسکرین پر آ کے ایک دوسرے پر الزام تراشی یا لگائے گئے الزام کی صفائی پیش کرنے کے علاوہ کوئی اور بات مشکل سے ہی کرتے ہیں۔

انصاف پسند رہنما جب دیکھو تب، میا میری نیا ڈوبی، الاپتے ہیں۔ سرکار بساط بھر کچھ کر رہی ہے مگر اس کی ترجیح بھی شکوہ۔ جواب شکوہ کا یہ تماشا ہے، رہا پانی تو ہماری اجتماعی بے حسی پر پانی پانی ہے۔

سیاسی اکھاڑ پچھاڑ پچھتر سال سے ہمیں نت نئے شعبدے دکھاتی آئی ہے، جن میں سے کئی تو ایسے ہیں کہ برسوں بعد بھی ان کی یاد عقل ماؤف اور بدن شل کر دیتی ہے۔

اس ملک کو وجود پاتے ہی ہر قسم کے طوفان کا سامنا رہا۔ رواداری۔ قومی یکجہتی۔ اقتصادی و معاشی وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے پل جن کی مضبوطی امن و امان اور ملکی سالمیت کی ضامن تھی، ان میں بار بار شگاف ڈالے جاتے رہے یہاں تک کہ بائیس سال کے عرصے میں ہمارے یاجوج ماجوج اپنی کوششوں میں کامیاب ہو ہی گئے۔ ملک ٹکڑے ہوا تو بہت سوں نے سکھ کا سانس لیا کہ اب آئے گا اصل مزہ، بلا شرکت عوام راج کرنے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔ ان بنگالیوں کو جمہوریت اور عوامی رائے کو اہمیت دینے کا مراق تھا جو کسی بھی عسکری ملک کے لئے ناسور ہے۔ ناک میں دم کر رکھا تھا خیر ہم نے بھی کچھ کسر نہ اٹھا رکھی اور سبق سکھا کے ہی ہتھیار ڈالے۔

مگر ذکر سیلاب کا تھا جو بنگال میں بھی تواتر سے آتے تھے، اب مغربی پاکستان والو نے ٹھیکا تو نہیں لیا تھا کہ ہر برس دو برس میں باڑ آنے پر یہ ننگے بھوکے ہو جائیں اور ہم ان کی بحالی کے لئے امداد کرتے رہیں۔ سو جان چھڑائی!

اس کے بعد یوں دکھایا گیا کہ غم نہ کر بہت جلد ارض پاک الٰہ دین کے اڑن قالین پے سوار ترقی کی راہ پر فرلانگ کو چند گام میں پھلانگ بہت جلد امریکہ۔ یورپ یا برطانیہ کے برابر آن کھڑا ہو گا۔ وائے حسرت کہ ملک میں جمہوریت کو پھانسی چڑھانے کے بعد امہ کے سالار مرد مومن۔ مرد حق کی قیادت میں بھی ہماری کشتی طوفان نوح سے نہ نکل سکی بلکہ طغیانی بڑھتی گئی اور ساتھ ہماری بربادی بھی۔

بزرگوں سے سنا تھا، باڑ آئے تو لیوا اور دیوا ایک کھاٹ کے سوار ہو جا ہیں! یعنی سیلابی ریلا جب بستی بہائے لے جا رہا ہو تو سانپ اور انسان ایک ہی تختے پے بیٹھ کے جان بچاتے ہیں اور اس آفت سے پار ہونے تک اپنی ازلی دشمنی بھی اٹھا رکھتے ہیں۔ یہ تو لفظی معنی ہے۔ محاورے کا اصل کنایہ ہے کہ جب کوئی ناگہانی نازل ہو تو رزیل اور اصیل برابر ہو جاتے ہیں بقول جالب، حکمراں بن گئے کمینے لوگ!

سو ایک ہی کھاٹ پے عوام اور لیوا کے گیارہ سال نکل گئے پھر چند سال باریاں دی جاتی رہیں لیکن جہاں کسی نے خلاف مزاج پالیسی اختیار کی ترنت مناسب کارروائی کے ذریعے اسے کھاٹ باہر کیا گیا۔ چار ساڑھے چار سال اس مغز کھپائی کے بعد طے پایا کہ بہت ہو گئی اب اگلے آٹھ سال سکھ کا سانس لیا جائے کیونکہ بار بار انتخابات کا بوجھ قومی خزانے پر ڈالنے سے بہتر ہے کہ محافظوں کی مراعات میں اضافہ کر دیا جائے تاکہ سب کا بھلا ہو یوں ہنستے بستے آٹھ سال نکل گئے آخرکار مجبوراً ایک بار پھر بے دلی سے جاٹ کو چوہدری بنانا پڑا مگر اس عزم کے ساتھ کہ چند ہی سالوں میں ایک بظاہر بے وردی رہنما تیار کیا جائے جو آمریت کے بھدے فریم میں بھی ہینڈسم لگے، اس ہیرے کی تراش خراش، عوام میں مقبولیت اور نیک شہرت کے لئے جتنے پاپڑ بیلے جا سکتے تھے، بیلے گئے۔

لچ کے تیل میں تلے پاپڑ پے اسلامی۔ انصافی اور لفافی مصالحے چھڑک کر چٹ پٹی کراری تبدیلی کے پاپڑ عوام خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کو پیش کیے گئے تو تھوڑی بہت کامیابی ہاتھ لگ ہی گئی پھر بھی دو ہزار تیرہ میں قلعی کھل گئی اور اتنی لاگت لگانے پر بھی پپو فیل ہو گیا۔ پپو کی ناکامی دراصل اس کے مرشد کی ناکامی تھی لہذا جینٹل مین کلب نے اس مشن کو عزیز از جان سمجھ کے پورا کرنے کی ٹھان لی۔ اس بار امتحان میں وہ سب سہولیات بہم فراہم کی گئیں جو کسی بھی پودنے کو عقاب بنا سکتی ہیں مثلاً ہمدرد ممتحن۔ اول آنے والے طلباء کو امتحان سے پہلے نا اہل کر دینا۔ منتخب طلبا کو آگے پیچھے بٹھانا تاکہ نقل میں کام آویں۔ دیگر کے پرچے جانچتے ہوئے بصد احتیاط گنتی کو پپو کے نتیجے سے ہر صورت کم شمار کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اس لائحہ عمل نے جادو کا کام کیا یوں سونامی نام کی ناکامی کامیاب ہو گئی۔

راوی اس سنہرے دور کی تاریخ قلم بند کر ہی رہا تھا کہ شیر و بکری ایک گھاٹ سے پانی پیویں ہیں، مسافر بے فکر و بے خطر اشرفیوں کی تھیلی اچھالتا نکل جاوئے ہے، روزگار کو گئے پردیسی بخوشی وطن لوٹنے کو سامان باندھ چکے ہیں قریب تھا کہ ہم زندوں کو ہی بہشت مکانی لکھ دیا جاتا پر جنے ایسی کیا دل برائی ہوئی۔ مرشد اور گنڈا بردار میں کچھ ٹھن سی گئی اور راتوں رات ایسی ٹوٹن چھوٹن ہوئی مانو گلی کوچوں میں تھڑ تھڑ ہو گئی۔ تبدیلی کے لذیذ پاپڑ جن کھانے والو کو زہر بادانی (فوڈ پوائزنگ) کروا چکے تھے وہ پہلے ہی چپکے ہو بیٹے تھے۔

آس پاس تھی تو چند مشیروں کی ٹولی اور ہلاہل کو قند سمجھنے والے عورتوں۔ بچوں کی بھیڑ

مگر شیر کاغذ کا بھی ہو تو ہوتا شیر ہی ہے اس لئے وہ ایک بار پھر کھوکھلی للکاروں اور خوش باش پرستاروں کا سونامی لے کے میدان میں اتر آیا۔ گزشتہ پانچ مہینوں میں بلا ناغہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ ایک ہی واعظ سنائی دیا جس میں تمام ملبہ اوروں پے ڈالتے ہوئے ہر بار بین السطور مرشد کو مصالحت کا پیام بھی ہوا کرتا ہے۔ روز نت نئی منڈلی سجنے سے خبروں کا زیادہ وقت بھی یہی سیاسی روزنامچہ لے رہا ہے۔

لیکن دلدلی زمین پر سوتے بھوکے بچے، دھندلی نظر سے آسمان کو تکتے بوڑھے، گھلتے گھروں کی چھتوں پر کھڑے مرد جو سوچ رہے ہیں کہ کیسے اپنے کنبے کو بچائیں؟ یہ سب جو نظر انداز کیے جا رہے، یہ بھولیں گے نہیں!

کئی طوفان آئیں گے اب اس سیلاب سے آگے
کہانی تو چلے گی اختتامی باب سے آگے
اگر غم و غصے کا یہ دریا بپھرا تو پانی لاوا بن کے ہر چھوٹے بڑے سونامی کو نگل جائے گا۔

عزیزو، اس وقت ہمارے اپنے بے یار و مددگار ہیں، ذرا دیر سیاسی خوش وقتیاں ترک کر کے ان کے لئے کچھ کیجیے۔

Facebook Comments HS